انہدامِ جنت البقیع کیوں؟

1

عظمت علی

اگر کسی قوم کو اندھیرے میں رکھنا مقصود ہو تو اس کی تاریخ مٹادو۔ اس نظریہ  پر عمل در آمد کرتے ہوئے  ایک طویل مدت سے اسلامی تاریخ اور آثار قدیمہ کو محو کرنے کی سر توڑ کوشش کی جارہی ہے۔ اسلام دشمن عناصر امت اسلامی کا شیرازہ بکھیرنے میں  طرح طرح کے حربے اپناتے آتے ہیں۔ لیکن بدلے میں  انہیں منھ کی کھانی پڑتی ہے۔ انہوں نے  اسلام کی نابودی کی خاطر خطرناک عزائم بروئے کار لائے۔ مگر نتیجہ میں اپنا سا منھ لے کر رہ گئے ہیں۔ جب انہیں  یہ معلوم پڑگیا کہ مسلمان ہماری قوت سے بہت بلندتر ہیں  تب انہوں نے شر پسندوں کی ایک خطرناک جماعت تشکیل  دی۔ بظاہر تو اس گروہ کے افراد اسلامی وضع قطع کے حامل تھے۔ لیکن حقیقت میں دشمن کے بہی خواہ تھے۔ اور بعد کے واقعات نے اس حقیقت سے  پردہ اٹھا ہی دیا۔ آج عالم اسلام میں  جو واویلا مچی ہو ئی ہے وہ ان کی سازش کی بدولت ہے۔

۱۷۰۳ عیسوی میں محمد ابن عبدا لوہاب نامی ایک شخص پیدا ہوا۔ جس نے بعد کے زمانہ میں ابن تیمیہ کے فرسودہ عقائد کو بیدار کیا  اور زیارت کرنے کو شرک بتایا چونکہ اس کے عقائد  اسلامی امت  سے بالکل مختلف تھے۔ اس لیےدشمنوں کو  ملت میں انتشار کا یہی آلہ کا رآمد سوجھا۔ سو ا نہوں نے اس کے عقائد کی ترویج میں خوب دلچسپی دکھائی۔

بات ۱۷۴۴ عیسوی کی ہے۔ جب عبدا لوہاب اور محمد ابن سعود کے درمیان معاہدہ طے پایا  کہ عبد الوہاب کو اس کے مذہب کی ترویج کا حق دیا جائے اور محمدابن سعود کو مملکت   کا مالک بنادیا جائے ۔ یہ ڈیل پکی ہو گئی۔ لہٰذا، ایک نے خود ساختہ عقائد کی نشر واشاعت کی اور دوسرے نے حکومت کو اپنی گرفت میں رکھا۔بعد کے حالات میں انقلاب آیا اور ابن سعود کے بیٹے نے عبد الوہاب کی لڑکی سے شادی رچالی۔ یوں معاہد ہ نے مزید استحکام پکڑلیا۔ ۱۷۶۵عیسوی میں محمد ابن سعود کا انتقال ہو جاتاہے اور ریاست کا منصب اس کے فرزند عبد العزیز کی طرف منتقل ہو جاتاہے۔ یوں عبدا لوہاب  کا حکومتی معاملات میں رسوخ بڑھ گیا۔ ۱۸۰۱یا ۱۸۰۲ عیسوی میں عبد الوہاب کے نظریہ کی اقتدا کرتے ہوئے سعودی افواج نے کربلائے معلی پر قبضہ جمالیا اور امام حسین علیہ السلام کے روضہ کے گنبد  کو گرادیا۔چار برس وقفہ بعد یعنی ۱۸۰۶ عیسوی میں جنت البقیع کو منہدم کر دیا گیا۔

مغربی طاقت کے ایما ء پر اور حکومتی نشہ میں چور ہو کر ایک دفعہ پھر ۱۹۲۵۔۱۹۲۶عیسوی میں جنت البقیع سمیت دیگر مقامات مقدسہ کو منہدم کیا گیا۔

جنت البقیع اور دوسرے قابل احترام مقامات کی ویرانی  کا سانحہ ازحد جانکا ہ ثابت ہوا اور دنیا میں ایک ہلچل مچ گئی۔ مسلم ممالک میں غم و غصہ اور نفرت کی لہر دوڑ گئی۔دنیا بھر میں سعودی حکومت کے خلاف شدید احتجاج ہوئے۔متعد د ملکوں نے اس تخریب کاری  کی مذمت میں عرضداشتیں بھی روانہ کیں۔خود وطن عزیز، ہندوستان سے ایک وفد  سعودی عرب روانہ ہوا۔

مقامات مقدسہ کی تاراجی پر علماء اسلام نے میں بھی اپنے احتجاج رقم کئے۔ علم کی طاقت کا استعمال کیا۔ دشمن کے ناپاک عزائم کو پردہ فاش کیااور ساتھ ہی ساتھ وہابی افکا ر کو شیطانی وسواس سے تعبیر کیا۔

اطراف عالم سے سعودی حکومت کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں۔ ریلی اور قلم کی صورت میں لوگوں کے احتجاج درج کئے گئے۔ نجف اشرف اور قم مقدس  کے علماء سمیت دیگر مقامات کے علماء نے اس گھنونے عمل کی سخت مخالفت کی۔ علماء اسلام نے اس کے خلاف کتابیں تحریر فرمائیں۔ سید محسن حکیم نے ’کشف الارتیاب ‘اور جواد بلاغی نے ’رد الفتویٰ بہدم قبور الائمہ فی البقیع ‘ نامی کتاب میں نجدی افکار پر خط بطلان کھینچ دیا۔ اس کے علاوہ سید عبدا لرزاق موسوی مقرم  نے اپنی کتاب ’ثامن شوال ‘میں نجدی سوچ کا گلا دبوچ دیا۔اس طرح یوسف ہاجری کی کتاب ’البقیع قصۃ تدمیر آل سعود لآثار الاسلامیہ‘،عبدالحسین حیدری موسوی نے اپنی کتاب ’قبورائمۃ البقیع قبل تہدیمہا‘ اور حسن آل برغانی نے بھی ’بقیع الغرقد ‘میں وہابی افکار کو مخدوش کیا ہے۔

جنت البقیع ایک باعظمت قبرستان ہے۔ جس میں شیعہ مکتب فکر کے چار ائمہ (امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام، امام زین العابدین علیہ السلام، امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام )،حضرت رسول اسلام صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم کی دختر جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، حضرت ختمی مرتبت کے والد گرامی  حضرت عبد اللہ، آپ کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب، حضرت زینب بنت خزیمہ، حضرت ریحانہ بنت زبیر، حضرت ماریہ قبطیہ، حضرت زینب بنت جحش، اُم ّ حبیبہ بنت ابی سفیان، حضرت سودہ اورعائشہ بنت ابی بکر مدفون ہیں۔ اِس کے علاوہ حضرت ختمی مرتبت (ص) کے فرزندابراہیم (ع)، حضرت علی (ع) کی والدہ ماجدہ حضر ت فاطمہ بنت اسد(س)، زوجہ حضرت اُمّ البنین (س)،حلیمہ سعدیہ (س)، حضرت عاتکہ، عبداللہ بن جعفر، محمد بن حنفیہ اورعقیل بن ابی طالب (ع)، نافع مولائے عبد اللہ بن عمر شیخ القراء السبعہ (متوفی ١٦٩ ہجری) کی قبور بھی وہاں موجود ہیں۔
(کشف الارتیاب ؛ علامہ سید محمد امین، صفحہ 55۔ البقیع؛یوسف الہاجری،صفحہ ٣٧۔مرآۃ الحرمین؛ابراہیم رفعت پاشا،صفحہ ٤٢٧۔آثار اسلامی مکہ ومدینہ؛صفحہ ٩٩۔تاریخ المعالم المدنیۃ المنوّرۃ ؛ سید احمد آل یاسین،صفحہ ٢٤٥۔طبقات القراء؛جلد ٢،صفحہ ٣٣٠۔تہذیب التھذیب؛جلد ١٠، صفحہ ٤٠٧)

اس کے علا وہ یہاںمقداد بن الاسود، مالک بن حارث، مالک اشتر نخعی، خالد بن سعید، خزیمہ ذو الشہادتین، زید بن حارثہ، سعد بن عبادہ، جابر بن عبداللہ انصاری، حسّا ن بن ثابت، قیس بن سعد بن عبادہ، اسعد بن زارہ، عبد اللہ بن مسعود اورمعاذ بن جبل سمیت دوسر ے جلیل القدر صحابہ کرام بھی یہیں مدفون ہیں۔ (مستدرک حاکم؛جلد ٢،صفحہ ٣١٨۔سیرہ ابن ہشام ؛جلد ٣،صفحہ ٢٩٥۔)
روایت کے مطابق اس میں دس ہزار سے زائد اصحاب  کرام دفن ہیں۔(الشر ق الاوسط؛١٥/ ذی الحجہ ١٤٢٦ ہجری، شمارہ ٩٩٠٩)۔

اس میں آرام کرنے والی باوقار اسلامی ہستیوں  اور عمائد اسلام کے سبب فریقین کے نزدیک اس کا بصد احترم  کیا جا تاہ ہے۔

جنت البقیع ۴۹۵ہجری یعنی ہجرت کی پانچویں دہائی  کے اواخر سے صاحب گنبد و بارگاہ رہا ہے۔ صرف فرقہ وہابیت نے اس کو شرک قرار دیا اور اسے  گراد یا۔تاریخی اسناد میں اس بات کی تصدیق  مل جائے گی۔ ابن بطوطہ اپنے سفری مشاہدات کو یوں رقم کرتاہے۔ ’حرم ائمہ بقیع (ائمہ اربعہ علیہم السلام)میں موجود قبور پر دراصل ایک سر بفلک گنبد ہے جو اپنے استحکام کی نظر سے فن تعمیر کا بہترین اور حیرت انگیز شاہکار ہے۔ (رحلہ ابن بطوطہ ۸۹)

غرض  کہ تاریخ میں گنبد مسمار کرنے کو ذکر نہیں ملتا۔ ہاں ! تعمیراتی امور ضرور پائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ تاریخ سہارا دیتی ہے  کہ پہلی دفعہ جب وہابی حملہ نے اسے منہدم کیا تو عثمانی سلطنت کے اقتدار کے بعد اسے تعمیر کرایا گیا۔

8شوال المکرم ۱۳۴۴ ہجری میں انہدام جنت البقیع سے تاریخ میں  ایک سیاہ باب کا آغاز ہواہے۔ دنیا  کے اطراف و اکنا ف میں اس روز یوم انہدا م جنت البقیع کا سوگ منا یا جاتاہے اور مقدس مقامات کی تعمیر نو کی مطالبہ کیا جا تا ہے۔

تبصرے