تاریخ اسلام

حضرت امام حسین ؓ اور جذبۂ ایثار و قربانی

محمد صدرِعالم قادری مصباحیؔ

حق کی تائیداورباطل کی تردیدکے ذیل میں جگرگوشۂ رسول، فرزندبتول، راکب دوش پیمبراورکربلاکے غازیوں کے امیرلشکر، امام عالی مقام، شہیدکربلا، سیدالشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی نہ صرف اسلامی بلکہ پوری تاریخ انسانی میں بے مثال اورمہتم باالشان ہے۔ اس لحاظ سے بھی کہ فوزوفَلاح کی احیاء وبقااوربرائی کی بیخ کنی کے لئے اس انداز، ایسے عزم وحوصلے اوراس قدرصبرورضاکامظاہرہ کسی نے نہیں کیا۔ ایسے مصائب کسی نے نہیں جھیلے، اپنے عزیزوں کی جانوں کے نذرانے یوں کسی نے پیش نہیں کئے….امام عالی مقام خیرکی، استقامت کی، مکمل سپردگی، جذبۂ ایثاروقربانی، اورجاں نثاری کی ایک ابدی علامت ہیں۔ اس علامت سے ہمیں جذب وعشق کی تازگی اورقلب و نظرکی پاکیزگی ملتی ہے۔ امام عالی مقام اوراُن کے عظیم ساتھیوں کی شہادتِ عظمیٰ اسلامی معاشرے کومرکزیت اوریک جہتی کی بنیادیں فراہم کرتی ہے اوروہ سب لوگ قافلۂ حسینی میں شامل ہیں جونیکی پرایمان رکھتے ہیں اوراُسے فروغ دینے کوزندگی کامشن سمجھتے ہیں اورجب بھی یزیدی قوتیں دنیاوی قوت اورجاہ وجلال کے تکبرو غرورمیں فرعونیت پراُترآتی ہے توایسے پُرفتنحالات میں مسلک حسینؓ کے یہ پیروکارجذبۂ حسینی سے سرشارہوکروقت کے ان یزیدوں کے سامنے ڈت جاتے ہیں اوراپناتن من دھن سب کچھ اس راہ میں وارکریہی نعرہ لگاتے ہیں کہ۔  ؎

قتل حسین اصل میں مرگ یزیدہے

  اسلام زندہ ہوتاہے ہرکربلاکے بعد

سیدالشہداء حضرت امام حسین شہیدکربلاکی ولادت باسعادت۵؍شعبان المعظم  ۴  ھ؁کومدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی کنیت ”ابوعبداللہ ـ ”اورنام نامی”حسین”اورلقب ”سبط رسول”اور”ریحانۃ الرسول”ہے۔ آپؓ کوبھی آپ کے بڑے برادرمکرم حضرت امام حسنؓ کی طرح جنتی نوجوانوں کاسرداربنایاگیا۔ حضوراکرم، نورمجسم، سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم کواپنے ان دونوں نواسوں سے بے انتہامحبت تھی۔

حدیث مبارکہ میں ارشادہوا”جس نے ان دونوں (یعنی امام حسن ؓ اورامام حسینؓ)سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اورجس نے ان سے عداوت کی اس نے مجھ سے عداوت کی”۔ حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ:حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں شہزادوں کوسونگھتے تھے اوراپنے سینے سے چمٹایاکرتے تھے۔ (ترمذی، ج۲، ص۴۲۰)ایک اورمقام پرآپ نے ارشادفرمایاکہ حسن وحسین دونوں میرے ”پھول ”ہیں جوخدائے تعالیٰ نے مجھے دنیامیں عطافرمائے ہیں اوریہ ظاہربات ہے کہ پھول سونگھے جاتے ہیں۔ پھول چومے نہیں جاتے اس لئے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم امام حسن وامام حسین اپنے دونوں پھولوں کوسونگھاکرتے تھے۔ سبحان اللہ ! کیاخوب فرمایااعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہٗ نے   ؎

کیابات؟ رضاؔاس چمنستان کرم کی     

 زہراہے کلی جس کی حسین اورحسن پھول

حضرت امام حسین کی ولادت کے ساتھ ہی آپ ؓ کی شہادت کی خبربھی حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کومل چکی تھی کہ آپ کے فرزندحسین ؓ زمین طف میں شہیدکئے جائیں گے اوریہ اس مقتل کی خاک ہے جہاں وہ شہیدکئے جائیں گے۔ طف کوفہ کے قریب ایک مقام کانام ہے جسے کربلاکہتے ہیں۔ اس طرح سب کومعلوم ہوگیاکہ آپ ؓ کامشہدکربلاہے۔ حضرت امام حسین ؓبڑے ہوتے گئے، جذبۂ جانثاری اورایثاروقربانی میں روزافزوں اضافہ ہوتاگیا، یہ شہادت کاکمال ہے ایسااعلان ہواکہ اپنے پرائے سب جان گئے، مقام سے آگاہ ہوگئے، حق کاطالب مولیٰ تعالیٰ کی رضاکے آگے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہے۔ کبھی وحشت وپریشانی ان کے قریب نہیں آئی، کبھی اس جانکاہ مصیبت سے خلاصی کی دعاآپ ؓنے بارگاہ الٰہی میں نہیں فرمائی، شہادت کے انتظارکی ساعتیں شوق سے گزارتے رہے۔

قارئین کرام!یزیدکون تھا اورکیساتھا؟معاذاللہ!یزیدبن معاویہ اموی وہ بدترین شخص ہے جس کی پیشانی پراہل بیت نبوت کے خونِ ناحق کاقیامت تک نہ مٹنے والاسیاہ داغ ہے یہی وہ بدنصیب اورشقی القلب ظالم ہے جس پرقیامت تک تمام دنیائے اسلام تحقیروملامت کے پتھربرساتی رہے گی۔ یزید۲۵ہجری خاندان بنی اُمیہ میں حضرت امیرمعاویہؓ کے گھرمیں میسون بنت بحدل کے پیٹ سے پیداہوا۔ انتہائی بدشکل، موٹا بھدا، پورے بدن پربال، بدکرداراورغدارتھا۔ محرمات کے ساتھ نکاح اورسودوغیرہ منہیات شرعیہ کواس بے دین نے علانیہ رواج دیا۔ حضرت حنظلہ ؓ نے فرمایاکہ واللہ!ہم نے یزیدپراس وقت خروج کیاجب ہم کویہ ڈرہوگیاکہ کہیں یزیدکی بداعمالیوں اوربدکاریوں کی وجہ سے ہمارے اوپرآسمان سے عذاب کے پتھرنہ برسنے لگیں (واقدی)اسی طرح ایک مرتبہ کسی نے حضرت عمربن عبدالعزیزکے دربارمیں یزیدکوامیرالمؤمنین کہ دیا۔ توآپ نے اُسے بیس دُرّہ مارکرسزادی کہ یزیدجیسے بدترین شخص کو”امیرالمؤمنین ”کہناجرم عظیم ہے۔ (تاریخ الخلفاء، ص۲۳۱)

حضرت امیرمعاویہ ؓ کی وفات کے بعدآپ کاناخلف اورانتہائی شقی، بدنصیب، بہت تندخو، فاسق، فاجر، شرابی، بدکار، بدمزاج، بدخلق، ظالم، بے ادب، گستاخ اوربے دین بیٹا”یزید”تخت سلطنت پرفرعون زمانہ بن کربیٹھااوراس نے اپنی بیعت لینے کے لئے اطرافِ سلطنت میں ہرطرف فرمان اورقاصدروانہ کئے۔ چنانچہ مدینہ منورہ کے حاکم ولیدبن عقبہ کویزیدنے یہ فرمان بھیجاکہ تم میرایہ فرمان دیکھتے ہی سب خاص وعام اورعمائدین مدینہ سے میری بیعت لواورخاص کرامام حسین اورعبدالرحمٰن بن ابوبکراورعبداللہ بن عمراورعبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہم کوتوایک لمحہ کی بھی مہلت نہ دینااورسب سے پہلے ان لوگوں سے بیعت لینا۔ چنانچہ یزیدکافرمان ملتے ہی ولیدبن عقبہ نے حضرت امام حسین ؓ کواپنے دارالامارۃ (گورنمنٹ ہاؤس)میں بلایااوریزیدکافرمان سناکرآپ ؓ سے بیعت کاطالب ہوا۔ امام عالی مقام ؓنے صاف صاف فرمادیاکہ یزیداپنے فسق وفجوراورظلم وعدوان کی وجہ سے ہرگزاس قابل نہیں کہ میں اُس کے ہاتھ پربیعت کروں۔ اس لئے میں ہرگزہرگزکبھی بھی اس کی بیعت نہیں کرسکتا۔

امام عالی مقام کوخوب اچھی طرح معلوم تھاکہ بیعت کے انکارسے یزیدنابکارانتہائی مشتعل ہوگااورمیری جان کادشمن اورخون کاپیاساہوجائے گا۔ لیکن فرزندرسول سے بھلایہ کب ممکن تھا؟کہ تقویٰ اوردیانت کوٹھکراکرمحض اپنی جان بچانے کے لئے ایک فاسق نابکاراورفاجربدکارکوخلافت کاحق دارتسلیم کرلیں اورمسلمانوں کی تباہی اوردین وملّت کی بربادی کاکچھ خیال نہ کریں۔ امام عالی مقام کی استقامت اورانکاربیعت سے یزیدکاسارامنصوبہ خاک میں مل گیااوروہ مارے غیض وغضب کے آگ بگولہ ہوگیااوریہاں تک اپنی خباثت پراُترآیاکہ اس نے ولیدکویہ فرمان بھیج دیاکہ اگرامام حسین میری بیعت سے انکارکردین توان کاسرکاٹ کرمیرے یہاں روانہ کردے۔ جب اس مضمون کے چندحکم نامے متواترولیدکے پاس پہنچے توولیدنے مجبورہوکرامام عالی مقام کویزیدپلیدکے اس ناپاک منصوبہ سے آگاہ کیا۔ آپؓ نے مخلصین صحابۂ کرام سے مشورہ کیاتولوگوں نے آپ کویہ صلاح دی کہ ایسے ماحول میں آپ کامدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ چلاجانازیادہ مناسب ہے۔ چنانچہ آپ نے اورحضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکہ مکرمہ کی روانگی کاعزم فرمالیا۔ سامان باندھے جانے لگے۔ اونٹوں پرکجاوے کس ڈالے گئے اوراہل نبوت کایہ مقدس قافلہ مدینۃ الرسول کی جدائی کے صدمے سے روتے ہوئے ۴؍شعبان ۶۰ ہجری کوجمعہ کی رات میں مکہ مکرمہ کے لئے اپنے خدام کے ہمراہ روانہ ہوگئے۔ مدینہ طیبہ سے ہجرت کرناآپ کے لئے نہایت ہی غم واندوہ کاباعث تھا۔ یزیدکی بیعت صرف اہل شام نے، جہاں وہ تخت نشین تھا، کی۔ اہل کوفہ حضرت امام حسین ؓکواپنے یہاں آنے کے لئے درخواستیں بھیج رہے تھے لیکن امام عالی مقام نے اولاً انکارفرمادیا۔ یزیدکی تخت نشینی کے بعداہل عراق کی تمام جماعتوں نے متفق ہوکراپنی نیازمندی، عقیدت اوراخلاص کااظہارکرتے ہوئے آپؓ پراپنے جان ومال قربان کرنے کی تمناکی اورتمام فرقوں کی طرف سے تقریباًڈیڑھ سوکے قریب درخواستیں آپ کی خدمت اقدس میں پہنچیں، آپ کب تک اغماض برتتے، آخرکارآپ نے اپنے چچازادبھائی حضرت مسلم بن عقیل ؓ کوکوفہ کے حالات جاننے کے لئے روانہ کیااورکوفیوں کولکھاکہ آپ لوگوں کی درخواست پرمسلم بن عقیل کوبھیج رہاہوں اوران کی نصرت وحمایت تم پرفرض ہے۔ اس سفرمیں حضرت مسلم بن عقیل کے دونوعمرفرزندمحمداورابراہیم بھی ان کے ہمراہ تھے۔ کوفہ پہنچ کرحضرت مسلم بن عقیل ؓ نے مختاربن عبیدکے گھرقیام کیا۔

کوفیوں نے نہایت جوش وخروش اورمحبت کااظہارکیا اورتقریباًچالیسہزارلوگوں نے آپ کے دست حق پرست پربیعت کرلی۔ یہ جوش وجذبہ اورمحبت دیکھ کرحضرت مسلم بن عقیلؓ نے امام عالی مقام کویہاں کے حالات کی اطلاع دی کہ آپ جلدتشریف لائیں تاکہ جلدسے جلدخداکے بندوں کوظالم یزیدکے شرسے نجات دلائی جائے اورآپ کی خلافت حقہ کاپرچم سربلندکرکے خدائے تعالیٰ کی زمین کوعدل وانصاف سے بھردیاجائے۔ ان دنوں حکومت شام کی جانب سے نعمان بن بشیرکوفہ کے گورنرتھے۔ اس معاملے میں انہوں نے کسی قسم کی دست اندازی نہ کی۔ یزیدحضرمی اورعمارہ بن ولیدبن عقبہ نے یزیدکواطلاع دی کہ حضرت مسلم بن عقیل تشریف لائے ہیں اوراہل کوفہ کے ہزارہاآدمی ان کے ہاتھ پربیعت کرچکے ہیں اورنعمان بن بشیرنے ابھی تک ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔

یزیدنے یہ اطلاع پاتے ہی نعمان بن بشیرکومعزول کردیااورابن زیادکوکوفہ روانہ کردیا۔ ابن زیادبہت مکارتھا، وہ اپنی فوج کے ساتھ بصرہ سے روانہ ہوا۔ اس نے قادسیہ میں اپنی فوج کوچھوڑااورخودحجازیوں کالباس پہن کرمغرب اورعشاء کے درمیان اس راستے سے کوفہ میں داخل ہواجس راستے سے حجازی قافلے کوفہ میں داخل ہوتے تھے۔ اس مکاری سے اس کامقصدیہ تھاکہ اس وقت اہل کوفہ بہت جوش میں ہیں اورکوفہ میں اس طریقے سے داخل ہوناچاہئے کہ وہ پہچان نہ سکیں اوریہی کچھ ہوا۔ جب وہ کوفہ میں داخل ہواتولوگوں نے یہی سمجھا کہ حضرت امام حسین کوفہ میں تشریف لے آئے ہیں۔ شب کی تاریکی میں وہ نعرہ ہائے مستانہ بلندکرتے، مرحباکہتے ہوئے، اس کے گردجمع ہوگئے۔ یہ مردودچلتاتورہالیکن مصلحت سے خاموشی اختیارکئے رہاکہ اس کافریب نہ کھل جائے۔ جب وہ دارالامارہ (گورنمنٹ ہاؤس)میں داخل ہواتواس وقت لوگوں پریہ حقیقت کھلی، رات گزرنے کے بعدابن زیادنے صبح تمام اہل کوفہ کوجمع کیااوریزیدکی مخالت سے اُنہیں ڈرایا، دھمکایااوراس طرح حضرت مسلم بن عقیل کی جماعت کومنتشرکردیا۔ حضرت مسلم بن عقیل ؓ ابن غزوہ کے مکان میں اقامت فرمائی۔ ابن زیادنے محمدبن اشعث کوایک دستہ فوج بھیج کراس کوقیدکروالیااورکوفہ کے عمائدین کوبھی قلعہ میں بندکردیا۔

حضرت مسلم بن عقیل نے یہ خبرسنی توانہوں نے ندادی توفوراًچالیس ہزارکے قریب لوگ آپ کے گردجمع ہوگئے اورقصرشاہی کااحاطہ کرلیا۔ اگرآپ اس وقت حکم دیتے توقلعہ چندساعتوں میں فتح ہوجاتاکیوں کہ کوفیوں کی بدعہدی، ابن زیادکی فریب کاری اوریزیدکی عداوت ثابت ہوچکی تھی پھربھی آپؓ نے لشکرکوحملہ کاحکم نہ دیاکہ مسلمانوں کی خونریزی نہ ہوسکے اورگفتگوسے صلح کی کوئی صورت نکل آئے۔ دشمن نے اس کافائدہ اٹھایااورقلعہ میں قیدرؤساکواس بات پرمجبورکیاکہ وہ اپنے رشتہ داروں کومسلم بن عقیل کی حمایت سے بازرکھیں اورایساہی ہوا۔

حضرت مسلم بن عقیل ؓ کالشکرمنتشرہوتے ہی مغرب کی نمازکے بعدکوئی بھی ان کے ساتھ باقی نہ تھا۔ اس مسافرت میں وہ تنہارہ گئے، طوعہ نامی ایک عورت نے آپ کواپنے گھرمیں رکھا، لیکن اس کے بیٹے نے کوتوال شہرابن اشعث کوخبرکردی۔ وہ مکاری سے ان کومصالحت کے بہانے ابن زیادکے پاس لے کرروانہ ہوا۔ تیغ زن دروازے کے دونوں پہلومیں چھپے ہوئے تھے، جونہی وہ دروازے میں داخل ہوئے تلواروں کے وارسے بنی ہاشم کے مظلوم مسافرکوشہیدکردیاگیااورساتھ ہی ان کے دونوں صاحبزادوں کوبھی تیغِ ستم سے شہیدکردیاگیا۔ اسی روزمکہ مکرمہ سے امام عالی مقام کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ صحابۂ کرام اس سفرکوملتوی کرنے کے لئے اصرارکرتے رہے مگرکوفیوں کی درخواست کوردکرنااوران کی دل شکنی کرناآپ کوگوارانہ ہوااوربالآخرآپ نے ۳ ؍ذی الحجہ۶۰؍ ہجری کومکہ مکرمہ سے اپنے اہل وعیال، عزیزوں، جانثاروں، رفیقوں اورغلاموں یعنی کل بہترنفوس قدسیہ کے ہمراہ کوفہ کوروانہ ہوئے۔ امام عالی مقام کواب تک کوفہ کے حالا ت معلوم نہ ہوئے تھے۔ جب آپ معلوم ثعلبیہ میں پہنچے توبکیربن مثعبہ اسدی کے ذریعہ آپ کومعلوم ہواکہ مسلم بن عقیل اورہانی بن عروہ دونوں شہیدکردیئے گئے اوران کی لاشوں کے پاؤں میں رسیاں باندھ کربازاروں میں گھسیٹاگیا۔ اس دردناک خبرکوسن کرآپ نے بارباراِنّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمَاپڑھا۔ جب مسلم بن عقیل کے شہادت کی خبران کے بھائیوں کومعلوم ہوئی توتینوں بھائیوں نے جوش میں آکر کہاخداکی قسم ہم سرزمین کوفہ کواس وقت تک نہ چھوڑیں گے جب تک اپنے بھائی مسلم کے خون کابدلہ نہ لے لیں گے۔ یہ سن کرامام حسین نے واپسی کاارادہ ترک کرکے سفرجاری رکھاجب کوفہ دومنزل رہ گیاتویہاں حربن زیادریاحی کوایک ہزارمسلح افواج کے ساتھ آپ کوگرفتارکرنے کے لئے بھیجاگیا۔ ظہرکے وقت آپ نے آذان کاحکم دیا، نمازکے بعدآپ نے دستہ ٔ حرکے سامنے تشریف لے گئے اورفرمایا:”ائے لوگوں !میں تم لوگوں سے معذرت کرتاہوں لیکن میں خودیہاں نہیں آیاہوں بلکہ میرے پاس تمہارے خطوط اورقاصدپہنچے کہ ہماراکوئی امام نہیں ہے لہٰذاآپ تشریف لائیں ممکن ہے کہ آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہمیں راہ ہدایت نصیب فرمائے۔ اگرتم لوگ اپنے عہداوربیعت پرقائم ہوتومیں تمہارے شہرمیں داخل ہوں ورنہ یہیں سے واپس چلاجاؤں ؟”۔ حُرکے دل میں خاندان نبوت اوراہل بیت کی عظمت ضرورتھی مگروہ ابن زیادکے حکم کے ہاتھوں مجبورتھاجس کی وجہ سے وہ اپنی بات پراڑارہایہاں تک کہ امام عالی مقام کوکوفہ کی راہ سے ہٹاکرکربلامیں نزول فرماناپڑا۔ یہ محرم ۶۱ہجری کی دوسری تاریخ تھی۔

آپ نے اس مقام کانام دریافت کیاتومعلوم ہواکہ اس مقام کوکربلاکہتے ہیں۔ ابھی خیمہ زن ہی ہوئے تھے کہ امام عالی مقام کی خدمت میں ابن زیادکامکتوب پہنچاجس میں یزیدکی بیعت طلب کی گئی تھی۔ آپ نے قاصدکوجواب دیایزیداپنے فسق وفجوراورظلم وعدوان کی وجہ سے ہرگزاس قابل نہیں کہ میں اُس کے ہاتھ پربیعت کروں۔ اس لئے میں ہرگزہرگزکبھی بھی اس کی بیعت نہیں کرسکتا۔ اس جواب سے ابن زیادکاطیش اورزیادہ بڑھ گیا۔ اس نے مزیدفوج ابن سعدکی سپہ سالاری میں روانہ کردی۔ یہ تمام لوگ امام عالی مقام کی عظمت وفضیلت کواچھی طرح پہچانتے تھے اس نے امام حسین سے مقابلہ نہیں کرناچاہامگرابن زیادنے اسے مجبورکیااورحکومت کے لالچ نے اس کوجنگ کرنے پرآمادہ کردیا۔ ۷۲؍نفوس قدسیہ جن میں بیبیاں، بچے، بیمار سبھی شامل ہیں جن کے پاس نہ سامان حرب ہے نہ ارادہ جنگ ہے، ان کے لئے ۲۲؍ہزارکی جرارفوج مقابلے کے لئے موجودہے۔

۱۰؍محرم کاقیامت خیزدن طلوع ہواجمعہ کادن تھاحضرت امام عالی مقام نے اہل بیت اورتمام رفقاء کے ساتھ فجرکی نمازاداکی، بعدنمازاپنے خیمے میں تشریف لائے، اہل بیت تین دن سے بھوک سے نڈھال، ایک قطرہ آب میسرنہیں پھربے وطنی، تیزدھوپ، گرم ریت، صحراکی گرم اورچہرہ جھلسادینے والی ہوا، جوروجفاکے پہاڑتوڑنے کے لئے سامنے بائیس ہزارکالشکرجرار، مگراس کے باوجودعزم وہمت اورپائے استقلال میں لرزہ نہیں۔ جنگ کانقارہ بجادیاگیا۔ امام عالی مقام نے اتمام حجت کے لئے تقریرفرمائی۔ اوراپنی فضیلت وعظمت شان بیان فرمایااوران یزیدیوں کوخوف خدااوراُن پر آنے والے سخت ترین عذاب سے آگاہ فرمایا۔ پھرجنگ کاآغازہوگیا۔ شیرخداکے خاندان کے بہادروں نے کربلاکی تشنہ لب زمین کودشمنوں کے خون سے لالہ زارکردیا، اس طرح خاندان امام حسین کے نوجوان اپنی بہادری کے جوہردکھادکھاکرامام عالی مقام پریکے بعددیگرے قربان ہوتے چلے گئے۔ تمام شہزادے شہیدہوتے چلے گئے۔ اب امام کے سامنے حضرت علی اکبردشمنوں پرحملہ آورہوگئے۔ شہزادہ اہلبیت کاحملہ نہیں عذاب الٰہی تھا۔ آپ نے جس طرف کارخ کیایزیدی لشکرکائی کی طرح پھٹتاچلاگیااورایک ایک وارمیں کئی کئی دیوپیکرجوانوں کوگرادیا۔ جب آپ پیاس کی شدت، دھوپ کی تمازت اورزخموں سے نڈھال ہو کرچورچورہوگئے تویزیدیوں نے یک بارگی چاروں طرف سے گھیرلیا، تیرکے زخموں نے تن نازنین کوچورکردیا۔ امام عالی مقام میدان میں جاپہنچے اوراُن کواپنے خیمے میں لے آئے، اُن کے سرکوگودمیں لے کرفرمایا:”آسمان کے دروازے کھلے ہیں، بہشتی حوریں شربت کاجام لئے انتظارکررہی ہیں ”یہ کہااورجان جان آفریں کے سپردکردی۔ اِن کی شہادت پر اہلبیت کے قافلے میں سناٹاچھاگیا۔ پھرامام عالی مقام معرکۂ جنگ وجدل کے لئے تیارہوئے، عمامہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم سرپرباندھا، مصری قبازیب تن فرمایا، امیرحمزہ کی سپرپشت پررکھی، حیدرکررارکی تلوارحمائل کی اورگھوڑے پرسوارہوئے۔ رضائے الٰہی پرصابروشاکرہوکرسب کوسپردخاک کرکے میدان کی طرف رخ کیا۔ ایک بارپھراتمام حجت کے لئے تقریر فرمائی، مگران یزیدیوں پراس کاکوئی اثرنہ ہوا۔ لڑائی اب شروع ہوگئی، ایک ایک کرکے جوبھی بڑاسے بڑابہادر آپ کے مدِّمقابل آیاسب کوآپ تلوارکے بھرپوروارسے واصل جہنم کرتے چلے گئے۔ زمین کربلاکوفہ کے بہادروں اورصف شکنوں کے خون سے سیراب ہوگئی، نعشوں کے انبارلگ گئے، لشکرمیں شورمچ گیا، ہزاروں نوجوان دوڑپڑے اوریک بارگی امام عالی مقام کوگھیرکرتیربرساناشروع کردیا۔ آپ کاگھوڑااس قدرزخمی ہوگیاکہ اس میں کام کرنے کی طاقت نہ رہی، ہرطرف سے ہزاروں تیرکمانوں سے چھوٹنے لگے، تن نازنین زخموں سے چوراور لہولہان ہورہاہے، بے وفاکوفیوں نے جگرپارۂ رسول فرزندبتول کومہمان بناکران کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ یہاں تک کہ زہرمیں بجھاہوا ایک تیرآپ کی مقدس پیشانی پرلگا جسے حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ہزاروں بارچوماتھا۔ تیرلگتے ہی چہرۂ انورپرخون کادھارابَہ نکلا۔ آپ غش کھاکرگھوڑے کی زین سے فرش زمین پرآگئے۔ اب ظالموں نے نیزوں سے حملہ کیاشیطان صفت ”سنان ”نے ایک ایسانیزہ ماراجوتن اقدس کے پارہوگیا۔ تیراورنیزہ وشمشیرکے بہترزخم کھانے کے بعدآپ سجدے میں گرے اورخدائے وحدہٗ لاشریک کاشکراداکرتے ہوئے واصل بحق ہوگئے۔ ۵۶؍سال، ۵؍ماہ، ۵؍دن کے عمرمبارک میں جمعہ کے دن محرم کی دسویں تاریخ   ۶۱  ؁ھ  مطابق  ۶۸۰ ؁ء کوامام عالی مقام نے اس دارِ فانی سے رحلت فرمائی۔ اِنّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔

یزیدیوں نے سمجھاکہ ہم نے حسین کومارڈالااوروہ مرگئے لیکن زمین کربلاکاذرّہ، ذرّہ زبان حال سے ہمیشہ یہ پکارتارہے گاکہ ائے حسینؔ!

توزندہ ہے واللہ توزندہ ہے واللہ 

 میری چشم عالم سے چھپ جانے والے

نضربن خرشہ آپ کے سرمبارک کوتنِ اقدس سے جداکرنے کے لئے آگے بڑھامگرامام عالی مقام کی ہیبت سے اس کے ہاتھ کانپ گئے اورتلوارچھوٹ گئی۔ پھربدبخت ازلی خولی بن یزید، سنان بن انس، شبل بن یزید یاشمرنے آپ کے سراقدسکوتن مبارک سے جداکیا۔ روایت میں آیاہے کہ امام عالی مقام جب شہیدکئے گئے توآسمان سے خون برسااوراس روزبیت المقدس سے جوپتھراُٹھایاجاتاتھااس کے نیچے سے تازہ خون پایاگیا۔ شہادت کے روزاندھیراہوگیااورتین دن مکمل اندھیرارہا۔

امام حسین نے حق پرثابت قدم رہتے ہوئے کس طرح فسق وفجورکامقابلہ کیا اورآنے والی نسلوں کے لئے عزم وہمت کی بے نظیرمثال قائم کردی۔ آپ یاآپ پرآنے والے مصائب کوسن کرچندقطرے جھوٹے آنسوبہالینے سے امام پاک کی مقدس روح خوش نہیں ہوگی اورنہ ہی امام کی بارگاہ اقدس میں سعادت وقبولیت حاصل ہوگی۔ اگرواقعی امام پاک سے سچی عقیدت ومحبت ہے توامام عالی مقام کی اتباع وپیروی کرتے ہوئے حق وصداقت کے پرچم کوبلندکریں اورجس عظیم مقصدکے لئے امام حسین نے اپناگھرباراورجان سب کچھ قربان کردیااس کواپنامقصداولین بنالیں۔

آج ہم مردہ یزیدپرلعنتیں بھیجتے ہیں اورقیامت تک بھیجتے رہیں گے مگرزندہ یزیدوں کی اتباع وپیروی اورجی حضوری میں لگے ہوئے ہیں۔ آج بھی معرکہ کرب وبلاعراق، ملک شام، ایران، فلسطین، افغانستان اوربَرمامیں برپاہے۔ کیاان مظلوموں کے حق میں عالمی سطح پرآواز اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے؟۔ ہمارے مسلم سیاسی اورغیرسیاسی قائدین بلکہ پوری امت مسلمہ کو واقعۂ کربلاسے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ امام عالی مقام کے کرب وبلاکے میدان میں خون سے نہائے ہوئے ذرَّات اکناف عالم میں بکھرچکے ہیں اوروہ مظلوم، مجبوراورمقہورقوموں کے دلوں میں ولولہ اورجذبہ فراہم کررہے ہیں۔ اگرامام حسین میدان کربلامیں عظیم قربانی نہ دیتے توآج ہرمحلے، گلی، کوچے، گاؤ ں اورشہرمیں یزیدی اوراس کے جیسے سوچ وفکررکھنے والے لوگ مظلوم ومجبورکوچین وسکون سے جینے نہ دیتے۔

اللہ تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کوامام عالی مقام اورشہیدان کربلاکے فیوض وبرکات سے مالامال فرمائے اورآپ کے دامن کرم سے ہم سب کووابستہ رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close