تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 54)

رستم علی خان

چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پر اللہ سے ہمکلام ہونے گئے- تب فرشتوں نے آپ کے لیے منبر لا کر رکھا اور کہا اے موسی یہ پہاڑ مقدس ہے پس آپ اپنے پاوں سے جوتا اتار دیں اور اس منبر پر بیٹھ کر اللہ سے مناجات کریں- تب حضرت موسی نے اپنے پاوں سے جوتا اتارا اور منبر پر بیٹھ کر اللہ سے مناجات کی-

بعد اس کے حکم نازل ہوا کہ اے موسی تیس دن تک روزے رکھو بعد اس کے پھر آنا تو ہم تجھ پر کتاب تورات نازل کریں گے- کہ جس سے خلائق راہ پاویں میری طرف اور شریعت سیکھیں- جیسا کہ قرآن میں ہے کہ، اور وعدہ دیا ہم نے موسی کو تیس راتوں کا- تب حضرت موسی نے تیس دن تک روزے رکھے- اور اپنی قوم سے کہا، اے قوم اللہ تعالی مجھ پر کتاب تورات نازل کرے گا- تاکہ تمہیں شریعت اور حق تعالی کی طرف راہ دکھاوں تاکہ تم ہدایت پاو-

چنانچہ قوم کے لوگ کہنے لگے کہ ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ ہم خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں- تب حضرت موسی علیہ السلام نے ان سے کہا تم میں سے چند لوگ جو نیک اور علم والے ہیں میرے ساتھ چلو کوہ طور پر تو کتاب دکھاونگا تمہیں- چنانچہ انہتر آدمی نیک عالم اکٹھے ہوئے اور ایک شخص بزرگ سفید داڑھی والا نام جس کا یوشع بن نون تھا انہیں لیکر ستر آدمی پورے کئیے اور فرمایا کہ تم سب باطہارت لباس پاکیزہ پہن کر میرے ساتھ چلو-

پس حضرت موسی ان لوگوں کو ساتھ لیے طور پر پنہچ گئے- اور اضطرابی انتظار میں ایک پتا توڑ کر چبانے لگے- تبھی ارشاد ہوا اے موسی میں نے تم کو روزہ رکھنے کا کہا تھا- تو تم نے کس واسطے روزہ توڑ دیا- فرمایا الہی تو خوب جانتا ہے کہ میں نے تیس روزے رکھے مگر بوئے دہن (منہ کی بو) سے ڈرا کہ مبادہ میرے منہ سے بو نہ نکلے اس واسطے پتا چبایا-

تب مسواک کا حکم ہوا اور فرمایا اے موسی میری خدائی کی قسم ہے روزہ دار کے منہ کی بو مجھ کو خوش آتی ہے زیادہ مشک و عنبر سے- پس فرمایا کہ میری اجازت کے بنا روزہ افطار کیا تو اس کے بدلے میں دس روزے مزید رکھو تب تورات دیں گے- پس حضرت موسی ان لوگوں کے پاس واپس تشریف لائے اور چالیس روزے پورے کیے- چنانچہ جو لوگ ساتھ گئے تھے گو کہ انہوں نے اللہ کا کلام سنا تھا پھر کہنے لگے اے موسی ہم ہر گز ایمان نہ لاویں گے جب تک کہ اللہ کو سامنے نہیں دیکھ لیتے- حضرت موسی نے ہر چند سمجھایا کہ مخلوق کی نظر خالق کو دیکھنے کی تاب نہیں لا سکتی لیکن وہ لوگ اپنے کہے پر مصر رہے-

تب حضرت موسی بعد دس روز کے ان ستر لوگوں کو ساتھ لے کر اور باقی قوم بنی اسرائیل کو حضرت ہارون علیہ السلام کی نگرانی میں چھوڑ کر طور پر گئے- اور بعضوں نے کہا کہ حضرت موسی نے ان آدمیوں کے ساتھ چالیس روز تک مقام طوی پر ہی قیام کیا اور قوم کے پاس حضرت ہارون کو چھوڑ کر گئے کہ ہماری واپسی تک ان کے نگہبان رہئیو-

الغرض فرمایا کہ تم لوگ میرے پیچھے آو اور میں جلدی پنہچتا ہوں تاکہ اللہ سے کلام کر سکوں- چنانچہ جب پنہچے تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے موسی وہ لوگ جو تمہارے ساتھ آ رہے تھے ان کا کیا ہوا- تب فرمایا کہ یہ پیچھے آتے ہیں اور ہاتھ سے نزدیکی کا اشارہ کیا- تب حکم ہوا کہ تم ان سے پہلے کیوں آ گئے- فرمایا یہ اس لیے کہ تو مجھ سے راضی ہو جائے- تب حضرت موسی ایک طرف قوم کے اصرار کی وجہ سے بھی کہ آپ کو بھی دیدار الہی کا اشتیاق ہوا اور پھر شیرینی کلام نے اضطراب کو مزید بڑھاوا دیا- تب فرمایا الہی میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں- حکم ہوا اے موسی تو ہرگز ہمیں نہ دیکھ سکے گا- پھر فرمایا الہی میں دیکھنا چاہتا ہوں- تب حکم ہوا کہ اس پہاڑ طور کی جانب دیکھو اگر وہ ہماری تجلی کی تاب لا سکا اور قائم رہا اپنی جگہ پر تو پھر تم بھی دیکھ سکو گے۔

چنانچہ حضرت موسی نے دیکھا طور کی جانب تبھی تجلی نور کی پہاڑ پر پڑی زرا سی اور طور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا- اور جناب موسی یہ دیکھ کر تاب نہ لا سکے اور گر کر بیہوش ہو گئے- اور جب ہوش آیا تو بارگاہ الہی میں توبہ کی اور کہا پاک ہے تیری ذات اور میں نے توبہ کی اور سب سے پہلے ایمان لایا تجھ پر- تفاسیر میں لکھا ہے کہ حضرت موسی کو اللہ تعالی نے بزرگی عطا فرمائی تھی کہ بے فرشتے اللہ تعالی سے کوہ طور پر کلام کرتے تھے- سو انہیں شیرینی کلام سے شوق ہوا کہ دیدار بھی کریں تب اللہ نے پہاڑ کی طرف زرا تجلی کی اور تاب نہ لا سکے دونوں ہی-

پھر اللہ تعالی نے حضرت موسی کو فرمایا؛ اے موسی برگزیدہ کیا میں نے تجھ کو لوگوں پر اپنے پیغام بھیجنے سے اور اپنے کلام کرنے سے پس پکڑ جو کچھ دیا ہم نے تجھ کو اور رہنا ہوش کرنے والوں میں سے- اس وقت جناب باری سے جبرائیل کو حکم ہوا چنانچہ وہ لوحیں لیکر اترے پھر قدرت کے قلم کو حکم ہوا اس پر تورات لکھے- چار ہزار فرشتوں نے ان تحتوں کو لا کر موسی کے سامنے رکھا- اس میں ہر سورہ میں ہزار وعدہ، ہزار وعید، ہزار امر، ہزار نہی، لکھی ہوتی ہے-

اور توریت کے پہلے شروع میں عبادت کا ذکر اس کے بعد صفت علماء اور حکماء کی ہے- چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے؛ اور لکھا ہم نے واسطے اس کے تختیوں پر ہر چیز سے نصیحت اور تفصیل ہر چیز کی-

پھر فرمایا موسی علیہ السلام سے کہ اب اسے پکڑو قوت سے اور کہو اپنی قوم سے کہ عمل کریں اس کی باتوں پر اور جلد ہی میں تمہیں فاسقوں کا گھر دکھاوں گا-

تب خوش کر پوچھا اللہ سے کہ یہ علماء و حکماء کیا میری امت سے ہونگے- فرمایا نہیں بلکہ یہ سب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے ہونگے جو بہتر ہے تمام امتوں سے- تب کہا الہی یہ علماء مجھے عطا کر- اور انہیں میری امت میں داخل فرما- حکم ہوا اے موسی تو ہمارا کلیم ہے اور وہ حبیب بھلا کلیم کو حبیب سے کیا نسبت- تب فرمایا مجھے اپنے حبیب کی امت میں داخل کر- تب حکم ہوا پیغمبری تمہاری اس وقت معتبر ہو گی جب خاتم النبین پر ایمان لاو گے-

تب جناب موسی ایمان لائے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر اور پہاڑ سے اترنے لگے- اور حضرت جبرائیل کے ساتھ ستر ہزار فرشتے مزید تورات کی تختیاں اٹھائے آپ کے ساتھ ہوئے- اور جو ستر آدمی آپ کے ساتھ آئے تھے برق تجلی سے تمام جل گئے- تب حضرت موسی کو تاسف ہوا- اور بارگاہ ربویت میں مناجات کی کہ الہی میں اپنی قوم کو ان کے بارے کیا جواب دوں گا- وہ سمجھیں گے کہ موسی نے ہمارے سرداروں کو پہاڑ پر لے جا کر قتل کر دیا ہے اور میرے دشمن ہو جائیں گے- تب اللہ تعالی نے ان تمام کو جلا بخشی اور جناب موسی علیہ السلام ان کو ساتھ لیے واپس قوم کی طرف لوٹے-

دوسری جانب قوم بنی اسرائیل میں ایک جادوگر سامری نام کا تھا- اور بعضوں نے کہا کہ رشتے میں حضرت موسی کا بھانجا تھا- جب بچہ تھا تو ایک بار گم ہو گیا تھا- اور رو نیل کے کنارے رو رہا تھا- تب حضرت جبرائیل نے اسے چالیس روز تک اپنے ہاتھ پر رکھا اور اتنی مدت میں وہ حضرت جبرائیل سے کافی مانوس ہو چکا تھا- بعد چالیس روز اس کے گھر ے دروازے پر چھوڑ کے گئے تو سامری حضرت جبرائیل کے جانے سے رونے لگا- رونے کی آواز پر گھر والوں نے نکل کر دیکھا تو اپنے بچے کو پاکر خوش ہوئے اور گھر لائے- بعد میں سامری کچھ عرصہ حضرت جبرائیل کو یاد کر کے روتا رہا-

چنانچہ جب فرعون کا لشکر غرق ہوا تب سامری جوان تھا اور اس نے جادوگری کافی سیکھ رکھی تھی- پس جب اس نے حضرت جبرائیل کو دیکھا کہ ان کی گھوڑی کے سم جہاں لگتے ہیں نیچے سے گھاس اگ آتی ہے- پس اس نے سمجھا کہ اس گھاس میں زندگی ہے- چنانچہ ایک مشت بھر گھاس اور خاک اس گھوڑی کے سم کی اٹھا لی-

چنانچہ جب حضرت موسی قوم کے لوگوں کے ساتھ طور پر گئے تو حضرت ہارون علیہ السلام کو پیچھے نگہبان چھوڑ کر گئے- جب آپ کو گئے دس دن گزر گئے تو سامری نے قوم کے لوگوں سے کہا کہ مجھے موسی کے خدا نے پیغام بھیجا ہے کہ وہ تمام لوگ جو طور پر گئے وہ سب مر چکے ہیں پس اب تم میری بات مانو- قوم کے لوگوں نے کہا بھلا ہم کیسے مانیں کہ جو تم کہتے ہو اس میں تم سچے ہو- تب سامری نے کہا اگر میں تمہیں خدا دکھا دوں تب مانو گے میری بات- حضرت ہارون نے قوم کو سمجھایا کہ اس کی باتوں میں نہ آنا یہ مخض تمہارا ایمان خراب کرنا چاہتا ہے- لیکن قوم سامری کی باتوں میں آ گئی چنانچہ انہوں نے کہا دکھاو ہمیں رب اگر تم سچے ہو تو۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close