تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 57)

رستم علی خان

چنانچہ حضرت موسی نے دیکھا طور کی جانب تبھی تجلی نور کی پہاڑ پر پڑی زرا سی اور طور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا- اور جناب موسی یہ دیکھ کر تاب نہ لا سکے اور گر کر بیہوش ہو گئے- اور جب ہوش آیا تو بارگاہ الہی میں توبہ کی اور کہا پاک ہے تیری ذات اور میں نے توبہ کی اور سب سے پہلے ایمان لایا تجھ پر- تفاسیر میں لکھا ہے کہ حضرت موسی کو اللہ تعالی نے بزرگی عطا فرمائی تھی کہ بے فرشتے اللہ تعالی سے کوہ طور پر کلام کرتے تھے- سو انہیں شیرینی کلام سے شوق ہوا کہ دیدار بھی کریں تب اللہ نے پہاڑ کی طرف زرا تجلی کی اور تاب نہ لا سکے دونوں ہی-

پھر اللہ تعالی نے حضرت موسی کو فرمایا؛ اے موسی برگزیدہ کیا میں نے تجھ کو لوگوں پر اپنے پیغام بھیجنے سے اور اپنے کلام کرنے سے پس پکڑ جو کچھ دیا ہم نے تجھ کو اور رہنا ہوش کرنے والوں میں سے- اس وقت جناب باری سے جبرائیل کو حکم ہوا چنانچہ وہ لوحیں لیکر اترے پھر قدرت کے قلم کو حکم ہوا اس پر تورات لکھے- چار ہزار فرشتوں نے ان تحتوں کو لا کر موسی کے سامنے رکھا- اس میں ہر سورہ میں ہزار وعدہ، ہزار وعید، ہزار امر، ہزار نہی، لکھی ہوتی ہے-

اور توریت کے پہلے شروع میں عبادت کا ذکر اس کے بعد صفت علماء اور حکماء کی ہے- چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے؛ اور لکھا ہم نے واسطے اس کے تختیوں پر ہر چیز سے نصیحت اور تفصیل ہر چیز کی-

پھر فرمایا موسی علیہ السلام سے کہ اب اسے پکڑو قوت سے اور کہو اپنی قوم سے کہ عمل کریں اس کی باتوں پر اور جلد ہی میں تمہیں فاسقوں کا گھر دکھاوں گا-

تب خوش کر پوچھا اللہ سے کہ یہ علماء و حکماء کیا میری امت سے ہونگے- فرمایا نہیں بلکہ یہ سب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے ہونگے جو بہتر ہے تمام امتوں سے- تب کہا الہی یہ علماء مجھے عطا کر- اور انہیں میری امت میں داخل فرما- حکم ہوا اے موسی تو ہمارا کلیم ہے اور وہ حبیب بھلا کلیم کو حبیب سے کیا نسبت- تب فرمایا مجھے اپنے حبیب کی امت میں داخل کر- تب حکم ہوا پیغمبری تمہاری اس وقت معتبر ہو گی جب خاتم النبین پر ایمان لاو گے-

تب جناب موسی ایمان لائے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر اور پہاڑ سے اترنے لگے- اور حضرت جبرائیل کے ساتھ ستر ہزار فرشتے مزید تورات کی تختیاں اٹھائے آپ کے ساتھ ہوئے- اور جو ستر آدمی آپ کے ساتھ آئے تھے برق تجلی سے تمام جل گئے- تب حضرت موسی کو تاسف ہوا- اور بارگاہ ربویت میں مناجات کی کہ الہی میں اپنی قوم کو ان کے بارے کیا جواب دوں گا- وہ سمجھیں گے کہ موسی نے ہمارے سرداروں کو پہاڑ پر لے جا کر قتل کر دیا ہے اور میرے دشمن ہو جائیں گے- تب اللہ تعالی نے ان تمام کو جلا بخشی اور جناب موسی علیہ السلام ان کو ساتھ لیے واپس قوم کی طرف لوٹے-

دوسری جانب قوم بنی اسرائیل میں ایک جادوگر سامری نام کا تھا- اور بعضوں نے کہا کہ رشتے میں حضرت موسی کا بھانجا تھا- جب بچہ تھا تو ایک بار گم ہو گیا تھا- اور رو نیل کے کنارے رو رہا تھا- تب حضرت جبرائیل نے اسے چالیس روز تک اپنے ہاتھ پر رکھا اور اتنی مدت میں وہ حضرت جبرائیل سے کافی مانوس ہو چکا تھا- بعد چالیس روز اس کے گھر ے دروازے پر چھوڑ کے گئے تو سامری حضرت جبرائیل کے جانے سے رونے لگا- رونے کی آواز پر گھر والوں نے نکل کر دیکھا تو اپنے بچے کو پاکر خوش ہوئے اور گھر لائے- بعد میں سامری کچھ عرصہ حضرت جبرائیل کو یاد کر کے روتا رہا-

چنانچہ جب فرعون کا لشکر غرق ہوا تب سامری جوان تھا اور اس نے جادوگری کافی سیکھ رکھی تھی- پس جب اس نے حضرت جبرائیل کو دیکھا کہ ان کی گھوڑی کے سم جہاں لگتے ہیں نیچے سے گھاس اگ آتی ہے- پس اس نے سمجھا کہ اس گھاس میں زندگی ہے- چنانچہ ایک مشت بھر گھاس اور خاک اس گھوڑی کے سم کی اٹھا لی-

چنانچہ جب حضرت موسی قوم کے لوگوں کے ساتھ طور پر گئے تو حضرت ہارون علیہ السلام کو پیچھے نگہبان چھوڑ کر گئے- جب آپ کو گئے دس دن گزر گئے تو سامری نے قوم کے لوگوں سے کہا کہ مجھے موسی کے خدا نے پیغام بھیجا ہے کہ وہ تمام لوگ جو طور پر گئے وہ سب مر چکے ہیں پس اب تم میری بات مانو- قوم کے لوگوں نے کہا بھلا ہم کیسے مانیں کہ جو تم کہتے ہو اس میں تم سچے ہو- تب سامری نے کہا اگر میں تمہیں خدا دکھا دوں تب مانو گے میری بات- حضرت ہارون نے قوم کو سمجھایا کہ اس کی باتوں میں نہ آنا یہ مخض تمہارا ایمان خراب کرنا چاہتا ہے- لیکن قوم سامری کی باتوں میں آ گئی چنانچہ انہوں نے کہا دکھاو ہمیں رب اگر تم سچے ہو تو۔

چنانچہ حضرت ہارون نے قوم کو بہتیرا سمجھایا اور سامری کے شر سے دور رہنے کو کہا- اور حضرت موسی اور قوم کے لوگوں کی واپسی کا انتظار کرنے کے لیے کہا- تب سامری نے کہا وہ تمام لوگ جو طور پر گئے سب مر گئے ہیں اور اگر تم صداقت چاہتے ہو تو میں اس کے خدا کو تمہیں دکھاوں اس سے حال معلوم کر لینا- تب قوم کے لوگوں نے بھی کہا کہ سامری کی آزمائش کرنے میں کیا مضائقہ ہے- پس اگر وہ جھوٹا ہوا تو ہرگز خدا نہ دکھا سکے گا-

تب سامری نے مٹی سے ایک قالب بنایا مثل گائے کے بچھڑے کے اور خوب آگ جلائی اس کے گرد تاکہ وہ تپ کر پک جائے- پھر قوم کے لوگوں سے کہا تمہارے پاس جس قدر سونا چاندی تانبا روپا وغیرہ موجود ہے میرے پاس لا رکھو- چنانچہ سب نے تمام زیورات اس کے حوالے کر دئیے- تب اس نے ان تمام زیورات کو آگ میں پتلے کے قالب پر پھینکا- وہ پگھل کر پانی کی صورت ہو کر اس بچھڑے کے قالب میں بیٹھ گئے- سامری نے اس قالب کو آگ میں سے نکال کر ایک بچھڑا سونے کا خوبصورت اس کے اندر سے نکال کر پاک صاف کر کے رکھ دیا- اسی کا نام گئوسالہ سامری ہے اور اسی کو سامری کی قوم پوجتی تھی-

جب گئوسالہ بن گیا تو اس نے قوم سے کہا آو اور اس کو سجدہ کرو یہی ہے تمہارا رب- اور جو گھاس اور مٹی اس نے حضرت جبرائیل کی گھوڑی کے سموں کے نیچے سے مشت بھر اٹھائی تھی وہی مٹھی بھر گھاس اور مٹی اس نے اس گئوسالہ کے منہ میں ڈالی- خدا کی قدرت سے اس مٹی اور گھاس کو اس کے منہ میں ڈالتے ہی اس کے منہ سے بےدھڑک گائے کی آواز نکلی- چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے؛ پس بنا لیا نکالا ان کے واسطے ایک دھڑ جس میں چلانا تھا گائے کا- پس کہا انہوں نے ان سے یہ خدا ہے تمہارا اور خدا موسی کا سو وہ بھول گئے اور جگہ میں گئے-

یعنی سامری نے گئوسالہ بنا کر نکالا پھر جب گھاس کھلائی تو اس میں اللہ نے جان ڈال دی پھر اس کے دھڑ سے گائے کی آواز نکلی تو قوم والوں سے کہنے لگا یہ ہے تمہارا رب اور یہی موسی کا رب ہے لیکن موسی بھول کر کسی اور جگہ یعنی طور پر چلے گئے ہیں جہاں وہ سب مر چکے ہیں- پس اب تم سب اسے سجدہ کرو اور یہی اصل رب ہے-

چنانچہ قوم والوں نے جب بچھڑے کی آواز سنی تب سامری کی باتوں پر یقین لائے اور اسے سچا جانا- تب سب سجدے میں گرے اور بچھڑے کو پوجنے لگے- تب چند لوگ قوم کے بارہ قبیلوں میں سے کہ ایمان ان کے مضبوط تھے-  انہیں سمجھاتے رہے پر جب قوم کے لوگ نہ مانے اور کفر اور شرک پر اتر آئے تب وہ لوگ ان سے الگ ہوئے اور کوہ قاف پر جا کر ایک مسجد بنا کر رہنے اور اللہ کی عبادت کرنے لگے- معاتج النبوت میں لکھا ہے کہ جب رسول خدا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم معراج پر گئے تو ایک مقام دیکھا کہ ایک شعلہ نور کا زمین سے عرش تک بلند ہو رہا ہے- تب آپ نے حضرت جبرائیل سے اس بارے پوچھا کہ یہ نور کس کا ہے- تب حضرت جبرائیل نے فرمایا کہ قوم بنی اسرائیل جب گئوسالہ پوجتے تھے تو ان میں سے ایک جماعت نکل کر کوہ قاف میں اللہ کی عبادت کر رہی ہے یہ انہیں کا نور ہے-

القصہ حضرت موسی علیہ السلام جب توریت اور وہ ستر آدمی لیکر طور سے واپس آئے تو دیکھا کہ قوم گئوسالہ بنا کر پوجتی ہے- تب حضرت موسی علیہ السلام بہت خفا ہوئے- اور کہا یہ کیا برائی اور ظلم شروع کر دیا تم نے میرے بعد اور کیوں اتنی جلدی کی اور انتظار نہ کیا اپنے رب کے حکم کا- تب جناب موسی نے تختیاں ڈال دیں اور غصے سے اپنے بھائی حضرت ہارون کے بال پکڑ لئیے اور کھینچنا گھسیٹنا شروع کر دیا- تب حضرت ہارون نے روتے ہوئے فریاد کی کہ اے میرے ماں جائے مجھے کیوں مارتا ہے میں بےقصور ہوں اس سب میں کہ میں نے انہیں بہتیرا سمجھایا پر ان لوگوں نے میری بات بلکل نہ مانی اور میں کمزور ناتواں اور اکیلا تھا- اور قریب تھا کہ یہ لوگ مجھے میرے سمجھانے سے تنگ آ کر مار ہی ڈالتے- اور کہا کہ دشمنوں کو مت ہنسا مجھ پر اور نہ ملا مجھ کو گنہگار لوگوں کے ساتھ-

ایسا اس لیے کہا کہ حضرت ہارون کو شک ہوا کہ جناب موسی انہیں بھی گئوسالہ پرستی میں قوم کا شریک سمجھ رہے ہیں- اور دیکھنے والے آپ دونوں کو لڑتا دیکھ کر ہنس رہے تھے- اس لیے کہا کہ یہ اللہ کے اور ہمارے دشمن ہیں انہیں مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیں-

چونکہ حضرت موسی اور ہارون دونوں سگے بھائی تھے اس لیے حضرت ہارون نے موسی کو ماں جائے کہا تاکہ رحم کر چھوڑ دیں-

چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون کے بال چھوڑے اور کہا کہ گئوسالہ کس نے بنایا ہے- حضرت ہارون بولے کہ سامری نے بنایا ہے۔

چنانچہ حضرت موسی نے پوچھا یہ گئوسالہ کس نے بنایا ہے- جواب ملا کہ یہ سب کارستانی سامری جادوگر کی ہے- اور اسی نے یہ گئوسالہ بنایا اور لوگوں کو اس کی پرستش پر لگا کر راہ حق سے بھٹکایا اور بہکایا ہے-

پس حضرت موسی نے سامری بلایا اور اسے سرزنش کرتے ہوئے پوچھا کہ تم نے یہ کیا ظلم کیا کیوں خدا کو بھول گیا اور فتنہ ڈالا قوم میں اور گمراہ کیا انہیں یہ گئوسالہ بنا کر- اور یہ گئوسالہ تو نے کیسے اور کیوں بنایا- تب سامری نے کہا کہ ایسا کہا مجھے میرے جی نے اور میں نے پایا ایک نیک روح کو کہ نہ پایا اسے لوگوں نے- پس بھر لی ایک مٹھی خاک کی اس بھیجے ہوئے کہ گھوڑے کے سم کے نیچے سے اور جہاں سم رکھتا وہاں ہریالی اگتی- پس پایا راز اس سے زندگی کا اور پھر بنایا ایک قالب مٹی سے اور سونا چاندی وغیرہ چڑھایا اس پر اور پھر وہی مٹھی خاک کی ڈال دی اس کے منہ میں اور پھر چلایا زندہ ہو کر اور تب یہ بات نکلی اور یہی مصلحت دی مجھ کو میرے جی نے- یعنی سامری نے سب بیان کیا کہ کیسے بنایا اور بنانے کی توجیہہ یہ بیان کی کہ ایسا کرنے کو اس کے دل نے کہا اس کے دل میں یہ خیال آیا سو اس نے بنا دیا-

تب حضرت موسی علیہ السلام نے آسمان کی طرف نگاہ کر کے کہ کہا، الہی! اگرچہ سامری نے گئوسالہ بنایا لیکن اس کو زبان کس نے دی- ارشاد ہوا اے موسی بیشک اس کو گویائی ہمیں نے عطا کی- تب فرمایا بیشک سب آزمانا تیری ہی طرف سے ہے- گمراہ کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور راہ دکھاتا ہے جس کو تو چاہتا ہے- تو ہے ہمارا دوست پس بخش ہم کو اور رحم کر ہم پر بیشک تو ہے سب سے بہتر بخشنے والا-

تب وحی ہوئی اے موسی تم نے اپنی قوم ھارون کو سونپی تھی اور اسے نگہبان مقرر کیا تھا- اور ہمیں کیوں نہ سونپی اور ہم بہتر نگہبانی کرنے والے ہیں- سرور کائنات حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نبوت سونپی گئی تو آپ نے اپنی امت اللہ کو سونپی کہ تو ہی ان کا نگہبان ہے- قیامت کے دن تمام نسل آدم کی ایک سو بیس صفیں مشرق سے مغرب تک ہوں گی جن میں اسی صفیں امت محمدیہ کی ہوں گی- تب اللہ تعالی ارشاد فرمائیں گے اے محبوب دیکھ لو اپنی امت کو کہ تمام مرد عورت چھوٹے بڑے پورے ہیں سو اس وقت مجھ سے جو مانگو گے سو پاو گے- تب نبی کریم بارگاہ ربوی میں التجا کریں گے الہی! میں اس میدان میں انہیں کہا لے جاوں- تو ہی ان پر رحم کر اور انہیں بخش دے اور جنت میں داخل کر اور اپنے دیدار سے سیر فرما- صلی اللہ علیہ وسلم

القصہ حضرت موسی نے دعا کی الہی میں نے توبہ کی تو قبول کر- اور معاف فرما مجھ کو اور میرے بھائی کو اور داخل کر ہم کو اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا- ندا آئی اے موسی دعا اور توبہ تمہاری قبول ہوئی اور ان لوگوں کی جنہوں نے تمہارے ساتھ توبہ کی ان کی توبہ بھی قبول ہوئی-

پس جب غصہ دور ہوا حضرت موسی علیہ السلام کا تب دوبارہ اٹھائیں تختیاں تورات کی ہاتھ میں لیکر بنی اسرائیل کی قوم سے کہا اے لوگو! تمہارے واسطے میں نے کتاب توریت لا دی کہ احکام الہی اپنے گھروں میں لکھو پڑھو خدا کا حکم بجا لاو- وہ کہنے لگے اے موسی، اگر پڑھیں گے تو عمل نہیں کریں گے اور اگر عمل کریں گے تو پڑھیں گے نہیں اس میں ایک عمل اختیار کریں گے دونوں نہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close