جنگ احد کے بعد مسلمان تلواروں کے سایہ میں

0

محمد صابر حسین ندوی

حقیقت یہ ہے کہ غزوۂ بدر کے بعد مخالفین طاقتوں میں اسلام کاڈر و خوف بیٹھ گیا تھا اور قبائل اپنی اپنی جگہ دشمنی کے باوجود خاموش بیٹھ گئے تھے، لیکن غزوہ احد کی شکست نے حالت بدل دی، اب دوبارہ تمام قبائل اٹھ کھڑے ہوئے اور مدینہ منورہ پر حملہ کر نے اور حضور  ﷺ کے ساتھ ناروا سلوک کرنے کیلئے بر انگیختہ ہو گئے، ہر کبھی مسلمانوں کے چراگاہ کے ساتھ چھیڑ خانی عام ہو گئی، ان خطرات سے بچنے کیلئے حضورﷺ نے مختلف لائحہ عمل بنائے اور مشہور شہسواروں کو کبھی ان کے تعاقب میں توکبھی اٹھتی مخالفت کودبانے کے لئے بھیجا، جیسے سب سے پہلے یکم محرم کو سن ۴ ہجری میں طلحہ اور خویلد کے بارے میں معلوم ہوا ؛کہ وہ اپنے قبیلے کے ساتھ مدینہ پر حملہ کر نے والے ہیں، آپؐ نے فوراً سریہ ابو سلمہ روانہ کیا، جس میں ۱۵۰ مہاجرین تھے؛ لیکن ان کی آمد کی خبر سنتے ہی منتشر ہوگئے، اسی طرح خالد بن سفیان ہذلی بھی ناپاک ارادہ رکھتا تھا، آپؐ نے ان کی طرف عبداللہ بن انیس ؓ کو بھیجا، جنہوں نے لطائف الحیل سے خالدکو قتل کر دیا، اور واپسی میں اس کا کٹا ہوا سر لے کر آئے۔ اس سریہ کوسریۂ ابن انیس کہتے ہیں، (دیکھئے:زادالمعاد:۲؍۱۰۸۔ ابن ہشام:۲؍۶۱۹۔ ۶۲۰)

مشرکین و معاندین کی سازشیں اور ہمتیں اس قدرہو گئی تھیں کہ صفر سن ۴ہجری میں ابوبراء عامربن مالک جو ملاعب الألسنۃ (نیزوں سے کھیلنے والا) کے لقب سے مشہور تھا، آپﷺ کی خد مت میں حاضر ہوا، ایمان کا میلان ظاہر کیا اور نجد کی جانب سے خطرہ بتلا کر ضمانت کے ساتھ ۷۰ انصار کو لے گیا، جن میں اکثر اصحاب صفہ تھے، ان لو گوں نے بئر معونہ پہونچ کر قیام کیا، ان اصحاب کرام نے ام سلیم کے بھائی حرام بن ملحان کو حضورﷺ کا خط دے کر عامربن طفیل کے پاس بھیجا ؛جو قبیلہ کاسرار تھا، مگر عامر بن طفیل نے حرام بن ملحان کو قتل کر دیا، اور قرب و جوار کے قبائل عصیہ، رعل، زکوان سبھی کے پاس آدمی دوڑادئے اور حرام بن ملحان کے منتظر صحابہ کرام کوعامر کی سرداری میں گھیر کر قتل کردیا، سوائے حضرت عمرو بن امیہ ضمری کے جنہیں غلام آزاد کرنے کی نذر کے صدقہ آزاد کر دیا۔ حضورﷺ کو جب یہ خبر پہونچی تو سخت صدمہ ہوا جیسا کہ تمام عمر نہیں ہوا، یہی واقعہ ہے جس کے بعد حضورﷺنے مسقتل ایک مہینہ تک قنوت نازلہ پڑھی اور ان مجرموں کے لئے بد دعا کی تھی۔

انہی دنوں عضل اور قارۃ دو مشہور قبیلوں نے اسلام قبو ل کیا اور حضورﷺ کی خدمت میں تعلیم وتعلم کے لئے چند صحابہ کرام کا مطالبہ کیا، آپ ﷺنے عاصم بن ثابت یا مرثد بن ابی مرثد غنوی کی سرداری میں ابن اسحاق کے بقول چھ افراد کو اور صحیح بخاری کی رویت کے مطابق دس صحابہ کرام کو ان کے ساتھ روانہ کیا، جب یہ لوگ رابغ اور جدہ کے درمیان قبیلہ ہذیل کے مقام رجیع پر پہونچے جو عسفان اور مکہ کے وسط میں ہے، تو ان غداروں نے عہد شکنی کی اور بنو لحیان کو اشارہ کر دیا، جو دو سو تیر اندازوں کے ساتھ حاضر ہوگئے، صحابہ نے یہ دیکھ ایک بلند جگہ پر پناہ لی، تیر اندازوں نے کہا کہ :نیچے آجاؤ ! ہم تمہیں امان دینگے، صحابہ کرام نے اس سے انکار کیا اور سوائے تین آدمیوں کے سب کے سب مارے گئے، ان تینوں دراصل کافروں پراعتما دکیا اور نیچے اتر آئے، لیکن انہوں نے بد عہدی کی اور مکہ میں لے جا کر انہیں بیچ ڈالا، ان میں سے ایک حضرت خبیب کو حارث بن عامر کے لڑکوں نے خریدا جن کو انہوں نے احد میں قتل کیا تھا اور اسی کی پاداش میں انہیں سولی دی گئی، اور دوسرے صحابی حضرت زید بن دثنہ انہیں صفوان بن امیہ نے خرید کر اپنے باپ کے بدلے قتل کردیا۔ (ابن ہشام:۲؍۱۶۹ تا ۱۷۹۔ زادالمعاد:۲؍۱۰۹۔ بخاری :۲؍۵۶۸، ۵۶۹، ۵۸۵)

ان بیرونی خطرات کیساتھ ساتھ مدینہ منورہ کے یہودی یعنی بنو قینقاع، بنو نظیر، بنو قریظہ جو کہ بہت زیادہ زمین دار، دولت مند، تجارت پیشہ اور صناع تھے، بالخصوص بنو قینقاع جو زرگری کا پیشہ کرتے تھے اور بہت بہادر تھے، اسی لئے اکثر ان کی جانب سے خطرہ درپیش رہتا تھا، حضورﷺ نے جب مدینہ میں قیام فرمایا تو ہر ممکن یہودیوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے اور ان کا امتیاز بھی باقی رکھنے کی کوشش کی ؛بلکہ آپﷺ نے تو ان سے معاہدہ بھی لیا تھا اور وقتاً فوقتاً ان میں پھیلی ہوئی ہزاروں بیماریاں جو دولت کی وجہ سے آئی تھی جیسے: زنا، سودخوری، ظلم و جبر وغیرہ کومصلحتاً نظر انداز کر تے ہوئے تبلیغ و ارشاد سے کام لیتے تھے، نیز بہت سے اعمال میں جن میں اسلام کا کوئی حکم نہ ہو تا انہی کے رواج پر عمل کرتے تھے جیسے:عام عرب بالوں میں مانگھ نکالتے تھے جب کہ یہود بالوں کو یوں ہی چھوڑ دیتے تھے، ایسے میں

 حضور بھی یہودیوں کی موافقت کرتے، عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے، اسی طرح مشوروں میں شامل کرتے اور ہر اعتبار سے معاشرتی سطح پر انہیں قریب کرنے کی کوشش کرتے لیکن قرآن مجید ان کے ظاہری اخلاق دسیسہ کاری اور سازشی ذہن کی پردہ دری کی ہے۔ (دیکھئے:مائدۃ:۵۱)

ساتھ ہی اپنے ہاتھوں سے تقدس اور تمغہ ابناء اللہ کا معیار جاتے دیکھ اسلام کیلئے سخت نفرتیں بیٹھ گئی تھیں، اسی لئے حضورﷺ کوطرح طرح کی اذیتیں دینے اور ایذا پہونچانے کی کو شش کر تے؛ لیکن قرآن اس پرآپ کو صبر کی تلقین کر تا اور اسی کو عظیم گردانتا تھا۔، ان کے علاوہ اسلام کی بر بادی کے لئے ملکی تد بیریں اختیار کی اور اوس و خزرج جو کہ اسلام سے پہلے کئی جنگ آپس میں لڑ چکے تھے، بلکہ ایک عظیم جنگ ’’جنگ بعاث‘‘ ابھی ابھی ختم ہوئی تھی، چنانچہ یہودیوں نے ایک دفعہ اس لڑائی کا تذکرہ چھیڑ کر ان میں جاہلی حمیت اور کینہ پروری کو ہوا دینی چاہی، دفعتاً عداوت کی دبی ہوئی آگ بھڑک بھی اٹھی، لعن و طعن سے گزر کر تلواریں کھنچ گئی، حسن اتفاق سے حضورﷺکو خبر ہوئی ؛آپ نے فوراً پہونچ کر معاملہ سمبھالا۔ اس کے علاوہ درپردہ یہود ہی نے منافقین کی جماعت پیدا کی تھی بالخصوص عبداللہ بن ابی بن سلول کو اپنے ساتھ کر لیاتھا جو کہ پہلے ہی سے بنو نظیر کا حلیف تھا۔

دوسری طرف قریش بھی دشمانہ خط لکھ کر بھڑکاتے اور انہیں مسلمانوں کواکیلا چھوڑنے کا مشورہ دیتے تھے، بدر کی فتح نے یہود کو زیادہ اندیشہ ناک کر دیا تھا، کہ اب اسلام ایک طاقت بنا جاتا ہے، چونکہ قبائل عرب میں سب سے زیادہ قینقاع تھے، اس لئے سب سے پہلے انہوں نے ہی اعلان جنگ کی جرأت کی اور معاہدہ توڑ دیا، ایک اتفاقیہ سبب بھی پیش آیا جس نے اس آگ کو اور بھڑکا دیا۔ وہ یہ کہ؛انصار کی ایک خاتون نقاب پوش یہودی کی دکان پر آئی، یہودیوں نے ان کی بے حر متی کی، قریب ہی ایک مسلمان غیرت سے بے تاب ہوگیا اور یہودی کا سر قلم کردیا، اس پر یہودیوں نے مسلمان کو بھی قتل کر دیا، حضور کو جب یہ خبر پہونچی تو آپ ﷺنے جا کر انہیں سمجھایا اور کہا:خدا سے ڈرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی بدر والوں کی طرح عذاب آئے، تب ہی انہوں نے زبان درازی کی اور کہا کہ: ہم قریش نہیں ہیں جو ڈر جائیں، ہم سے معاملہ پڑا تو دکھا دنیگے کہ جنگ کیا ہوتی ہے ؟، یہ نقض عہد کی علامت تھی اور اعلان جنگ کا آغاز، اس لئے آپ ﷺنے مجبوراً ان سے لڑائی کی، لیکن وہ جانتے تھے کہ مسلمانوں کی تاب نہ لا سکیں گے اس لئے وہ قلعہ بند ہوگئے، مسلمانوں نے پندرہ دنوں تک محاصرہ کیا بالآخر اس پرر اضی ہوئے کہ؛حضورﷺجوفیصلہ کریں گے وہ انہیں منظور ہوگا، ایسے میں عبداللہ بن ابی بن سلول نے درخواست کی کہ انہیں جلا وطن کر دیا جائے، آپﷺ نے یہی فیصلہ فرمایا، وہ سات سو اشخاص کے ساتھ جن میں تین سو ذراع پوش تھے جلاوطن کر دئے گئے۔

یہودیوں میں جرأت کا یہ عالم تھا کہ اشعار کے ذریعہ آپ ﷺکی ہجو کرتے اور تکلیف دیتے تھے، ان میں مقدم مشہور شاعرکعب بن ا شرف تھا، جس کے والد قبیلہ طئی سے تھے اور مدینہ میں بنو نظیر کا حلیف ہو کر اس قدر عزت پائی؛ کہ اس کی شادی یہودی کی ایک لڑکی سے ہوگئی، اسی کے بطن سے کعب پیدا ہوا، اس طرح وہ یہود اور عرب سے برتری کا تعلق رکھتا تھا، رفتہ رفتہ دولت مندی کی کثرت سے تمام یہود کا سردار ورئیس بن بیٹھا تھا، لیکن اسے اسلام سے سخت عداوت تھی، چنانچہ وہ بدر کے بعد مکہ مکرمہ گیا اوراپنے اشعار کے ذریعہ لوگوں کو خوب اکسایا، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اپنے ساتھ چالیس آدمیوں کو لے کر گیا اور اب سفیان سے مل کر بدر کے انتقام پر بر انگیختہ کیا، جس سے آپ ﷺبہت ہی زیادہ کبیدہ خاطر ہوئے، آپ ﷺنے اپنی کیفیت صحابہ کرام کے سامنے رکھی ؛جس پر آپؐﷺکی مرضی سے بڑی ہی حکمت عملی کے ساتھ محمد بن سلمہ نے اوس کے رؤساء سے مل کر ربیع الاول ؍۳ہجری کو اسے قتل کردیا۔

اس طرح پر آشوب وقت میں آپ ﷺکو تسکین ملی، اور دعوت و تبلیغ کی دوسری مہموں کی جانب پوری توجہ کے ساتھ منہمک ہوگئے، لیکن ا قرار کو بے قراری میں بدلنے والا ایک اور حادثہ پیش آیا۔ وہ یہ کہ اس زمانے میں حضورﷺ ایک خون بہا کے سلسلہ میں بنو نظیر کے پاس تشریف لے گئے، انہوں نے رضامندی ظاہر کی؛ لیکن اندرونی طور پر سازش کی کہ ایک شخص چپکے سے بالاخانے پر چلا جائے اور اس کی دیوار کے سایہ میں آرام فرما رہے، حضورؐ پر پتھر گرگرادے، جس سے آپؐ جاں بحق ہوجائیں، اس کی تعمیل میں عمر وبن حجاش یہودی بالاخانہ پر چڑھ گیا کہ کام انجام دے، مگر بذریعہ وحی حضورﷺ کو اس کے ناپاک ارادے کا حال معلوم ہو گیا، آپ فوراًمدینہ منورہ لوٹ آئے، مزید یہ کہ قریش کے بھڑکانے کی وجہ سے بنونظیر نے حضورﷺ کے پاس پیغام بھیجا کہ:آپ تیس آدمیوں کو لے کر آئیں، ہم بھی احبار(پادری، یہودی علماء)  لے کر آئیں گے، اگر آپ کا کلام سن کر ہمارے احبار آپ کی تصدیق کریں تو ہم کوبھی کچھ عذر نہ ہو گا، چونکہ آپ ﷺان کی سازشی فطرت سے واقف تھے اس لئے ایک معاہدہ لکھنے کو کہا لیکن وہ تیار نہ ہو ئے۔

اسی دوران بنو قریظہ نے حضور ﷺسے تجدید عہد کر لیا تھا، لیکن بنو نظیر اپنی ضد پر اڑے رہے بالآخر انہوں نے حضور کی خدمت میں بھیجا کہ آپ تین آدمی لے کر آئیں ہم بھی تین آدمی لے کر آئینگے، اگر یہ ایمان لے آئے تو ہم بھی ایمان لے آئینگے، آپ ﷺنے منظور فرمایا، لیکن راہ میں ہی آپ کو صحیح ذرائع سے معلوم ہواکہ وہ آپ کے قتل کا اراد رکھتے ہیں، دراصل ان کا گمان تھا کہ وہ اپنے عظیم اور مظبوط قلعوں میں پناہ گزیں ہو جائینگے جن کا فتح کرنا مشکل ہے ساتھ ہی عبداللہ بن ابی کے ذریعہ دوہزار آدمیوں کی مدد کا وعدہ بھی تھا اور بنو قریظہ سے ہمدردی کی بھی امید تھی، اس لئے انہوں نے بغاوت کردی، لیکن ان کے خیالات غلط نکلے، حضورﷺ نے صرف چھ رات یا بقول بعض پندرہ رات تک ان کا محاصرہ کیا، آخر کار بنو نظیر اس شرط پر راضی ہو ئے کہ :جس قدر اونٹون پر مال واسباب لے جا سکیں ؛ لے جائیں اور مدینہ سے باہر نکل جائیں، ان میں معزز رؤساء سلام بن ابی الحقیق، کنانہ بن ربیع اور حی بن اخطب شامل تھے، یہ سب کے سب خیبر روانہ ہوگئے؛ لیکن اس جاہ و جلال اور جشن کے ساتھ نکلے کہ :یہ دھوکا ہوتا تھا کہ کوئی لشکر فتح کے ساتھ گزررہاہے، اہل مدینہ کابیان ہے:اس سروسامان کی سواری کبھی انکی نظر سے نہیں گزری تھی، مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ سب بچے کے کھلونے کے مثل تھا، جو کہ اس کی حقیقت سے انجان ہو کر اسے تخت و تاج سمجھتا ہے۔ (ابن ہشام:۲؍۱۹۰۔ ۱۹۱۔ ۱۹۲۔ زادالمعاد:۲؍۷۱۔ ۱۱۰۔ بخاری:۲؍۵۷۴، ۵۷۵)

تبصرے