تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 94)

رستم علی خان

چنانچہ جادوگروں نے پانی پر منتر پڑھ کر وہ پانی حضرت جرجیس کو پینے کے واسطے دیا- آپ نے بسم اللہ پڑھ کر پیالا ہاتھ میں لیا اور سارا پانی پی گئے- پس جب جرجیس پانی پی چکے تو جادوگروں کا سردار ان سے کہنے لگا، کہ کیوں حضرت پانی پی کر کیسا محسوس ہو رہا ہے- حضرت جرجیس نے فرمایا کہ میں کافی دور سے چل کر آیا ہوں جس کے سبب پیاس بہت لگ رہی تھی تم نے مجھے پینے کو ٹھنڈا پانی پیش کیا جسے پی کر میری پیاس دور ہو گئی اور جی بھر گیا- پس خدا تمہارا بھلا کرے اور اس پانی پلانے کا اجر دے-

تب جادوگر کہنے لگا، ات جرجیس جو پانی میں نے تمہیں پینے کے واسطے دیا اگر کوئی اور یہ پانی پی لیتا تو اب تک اس کا کہیں نام و نشان بھی باقی نہ ملتا جبکہ تم پر اس جادو کا کوئی اثر نہیں ہوتا- پس معلوم ہوا مجھ کو کہ یا تو تم سچے نبی ہو یا پھر بہت بڑے ساحر ہو کہ تمہاری سحرسازی تک ہم کبھی نہ پنہچ سکیں گے- پس اس طرح اور بھی شہرت آپ کی بڑھ گئی کہ جرجیس بنی اسرائیل میں سب سے بڑے ساحر اور کامل آدمی ہیں-

پس آپ کی شہرت سن کر ایک دن ایک عورت آپ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں بوڑھی اور غریب عورت ہوں میرے پاس صرف ایک گائے ہی تھی جو میری کل املاک تھی کہ اس کا دودھ بیچ کر گزربسر کرتی تھی- کچھ دن ہوئے وہ گائے مر گئی اور جو کچھ جمع پونجی میرے پاس تھی تمام خرچ ہو گئی- پس آپ خدا سے میرے واسطے دعا فرما دیں کہ میری گائے جو مر چکی ہے دوبارہ سے جی اٹھے تاکہ میں اس کے دودھ سے دوبارہ زندگی حاصل کر سکوں یعنی دودھ بیچ کر گزربسر کر سکوں- حضرت جرجیس نے بڑھیا کی بات سنکر فرمایا کہ یہ میرا عصا اپنے ساتھ لیے جاو اور گائے کی ہڈیوں کو ایک جگہ اکٹھا کر کے اس پر میرا عصا مارو اور کہو کہ اے گائے خدا کے حکم اور فضل سے اٹھ کھڑی ہو- پھر اگر اللہ نے چاہا تو گائے ضرور جی اٹھے گی- پس وہ بڑھیا وہاں سے چلی آئی اور پھر بمطابق حکم حضرت جرجیس کے ویسا ہی کیا تو خدا کے حکم سے وہ گائے جی اٹھی اور جیسی پہلے تھی دوبارہ ویسی ہی ہوئی- تب بڑھئیا حضرت جرجیس کے پاس آئی اور آپ کی نبوت اور اللہ کی توحید پر ایمان لائی- اور یہ معجزہ اور کرامت بھی حضرت جرجیس کی لوگوں میں مشہور ہو گئی-

مروی ہے کہ ایک دن ایک شخص کہ وہ بادشاہ کے مقربوں میں سے تھا اپنی قوم سے کہنے لگا، اے لوگو جو جو کرامت اور معجزات تم نے جرجیس سے دیکھے ہیں اس سے تمہیں کیا لگتا ہے کہ وہ کیسا ہے- تب وہ لوگ کہنے لگے ہمیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جرجیس کوئی بڑا ساحر ہے اور اس کی سحرسازی کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا- تب وہ شخص کہنے لگا کہ اے میری قوم ایسا نہیں بلکہ مجھے تو کامل یقین ہے کہ جرجیس سچا نبی ہے اور جو کچھ وہ فرماتا ہے سب سچ ہے اور اس کی کراماتیں اور معجزات اس کی سچائی کی دلیل ہیں- تب ان میں سے کچھ لوگ جو اس کے حاسدین میں سے تھے کہنے لگے کہ اے حضرت ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو جرجیس کے جادو نے لے لیا ہے اور تم کو اصل راہ سے بھٹکا دیا ہے پس اب تم بھی گئے گذرے ہی ہو-

تب وہ شخص کہنے لگا کہ نہیں بلکہ مجھے اللہ نے راہ حق بتائی ہے پس میں جرجیس کیطرف ہوا اور اس کی نبوت پر اور اللہ پر ایمان لایا اور تمہیں بھی دعوت دیتا ہوں کہ ضد چھوڑ دو اور ایک اللہ پر ایمان لے آو- پس چار ہزار آدمی مزید اس کیساتھ ایمان لے آئے اور مسلمان ہوئے- پس جو لوگ کہ سرکش تھے اور ہرگز ایمان لانے والے نہ تھے انہوں نے بادشاہ کو ان کے ایمان لے آنے کے بارے خبردار کیا- اول تو دادیانہ نے ان کو ڈرا دھمکا کر واپس بت پرستی کیطرف آنے اور ایمان کی راہ چھوڑنے کو کہا، لیکن جب دیکھا کہ وہ لوگ اپنے ایمان پر مضبوط ہیں اور کسی طور دین اسلام سے پھرنے کو تیار نہیں ہیں تب ملعون نے ان تمام چار ہزار لوگوں کو شہید کروا دیا۔

بادشاہ مردود نے چار ہزار مسلمانوں کو کہ جو حضرت جرجیس پر ایمان لے آئے تھے انہیں شہید کروا دیا- تب حضرت نے اس مردود سے کہا کہ تم ناحق ایمان لانے والوں کو شہید کرتے ہو جبکہ تم اللہ کی قدرت کو کئی بار دیکھ چکے ہو- پھر بھی تم ایمان نہیں لاتے اور جو لوگ ایمان لانے والے ہیں ان پر ظلم کرتے ہو- تب اس بادشاہ ملعون نے حضرت جرجیس سے کہا، اے جرجیس تیری نبوت کی کیا دلیل ہے اور انبیاء کو اللہ معجزات عطا کرتا ہے- پس تو ہمیں اپنی نبوت کا کوئی معجزہ دکھا تب ہم تم اور تمہارے خدا پر ایمان لاویں گے-

حضرت جرجیس نے پوچھا کہ بتاو تم کیا معجزہ دیکھنا چاہتے ہو- تب کہنے لگا کہ اگر تم سچے نبی ہو تو جس تخت (کرسی) پر ہم بیٹھتے ہیں اپنے خدا سے کہو کہ اس کرسی کی  چار لکڑیوں سے چار درخت مختلف الجنس پیدا ہوں- پھر ان درختوں میں ڈالی پتے لگیں وہ سرسبز ہو اور پھل میوے اس پر آویں اور ہم ان پھلوں کو کھا کر سیری حاصل کریں تب ہم مانیں گے کہ تو سچا نبی ہے اور پھر ضرور ہم تیری نبوت پر اور تیرے خدا پر ایمان لاویں گے-

حضرت جرجیس نے فرمایا کہ یہ تو میرے خدا کی قدرتوں میں ایک ادنی سی بات ہے کہ میرا خدا تو وہ ہے کہ جس نے زمین و آسمان کو بنایا کہ جب وہ کچھ نہ تھے- اور زمین کو پانی پر ٹکایا اور آسمانوں کو بنا ستون اوپر تلے کھڑا کیا- تب حضرت جرجیس نے اللہ سے دعا مانگی اور ویسا ہی ہوا- اس کرسی کی چار لکڑیوں سے چار درخت مختلف الجنس پیدا ہوئے پھر ان میں ڈالیاں اور پتے آئے اور میوے لگے- پھر یہ معجزہ دیکھ کر بھی کافروں نے انکار کیا اور نہ مانے اور کہا کہ تو بڑا جادوگر ہے ہم تیری بات نہیں مانیں گے-

بعد اس کے بادشاہ ملعون نے ایک صورت گائے کی عظیم الشان تانبے سے بنا کر اس میں گندھک اور روغن اور دھاتی کیمیکل ملا کر اس گائے کا پیٹ بھرا اور اس میں حضرت جرجیس کو ڈال کر اس گائے پتلے کو آگ میں ڈال دیا- اس دن مرضی خدا کی ایسی ہوئی کہ جھڑی، طوفان آندھی آئی اور بجلی کڑکنے لگی- کئی دن تک ایسا ہی اندھیرا رہا لوگوں کو رات دن کی تمیز نہ رہی اور اس صورت حال کو دیکھ کر لوگ ڈرنے لگے- اور حضرت میکائیل کو حکم ہوا انہوں نے اس گائے کو اٹھا کر زمین پر پٹک دیا- اور حضرت جرجیس بلکل سلامت اس کے اندر سے نکل آئے-

پھر کافروں سے جا کہ کہا کہ اے کافرو تم کیوں خدا کے قہر سے نہیں ڈرتے اور بار بار معجزات اور اللہ کی قدرت دیکھ کر بھی کیوں ایمان نہیں لاتے- پس خدا سے ڈرو اور ایمان لاو اور کلمہ پڑھ کر اللہ پر ایمان لاو- تب کافر لوگ کہنے لگے کہ اے جرجیس ہماری قوم بہت مری ہے- پس اگر تم ان سب کو واپس زندہ کرو تو ہم تم پر ایمان لائیں گے- تب حضرت جرجیس نے فرمایا کہ یہ تو میرے خدا کی قدرتوں سے ایک ادنی سی بات ہے- کہ اس نے ایک "کن” کہنے پر سارا عالم کو پیدا کیا اور وہی اسے دوبارہ ایک کن کے زریعے زندہ کرے گا- پس ان چند مردوں کو زندہ کرنا اللہ کے لیے کونسی بڑی بات ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close