تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 61)

 رستم علی خان

چنانچہ بنی اسرائیل نے سن کر چاہا کہ جہاد پر نہ جاویں- تب حضرت موسی نے فرمایا، اے قوم بھاگو مت میرے ساتھ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ تم کو ان کافروں پر فتح دے گا- قوم نے کہا اے موسی کیا تم نے نہ سنا جو حال آنے والوں نے بیان کیا- وہاں ایسے زبردست اور جابر قسم کے لوگ ہیں- لہذا جب تک وہ وہاں سے نہیں نکل جاتے ہم ہرگز وہاں نہ جائیں گے۔

لہذا جو دو نیک بزرگ سردار تھے بنی اسرائیل والوں میں سے کہ جنہوں نے عہد شکنی نہ کی تھی کالوت اور یوشع تھے- لہذا انہوں نے قوم سے کہا اے قوم بیٹھ جاو اور ان پر حملہ کرو- اگرچہ قوم قوی اور جبار ہے لیکن اللہ نے تمہیں ان پر فتح دلانے کا وعدہ کیا ہے- اور موسی نے بھی تم سے وعدہ کیا ہے کہ اللہ ان کو ہلاک کرے گا جیسے اس سے پہلے فرعون کو ہلاک کیا تھا- پھر جب تم ثابت قدم رہو گے تو یقینا اللہ تم کو ان پر غالب کرے گا اور اللہ پر بھروسا کرو اگر تم یقین رکھتے ہو تو۔

چنانچہ قوم نے کہا ہرگز نہ جائیں گے ہم تمام عمر بھی جب تک وہ لوگ وہاں رہیں گے۔ بلکہ ایسا کرو تم اور تمہارا خدا جا کر ان سے لڑو- ہم یہاں بیٹھ کر تمہارا انتظار کرتے ہیں پھر اگر تم لوٹے فتح یاب ہوکر تو ہم تمہارے ساتھ چلیں گے۔

تب حضرت موسی نے غصہ ہو کر ان لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں بددعا کی کہ الہی میرے بس میں نہیں کچھ سوائے اپنی جان اور اپنے بھائی کے کہ ہم دونوں ہر حال میں تیرا حکم بجا لاویں گے- باقی یہ لوگ میری بات نہیں مانتے پس تو جدائی کر لے ہم میں اور ان بےحکم لوگوں میں-

تب اللہ نے فرمایا اے موسی غم نہ کر سنی ہم نے تیری پکار پس حرام ہوئی ان پر چالیس برس تک سرزمین اپنی پس سر مارتے پھریں گے پس تو افسوس نہ کر ان بےحکم لوگوں پر-

قصہ یوں ہے کہ اللہ نے حکم کیا بنی اسرائیل پر کہ جہاد کرو عمالقہ جبار سے اور ملک شام تمام چھین لو پھر وہ ملک ہمیشہ کے لیے تمہارا ہو گا- حضرت موسی نے بارہ سردار بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں سے منتخب کیے اور انہیں ملک شام میں بھیجا کہ وہاں کی خبر لاویں- جب وہ خبر وہ لائے تو وہاں کی خوبیاں بہت بیان کیں اور جو وہاں مسلط تھے عمالقہ ان کا قوت و زور بھی بیان کیا- پس حضرت موسی نے ان سے کہا کہ تم قوم سے خوبی ملک بیان کیجئو اور وہاں کے جابروں کی قوت و زور کا تذکرہ نہ کیجئو- چنانچہ سب نے عہد کیا کہ ایسا ہی کریں گے- مگر بعد میں صرف دو لوگ عہد پر قائم رہے اور باقی دس نے عہد شکنی کی اور قوم سے دشمن کی طاقت و زور بھی بیان کر دیا- پھر جب قوم نے دشمن کی قوت کے بارے سنا تو نامردی دکھانے لگے اور چاہا کہ واپس ملک مصر میں لوٹ جائیں- اور حضرت موسی کے سمجھانے پر بھی جہاد کا انکار کیا اور رسول اللہ کی بات سے انکاری ہوئے- تب اس تقصیر کے جرم میں چالیس برس کا عتاب ان پر اللہ کی طرف سے نازل ہوا- چنانچہ اتنی مدت قوم بنی اسرائیل جنگلوں اور بیابانوں میں بھٹکتے رہے- اور اس قرن کے تمام لوگ مر گئے تھے مگر دو شخص یوشع اور کالوت ان میں زندہ رہے اور بعد میں انہیں کے ہاتھوں ملک شام فتح ہوا-

القصہ حضرت موسی و ہارون عصا ہاتھ میں لیے ملک شام کو برائے جہاد روانہ ہوئے اور قوم تمام وہیں رہ گئی اور لڑائی سے انکار کر دیا- بعد اس کے جب رات ہوئی تو بنی اسرائیل والوں نے آپسی مشورے کے بعد واپس مصر جانے کا قصد کیا اور وہاں سے چلے- چنانچہ تمام رات چلتے رہے پھر جب سپیدہ سحر نمودار ہوا تو دیکھا کہ جس جگہ سے رات کو کوچ کیا تھا تمام رات چلتے رہنے کے بعد اسی جگہ پر آ رہے ہیں۔

چنانچہ قوم جس جگہ سے چلی تھی تمام رات چلنے کے بعد صبح دیکھا تو اسی جگہ تھے- پھر دوسری شب بھی نکلنے کا قصد کیا تمام شب چلتے رہے پھر جب فجر کے وقت دیکھا تو اسی جگہ پر رہے ہیں- تب وہ سمجھے کہ یہ سب حضرت موسی کی بددعا کی وجہ سے ہمارا یہ حال ہوا یے- تب یوشع بن نون نے ان سے کہا اس میدان میں ٹھہر جاو- صبرو کرو اور توبہ استغفار کرو اور جب تک حضرت موسی ملک شام فتح کر کے نہیں لوٹتے یہیں رہ کر ان کا انتظار کرو-

تب قوم بنی اسرائیل اللہ پر توکل کر کے اس میدان تیہ میں رہ گئے- تیہ اس میدان کا نام ہے جس میں بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کے چھ لاکھ آدمی حضرت موسی کی بددعا سے محبوس رہے- وہاں سے نہ نکل سکے- وہ میدان تیہ درمیان فلسطین اور تلہ اور اردن اور مصر کے ہے- طول اس کا چھتیس کوس کا ہے اور عرض اٹھارہ کوس کا ہے-

ادھر حضرت موسی جب نزدیک شہر عوج کے گئے تو عوج بن عنق کی ہیئت اور قوت کو دیکھ کر ڈرے- پھر اللہ کو یاد کر کے اس کی جانب بڑھے- جب عوج بن عنق نے حضرت موسی کو دیکھا تو ان کی جانب بڑھا اور پاوں اٹھایا اس نیت سے کہ انہیں اپنے پاوں کے نیچے چیونٹی کی مثل مسل دے- اور یوں کہا کہ تو ہے وہ جادوگر اور سردار قوم بنی اسرائیل کا جس نے قبطیوں کو اور فرعون کو پورے لشکر سمیت دریائے نیل میں ڈبو کر مارا تھا- اور اب تم ہمارے ملک کو فتح کرنے کے ارادے سے آئے ہو- اور یہ کہہ کر چاہا کہ حضرت موسی پر حملہ کرے- روایت ہے کہ حضرت موسی کا قد دس گز تھا اور قد برابر ہی لمبا عصا تھا- چنانچہ آپ نے اچھل کر اس کے عصا مارا تب بھی عصا اس کی پنڈلی یا گھٹنے پر لگا عصا لگتے ہی وہ مردود زمین پر گرا اور وہیں اس کی موت ہو گئی- روایت ہے کہ چالیس برس تک بنی اسرائیل تیہ کے میدان میں محبوس رہے اور اتنے برس تک لاش عوج بن عنق کی شام میں گلتی سڑتی رہی اور گوشت تمام گل گیا اور پشت کی ہڈی مثل پہاڑ کے کھڑی تھی- بعد چالیس برس کے جب حضرت یوشع بن نون نے ملک شام فتح کیا تو وہ ہڈی بھی اپنے ساتھ لے گئے جس سے دریائے نیل پر پل باندھا اور ایک مدت تک خلق خدا اس پر سے آمد و رفت کرتی رہی-

القصہ جب حضرت موسی علیہ السلام عوج بن عنق کو مار کر شاد ہو کے بنی اسرائیل میں واپس لوٹے تو قوم کو اسی میدان تیہ میں پایا جہاں انہیں چھوڑ کر گئے تھے- تب اپنی قوم سے خوش ہو کر فرمایا اے قوم خوش ہو جاو کہ اللہ نے مجھ کو عمالقہ پر فتح دی ہے اور عوج بن عنق کو میں نے مار ڈالا ہے- پس اب تم چلو میرے ساتھ کہ شہر میں داخل ہوں اور حکم ربی بجا لائیں- تب بنی اسرائیل نے اپنا حال بیان کیا کہ ہم اس میدان سے نہیں نکل سکتے- تب حضرت موسی نے فرمایا چلو اپنا سامان اور مال اسباب سمیٹو اور شہر شام کی طرف چلو- چنانچہ وہ لوگ اپنا ساز سامان سمیٹ کر ساتھ چلے اور تمام شب چلتے رہے پھر جب صبح ہوئی تو دیکھا اسی جگہ پر ہیں جہاں سے کوچ کیا تھا-

تب حضرت موسی نے اپنی بددعا پر نادم ہو کر ان کے لیے اللہ سے دعائے نیک کی کہ الہی تجھ کو خوب معلوم ہے اب وہ شام جانے کے لیے راضی ہیں پس ان کو اس میدان سے رہائی عطا فرما- تب حکم  ہوا اے موسی ہم نے ان پر چالیس برس تک وہ زمین حرام کر دی ہے اور یہ کہ سرگرداں پھریں گے اتنی مدت تک ملک میں- پس تو افسوس نہ کر فاسقوں پر یہ اس تیہ کے عذاب میں رہیں گے کیونکہ تیرے ساتھ جہاد کو نہ گئے- اور بولے کہ ہم نہیں جائیں گے تم اور تمہارا خدا جہاد کو جاو- پس اس میدان بیابان میں کچھ بھی کھانے پینے کو نہ تھا سوائے جھاڑ جھٹکار اور اجاڑ کانٹے کے کچھ پیدا نہ ہوتا اور نہ ہی کوئی پرند جانور یا حیوان کہ جس کا شکار کر کے کھا لیتے-

تب جب ان کا توشہ اور کھانے پینے کا سارا سامان ختم ہو گیا جو وہ ساتھ لائے تھے تو مارے بھوک پیاس کے حضرت موسی کے آگے فریاد کی کہ یہاں سوائے جھاڑ جھٹکار کے کچھ نہیں اور نہ ہی کوئی  شکار کے لیے پرند جانور  ہے- اور نہ ہی یہ زمین کھیتی کے لیے موزوں ہے کہ  ہم زمین سے اپنے واسطے کچھ اگا سکیں-  پس آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ ہمیں ہماری غلطی پر معاف فرما کر ہمارے کھانے پینے کا کچھ انتظام فرما دے۔

تب حضرت موسی علیہ السلام نے جناب باری میں ان کے لیے دعا فرمائی- تب اللہ تعالی نے قوم بنی اسرائیل کے لیے من و سلوی بھیجا- من ایک چیز کا نام ہے جس کے بارے ہے کہ وہ دھنئیے یا پودینے کے جیسا دکھتا- رات کو آسمان سے گرتا صبح کو سب چن لیتے اور کھاتے- وہ میٹھا اور شیریں اور خوشبودار اور خوش ذائقہ ہوتا- اور سلوی ایک مرغ پرند کا نام ہے- جو دیکھنے میں سرخ تیتر یا بٹیر کی طرح کا تھا اور اس کا گوشت بھی اسی جیسا ہوتا- عصر کے قریب ہزاروں کی تعداد میں وہ پرندے بنی اسرائیل والوں کے قریب اڑ کر آ بیٹھتے- پھر جب رات اندھیری ہو جاتی تو بنی اسرائیل بقدر حاجت کے ان کو پکڑ کر بھون کر کھا لیتے-

اور اس میدان بیابان میں کوئی درخت بھی نہیں تھا سوائے جھاڑ کے- چنانچہ جب دھوپ کی تپش بڑھنے لگی تو پھر حضرت موسی کے پاس پنہچے اور کہا اللہ سے دعا کریں کہ ہمارے واسطے اس دھوپ کی تپش سے بچاو کے لیے کسی چھاوں وغیرہ کا انتظام ہو سکے- تب آپ نے دعا فرمائی جو قبول کی گئی اور اللہ بارک وتعالی نے قوم بنی اسرائیل کے لیے بادلوں کا سایہ بھیجا- چنانچہ ارشاد ہوا؛ اور سایہ کیا ہم نے تم پر ابر کا اور اتارا ہم نے تم پر من و سلوی کہ کھاو ستھری چیزیں جو ہم نے دیں تم کو اور ہمارا کچھ نقصان نہ کیا پر اپنا ہی نقصان کرتے رہے-

بعد اس کے جب قوم نے پانی کے لیے فریاد کی تو حکم ہوا اے موسی یہ جو میدان میں پتھر ہے اس پر عصا مار- چنانچہ جب مارا عصا تو اس پتھر سے پانی کے بارہ چشمے بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کے لیے جاری ہو گئے- چونکہ بنی اسرائیل میں بارہ قبیلے تھے جو حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی نسل سے تھے- اور وہ سب ایک جگہ نہ رہتے تھے بلکہ جدا جدا رہتے اور سب قبیلے آپس میں بغض و عداوت رکھتے- چنانچہ  اس واسطے بارہ چشمے پھوٹے اور اپنے اپنے چشمے سے پانی لیتے- ارشاد ربانی ہے؛ پہچان لیا ہر قوم نے اپنا اپنا گھاٹ-

حضرت موسی علیہ السلام نے قوم سے کہا من و سلوی ایک روز کھانے کے سوا زیادہ نہ رکھئیو- یعنی اللہ کی رحمت پر شک نہ کیجئو- لیکن قوم نے آپ کی بات نہ سنی اور سب نے ایک ایک مہینے کی خوراک جمع کر لی- اور اللہ کی رحمت پر بےیقینی کی کہ شائد من و سلوی دوبارہ نہیں اترے گا- تب پھر گنہگار ہوئے اور من و سلوی اترنا بند ہو گیا- تب پھر حضرت موسی کے پاس گئے اور عرض و فریاد کی اور اپنی تقصیر کی معافی چاہی- تب حضرت موسی نے دوبارہ اللہ سے دعا کی تو اس کے بعد پھر اترنا شروع ہوا لیکن پھر ان کے لیے اتنا ہی اترتا جتنا کہ ان کو حاجت ہوتی اور اسی طرح ایک مدت طویل تک من و سلوی اترتا رہا اور وہ کھاتے رہے-

بعد ایک مدت کے سبھوں نے جا کر حضرت موسی سے فریاد کی کہ کب تک یہ سب کھاتے رہیں گے اور  ہم تنگ آ گئے ہیں یہ سب کھا کر- آپ اللہ سے دعا کریں کہ ہمارے واسطے وہ نکال دے جو زمین سے اگتا ہے ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز- تب جناب موسی نے فرمایا تم کیا چاہتے ایک چیز جو ادنی ہے بدلے میں ایک ایسی چیز کے جو بہتر ہے- اور اگر ایسا ہے تو اترو کسی شہر میں تو تم کو ملے گا جو تم چاہتے ہو- حضرت موسی نے فرمایا کہ اگر یہ سب کھانا چاہتے ہو تو واپس مصر چلو اور خود سے سبزیاں اور دالیں اور گیہوں وغیرہ اگاو اور کھاو- لیکن بغیر حکم کے مصر بھی نہ جا سکتے تھے کیونکہ اپنے برے عمال کی وجہ سے اس میدان میں قید تھے- اور زلت و رسوائی اور مختاجی اور اللہ کا غیض خرید چکے تھے اپنے عملوں کی وجہ سے-

تب حکم ہوا کہ اسی زمین میں ہل چلاو اور بیجو جو چاہتے ہو کھانا پھر اللہ زمین سے تمہارے لیے وہی سب نکال دے گا اور برکت دے گا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close