تاریخ اسلام

انسان اور زمین کی حکومت (قسط47)

رستم علی خان

پس جب عصا ڈالا اللہ کے حکم سے تو وہ ایک ناگہانی سانپ تھا جو دوڑتا پھرتا تھا- جب حضرت موسی نے یہ حال دیکھا تو مارے ڈر کے پیچھے کی جانب دوڑ لگا دی اور مڑ کر بھی نہ دیکھا- تب ارشاد ہوا کہ اے موسی اسے دوبارہ پکڑو ہاتھ میں تب یہ پھر لاٹھی ہو جائے گی- اور نہ ڈرو اس سے میں تمہارا رب ہوں-

تب حضرت موسی نے اول اپنے سر کا کپڑا اتارا اور ہاتھ پر لپیٹا بعد اس کے ڈرتے ہوئے اسے دم کی طرف سے ہاتھ میں پکڑا تو وہ دوبارہ سے عصا بن کر ہاتھ میں آیا-

قرآن میں اللہ تعالی نے ایک جگہ زندہ سانپ کی طرح دوڑتا پھرتا فرمایا- دوسری جگہ ثعبان مبین فرمایا کہ بزرگی اور بڑائی میں ثعبان کی مانند ہوتا- روایت ہے کہ جب عصا ثعبان کی مانند ہوتا بڑا اژدھا بنتا اور بہتر پاوں اس کے ہوتے- اور سات سو کے قریب دانت نکل آتے- اور اس کے بدن کی لوئیں مثال نیزے کے ہوتیں- اور تیسری صفت کہ وہ جان کی مانند تھا- یعنی زندہ لاٹھی کی صورت اور یہ تینوں صفتیں قرآن میں اس کی بیان ہوئی ہیں-

بعد اس کے رب تعالی نے فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ کو گریبان میں ڈال کر نکالیں تاکہ اس میں سے سفیدی نکلے اور تاریکی اور برائی کافور ہو اور ڈر سانپ کا جاتا رہے-

پس حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ روشن تھا مثال آفتاب کی اور نوراور روشنی اس کی ایک جہان کو منور کرتی تھی- اور اسی کا نام "ید بیضا” تھا اور روشنی اس کی آفتاب پر غالب ہوتی اور تاریکی اور ظلمت مٹ جاتی-

پس یہ دو معجزے حق تعالی نے آپ کو عطا فرمائے- ایک عصا جس سے آگے ہزار طرح کے معجزے ہوئے- اور دوسرا ید بیضا کہ جس کی روشنی اور نور ایک جہان کی ظلمت اور تاریکی پر غالب آتا- اور ان دو معجزوں کو دیکھ کر خلائق آپ پر ایمان لاتی-

بعد اس کے اللہ تعالی نے آپ کو حکم دیا کہ جاو مصر میں فرعون اور اس کے حواریوں کے پاس اور انہیں دعوت حق کی دو کہ وہ راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں- اور وہ فاسق لوگ ہیں- اور اے موسی ان سے نرمی سے بات کرنا ہو سکتا ہے وہ ایمان لے آئیں-

تب حضرت موسی نے اللہ سے سوال کیا کہ اے اللہ میرے اہل و عیال اور میری بکریاں میدان میں ہیں- اور میری بیوی پیٹ سے ہے کہ درد زچگی کا اسے ہوا ہے- اور میری بکریاں کہ یہاں درندے اور دوسرے موذی جانور بہت ہیں سو ایسے حالات میں میں ان سب کو اس میدان میں اکیلا چھوڑ کر کیسے مصر چلا جاوں-

تب حق تعالی نے فرمایا کہ آپ ان کی طرف سے بےغم ہو کر جائیں- آپ کے اہل و عیال اور بکریوں کا میں نگہبان ہوں-

جب اسطرف سے تسلی ہوئی تو حضرت موسی نے اپنے باقی ڈر اور سوال بیان کیے اور فرمایا؛ اے اللہ میں نے ان میں سے ایک بندے کا خون کیا ہے سو ڈرتا ہوں کہ کہیں مجھے دیکھ کر مار نہ ڈالیں- اور میری زبان بھی صاف نہیں ہے- چونکہ بچپن میں آپ کی زبان جل گئی تھی اس وجہ سے اس میں لکنت تھی- سو فرمایا کہ میرے بھائی ہارون علیہ السلام کو میرا ہمنوا کر دیں تاکہ میری بات کو صاف طرح سے ان لوگوں کو سمجھا سکیں- کیونکہ ان کی زبان صاف چلتی ہے- پس انہیں میرے ساتھ مدد کو بھیج دیں تاکہ وہ مجھے لوگوں میں سچا کریں- اور ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ لوگ مجھے جھوٹا نہ سمجھیں-تب اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے موسی ہم مدد دیں گے آپ کے بھائی ہارون کی آپ کو اور ہمنوا کریں گے اسے آپ کے کام میں- اور غلبہ دیں گے آپ کو اس قوم پر- پھر وہ ہرگز نہ پہنچ سکیں گے آپ تک- اور ہماری نشانیوں سے تم اور جو تمہارے ساتھ ہیں اوپر ہو گے- یعنی ان لوگوں پر غلبہ پاو گے۔

چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام نے رب تعالی سے پانچ حاجتیں طلب کیں- جن کے بارے میں اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا؛
ترجمہ: کہا موسی نے اے رب کشادہ کر میرا سینہ کہ جلدی خفا نہ ہوں- اور آسان کر کام میرا سخت- اور گرہ کھول میری زبان سے کہ لوگ سمجھیں میری بات- اور میرے واسطے وزیر کر میرے بھائی ہارون کو میرے اہل سے- مضبوط کر اس کے ساتھ میری قوت کو اور شریک کر اس کو میرے کام (یعنی پیغمبری) کا کہ تیری ذات کی پاکی بیان کریں ہم بہت اور تیرا ذکر کریں زیادہ- تحقیق تو ہی ہے ہم کو دیکھنے والا-

چونکہ جناب موسی علیہ السلام جلدی غصہ کر جاتے تھے اس لیے اللہ سے دعا مانگی کہ میرے سینے کو کشادہ کر دیا جائے تاکہ جلد غصہ نہ کروں بلکہ نرمی اور آرام سے لوگوں تک اپنی بات کو پنہچا سکوں- اور آپ کی زبان طفولیت میں جل جانے کی وجہ سے صاف نہیں چلتی تھی اس لیے دعا فرمائی کہ زبان صاف ہو جائے تاکہ لوگ میری بات پر میرا مذاق نہ اڑائیں اور انہیں صاف لہجے میں اپنی بات سمجھوں- اور پھر اپنے اہل میں سے اپنے بھائی کو پیغمبری میں شریک بنانے کی درخواست کی تاکہ بھائی کے ساتھ ہونے سے آپ کی طاقت بڑھے اور اپنے اہل کی طرف سے غم اور پریشانی نہ ہو-

چنانچہ حق تعالی نے آپ کی دعا قبول فرمائی- پس ارشاد ہوا؛

ترجمہ : کہا اللہ نے ملا تجھ کو تیرا سوال اے موسی-

دل تیرا روشن کیا اور کام تیرا آسان کیا اور اور زبان تیری فصیح کی اور تیرے بھائی کو تیرا وزیر بنایا- چنانچہ اب جا فرعون کے پاس اس نے سر اٹھایا ہے-

پس حضرت موسی علیہ السلام نے سوال کیا اللہ سے تب سب کچھ پایا- لیکن ہمارے پیارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے بےمانگے سب کچھ عطا فرمایا- اللہ تعالی نے7 آپ کی شان میں فرمایا؛

کیا ہم نے نہیں کھولا تیرا سینہ (اے محمد) اور اتار رکھا ہم نے تیرا بوجھ جس نے توڑی تھی کمر آپ کی- اور ہم نے آپ کے زکر کو بلند فرمایا-

اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے بھی اللہ سے حاجت مانگی تھی جط تعمیر مکہ کی شروع کی- قرآن میں ارشاد ہے؛

ترجمہ: جب اٹھانے لگے ابراہیم اور اسماعیل اس گھر کی بنیادیں تب کہا، اے رب قبول کر ہم سے تحقیق تو ہی ہے سننے والا اور جاننے والا-

غرض تمام انبیاء نے اللہ سے مانگا تو انہیں عطا کیا گیا اور ہمارے آقا کو بے مانگے اللہ نے سب کچھ عطا کیا-

الغرض اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کو طوی کے مقام پر پیغمبری عطا فرمائی اور آپ کو علوم دین حق کے سکھائے اور پھر ارشاد فرمایا کہ اب جاو فرعون کی طرف جو بھٹکا ہوا ہے راستے سے-

روایت ہے کہ جناب موسی علیہ السلام وہاں سے واپس پہلے اپنی بیوی حضرت بی بی صفورہ کے پاس آئے- دیکھا کہ بکریوں کی رکھوالی بھیڑئیے کر رہے ہیں اور بیوی کے ہاں بھی بیٹے کی ولادت ہوئی ہے اور اللہ نے ان کے لئیے بھی بہتر انتظام کیا ہوا ہے-
چنانچہ آپ نے ان سے جو واقع ان کے ساتھ پیش آیا مکمل اپنی بی بی سے بیان کیا اور اللہ تعالی کے حکم بارے بھی بتایا کہ مصر میں فرعون کو پیغام حق سنانے کا حکم ہوا ہے اور فرعون اور اس کے حواریوں کو اللہ کا پیغام پنہچانا ہے-

تب آپ کی بیوی نے کہا کہ آپ بے فکر ہو کر مصر جائیں اور اللہ کا حکم پورا کریں فرعون اور اس کے حواریوں کیطرف اللہ کا پیغام لیکر جائیں اور ہماری طرف سے فکر مند نہ ہوں ہمارا اللہ نگہبان ہے اور وہ خوب حفاظت کرنے والا ہے-

چنانچہ آپ نے اپنی اہل اور بکریوں کو سپرد خدا کیا اور صرف عصا لیکر مصر فرعون کو دعوت حق دینے کے لیے روانہ ہوئے۔

چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام اپنے اہل عیال اور بکریوں کو آللہ کے سپرد کر کے مصر کی جانب روانہ ہوئے تاکہ فرعون اور اس کے حواریوں تک اللہ کا پیغام پنہچائیں اور بنی اسرائیل کو فرعون اور قبطیوں کے ظلم سے نجات دلائیں-

جب آپ مصر پنہچے تو اجنبی بن کر اپنے گھر گئے تاکہ کوئی آپ کو پہچان کر پکڑ نہ لے اور فرعون کے حوالے نہ کر دے کہ قبطی کہ قتل کا بدلہ لیں- پس آپ نے اپنے گھر کا دروازے پر دستک دی تو آپ کی بہن مریم نے دروازہ کھولا اور پوچھا کہ کون ہے- تب آپ نے خود کو اجنبی ظاہر کیا اور فرمایا کہ مسافر ہوں اور بھوکا کھانا اور رات گزارنے کو جگہ چاہئیے-

تب آپ کی بہن نے والدہ سے اس بارے زکر کیا تو انہوں نے کہا کہ اس کو اندر بلا لو- اور کھانے کو پیش کرو- لہذا آپ اجنبی بن کر ہی گھر میں آئے اور بچھونے پر بیٹھ گئے- اور بعد میں آپ کے والد عمران اور بھائی ہارون آئے اور ان سے ملاقات ہوئی-

اور ایک قول یہ بھی ہے کہ تب آپ کی بہن اور والد وفات پا چکے تھے- لہذا دروازہ آپ کی ماں نے کھولا اور کھانا دیا اور آپ نے خود کو اجنبی ہی ظاہر کیا- پھر جب حضرت ہارون آئے تو والدہ نے ان سے تذکرہ کیا کہ کوئی اجنبی مسافر آیا ہے جو بھوکا تھا اور کھانے اور رات گزارنے کی درخواست کی- اور ابھی اندر ہی ہے- تب حضرت ہارون جب آپ سے ملے تو دیکھتے ہی آپ کو پہچان لیا اور خوش ہو کر ماں کو بتایا کہ یہ تو بھائی موسی علیہ السلام ہیں- تب ماں نے پہچانا اور خوش ہو کر ملیں اور ساتھ لگا کر پیار کیا- واللہ اعلم الصواب

تب حضرت ہارون علیہ السلام کے پوچھنے پر اپنا حال ان سے بیان کیا کہ کیسے مصر سے نکلے اور مدائن پنہچے وہاں حضرت شعیب کی بیٹی سے شادی کرنے اور حق مہر کے عوض ایک مدت مقرر تک ان کی بکریاں چرانے تک ساری تفصیل بیان کی- اور ایک قول کے مطابق حضرت ہارون اس سب سے باخبر تھے اور انہوں نے اس بارے سوال کیا کہ ایسا واقعی ہوا تھا-

بعد اس کے حضرت موسی نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو یہ خوشخبری بھی سنائی کہ اللہ تعالی نے انہیں منصب رسالت کے لیے چنا ہے اور پیغمبری عطا فرمائی ہے- اور پھر کوہ طور پر اللہ سے ہمکلام ہونے اور جو جو باتیں اللہ تعالی نے آپ کو مقام طوی پر سکھائیں تھیں سب بیان کیں- تب حضرت ہارون یہ سنکر بہت خوش ہوئے اور آپ کی تعظیم کی- تب حضرت موسی نے فرمایا کہ اے بھائی اللہ نے آپ کو بھی میری پیغمبری میں میرا شریک کیا ہے اور منصب نبوت عطا فرمایا ہے-

بعد اس کے اللہ کی طرف سے عطا ہونے والے اپنے معجزوں کے بارے بیان فرمایا کہ یہ عصا اگر زمین پر ڈالوں تو اللہ کے حکم سے جیتا جاگتا اژدھا بنے گا جو سارے مصر کے کافروں کو اکیلا ہی بہت ہو گا اور سب کو کھا جائے گا- اور اس کے علاوہ بھی اس سے ہزار طرح کے معجزے ہیں کہ جو حکم کروں گا بفضل خدا ہو جائے گا- اور دوسرا یدبیضا کا بیان کیا کہ اگر اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈال کر نکالوں تو اس سے نور نکلے گا جو اس قدر ہو گا کہ عالم تمام اس کے نور سے منور ہو گا اور تاریکی اور برائی پر غالب آئے گا- اور یہ سب میرے اللہ کا عطا ہے- اور میرے اللہ کا وعدہ ہے مجھ سے کہ میں اور میرے ساتھی جو اللہ پر ایمان رکھنے والے ہیں غالب رہیں گے کافروں پر-

تب حضرت ہارون علیہ السلام یہ سن کر خوش ہوئے اور فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو اب بنی اسرائیل جلد ہی فرعون اور قبطیوں کے ظلم سے نجات پائے گی-

تب حضرت موسی نے کہا کہ ہمیں جلدی ہی فرعون کے پاس جانا ہو گا تاکہ ہم اسے دعوت حق پنہچا سکیں- شائد وہ ایمان لے آئے اور حق کو قبول کر لے اور اپنے رب ہونے کے جھوٹے دعوے کو چھوڑ کر راہ راست پر آ جائے اور بنی اسرائیل پر ظلم کرنا بھی بند کر دے- اگر ایسا نہ ہوا تو بھی اللہ کے فضل سے ہم ہی غالب ہوں گے-

چنانچہ صبح بعد فجر کے وقت کے قریب حضرت موسی علیہ السلام اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ فرعون کے محل کے دروازے پر پنہچے اور دروازے کا حلقہ پکڑ کر اس زور سے ہلایا کہ فرعون کا پورا محل لرز اٹھا اور فرعون اس وقت اپنی خواب گاہ میں محو استراحت تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close