تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 91)

رستم علی خان

مروی ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام حضرت داود علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے لیکن آپ کے والد کے نام بارے مختلف روایات ہیں- اللہ تعالی نے حضرت زکریا علیہ السلام کو بنی اسرائیل پر پیغمبر بنا کر بھیجا تھا- چنانچہ اللہ تعالی نے قرآن میں ارشاد فرمایا، "مذکور ہے تیرے رب کی مہر کا اپنے بندے زکریا پر جب اس نے پکارا اپنے رب کو پکارنا آہستہ-” یعنی دل میں پکارا یا اکیلے بند مکان میں چھپ کر پکارا- اور یہ پکارنا اس واسطے تھا کہ بوڑھی عمر میں اللہ سے بیٹا مانگتے تھے- اور یہ بھی تھا کہ اگر اس عمر میں اولاد  ہوئی تو لوگ ہنسیں گے اور اگر بےاولاد تھے تو بھی لوگ ان پر ہنستے اور ان کا مذاق اڑاتے کہ زکریا رب کا پیارا ہے اور اس کے رب نے اسے اولاد سے محروم رکھا ہوا ہے-

پس جب لوگوں کی باتوں سے عاجز آئے تو اللہ کے حضور سر بسجود ہوئے اور فریاد کی، چنانچہ قرآن میں آتا ہے؛ "کہا زکریا نے اے پرودگار میرے تحقیق سست ہو گئی ہیں ہڈیاں میری اور شعلہ مارا میرے سر نے بڑھاپے سے (یعنی سر کے بال میرے سفید ہو گئے ہیں) اور اے رب میرے تجھ سے مانگ کر میں کبھی بےنصیب نہ رہا اور تحقیق میں ڈرتا ہوں اپنے بھائی بندوں سے پیچھے اپنی موت کے کہ برگشتہ نہ ہوں اور عورت میری بانجھ ہے پس تو بخش میرے واسطے ایک وارث اور ولی اپنے نزدیک سے کہ جو وارث ہو میرا اور وارث ہو آل یعقوب کا اور کر اس کو پسندیدہ اپنے پاس اے پروردگار میرے-"

یعنی حضرت زکریا علیہ السلام کو اس بات کا خوف ہوا کہ ان کی موت کے بعد لوگ گناہوں اور سرکشی میں نہ پڑ جائیں اس لیے اللہ سے ایک بیٹے کی دعا مانگی جبکہ بیوی ان کی بانجھ تھی اور خود بھی بوڑھے ہو چکے تھے پھر بھی اللہ سے دعا مانگی ایک فرزند کی اور ایک پیغمبر کی جو ان کے بعد ان کا اور اولاد یعقوب کا وارث ہو-

چنانچہ جب حضرت زکریا علیہ السلام نے یہ دعا مانگی تو اللہ تعالی نے آپ کی اس دعا کو قبول کیا- چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے؛ "اے زکریا ہم خوشخبری دیتے ہیں تیرے تئیں ایک لڑکے کی کہ نام اس کا "یحی'” ہے اور نہیں کیا ہم نے اس نام کا پہلے کوئی-” یعنی اللہ تعالی نے آپ کو ایک بیٹے کی بشارت دی اور ساتھ ہی اس کا نام بھی یحی’ بتا دیا اور فرمایا کہ ہم نے اس سے پہلے کوئی اس نام کا یا اس جیسا پیدا نہیں کیا-

تب حضرت زکریا نے فرمایا الہی میرے کیسے ہو گا لڑکا میرے ہاں کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری ہڈیوں میں بھی اب زور نہیں رہا اور میری بیوی بھی بانجھ ہو چکی ہے- تب فرشتوں نے فرمایا کہ یہی حکم کیا ہے تیرے رب نے کہ وہ مجھ پر آسان ہے اور تجھ کو بنایا اس سے پہلے تو نہ تھا کچھ بھی چیز- تب حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا اے رب میرے ٹھہرادے مجھ کو کچھ نشانی- کہا رب نے نشانی یہ ہے تیری کہ بات نہ کر سکے تو لوگوں سے تین رات دن چنگا بھلا- پس زکریا نے تین رات دن تک کسی سے بات نہ کی اور بعد نو مہینے کے یحی’ پیغمبر علیہ السلام پیدا ہوئے۔

چنانچہ بحکم ربی حضرت زکریا علیہ السلام نے تین دن رات کسی سے بات نہ کی اور اللہ کی قدرت سے آپ کی بیوی کو حمل ٹھہرا اور بعد اس کے نو ماہ بعد حضرت یحی’ علیہ السلام کی ولادت ہوئی- جب آپ کی عمر چار برس ہوئی تو آپ کی والدہ نے کہا کہ اے بیٹا تم باہر کیوں نہیں نکلتے تاکہ اپنے ہم عمر بچوں کیساتھ کھیلو اور مزے کرو-

تب حضرت یحی’ بولے کہ اے ماں خدا نے ہم کو کھیلنے یا مزے کرنے کے لیے پیدا نہیں کیا بلکہ جس کام کے لیے پیدا کیا ہے سو وہی راستہ کیوں نہ لیں- پس دن رات اللہ کے ذکر اور عبادت میں مشغول رہتے اور خوف الہی سے ہر وقت روتے رہتے- تب حضرت زکریا نے خدا سے عرض کی کہ الہی میں نے تجھ سے ایک ولی چاہا تھا تو نے عطا کیا تاکہ میں خوش  رہوں- اور اب اس کے رات دن کے رونے سے مجھے چین نہیں پڑتا اور اس کیطرف سے غم مجھ کو کھائے جاتا ہے-

جناب باری سے ندا آئی کہ اے زکریا تو نے ہم سے ایک بیٹا نیک صالح چاہا تھا- سو میں نے تجھے ویسا ہی بیٹا عطا کیا کہ وہ میری اطاعت کرے- اور اے زکریا میں ایسے بندے کو پیارا رکھتا ہوں کہ جو دن رات میری محبت سے روئے اور میرے عذاب سے خوف کھائے اور سوا میرے کسی سے امید نہ رکھے- تب حضرت زکریا یہ سن کر شکر خدا کا بجا لائے کہ ان کا بیٹا اطاعت الہی اور فرمانبرداری میں کوتاہی نہ برتے گا-

مروی ہے کہ جب حضرت یحی’ کی عمر سات برس کی ہوئی تو اپنے باپ حضرت زکریا کیساتھ مسجد تشریف لے جایا کرتے- حضرت زکریا بنی اسرائیل والوں کو وعظ و نصیحت کرتے تو یہ بھی ایک کونے میں بیٹھے آپ کا درس سنا کرتے- ایک دن حضرت زکریا نے اپنے درس میں جنت و دوزخ کا تذکرہ کیا- حضرت یحی’ بھی ایک کونے می بیٹھے یہ سب سنتے تھے- جب دوزخ کا زکر سنا تو ایک آہ مار کر وہاں سے اٹھے اور پہاڑوں کیطرف چلے گئے- دن رات پہاڑوں میں روتے رہتے- ادھر آپ کی والدہ گھر پر آپ کے لیے پریشان رہتیں اور دن بھر آپ کو ڈھونڈا کرتیں- بعد سات دن کے ایک چرواہے نے انہیں بتایا کہ تمہارا بیٹا پہاڑوں میں بنے فلاں غار میں بیٹھا ہر وقت روتا رہتا ہے-

جب ماں نے یہ سنا تو دوڑی ہوئی پہاڑوں پر اس غار کیطرف گئیں وہاں جا کر دیکھا کہ یحی سجدے میں سر رکھے زار زار رو رہے ہیں- ماں نے پوچھا کہ اے بیٹا مجھے بتا تو کس سبب یہاں اکیلا آ رہا اور کیوں اس طرح روتا ہے- پس تجھےجو بھی غم ہے مجھ سے بیان کر- تب حضرت نے فرمایا کہ اے ماں میں نے اپنے والد صاحب کی زبانی دوزخ کا زکر سنا ہے- پس اس کی یاد کسی صورت میرے ذہن سے نہیں نکلتی اور اسی کے خوف کے سبب سے روتا ہوں- ڈرتا ہوں کہ نہ جانے اللہ مجھ کو کس حال میں رکھے- اور اگر میرے کسی گناہ یا غلطی کےسبب دوزخ میں ڈال دیا تو میں برباد ہو جاوں گا- پس یہی سوچ سوچ کسی صورت چین نہیں پڑتا- تب ماں ان کی انہیں دلاسہ دیکر اوع سمجھا کر واپس اپنے گھر لیکر آئیں اور اس وقت عمر آپ کی گیارہ برس تھی- الغرض آپ گوشہ نشینی کو محبوب رکھتے اور مسجد میں زکر الہی اور عبادت میں مشغول رہتے-

الغرض ادھر بنی اسرائیل میں ایک فرقہ ان میں سے سرکش ہو گیا اور حضرت زکریا علیہ السلام کی تبلیغ اور وعظ و نصیحت کیوجہ سے ان کی جان کا دشمن ہو گیا- اور انہیں قتل کرنے کا قصد کیا- پس جب زکریا کو اس بات کی خبر ہوئی تو بیت المقدس سے نکل کر جنگل کیطرف بھاگے اور وہ لوگ بھی آپ کے پیچھے بھاگے- تب آپ نے ایک درخت سے پناہ مانگی اور وہ پھٹ گیا حضرت زکریا اس میں سما گئے- تب وہ لوگ ڈھونڈتے وہاں پنہچے اور حضرت زکریا کو وہاں نہ پا کر متعجب ہوئے- تب شیطان نے ان کی راہنمائی کی اور بتایا کہ درخت کے اندر ہیں اور آرے سے چیرنے کا طریقہ کار بتایا- پس اس طرح ان لوگوں نے شیطان کے کہنے پر آرے سے درخت کو درمیان سے دو حصوں میں چیرنا شروع کر دیا- جب آرا حضرت زکریا کے سر پر پنہچا تو آپ نے اف کی تو اسی وقت حکم نازل ہوا کہ خبردار اف نہ کرنا ورنہ صابرین کی صف سے خارج کر دئیے جاو گے-واللہ اعلم الصواب-

(یہ واقعہ پیچھے بھی بیان ہو چکا ہے جس میں بیان ہوا کہ حضرت یحی کو بھی ساتھ شہید کیا گیا- لیکن اس میں بہت اختلاف پائے جاتے ہیں اول تو اس کو اسرائیلی روایت کہہ کر منسوخ قرار دیا جاتا ہے- اور دوسرا بعضوں نے دونوں انبیاء کا ایک ساتھ شہید ہونا بیان کیا ہے اور بعض نے دونوں کی شہادت الگ الگ بیان کی ہے جو ان شآء اللہ آگے بیان ہو گی- باقی اصل حقیقت حال اللہ کو معلوم ہے)

القصہ جب حضرت یحی کو ان کے والد کی شہادت کی خبر ملی تو آپ نے اس پر صبر کیا اور فرمایا بیشک ہر نفس اللہ کیطرف سے ہے اور اسی کیطرف لوٹنے والا ہے اور وہ بہتر حساب کتاب لینے والا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close