تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 79)

رستم علی خان

مروی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے تحت پر بیٹھے جا رہے تھے- ہوا آپ کے تحت کو اڑائے لے جاتی تھی- دیو پری، جن و انس ان کی بساط پر حاضر تھے- اور پرند تمام اپنے پروں سے ان کے سروں پر سایہ کیے ہوئے ہوا پر جاتے تھے- تب حضرت سلیمان کو گرمی آفتاب کی محسوس ہوئی- جب اوپر کی طرف دیکھا نظر کی سب پرندوں کو دیکھا کہ حاضر ہیں مگر ہدہد کو نہ دیکھا کہ وہ غائب تھا- تب فرمایا چنانچہ ارشاد ہوا؛ ” اور خبر لی سلیمان نے اڑتے پرندوں کی پس کہا کیا ہے مجھ کو کہ نہیں دیکھتا ہوں میں ہدہد کو یا ہو رہا وہ غائب، البتہ عذاب کروں گا میں اس کو سخت عذاب یا زبح کروں گا میں اس کو یا لاوے میرے پاس کوئی مظبوط دلیل-

اور ایک روایت میں ہے کہ ہدہد کو پانی کی تلاش کے لیے رکھا تھا کہ ہدہد کو اللہ نے ایسی بصارت عطا کی تھی کہ جہاں پانی ہوتا یا نہ ہوتا دور دور سے دیکھ لیا کرتا- چنانچہ جہاں حضرت سلیمان کا تحت جاتا ہدہد کو ساتھ لیکر جاتے- جب پیاس لگتی تو ہدہد کو پانی کی تلاش کے واسطے بھیجتے- زمین میں جس جگہ پانی ہوتا وہاں زور زور سے چونچ مارتا- حضرت سلیمان دیووں کو حکم کرتے فورا اس جگہ کنواں یا تالاب کھود کر لشکر کے واسطے پانی نکالتے- چنانچہ جب لشکر کو پیاس لگی تو حضرت سلیمان نے ہدہد کو حاضر ہونے کا حکم دیا کہ تلاش کرے زمین میں کس جگہ پانی ہے- لیکن اسے غائب پایا- تب مارے غصے کے فرمایا کہ ہدہد کہاں ہے نظر کیوں نہیں آتا- آج میں اسے ضرور عذاب دوں گا سخت عذاب یا زبح ہی کر ڈالوں گا- ورنہ کوئی دلیل ظاہر لیکر آئے میرے پاس اپنی غیر حاضری کی- کہ اپنا کام چھوڑ کر کدھر نکل گیا ہے-

القصہ حضرت سلیمان کے لشکر میں ایسے ایسے پرندے تھے جو ہزاروں میل دور تک باآسانی دیکھ لیتے- غرض تمام پرندوں کو حکم دیا کہ نظر رکھو جہاں بھی ہدہد نظر آئے مجھے بتانا- اور عقاب کو حکم دیا کہ جائے اور ہدہد کو ڈھونڈ کر میرے سامنے لا حاضر کرے- عقاب ہدہد کی تلاش میں نکلا اور اسے ڈھونڈ کر حضرت سلیمان کے سامنے لا حاضر کیا- حضرت نے ہدہد سے پوچھا کہ تو کہاں گیا تھا اپنے کام کو چھوڑ کر، اگر کوئی مضبوط دلیل ہے تو بیان کرو ورنہ سزا کے لیے تیار ہو جاو-

ہدہد نے عرض کی حضور میں آپ کے واسطے ایک بڑی خبر لایا ہوں ایسی خبر کہ آج سے پہلے آپ بھی اس سے بے خبر تھے- چنانچہ ارشاد ہوا؛ "بولا ہدہد میں لے آیا ہوں خبر ایک چیز کی کہ تم کو بھی اس کی خبر نہ تھی اور آیا ہوں تمہارے پاس سباء سے ایک خبر لیکر کے”- تفسیر میں لکھا ہے کہ سباء ایک قوم کا نام ہے ان کا وطن عرب میں تھا یمن کیطرف اور بعض روایات میں ہے کہ سباء ایک شہر کا نام تھا- علماء نے لکھا ہے کہ روئے زمین پر قوم سباء سے طاقتور قوم کوئی نہ ہوئی- ان کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ پانچ سو من کا وزنی پتھر ایک ہاتھ سے اٹھا کر پھینکا کرتے تھے- واللہ اعلم الصواب

غرض حضرت سلیمان نے ہدہد سے کہا تو وہاں سے کیا خبر لایا ہے اور کسطرح گیا وہاں بیان کر مجھ سے- تب ہدہد نے کہا، یا نبی اللہ فلانے وقت جب حضور تحت سے نیچے اترے تھے- اس وقت میں ہوا پر ادھر  ادھر اڑ کر دیکھ رہا تھا- اور اڑتے اڑتے بہت دور نکل گیا- تبھی میں نے دیکھا ایک ہدہد کو ہمجنس اپنا ایک دیوار باغ پر بیٹھا تھا- میں اس کے پاس گیا تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم کہاں سے آئے ہو- میں نے کہا ملک شام سے اپنے آقا حضرت سلیمان کے پاس سے آیا ہوں- وہ بولا سلیمان کون ہے- میں نے کہا وہ بادشاہ ہے جن و انس و حوش و طیور و مور و ملخ جمیع مخلوقات کا- اور میں نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو-

وہ بولا اسی شہر کا ہوں- میں نے کہا اس شہر کا نام کیا ہے- اس نے کہا اس شہر کا نام سباء ہے- میں نے پوچھا کہ اس شہر کا بادشاہ کون ہے- وہ بولا کہ بلقیس نام کی ایک عورت ہے اور وہی اس شہر کی ملکہ ہے اور اسی کا حکم چلتا ہے- اور اس کے تابع بارہ ہزار سردار قوم کے اور ہر ہر سردار کیساتھ ایک لاکھ سوار و پیادہ ہر وقت رہتے ہیں- ہدہد نے کہا کہ پھر وہ مجھ سے بولا کہ چل میرے ساتھ تجھ کو اپنا ملک دکھا دیتا ہوں- تب اس سے میں نے کہا کہ بہت دیر ہوئی کہ اپنے آقا حضرت سلیمان کے پاس سے آیا ہوں- مبادہ اگر بادشاہ اور لشکر کو پانی کی اختیاج ہوئی تو مجھ کو تلاش کریں گے- اس وقت اگر میں حاضر نہ ہوا تو مجھ کو سرزنش کریں گے- کیونکہ میں پانی کے واسطے مقرر ہوں- جیسا کہ اوپر ہم نے بیان کیا- تب اس نے ضد کی کہ تھوڑی دیر چلو میرے ساتھ مل کر اور بلقیس دختر شرجیل دیو کو دیکھو- شان و شوکت اس کی کیسی ہے اور حسن و اخلاق اس کے دیکھنے سے خوش ہوو گے- اور یہ کہ ہم جلدی لوٹ آئیں گے۔

چنانچہ ہدہد بولا کہ جب میرے ہمجنس نے مجھے ساتھ چلنے کی ضد کی اور کہا کہ ہم جلدی لوٹ آئیں گے- تب اس کے کہنے سے میں اس کے ساتھ شہر سباء کے اندر گیا- پس وہاں دیکھا ایک عورت کہ نام بلقیس دختر شرجیل دیو کو کہ ملکہ ہے اس شہر کی اور ایک تخت عظیم ہے اس کا کہ طول و عرض اس کا تیس گز ہے- تمام تخت جواہرات سے مرصع ہے- اور چاروں پائے اس کے یاقوت سرخ کے اور زبرجد اور زمرد اور لعل کے ہیں- اس پر وہ بیٹھی ہے اور وزیر مشیر اس کے سامنے سر جھکائے بیٹھے ہیں- اور غلام پیچھے ہاتھ باندھے مودب کھڑے ہیں- اور وہ سب بےدین ہیں- اور ملکہ ان کی یعنی بلقیس کنواری ہے شوہر ندارد-

تب سلیمان علیہ السلام نے فرمایا جو کچھ تو نے کہا سو مجھے معلوم ہوا- لیکن یہ تو نے کیسے جانا کہ وہ سب بےدین ہیں- تب ہدہد نے کہا ارشاد ربانی ہے؛ "بولا کہ میں نے پائی ایک عورت کہ بادشاہی کرتی ہے  اپنی قوم کی اور دی گئی ہے ہر چیز اسے (یعنی مال و اسباب، حسن و جمال اور اس کا ایک تخت ہے عالیشان) اور دیکھا میں نے کہ وہ اور اس کی قوم سجدہ کرتے ہیں سورج کو اللہ کے سوائے اور شیطان نے ان کے اعمال کو مزین کر رکھا ہے واسطے ان کے اے نبی اللہ مجھے کچھ خلت دیجئے کچھ نشان آپ کا رہے میرے فرزندوں میں-

حضرت سلیمان کے پوچھنے پر ہدہد نے بیان کیا کہ اے نبی اللہ میں نے اس قوم کو اللہ کے سوا سورج کی پرستش کرتے دیکھا تب جانا کہ قوم سباء بےدین ہے- اور شیطان نے انہیں بہکا رکھا ہے کہ وہ اسی کو اپنی نجات کا راستہ سمجھتے ہیں- اور پھر خلعت مانگی کہ مجھے اس خبر پر کچھ ایسا عطا کیجئے کہ جو میری نسل میں بطور نشان رہے سلیمان علیہ السلام کا- تب حضرت سلیمان نے فرمایا کہ ہم اس خبر کی تحقیق کریں گے کہ جو خبر تو لایا وہ سچ ہے یا جھوٹ ہے-

تب ہدہد نے کہا اے سلیمان میں آپ سے جھوٹ نہیں بولتا اور کیونکر جھوٹ بولوں گا کہ جب مجھے علم ہے کہ آپ اس بارے پتا کروا لیں گے- پھر حضرت سلیمان نے اسے بطور خلعت سونے جواہرات سے مرصع تاج پہنایا- کہتے ہیں کہ ہدہد کے سر پر جو تاج ہے حضرت سلیمان کی دی ہوئی عنایت ہے- تب ہدہد نے کہا اے نبی اللہ مجھے کچھ اور عطا کیجئے کہ جس سے میرے فرزندوں کی بہتری ہو کہ اس تاج کے لالچ میں لوگ انہیں مار دیا کریں گے- تب حضرت نے وہ تاج اپنے پاس رکھا اور کہا کہ روز قیامت مجھ سے لے لینا اور اس کی جگہ پنکھوں کا تاج ہدہد کے سر پر رکھا اور فرمایا کہ یہ نشانی رہے گی تجھ میں اور تیری اولاد میں سلیمان کیطرف سے- واللہ اعلم الصواب-

القصہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہدہد سے فرمایا کہ واپس بلقیس کے پاس واپس جا میرا خط لیکر اور اسے دیکر آو- چنانچہ ارشاد ہوا؛ ” کہا سلیمان نے لیجا میرا خط اور ڈال دے ان کی طرف پھر ان کی طرف سے ہٹ آ پھر دیکھ کیا جواب دیتے ہیں”- تب حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک خط لکھ کر سربمہر سلیمانی ہدہد کے حوالے کیا- اور بعض روایات میں ہیں کہ اس کیساتھ عقاب کو بھیجا کہ دھیان رکھے کہ کہیں کوئی جانور پرند اسے نقصان نہ پنہچائے- غرض ہدہد خط لیکر شہر سباء میں بلقیس کے محل پر جا پنہچا- کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان کے مکان سے بلقیس  کے مکان تک دس کوس کا فاصلہ تھا- ہدہد جب وہاں پنہچا تو دیکھا کہ تمام دروازے محل کے بند ہیں- پس وہاں سے اڑا اور محل کی پچھلی سمت آیا- بلقیس کی آرام گاہ کے روشندان سے اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ بلقیس اپنے بستر پر سو رہی ہے- تب ہدہد نے چپکے سے وہ خط بلقیس کے  اوپر رکھا اور خود وہاں سے اڑ کر دوبارہ روشندان میں جا بیٹھا- چونکہ سلیمان علیہ السلام کا حکم تھا کہ وہاں ہونے والی تمام کاروائی دیکھ کر آنا کہ وہ لوگ خط کا کیا جواب دینا پسند کرتے ہیں- اس لیے ہدہد اسی روشندان میں جا بیٹھا اور بلقیس کے جاگنے کا انتظار کرنے لگا کہ وہ خط کو دیکھ کر کیا ردعمل اپناتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close