تاریخ اسلامتاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط 97)

رستم علی خان

چنانچہ جب شمعون نبی سو گئے تو ان کی بیوی نے انہیں اس رسی سے باندھ دیا جو وہ شخص دیکر گیا تھا- صبح جب شمعون نیند سے اٹھے تو خود کو بندھا ہوا پایا- پس رسی توڑ ڈالی اور اپنی بیوی سے پوچھا کہ مجھے کس نے باندھا تھا- بیوی نے کہا کہ میں نے باندھا تھا- پوچھا کہ تم نے بھلا مجھے کس واسطے باندھا تھا- بیوی نے کہا کہ آپ کا زور آزمانہ چاہتی تھی کہ تم میں کس قدر زور ہے کہ اگر کوئی دشمن تمہیں سوتے میں باندھ دے تو تم اس سے لڑ سکتے ہو یا نہیں- تب شمعون نے کہا تم خاطر جمع رکھو کوئی دشمن خدا کے فضل سے ہم سے زور میں بڑھ نہیں سکتا کہ اللہ نے مجھے بہت قوت عطا کی ہے-

پھر چار مہینے بعد شمعون اس شہر میں جہاد کو گئے اور ہمیشہ کی طرح کافروں پر بھاری پڑے اور لڑائی فتح کر کے آئے- چنانچہ پھر شاہ عموزیہ نے شمعون کی بیوی کے پاس لوگوں کو بھیجا- وہ بولی کہ جو رسی تم نے دی تھی میں نے اس سے اس کو باندھا تھا مگر وہ بڑا زورآور ہے اس نے ایک ہی بار میں اس رسی کو توڑ دیا- پس اپنے بادشاہ سے جا کے کہو کہ اسے باندھنے کی کوئی اور تدبیر کرے- تب شاہ عموزیہ نے بہت سا روپیہ اور ایک زنجیر لوہے کی تگڑی بنوا کر اس بی بی کو بھیجی کہ اس زنجیر سے شمعون کو باندھ کر رکھے-

پس حضرت شمعون کی بیوی نے پھر ایک رات سوتے ہوئے حضرت شمعون کو اس زنجیر سے باندھ دیا- جب حضرت شمعون اٹھے تو ہاتھ پاوں اٹھاتے ہی زنجیر ٹوٹ گئی- پھر اس بات کی خبر بادشاہ کو پنہچی کہ شمعون نے زنجیر کو بھی اپنی طاقت سے توڑ ڈالا ہے- تب شاہ عموزیہ بولا کہ لوہے کی زنجیر سے اور کوئی چیز مضبوط نہیں ہے اب اس کے علاوہ میں اور کیا بھیجوں- اور پھر حضرت شمعون کی بیوی سے کہلوا بھیجا کہ اب خود ہی کوئی تدبیر کر کے کسی طرح شمعون کو باندھ بھیجے- تب عورت نے کہا اچھا میں خود ہی کوئی تدبیر کر کے کہلا بھیجونگی آپ سب خاطر جمع رکھیے-

چنانچہ کچھ دنوں بعد جب حضرت شمعون لڑائی سے واپس آئے تو اپنی بیوی کے ساتھ باتیں کر رہے تھے- تب آپ کی بیوی نے آپ کی قوت و طاقت اور لڑائی کی باتیں شروع کر دیں- باتوں ہی باتوں میں آپ کی بیوی پوچھنے لگی کہ اے حضرت میں نے آپ کو رسی سے اور لوہے کی زنجیر سے باندھ کر آپ کا زور آزمایہ اور آپ نے ان دونوں چیزوں کو توڑ ڈالا- بھلا کوئی ایسی چیز بھی ہے کہ جس سے آپ کو باندھ کر رکھا جا سکے اور آپ اسے نہ توڑ سکیں- حضرت نے کہا کہ تم بھلا ایسی باتیں کیوں پوچھتی ہو اور تمہیں ان سب باتوں سے کیا حاصل- تب بی بی کہنے لگی کہ میں تو صرف یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کوئی اور چیز آپ سے زیادہ زورآور ہے یا نہیں- تب حضرت شمعون نے کہا کہ ہاں تم مجھے ایک چیز سے باندھ سکتی ہو میرے سر کے بالوں سے یا بدن کے بالوں سے کہ انہیں میں نہیں توڑ سکوں گا-

تب ان کی بیوی نے جب یہ بات سنی تو شب کو جب شمعون سو گئے تو ان کے سر اور بدن کے بالوں سے انہیں باندھ دیا یا سر اور بدن کے بال کاٹ کر ان کی رسی بنا کر ان کے ہاتھ پاوں کو مضبوطی سے باندھ دیا- جب وہ نیند سے اٹھے تو اپنی بیوی سے پوچھا کہ مجھے کس نے یوں باندھ رکھا ہے- بیوی نے کہا کہ میں نے ہی باندھا ہے اور اس سبب سے کہ زور آپ کا آزماتی ہوں کہ کوئی دشمن آپ سے زور میں بڑھ سکتا ہے یا نہیں اور بس یہی دیکھنا چاہتی ہوں- حضرت نے فرمایا اللہ کے فضل سے کوئی دشمن زور میں مجھ سے نہیں بڑھ سکتا ہاں مگر خدا کی مرضی ہو تو میں نہیں کہہ سکتا کچھ- اور پھر فرمایا کہ اب آو اور میرے بند کھولو- وہ بولی میں نے کئی دفعہ آپ کو مضبوط سے مضبوط رسی اور زنجیر سے باندھا تھا اور آپ نے اپنی طاقت و قوت سے انہیں توڑ کر خود کو کھولا تھا- پس اب کس واسطے بلاتے ہو- تب حضرت نے کہا کہ اگر میں زرا سا بھی ہلوں یا زور کروں تو میرے جسم کی تمام ہڈیاں درہم برہم ہو جائیں گی- اس سبب سے کہتا ہوں کہ بند میرے کھول دو- پس جب عورت نے دریافت کیا کہ بال کے بند کھولنے کی طاقت شمعون میں نہیں ہے تب اس نے شاہ عموزیہ کو اس بارے خبر دی- پس یہ خبر سنتے ہی فورا اس مردود نے ایک ہزار شتر سواروں کا لشکر بھیجا کہ شمعون کے ہاتھ پاوں ناک کان کاٹ کر اور آنکھیں اور زبان نکال کر شتر پر لاد کر میرے پاس لے آو.

چنانچہ کافروں نے بمطابق حکم بادشاہ کے حضرت شمعون کے ہاتھ پاوں اور ناک کان کاٹ کر اور آنکھیں اور زبان نکال کر اونٹوں پر لاد کر شہر عموزیہ میں بادشاہ کے دربار میں لے آئے- کافر سب یہ دیکھ کر خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ اب ہم شمعون کے ہاتھ سے بچے- اور جب بےدست و پا اور زبان کٹی ہوئی اور آنکھیں نکلی ہوئی صرف ایک دھڑ تھا شاہ عموزیہ کے سامنے لیجا کر رکھا گیا تو وہاں ایک ہنگامہ مچ گیا- کوئی شخص کہنے لگا کہ میرے باپ کو اس نے مارا تھا تو کوئی بولا کہ اس کے ہاتھ سے میرا بھائی زخمی ہو کر مرا- غرض ہر شخص جو وہاں موجود تھا کوئی نہ کوئی دعوی کرنے لگا-

پس جب انہوں نے دیکھا تو شمعون کے دھڑ میں ابھی بھی کچھ جان باقی تھی- چنانچہ سب کہنے لگے کہ اس کو کوئی سجت عذاب دیکر مار دیتے ہیں- پس کافروں نے حضرت شمعون کو وہاں سے اٹھایا اور دریا کے کنارے لے جا کر بالاخانے کے اوپر سے دریا میں ڈال دیا- اور اسی بالاخانے میں جو شاہ عموزیہ نے دریا کے کنارے بنوایا تھا شمعون کی موت کا جشن منانے لگے کہ ہم شمعون کے ہاتھ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بچے اور اب ہمیں کوئی دشمن اس بری طرح سے مار کر شکست نہ دے سکے گا-

ادھر حضرت جبرائیل نے بحکم ربی شمعون کو ہوا پر سے ہی اٹھا لیا- اور ہاتھ پاوں، آنکھ، ناک، کان غرض جو جو اعضاء کافروں نے آپ کے دھڑ سے الگ کیے تھے خدا کی قدرت سے سب اپنے اپنے مقام پر واپس لگ گئے- اور حضرت جبرائیل نے فرمایا، اے شمعون اٹھ کھڑے ہو خدا کے حکم سے اور اللہ نے تمہیں بہت طاقت و قوت عطا کی ہے- پس اس ملعون کے مکان کا ستون پکڑ کر تمام حصار اور مکانوں کو کھود کر دریا میں ڈال دو- تب حضرت شمعون خدا کا نام لیکر اٹھے اور اس ملعون کے مکان کا ستون پکڑ کر تمام مکان کو زمین سے اکھاڑا اور تمام زمین عموزیہ کی اللہ کے حکم سے اکھڑ گئی اور ہر چیز کفار کی مع کفار کے حضرت شمعون نے انہیں اٹھا کر دریا میں ڈال دیا- اور ایسا کہ کوئی متنفس اور شہر کا نام و نشان باقی نہ رہا اور خدا کا شکر بجا لائے-

اور اس کام سے فراغت پانے کے بعد چاہا کہ اپنے گھر جائیں اور بیوی کو اس کی غلطی کی سزا دیویں یا اسے قتل ہی کر دیں- تب حضرت جبرائیل نے خدا کے حکم سے فرمایا کہ اے شمعون اللہ فرماتا ہے کہ تم اپنی بیوی کو نہ قتل کرنا اور نہ ہی کسی طرح کی اذیت یا سزا ہی دینا- کیونکہ اس نے نادانی سے یہ سب کیا اور عورت تو ناقص العقل ہوتی ہے پس شاہ عموزیہ کی تخت اور بادشاہی میں شراکت کی دی ہوئی لالچ میں آ کر اس نے عموزیہ کی صلاح سے یہ سب کیا اور پھر اللہ بھی زمین کا کافروں سے پاک کرنا چاہتا تھا- پس تم اپنی بیوی کی تقصیر معاف کرو اور اس کے ساتھ پہلے کیطرح پیار و محبت سے رہو-

یہاں تک قصہ شمعون نبی کا قصص النبیاء میں بیان ہوا- اور بعض اسلامی تاریخ کی کتابوں اور تفاسیر میں شمعون کو نبی کر کے نہیں لکھا گیا بلکہ یوں لکھا ہے کہ بلاد عرب میں قوم بنی اسرائیل میں ایک شمعون نام کا عابد و ذاہد پارسا رہا کرتا تھا- اولا اللہ نے اسے بہت زور اور قوت و طاقت عطا فرمائی تھی- اور اپنی طاقت اور زور کو وہ خلق خدا کی خدمت اور دشمن خدا سے جہاد کرنے میں لگاتا تھا- تب اللہ تعالی نے اس کی نیک نیتی اور نیک کاری کے سبب ثانیا اسے ہزار مہینے کی عمر عطا فرمائی تھی- پس ہزار مہینے تک دن کو روزہ رکھتے اور کافروں سے جہاد کرتے اور خلق خدا کی خدمت کرتے اور شب کو اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے اور ایسے ایسے نیک کام کرتے اور ثواب پاتے- اور کافر تمام ان سے عاجز آئے ہوئے تھے اور مختلف تدبیریں کرتے شمعون کو مارنے کی- پس ایک دن ان کی بی بی نے کافروں کیساتھ ملکر کافروں کی صلاح سے انہیں باندھ کر کفار کے ہاتھوں شہید کروا دیا-واللہ اعلم الصواب

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close