تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 92)

رستم علی خان

جیسا کہ پچھلے قصے میں ہم نے حضرت زکریا علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت یحی’ علیہ السلام کی ولادت کا تذکرہ کیا- جیسا کہ پیچھے بیان ہو چکا کہ حضرت یحی علیہ السلام بچپن اور کم عمری سے ہی زکر الہی اور عبادت میں مشغول رہتے اور گوشہ نشینی کو محبوب رکھتے- امام احمد رحمہ اللہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس سے نقل کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے کہ جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو یا اس کا ارادہ نہ کیا ہو سوائے حضرت زکریا علیہ السلام کے۔ علامہ البانی اور شیخ احمد شاکر رحمتہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ امام شافعی اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اس بات کو بیان کیا ہے-

مروی ہے کہ حضرت زکریا کی شہادت کے بعد حضرت یحی زیادہ وقت مسجد میں گزارتے اور صرف عبادت وغیرہ میں مشغول رہتے- اور جب کوئی شخص بنی اسرائیل میں سے کوئی مسلئہ دریافت کرنے آتا تو بیان کر دیا کرتے- بنی اسرائیل میں ایک عورت حسین و جمیل تھی شاہ شہر نے اس عورت کو اپنے نکاح میں لیا- اس عورت کی ایک بیٹی پہلے شوہر سے تھی- چنانچہ بادشاہ نے چاہا کہ اس لڑکی سے بھی نکاح کر لے- ملکہ اس بات کے لیے راضی ہو گئی اور باقی تمام بنی اسرائیل بھی اس بات پر متفق تھے کہ ایسی حسن و جمال رکھنے والی عورت بادشاہ کے ساتھ ہی بیاہی جا سکتی ہے- تب اس بات کی شرع دریافت کرنے کے واسطے حضرت یحی کو بلوایا کہ شریعت کے موافق اس لڑکی کا بیاہ اس کی ماں کے شوہر ثانی سے پڑھوا دیں-

چنانچہ جب آپ کو خبر دی گئی تو حضرت نے فرمایا کہ اس لڑکی کا نکاح بادشاہ سے جائز نہیں ہے اور یہ خلاف شرع ہے- مروی ہے کہ اس عورت کو حضرت یحی سے پرانی پرخاش تھی کہ اس نے ایک بار آپ کو بہکانے کی کوشش کی تھی تب حضرت نے باوجود اس کے حسن و جمال کے اس کی خواہش کو رد کر دیا کہ یہ گناہ کبیرہ تھا- تب سے وہ عورت آپ سے بدلہ لینا چاہتی تھی اور اسی واسطے اس نے یہ چال چلی کہ اسے خبر تھی حضرت یحی خلاف شرع کبھی نہیں کریں گے- پس اس عورت نے اپنے شوہر بادشاہ کو بڑھکایا کہ یحی اس نکاح سے منع کرتے ہیں کہ دختر ربیہ سے نکاح کرنا شریعت میں درست نہیں-

تب بادشاہ نے حکم دیا کہ یحی کو باندھ کر میرے پاس لاو- تب بموجب حکم بادشاہ کے کافروں نے آپ کو ویسے ہی باندھ کر لا حاضر کیا- اسی وقت حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور فرمایا اگر آپ حکم کریں تو اس شہر کو تباہ کر دوں- تب حضرت نے پوچھا کہ اے جبرائیل کیا میری تقدیر میں لکھا ہے کہ میں اس کے ہاتھ سے مارا جاوں- وہ بولے ہاں- تب حضرت نے کہا میں اللہ کی رضا میں راضی ہوں- جب آپ کا سر تن سے جدا کر کے بادشاہ ملکہ اور دختر ملکہ کے سامنے ایک پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا گیا تو آپ کی زبان سے پھر بھی یہی نکلا کہ اے بادشاہ اپنی بیٹی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے- حضرت یحی کی شہادت کے بعد اس عورت نے اپنی بیٹی کا نکاح اپنے شوہر سے کر دیا- تب ان دو گناہوں کے سبب اللہ نے ان پر ایک لشکر عالیشان بصورت قہر اتارا جنہوں نے بادشاہ کو قتل کر دیا اور مال املاک تباہ کر دیا اور دونوں عورتوں اور بہت سے لوگوں کو بندی بنا لیا- اور کچھ عرصہ قید کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد دونوں کی موت بہت برے حال میں ہوئی- واللہ اعلم بالصواب-

اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ بنی اسرائیل کے بادشاہ نے غصے کی حالت میں یا کسی دوسری وجہ سے اپنی بیوی یعنی ملکہ کو طلاق دے دی- جب اس کا غصہ اترا تو اسے اس بات کا احساس ہوا کہ اس نے کیا کر دیا- تب چاہا کہ ملکہ سے دوبارہ رجوع کرے- پس اس کی شرع جاننے کے لیے اپنے بندوں کو حضرت یحی کے پاس بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ بنا حلالہ کے دوبارہ رجوع کرنا حرام ہے- جب بادشاہ اور ملکہ نے یہ سنا تو بہت غصہ ہوئے کہ یحی نے ملکہ کے بارے ایسا کہا- تب انہیں باندھ کر منگوایا اور تلوار سے آپ کی گردن کاٹ کر شہید کر دیا- جب آپ شہید ہوئے تو آپ کی گردن پلیٹ میں رکھ کر ملکہ کی خدمت میں بھیجی- جب ملکہ کے سامنے آپ کا سر رکھا تو آپ نے اس سے بھی فرمایا کہ اے ملکہ بنا حلالہ تمہارا بادشاہ سے دوبارک رجوع کرنا حرام اور خلاف شرع ہے- اس کے بعد آپ کا جسد اور سر لیجا کر آپ کو دفنا دیا گیا- اور بعد آپ کی شہادت کے وہ شہر اور املاک اس کی سب تباہ ہوئی- واللہ اعلم بالصواب-

القصہ جب حضرت یحی کو شہید کیا گیا تو فرشتوں نے یہ حال دیکھ کر عرض کی الہی یحی نے ایسا کیا جرم کیا تھا جو اس طرح شہید کیے گئے- اللہ تعالی نے فرمایا کہ یحی میرا دوست تھا سو میں نے اسے اپنے پاس بلا لیا- فرشتوں نے عرض کی الہی کیا دوست کو اس طرح مارتے ہیں- فرمایا میری خلق میں مشہور ہے کہ دشمن کو مار دو دوست کو بچا لو- کہ دشمن سے ضرر پنہچنے کا ڈر رہتا ہے اور دوست سے نفع ملتا ہے- لیکن میں نے اپنے دوست کو مار کر دشمن کو بچا لیا اور ایسا اس سبب سے کہ میں خدا ہوں سارے جہان کا اور میری مخلوق کو معلوم ہو سکے کہ نہ دوست سے مجھ کو نفع کی تمنا ہے اور نہ دشمن سے کسی ضرر پنہچنے کا خوف- پس میں جیسا چاہتا ہوں کرتا ہوں- اور یہاں تک تھا قصہ حضرت یحی کا- واللہ اعلم بالصواب۔

مروی ہے کہ جرجیس پیغمبر ملک شام کے قریب فلسطین ایک جگہ ہے وہاں ان کی سکونت تھی- اور اس ملک میں ایک بادشاہ بت پرست تھا نام اس کا دادیانہ تھا اس ملعون نے ان کو شہید کیا تھا- تفسیر میں لکھا ہے کہ ہزار بار مارا ہزار بار زندہ ہوئے- سبب اس کا یہ تھا کہ وہ دادیانہ پلید حضرت عیسی علیہ السلام سے کئی برس پہلے تھا- بت بنا کر زر و جواہر سے سجا کر مشک و عنبر سے معطر کر کے اس کو سجدہ کرتا اور لوگوں سے بھی کرواتا- اور جو کوئی اس کے بنائے ہوئے بت کو سجدہ کرنے سے انکار کرتا وہ پلید اسے آگ میں پھنکوا دیتا- تب لوگ اس کے خوف کے سبب اس کے بنائے بتوں کو سجدہ کرتے-

خدائے تعالی نے جرجیس پیغمبر کو شہر فلسطین میں بھیجا تاکہ اس ملعون کو خدا کیطرف دعوت کرے اور راہ حق بتا دے- پس جرجیس علیہ السلام نے جا کر خدا کی طرف اس پلید کو دعوت دیکر کہا، اے دادیانہ بت پرستی چھوڑ دے- خدائے ارض و سما کی عبادت کر جو کہ دانا و بینا اور خالق و رازق سارے جہان کا ہے- تب اس ملعون نے کہا، اے جرجیس اگر تیرا خدا اتنا ہی صاحب قوت اور صاحب اختیار ہے تو کیوں تیرے خدا نے تجھے دولت دنیا سے محروم رکھا ہوا ہے- اور ہمارے خدا یعنی بتوں نے تو ہماری عبادتوں سے خوش ہو کر ہمیں سلطنت شاہی عطا کی ہے- اور اس کے علاوہ بھی ہر چیز دنیا کی ہمیں حاصل ہے- تو تجھے تیرے خدا کیوں نے غریب رکھا ہوا ہے-

پس حضرت جرجیس نے فرمایا کہ تو جانتا ہے کہ دنیا کی دولت اور زندگی کو بقا حاصل نہیں ہے- اور جس دولت اور زندگی کو بقا و مدام حاصل ہے وہ اس زندگی اور دولت سے کئی درجے بہتر ہے اور ہم اس کے امیدوار ہیں- تب اس ملعون نے پوچھا وہ کونسی دولت و زندگی ہے جسے بقا و مدام حاصل ہے- حضرت جرجیس نے فرمایا کہ وہ نعمت جنت کی ہے کہ جہاں کوئی دکھ محنت نہیں بلکہ ہمیشہ کی سرداری ہے اور اس بادشاہی کو کبھی زوال نہ ہو گا- اس بادشاہ نے پوچھا کہ وہ نعمت جنت کس طرح حاصل ہوتی ہے- حضرت نے فرمایا کہ بت پرستی چھوڑ کر ایک اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کر جو تمام جہانوں کا خالق و مالک ہے اور سب کو رزق دیتا ہے- اور لوگوں پر ظلم کرنا چھوڑ دے اور عدل و انصاف کیساتھ فیصلے کیا کر اور اپنی رعایا پر مہربانی والا معاملہ کر پھر اللہ دنیا میں بھی تیری سلطنت اور بادشاہی کو بڑھائے گا اور مرنے کے بعد آخرت کی زندگی میں بھی ہمیشہ رہنے والی جنت اور سرداری سے نوازے گا-

تب اس ملعون نے کہا اے جرجیس تو دیوانہ ہو گیا ہے کیا، بھلا مرنے کے بعد جب انسان کی ہڈیاں تک گل سڑ جاتیں ہیں تب انہیں کون دوبارہ زندہ کرے گا- حضرت جرجیس نے فرمایا بیشک جس نے اس کائنات کو اور مجھے اور تمہیں اور تمام انسانیت اور زمین و آسمان کو پہلے بنایا ہے وہی انہیں دوسری بار بنائے گا اور اس کے لیے نہ پہلی بار بنانا مشکل تھا اور نہ دوسری بار ہی مشکل ہو گا- اور وہی رب ہے تمام جہانوں کا اور اگلوں کا اور پچھلوں کا بھی-

جب حضرت جرجیس نے اس کو ایسی باتیں بیان کیں تو وہ ملعون اپنے لوگوں سے کہنے لگا کہ دیکھا تم نے جرجیس کو کہ یہ معاذ اللہ دیوانہ اور مجنون ہو گیا ہے جو ایسی باتیں کرتا ہے- اور تمہارے خداوں کو جھوٹا کہتا ہے- اور کہتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے تو وہ رب ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا اور حساب کتاب ہو گا- پس اس کی باتوں کے سبب اس کو دار پر کھینچ کر اینٹ پتھر مارو اور شانہ آہنی سے اس کا گوشت پوست نکال کر اس کی ہڈیاں اور گوشت اس کا آگ میں جلا دو- پھر دیکھتا ہوں اس کا رب اسے دوبارہ کسطرح سے زندہ کرتا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close