تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 59)

رستم علی خان

چنانچہ جب کبھی قارون کا دل کرتا کہ وہ اپنی دولت و حشمت کی نمائش کرے تو وہ اپنے بیوی کو لباس فاخرہ زیب تن کرواتا جو سونے چاندی کی تاروں سے بنا ہوتا اور جواہرات اس میں بہت لگے ہوتے- اور سر پر ہیروں موتیوں اور جواہرات سے مزین تاج ہوتا- اور خود بھی خوب زیب و زینت کے ساتھ محل سے نکلتا یہاں تک کہ اس کی سواری بھی سونے اور جواہرات سے سجی ہوئی ہوتی- اور سو سوار سونے کی جڑی پوشاکیں زیب تن کیئے اس کی سواری کے ساتھ چلتے-

پس جب وہ بازار سے گزرتا تو دنیاوی مال و دولت کی حرص رکھنے والے لوگ اسے حسرت سے دیکھتے اور رشک کرتے اور یوب کہتے کہ ہائے کاش ہمیں قارون جتنا نہ سہی اس کے خزانہ کا آدھا یا چلو کچھ حصہ ہی مل جاتا کہ ہم بھی عیش و آرام اور ٹھاٹ باٹھ والی زندھی جیتے- اور مومن لوگ کہتے کہ کیا فائدہ ایسی دولت کا جو ثوابوں کو کھا جائے اور جس کے پیچھے ہمیشہ کی زلت اور خواری گھات لگائے بیٹھی ہوئی ہو-

اس وقت بنی اسرائیل دو حصوں میں بٹ گیا ایک حصہ وہ جو حضرت موسی اور توریت پر ایمان رکھتے تھے اور جنہیں قارون کے دولت اور خزانوں سے کوئی سروکار نہیں تھا بلکہ وہ اخروی زندگی کو عارضی زندگی پر ترجیح دیتے تھے- اور دوسرا گروہ وہ تھا جو قارون کے چاپلوس تھے اور اس کے محل میں روز دعوتیں اڑاتے اور عیش و نشاط کو ایمان پر ترجیح دیتے اور مومنین پر ہنستے کہ بھلا ان کے ایمان انہیں کیا فائدہ دے رہے ہیں-

اللہ تعالی نے حضرت موسی کی طرف وحی بھیجی کہ قارون کے پاس جاو اور اسے کہو جو مال ہم نے اسے عطا کیا اس میں سے زکوت دیا کرے اور صدقہ خیرات کرے- چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام قارون کے پاس گئے اور اسے سمجھایا کہ جو مال تمہیں اللہ نے عطا کیا ہے اس میں سے کچھ حصہ اللہ کی راہ میں بطور زکوت غرباء مساکین وغیرہ کو ادا کیا کرو- قارون نے کہا اے موسی یہ سب تو میں نے اپنے ہنر سے کمایا ہے اس میں تمہارے خدا کا کوئی حصہ نہیں- چنانچہ جناب موسی نے فرمایا کہ اگر تم دس دیناروں میں سے ایک دینار زکوت نکالو گے تو اللہ تعالی تم پر مزید مہربانی کرے گا- حضرت موسی نے فرمایا جو تم سونے چاندی کے ظروف بناتے ہو ان کے بنانے میں جو زرات نیچے گر جاتے ہیں اگر وہ بھی غریب مساکین میں بانٹ دو تو تمہاری زکوت ادا ہو جائے گی-

قارون نے کہا اگر میں زکوت اور صدقہ خیرات کروں گا خدا کی راہ میں تو تمہارا خدا مجھے کیا دے گا- حضرت موسی نے فرمایا کہ وہ تمہیں بہشت عطا کرے گا اور تمہارا مال پاک ہو گا- قارون نے کہا مجھے بہشت کی ضرورت نہیں ہے- چنانچہ حضرت موسی نے فرمایا کہ کیا تم اللہ کی طاقت اور عظمت کو بھول بیٹھے ہو- کیا تم نہیں جانتے کہ تم سے پہلے کیسے کیسے شان و شوکت اور جاہ و جلال والے لوگ آئے جو اپنی دولت پر ناز کیا کرتے تھے جن کے ساتھی بیشمار تھے جن کی فوجیں اور طاقتیں بڑی تھیں جن کے پاس لشکروں کے لشکر تھے- کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے ان کے ساتھ کیا کیا- نہ ان کا مال دولت ان کے کسی کام آیا اور نہ لشکر فوجیں ہی انہیں اللہ کی پکڑ سے بچا سکیں-

چنانچہ جب حضرت موسی علیہ السلام نے قارون کو فرعون اور اس سے پہلے لوگوں کی بابت یاد دلایا کہ جو قارون سے بھی بڑی طاقتوں اور قوتوں کے مالک تھے- پھر جب اللہ کی بات سے انکار کیا تو برے انجام سے دوچار ہوئے- تب قارون نے حضرت موسی سے عہد کیا کہ وہ ضرور زکوت ادا کرے گا- لیکن بعد میں جب زکوت دینے کے لیے اس نے حساب لگایا تو اتنے بڑے خزانے میں سے ایک بڑی رقم زکوت کی صورت نکلتی نظر آئی- تب پھر انکاری ہوا اور بخل سے کام لیا۔

چنانچہ مال کی محبت اور بخل کی وجہ سے قارون نے زکوت ادا کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں نے تمام دولت خزانہ اپنی چالاکی اور ہنر سے بنایا ہے پس اگر اس سے زکوت دوں گا تو یہ کم ہو جائے گا- اور کہا کہ بھلا مجھے زکوت کیا فائدہ دے گی سوائے میرے مال کے نقصان کے- حضرت موسی علیہ السلام اسے سمجھانے اور پیغام حق پنہچانے میں لگے رہتے- دوسری جانب قارون کے چاپلوس بھی اسے انکار زکوت پر ابھارتے رپتے-

جب قارون نے دیکھا کہ حضرت موسی اور مومنین بنی اسرائیل اسے ترغیب اور وعظ و نصیحت کرنے سے پیچھے نہیں ہٹنے والے تب اس نے حضرت موسی پر تہمت لگا کر انہیں بدنام کرنے کی سازش تیار کی تاکہ لوگوں کی توجہ اس سے ہٹ جائے اور وہ حضرت موسی کی باتوں کو جھوٹ اور غلط جانیں-

تب اس نے ایک روز مصر کی ایک خوبصورت عورت کو اپنے محل میں بلایا جو خوبصورت ہونے کے علاوہ غریب اور ضرورت مند بھی تھی- قارون نے اسے کچھ اشرفیاں اور دینار دئیے اور کہاکہ اگر تم میرا ایک کام کر دو تو میں تمہیں ڈھیر دولت مزید دوں گا اور اس کے علاوہ خوب مہنگی پوشاکیں اور زیور جواہرات وغیرہ بھی دوں گا- چنانچہ تمہیں بس یہ کرنا ہے کہ جس وقت موسی اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کر رہا ہو اور انہیں ہدایت کا پیغام سنا رہا ہو تب تم وہاں جا کر لوگوں سے کہہ دینا کہ موسی تو میرا عاشق اور یار ہے- اور میرے ساتھ سوتا ہے اور زنا کرتا ہے معاذ اللہ- چنانچہ اگر تم ایسا کرو تو میں تمہیں خوب خوش کروں گا مال و دولت وغیرہ سے- چنانچہ اس عورت نے حامی بھر لی-

پس کچھ دن بعد جب حضرت موسی علیہ السلام منبر پر بیٹھے اپنی قوم کے لوگوں کو وعظ و نصیحت فرما رہے تھے اور احکام الہی سمجھا سکھا رہے تھے کہ جو شخص زکوت نہیں دے گا اللہ کے ہاں اس سے اس کے مال کے بارے پوچھ ہو گی اور اس کی پکڑ ہو گی اور یہ کہ جو زنا کرے اسے سنگسار کیا جائے گا یہاں بھی اور اللہ کے ہاں بھی اس کی یہی سزا ہو گی- تبھی قارون بھی وہاں آ گیا اور اس کے ساتھی بھی اس کے ساتھ تھے اور اس عورت کو بھی بلوا لیا- اور قارون نے کہا اے موسی اگر تم نے زنا کیا ہو تو ؟ آپ نے فرمایا کہ بیشک مجھے بھی قتل کیا جائے-

تب قارون نے کہا اے لوگو موسی کا ایک عورت کے ساتھ یارانہ ہے اور میرے پاس گواہی اس کی موجود ہے- پس اس عورت کو بلایا گیا اور قارون نے کہا بتاو ان لوگوں کو موسی کی اصل کے بارے- تبھی اللہ کے حکم سے اس عورت کا دل غلط بات سے پھر گیا اور کہنے لگی کہ قسم ہے اس زات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے موسی پاک اور معصوم ہے اور اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ سازش قارون کی تھی موسی کے خلاف اور اسی نے بہکایا مجھے لالچ دے کر کہ میں موسی پر تہمت لگاوں اور اسے رسوا کروں لوگوں میں-

پس جب حضرت موسی نے یہ سنا تو غش کھا کر زمین پر آ گرے تب حضرت جبرائیل نے آ کر آپ کو سنبھالا دیا اور ارشاد ہوا اے موسی ہم نے زمین کو تمہارے حکم کے تابع کیا پس اسے جو حکم دو گے کرے گی- حضرت موسی نے قارون سے اس جھوٹی تہمت لگانے اور رسوا کرنے کی کوشش کے بابت وجہ پوچھی تو اس نے چند اور باتیں نامعقول کیں- پس حضرت موسی نے زمین پر عصا مارا اور حکم دیا زمین کو کہ دھنسا لے قارون کو اپنے اندر-

چنانچہ زمین نے قارون اور اس کے ساتھیوں کو گھٹنوں تک اندر دھنسا لیا- تب اپنی غلطی تسلیم کی اور معافی مانگنے لگا- تب حضرت موسی نے زمین کو دوبارہ حکم دیا تو زمین نے اسے کمر تک اپنے اندر دھنسا لیا- تب پھر گڑگڑانے اور معافی مانگنے لگا- تب حضرت ہارون نے بھی رشتہ داری اور برادری کے ناطے اس کی تقصیر معاف کرنے کی درخواست کی- لیکن حضرت موسی نے پھر زمین پر عصا مارا تو زمین نے اسے گردن تک اندر دھنسا لیا- پس جب اس نے کوئی راہ فرار کی نہ پائی تو کہنے لگا کہ اصل میں موسی کی نظر میرے خزانوں پر ہے کہ مجھے زمین میں دھنسا کر ان پر بنی اسرائیل کے غرباء کو قابض کر سکے-

تبھی حضرت جبرائیل نے اس کے تمام خزانے اس کے سامنے لا رکھے تب حضرت موسی نے حکم دیا زمین کو کہ دھنسا دے قارون کے خزانے اول اس کے سامنے اور بعد اس کو بھی اپنے اندر دھنسا لے- چنانچہ زمین نے حکم پورا کیا اور اس طرح قارون اپنے ساتھیوں اور خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا-اور یہاں تک قصہ قارون کا تھا۔

روایت کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص نام اس کا عامیل بن سلیمان تھا- ملک اور دولت اور حشمت اس کی بہت تھی- لیکن اس کے گھر میں اولاد کوئی نہ تھی- یعنی دنیاوی مال و دولت کے خساب کے سے تو بےحد امیر اور مرتبے والا تھا لیکن بےاولاد تھا- رشتہ داروں میں صرف ایک بھتیجا اس کا تھا نہایت طاقتور اور زور آور تھا لیکن تھا بہت غریب اور کاہل- خود کوئی کام کاج نہ کرتا تھا بلکہ اپنے چچا کے مال و دولت پر اس کی نظر تھی- چنانچہ اسی دولت کی لالچ میں ہمیشہ اس تاک میں رہتا کہ کب اسے موقع ملے اور اپنے چچا کو قتل کر کے اس کی دولت اور گھر وغیرہ پر قبضہ جمائے-

الغرض ایک شب لالچ کی وجہ سے اپنے چچا کو سوتے میں قتل کر کے اسے شہر سے باہر لے جا کر دو گاوں کی سرحد پر ڈال دیا- اور ملک و مال چچا کی کا وارث ہوا- اور بعد اس کے مکر و فریب جمایا اور چچا کے قاتل کا پتا ڈھونڈنے لگا-

اور اسی سازش میں دونوں گاوں پر الزام دھرا کہ ان میں سے کسی نے میرا چچا کا قتل ناحق کر دیا ہے پس ان سب کو میرے حضور لا کر حاضر کرو تاکہ میں اپنے چچا کے قاتل کا پتا لگوا کر قاتل سے خون کا قصاص لے سکوں- تب گاوں کے لوگ اس افتاد سے گبھرائے اور اپنی اپنی جان بچانے کی غرض سے ایک دوسرے پر الزام دھرنے اور تہمت دینے لگے کہ اس نے قتل کیا ہو گا تو کوئی کہتا اس نے مارا ہو گا- چنانچہ اللہ تعالی اس معاملے کو یوں بیان فرماتا ہے؛ "اور جب تم نے مار ڈالا ایک جی کو اور پھر لگے ایک دوسرے پر دھرنے اور اللہ کو نکالنا ہے جو تم چھپاتے ہو-

الغرض جب معاملہ کسی طور سمجھ نہ آیا اور قاتل کے بارے خبر نہ ہو سکی تو تمام لوگ گاوں کے حضرت موسی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ساری بات بیان کر کے عرض کی، کہ یارسول اللہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ اس مقتول کے قاتل سے اللہ خبر دے کہ اسے کس نے مارا یقینا تبھی یہ معاملہ حل ہو سکے گا-

تب حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ سے اس بارے دعا فرمائی- تب حضرت جبرائیل  نے آ کے حضرت موسی سے کہا کہ اللہ فرماتا ہے، کہ ہم چغل خوروں کو اپنا دشمن رکھتے ہیں سو ہم کس طرح سے کسی کی چغل خوری کر سکتے ہیں- ہس آپ ان سے کہیئے کہ ایک گائے زبح کریں اور اس کی زبان لیکر مقتول کے ماریں تو وہ اللہ کے حکم سے تھوڑی دیر کو زندہ ہو جائے گا اور اپنے قاتل کے بارے خود سے بتا دے گا- اور اس طرح سچ اور جھوٹ واضح ہو جائے گا-

اور اس طرح سے قاتل کے بارے پتا لگانے کو اس لیے کہا گیا کہ اگر اللہ تعالی حضرت موسی کے زریعے سیدھے طریقے سے قاتل کے بارے بیان کر بھی دیتا تو وہ بڑی حیلہ ساز قوم تھی چنانچہ سو حیلے بہانے تراشتی اس لیے ایسا کرنے کو کہا کہ کوئی شک و شبہہ باقی نہ رہے گا جب مقتول خود اپنے قاتل کے بارے بیان کر دے گا- اور دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ قوم گائے کی پرستش کرنے والی تھی اس لیے اللہ تعالی نے ان کو گائے زبح کرنے کا حکم دیا کہ سمجھ سکیں کہ یہ کیسا معبود ہے جو زبح ہوتا ہے-

غرض موسی علیہ السلام نے اللہ کے فرمانے سے قوم کو خبر دی اللہ تعالی فرماتا ہے؛ اور جب کہا موسی نے اپنی قوم سے کہ اللہ فرماتا ہے تم کو کہ زبح کرو ایک گائے تو البتہ قاتل معلوم کرو گے- وہ لوگ کہنے لگے کہ اے موسی یہ تم ہم سے کیسا مذاق کر رہے ہو- ہم تمہارے پاس اتنا سنگین مسلئہ لیکر کے حاضر ہوئے ہیں اور تم ہمیں گائے زبح کرنے کا مشورہ دے رہے ہو- یعنی تم ہمارے ساتھ مذاق کر رہے ہو اس بات کو لیکر-

چنانچہ حضرت موسی نے فرمایا کہ میں اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں اس بات سے کہ مذاق تو جاہل لوگ بناتے ہیں بھلا میں تمہارے مسلئے کا مذاق بنا کر جاہلوں میں سے نہ ہو جاوں گا- یعنی میں تو تمہیں وہی بتا رہا ہوں جیسا کہ مجھے بتایا گیا ہے اللہ کی طرف سے- جیسا کہ اوپر بیان ہوا وہ قوم بڑی حیلہ ساز تھی پس اس بات میں بھی حیلے تراشنے لگی- چنانچہ انہوں نے حضرت موسی سے کہا کہ آپ اللہ سے پوچھ دیجئے کہ وہ گائے کیسی ہونی چاہئیے- مطلب اس کی کوئی خاص بات بیان فرما دیں تاکہ ہمیں اسے ڈھوڈنے میں آسانی ہو سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close