تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 93)

رستم علی خان

چنانچہ بموجب حکم بادشاہ کے ان کافروں نے ویسا ہی کیا اور حضرت کو دار پر چڑھا کر اول اینٹیں اور پتھر مارے اور بعد اس کے لوہے کے بنے اوزاروں وغیرہ سے آپ کے جسم سے ماس الگ کیا اور پھر ہڈیوں اور اس ماس کو آگ میں ڈال دیا- تب دادیانہ ملعون نے پکار کر کہا اے جرجیس اب کہو اپنے رب کو کہ تمہیں دوبارہ زندہ کرے- اور اب بتاو کہ خدا سچا کس کا ہے- تب حضرت جرجیس نے آگ کے اندر سے پکار کر کہا "لا الہ الا اللہ” بیشک اللہ ہی معبود برحق ہے- تب بادشاہ بہت متعجب ہوا اور کہنے لگا اے جرجیس تو دوبارہ کیسے زندہ ہوا- حضرت نے فرمایا مجھے اللہ نے دوبارہ زندہ کیا اور جب تک وہ نہ چاہے تم مجھے زرا نقصان نہیں دے سکتے- پس کلمہ پڑھ کر اللہ پر ایمان لے آو-

تب اس ملعون نے اپنے لوگوں سے کہا کہ چھ سیخیں لوہے کی گرم کر کے لے آو اور ایک سیخ جرجیس کے سر میں کھبو دو کہ بھیجہ باہر نکل آئے- اور ایک سیخ سینے میں مارو اور باقی چار ہاتھ پاوں میں زمین پر گرا کر کھبو دو- پھر دیکھتے ہیں کیسے زندہ کرتا ہے اس کو اس کا رب- چنانچہ ان کافروں نے ویسا ہی کیا اور سمجھنے لگے کہ جان ان کی قبض ہوئی- اور اسی طرح میدان میں سیخیں آپ کے جسم میں کھبی ہوئی چھوڑ کر گھروں کو چلے گئے- تب حکم ربی سے فرشتے آئے اور سیخیں تمام ان کے بدن سے اٹھا لیں- اور حضرت جرجیس کو پہلے کی سی حالت میں اٹھایا کہ ان کو ان سیخوں سے زرا بھر بھی نقصان نہ ہوا-

چنانچہ دوسرے دن جب وہ لوگ بتوں کی پوجا میں لگے تھے تب حضرت جرجیس پھر ان کے پاس پنہچے اور کہا اے لوگو اللہ کی عبادت کرو جو معبود حقیقی ہے اور ان بتوں کی عبادت کرنا چھوڑ دو کہ یہ تمہارا کسی قسم کا نفع نقصان نہیں کر سکتے- تب وہ لوگ کہنے لگے اے جرجیس آپ پھر سے زندہ کیسے ہو گئے- حضرت نے فرمایا کہ مجھے میرے اللہ نے زندہ کیا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے-

تب بادشاہ ملعون نے ایک دیگ اور گھی اور گندھک لانے کا حکم دیا- جب ہر چیز آ گئی تو ایک چولہے میں آگ جلائی اور پھر دیگ میں گھی اور گندھک ڈال کر دیگ کو آگ پر چڑھا دیا- جب گھی اور گندھک دیگ میں جوش کھانے لگے تو ملعون نے اپنے لوگوں کو حکم دیا کہ جرجیس کے ہاتھ پاوں باندھ کر اس دیگ میں ڈال دو- چنانچہ کافروں نے حکم کیمطابق کیا- لیکن جب حضرت جرجیس کو دیگ میں ڈالنے لگے تو اللہ کے حکم سے چولہے میں سے چشمہ ٹھنڈے پانی کا پھوٹ نکلا اور اس کے سبب سے دیگ فورا ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت جرجیس کے بال کو بھی نقصان نہ پنہچا- اور خدا کے فضل سے صحیح سلامت دیگ سے نکل آئے-

یہ حال دیکھ کر بادشاہ کہنے لگا، اے جرجیس اتنے عذاب میں نے تجھے دیئے لیکن تجھ پر کسی کا کچھ اثر نہ ہوا- تب حضرت نے فرمایا کہ وہ اللہ کہ جس نے آسمان کو بےستون ٹکایا اور زمین کو پانی پر بچھایا اس کے لیے مجھے تیرے ایسے عذابوں سے بچا لینا کونسا مشکل کام ہے- اور وہ رب العالمین ہے اور وہی مجھے اپنے فضل و کرم کی نگاہ میں رکھے ہوئے ہے اور تجھے زلیل و خوار کر رہا ہے- اب بھی وقت ہے کلمہ پڑھ کر ایمان لے آ اور بت پرستی چھوڑ دے-

جب حضرت نے یہ باتیں کی تو ملعون ڈرا کہ مبادا خلق اس کی باتوں میں آ کر ایمان نہ لے آئے اور میرا ملک اور بادشاہت نہ چھن جائے- پھر ملعون نے حضرت جرجیس کو زنجیروں میں باندھ کر چار سلاخیں لوہے کی ان کے چاروں ہاتھ پاوں میں گڑوائیں اور ایک پتھر اتنا وزنی کہ چالیس جوانوں نے اسے اٹھا کر حضرت جرجیس کے سینے پر رکھا اور ان کو قید کر دیا گیا- جب رات ہوئی تو اللہ کیطرف سے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت کے پاس آئے اور اول ان کے جسم سے پتھر ہٹایا اور زنجیریں کھول دیں اور سلاخوں سے ان کے ہاتھ پاوں کو آزاد کیا اور بعد اسے کے کہنے لگے کہ اللہ نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ مزید سات سال یہ مصیبتیں اور صعوبتیں آپ کو سہنی ہونگی اور ان پر صانر و شاکر رہنا ہو گا اور لوگوں کو حق کیطرف دعوت دیتے رہنا- اور پھر بعد سات سال کے  آپ شہید ہونگے- اور اس کے بعد حضرت کو جنت سے لایا ہو کھانا وغیرہ کھلایا اور لباس پہنایا اور پھر وہاں سے چلے گئے-

تب صبح کو حضرت جرجیس اٹھ کر دوبارہ بادشاہ کے پاس گئے اور دعوت حق دی- وہ دیکھ کر کہنے لگا تم جرجیس ہو- حضرت نے فرمایا، ہاں میں ہوں- تب کہنے لگا کہ تم کو اس قید سے کس نے آزاد کیا- حضرت نے فرمایا مجھے اللہ نے آزاد کیا جو خالق ارض و سماوات ہے- پس اس نے مجھ پر رحم کیا اور تیری دی ہوئی مصیبت سے چھٹکارہ دلایا- اور پھر لوگوں کو حق کی دعوت دی- تب ملعون نے حکم دیا کہ جرجیس کو لیجا کر آرے کیساتھ درمیان سے چیر دو-

چنانچہ اس مردود بادشاہ نے اپنے لوگوں سے کہا کہ جرجیس کو لیجا کر آرے کیساتھ اسے درمیان سے چیر دو- تب کافروں نے بحکم اپنے بادشاہ کے حضرت جرجیس پیغمبر کو لیجا کر کے آرے سے دو ٹکڑے کر دیا اور بعد ازاں دونوں ٹکڑے اٹھا کر جنگل میں جس جگہ شیر رہتے وہاں ڈال دیا- شیر حضرت جرجیس کو دیکھ کر آداب بجا لائے اور ان کے گرد نگہبان ہوئے- رات کو پھر فرشتے بحکم ربی حضرت جرجیس کے پاس آئے اور اول ان کو زندہ کیا اور کھانا وغیرہ جو جنت سے ساتھ لائے تھے حضرت جرجیس کو کھلایا اور پھر فرمایا کہ اللہ تعالی نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ کل اس بستی والوں کے ہاں جو میلہ لگتا ہے تو تمام کافر اس میلے میں شریک ہونے کو ایک بڑے میدان میں جاویں گے- پس آپ کافروں کے پاس اس میلے میں جاویں اور انہیں دعوت حق پنہچائیں-

چنانچہ حضرت جرجیس نے بمطابق حکم کے صبح جب سب لوگ میں جمع ہو گئے تو آپ بھی وہاں جا پنہچے اور لوگوں کو دعوت حق پنہچانے لگے کہ اللہ پر ایمان لے آو بیشک وہی خالق و مالک تمام جہانوں کا ہیں- کافروں نے جب حضرت جرجیس کو دوبارہ سے زندہ دیکھا تو کہنے لگے اے جرجیس کل ہم نے تمہیں ٹکڑے کر کے شیروں والے علاقے میں خود اپنے ہاتھوں سے پھینکا تھا- پھر بھی تعجب کی بات ہے کہ تم وہاں سے کس طرح بچ کر نکل آئے ہو- اور تم زندہ سلامت ہمارے سامنے کھڑے ہو- تب حضرت نے فرمایا کہ اسی طرح میرا رب عدم سے وجود کرتا ہے اور وجود سے عدم کرتا یے-  اور اسی طرح وہ بار بار اپنی قدرت سے مجھے زندہ کرتا ہے- اور اسی نے مجھے دوبارہ زندہ کر کے تمہارے پاس بھیجا ہے- اور یہ سب دیکھ کر بھی آخر ایمان کیوں نہیں لاتے- جب کہ تم پر واجب ہے کہ ایمان لاو اور مسلمان ہو جاو-

تب دادیانہ ملعون اپنے لوگوں سے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ جرجیس کوئی بہت بڑا جادوگر ہے اور یہ تمام کھیل اس کے جادو کا ہے- اور جب ہم اسے مارنے لگتے ہیں تو یہ اپنے جادو کی طاقت سے ہماری آنکھیں بند کر دیتا ہے اور ہم نہیں سمجھ سکتے کہ یہ بار بار کیسے زندہ ہو جاتا ہے جبکہ درحقیقت یہ مرتا ہی نہیں ہے- تب اس پلید نے کہا کہ اب ہم اس کا مقابلہ جادو کے ساتھ ہی کریں گے- اور اس نے شہر کے تمام بڑے بڑے جادوگروں کو منگوایا اور ان سے کہا اگر تم جادو یا کسی اور حکمت کے زور سے جرجیس کو مار ڈالو گے تو ہم تم کو ڈھیر انعام اور دولت مال وغیرہ سے نوازیں گے-

تب جادوگر کہنے لگے کہ اے جہاں پناہ آپ فکر نہ کیجئے اور خاطر جمع رکھئیے ہم ابھی اس کا کام تمام کیے دیتے ہیں- تب دادیانہ نے کہا کہ مجھے بتاو کہ تم جرجیس کو کیسے مارو گے اور کیا تمہارے جادو میں اتنی طاقت ہے کہ تم اس کا مقابلہ کر سکو- تب انہوں نے کہا کہ تم  ہمیں ایک گائے منگوا دو ہم ابھی تمہیں اپنے جادو کا کرشمہ دکھائے دیتے ہیں- تب بادشاہ نے ان کے کہنے پر ایک گائے منگوا کر انہیں دی- تب جادوگروں نے اس گائے کے کان میں منتر پڑھ کر پھونکا تو وہیں پر وہ گائے حاملہ ہوئی پھر اس کے پیٹ سے دو بچھڑوں نے جنم لیا- پھر وہ دو بچھڑے دو طاقتور بیل بن گئے پھر ان بیلوں سے زمین پر ہل جوتا اور اس زمین میں گیہوں ڈالے- تب وہ گیہوں اگ کر پختہ اور پکی ہوئی فصل بن کر تیار ہو گئے- تب ان کو کاٹا اور ان کو پیس کر آٹا بنا کر روٹی پکا کر کھائی-

تب دادیانہ یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا کہ یقینا تم لوگ جرجیس کو ضرور مار دو گے- تب جرجیس کو وہاں مقابلے کے واسطے بلایا کہ اگر تم سچے ہو تو ان سے مقابلہ کرو- جادوگروں نے ایک پیالہ پانی کا منگوایا اور اس میں منتر پڑھ کر حضرت جرجیس کو وہ پانی پینے کے واسطے دیا- آپ نے بسم اللہ پڑھ کر وہ پیالہ ہاتھ میں لیا اور سارا پانی پی گئے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close