تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 63)

رستم علی خان

چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ پس وہی تو وہ جگہ تھی جس کی ہم تلاش کر رہے تھے- لہذا دونوں وہاں سے اپنے قدموں  نشانوں پر چلتے ہوئے واپس اسی پتھر والی جگہ پر آئے کہ جہاں رکے تھے- تب دیکھا اس مچھلی کو پانی میں کہ کبھی اوپر آتی اور کبھی دوبارہ پانی میں غوطہ لگاتی- چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام نے چاہا کہ اس مچھلی کو پکڑیں- پس کودے پانی میں اور ایک غوطہ لگایا اس مچھلی کو پکڑنے کو- پھر جب نکلے تو دیکھا ایک گنبد پانی میں اور ہوا پر معلق کھڑا ہوا ہے- اور حضرت خضر علیہ السلام نماز پڑھ رہے ہیں-

چنانچہ حضرت موسی ان کے قریب گئے- پھر جب خضر نماز سے فارغ ہو چکے تو حضرت موسی آگے بڑھے اور اسلام و علیک کہا- انہوں نے سلام کا جواب دیا اور حضرت موسی سے حال احوال پوچھا- جناب موسی نے تمام احول بیان کر دیا- اس وقت ایک پرند آ کے ان کے سامنے سمندر میں سے ایک قطرہ پانی اپنی چونچ میں لے کر اڑا- چنانچہ خضر نے موسی سے پوچھا تمہارے خیال میں اس پرندے کے چونچ بھر پانی لینے سے سمندر کو کتنا فرق پڑا ہو گا؟ حضرت موسی نے فرمایا بھلا اتنے بڑے سمندر کو اس ایک قطرے پانی سے کیا فرق پڑے گا- خضر نے ان سے کہا تم اپنے تئیں سمجھتے ہو کہ علم میں سب سے زیادہ ہوں- حالانکہ علم اول و آخر، ظاہر و باطن تمام بنی آدم کا اللہ کے نزدیک اس سے بھی کمتر ہے جیسا کہ یہ پرند کا ایک قطرہ پانی سمندر کے نزدیک کیا چیز ہے- اور اللہ کے علم کے خزانے میں اتنا فرق بھی نہیں پڑتا جتنا اس ایک قطرہ سے سمندر کو پڑا ہو گا- پس اللہ کے نزدیک تمہارا اور ہمارا علم کیا چیز ہے- پس اللہ ہی نے تمہیں اور ہمیں تربیت فرمائی ہے- پر بات یوں ہے کہ جو علم تمہیں عطا کیا گیا اس کے بارے ہم بےخبر ہیں اور جو علم مجھے عطا کیا گیا وہ تمہارے پاس نہیں ہے-

تب حضرت موسی نے فرمایا کہ میں تیری پیروی کرنا چاہتا ہوں اس بات کے لیے کہ جو تجھے سکھایا گیا پس تو اس میں سے مجھے سکھلا دے- یعنی جو علم اللہ نے آپ کو سکھلایا ہے وہ آپ کے ساتھ رہ کر سیکھنا چاہتا ہوں-

تب حضرت خضر نے کہا اے  موسی تو ہرگز صبر نہ کر سکے گا میرے ساتھ- اور کیونکر صبر کرے گا اس چیز کا کہ جس چیز کا تجھ کو علم نہیں ہے- کیونکہ مجھے اللہ نے باطن کا علم سکھایا ہے سو تو اس چیز کو برداشت نہ کرسکے گا کیونہ تو ظاہر کو دیکھے گا اور باطن کا حال معلوم کرنا تو بڑا مشکل امر ہوتا ہے-

تب حضرت موسی نے فرمایا کہ تم مجھے اپنی پیروی کرنے والا پاو گے- اور اگر اللہ نے چاہا تو تم مجھے صبر کرنے والا پاو گے اور کسی بھی حکم میں نافرمانی نہ کروں گا تمہاری- یعنی تم جیسا کہو گے ویسا ہی کروں گا- تب خضر نے کہا پس اگر تو میری پیروی کرنا چاہتا ہے تو مجھ سے میرے کسی بھی کام یا عمل پر سوال مت کیجئو یہاں تک کہ میں تمہیں خود نہ بتا دوں ہر چیز یا عمل کی مخفی بات- چنانچہ یہ وعدہ کر کے دونوں چلے وہاں سے اور ایک کشتی میں جا بیٹھے- خضر علیہ السلام نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ ڈالا- تب موسی علیہ السلام صبر نہ کر سکے اور کہا؛ تو نے کیوں توڑ ڈالا کشتی کو اس لیے کہ ڈبو دے کشتی اور اس میں بیٹھے ہوئے تمام لوگوں کو پس یہ تو تم نے بہت ہی غلط اور خراب کام کیا ہے- خضر علیہ السلام نے فرمایا اے موسی توڑ دیا تم نے اپنا وعدہ اور میں نے نہ کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے- تب موسی نے کہا کہ مجھے میری بھول پر نہ پکڑ اور میرے لیے میرے کام کو مشکل نہ بنا- تب وہاں سے آگے چلے دونوں یہاں تک کہ پنہچے ایک بچے تک جو کھیل رہا تھا- پس خضر علیہ السلام نے اسے پکڑ کر قتل کر دیا۔

چنانچہ وہاں سے آگے پنہچے ایک اور شہر پر جہاں خضر نے ایک بچے کو قتل کر دیا- تب موسی پھر سے پکار اٹھے کہ یہ تم نے کیا کر دیا- ایک جان کو ناحق قتل کیا بغیر کسی جرم کے اور بنا کسی جان کے بدلے میں بیشک تم نے صریح ظلم کیا یہ تو- پس خضر نے پھر سے کہا اے موسی تم نے پھر توڑی اپنی کہی ہوئی بات اور میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کر پاو گے کہ علم میرا اور ہے اور تمہارا اور- تب حضرت موسی کہنے لگے کہ اے خثر اب کہ میں تم سے اقرار کرتا ہوں اور اقرار پکا کہ اگر اب کہ کچھ پوچھوں تو تم کو اختیار ہو گا جیسا چاہو کرو-

چنانچہ وہاں سے آگے بڑھے اور ایک بستی میں پنہچے- بستی والوں سے کھانے کے لیے مانگا تو انہوں نے کچھ بھی دینے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ ہم مسافروں کو کھانا پانی نہیں دیتے- تب انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو ٹیڑھی ہوئی تھی اور قریب تھا کہ گر پڑتی- حضرت خضر علیہ السلام نے اس دیوار کو سیدھا کر دیا- تب حضرت موسی نے کہا اے خضر یہ تم نے کیا کیا کہ ان بستی والوں نے ہمیں کھانے کو بھی نہ دیا اور تم نے ان کا کام بنا کسی معاوضے کے کر دیا- کیا ہی اچھا ہوتا ہم اس کام کو کرنے کی مزدوری لیتے ان سے یا پھر کچھ کھانے کو ہی مانگ لیتے- اور ان پر احسان کرنا تو کسی طور جائز نہیں کہ یہ مسافروں کا اکرام نہیں کرتے اور نہ ہی مہمان نوازی کرنے والے ہیں- چنانچہ حضرت خضر نے کہا اے موسی میں تو وہی کیا کہ جس کام کے کرنے کا مجھے اللہ کی طرف سے حکم ہوا تھا- اور یہ کہ تم پھرے اپنے اقرار سے- اور میں نے نہ کہا تھا تم سے کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے- کہ علم تمہارا ظاہری ہے اور ہمارا علم باطنی ہے- اور بھلا کوئی اس چیز پر کیسے ٹھہر سکتا ہے جس کے بارے اسے مکمل علم نہ ہو- لہذا اب یہاں سے ہم ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں-

کہتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام نے پہلی بار بھول کر پوچھا دوسری بار اقرار کرنے کو اور تیسری بار رخصت ہونے کو جان بوجھ کر پوچھا- کیونکہ حضرت موسی علیہ السلام سمجھ گئے تھے کہ یہ علم ان کے کام اور اختیار کا نہیں- کیونکہ آپ کا علم تو وہ تھا کہ خلق خدا پیروی کرے تو بن آئے- اور خضر علیہ السلام کا علم وہ تھا کہ خلق کے پیروی کئیے بنا بھی بن آتا تھا- کہ موسی کا علم لوگوں تک خدا کا پیغام اور شریعت کے احکام پنہچانا تھا- کہ جس پر خلق کا ماننا اور اقرار و عمل کرنا لازمی تھا- اور خضر علیہ السلام کا کام خیر اور بھلائی کرنا تھا- جس میں خلق کا ماننا یا اقرار کرنا کوئی معنی نہ رکھتا تھا-

القصہ حضرت موسی نے فرمایا کہ جدا ہونے سے پہلے مجھے ان باتوں کے اسرار سے آگاہ کر دیں کہ جو میں نے دیکھا اس میں کیا بھید تھا- خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ ضرور آگاہ کروں گا اس سے پہلے کہ ہم رخصت ہوں ایک دوسرے سے- پس فرمایا کہ جو کشتی تم نے دیکھی کہ جس میں چھید کیا تھا میں نے اس وہ کشتی کئی غریب مسکین اور مختاجوں کی تھی جس سے ان کی روزی روٹی چلتی تھی- اور دریا کے دوسرے کنارے ایک بادشاہ رہتا تھا جو ظالم اور جابر ہے- اور وہ کوئی بھی نئی کشتی دیکھتا اسے چھین لیتا- پس میں نے اس لیے اس کا تختہ اکھاڑ کر چھید کر دیا کہ وہ عیب دار ہو جائے اور وہ ظالم بادشاہ اسے عیب دار جان کر نہ چھینے اور غریبوں، فقیروں اور مختاجوں کا رزق چلتا رہے-

اور دوسرا جو تم نے اس بچے کو دیکھا کہ جسے میں نے قتل کیا تھا تو وہ اس وجہ سے کہ وہ بڑا ہو کر بدقماش اور ظالم و سرکش بنتا- اور اس کے ماں باپ نیک صالح اور رحم دل لوگ ہیں- پس اگر وہ بڑا ہوتا تو ان کو بدنام اور زلیل کرتا اور اس بچے کی وجہ سے ان کی نیک نامی اور عزت داو پر لگتی- پس میں نے ان کو رسوائی اور سفر سے بچایا- اور یہ کہ اب اللہ تعالی اس بچے کو بہتر جزا دے گا- اور اس بچے کی موت پر صبر کرنے اور اللہ کی رضا میں راضی رہنے پر اللہ اس کے والدین کو بھی جزا دے گا اور یہ کہ وہ سب سے بہتر جزا دینے والا ہے- پس اللہ تعالی اس لڑکے کے بدلے میں انہیں ایک نیک پاکباز اور صالح لڑکی دے گا- اور جس کے بطن سے آگے ستر انبیاء کرام علیہم السلام پیدا ہوں گے اور تیسرا جو تم نے وہ دیوار دیکھی کہ جسے بنا مزدوری لیے میں نے اللہ کے حکم سے ٹھیک اور سیدھا کیا- تو اس کا بھید یہ تھا-

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close