تاریخ اسلام

حق و باطل کی معرکہ آرائی اور نواسہ رسولؐ کا مومنانہ کردار

مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی

(حیدرآباد)

سچ تو یہ ہے کہ واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک کڑوا باب ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان حقائق سے کسی کو بھی انکار نہیں ہوسکتا ابتدائے دنیا سے لیکر آج تک صرف دو باتیں ہی رہیں ہیں، ایک ہے حق اور دوسرا باطل اور ان حق و باطل کی ہر زمانے میں کشمکش چلتی آئی ہے۔

اسی طرح کا ایک واقعہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا اسلامی تاریخ کی حیثیت سے ہمارے سامنے موجود ہے اس طرح ہم غور کریں کہ وہ کیا وجوہات تھیں جن کی بناء پر نواسے رسول حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی جان عزیز کو قربان کردیا مگر باطل طاقت کے سامنے سپر نہیں ڈالا، ہر سال ماہ محرم میں لوگ شہادت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں لیکن ان غمگبار حضرات کی اکثریت اس بات کی جانب توجہ نہیں دیتی کہ وہ کیا بات تھی جس کی بناء￿  پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے نہ صرف اپنی جان عزیز بلکہ اپنے کنبہ کے نو نہالوں کو تک کٹوانا گوارا کرلیا اس تناظرمیں اگر ہم دل کی گہرائیوں کے ساتھ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے پیچھے ایک مقصد عظیم کار فرما تھا جو انہیں اپنی جان سے زیادہ محبوب بن گیا تھا۔ وہ یہ کہ زمین اللہ تبارک تعالیٰ کی ملک ہے اور اس پر حکومت بھی اللہ کے احکام اور اس کے آخری رسول حضرت محمد مصطفی رحمت عالم محسن انسانیت ﷺ کے ارشادات مبارکہ اور آپ کے طریقہ کے عین مطابق قائم رہے اور اس کی باگ ڈور ایسے شخص کے ہاتھ میں ہو جو عوام کا منتخب کردہ ہونا کہ خود جبری طور پر حکومت کی کرسی پر قابض ہوگیا ہو۔

کچھ اس طرح کے حالات آج سے تقریباً چودہ سو برس قبل حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے آئے یعنی خلافت راشدہ کے مبارک و مسعود دور کے ختم کے ساتھ ہی اسلامی دنیا خلافت سے ملوکیت کی طرف منتقل ہورہی تھی یعنی خلافت کی خوبیاں روبہ زوال اور ملوکیت کی خراببیاں وجود پارہی تھیں، مختصر یہ کہ اسلام کی حکمرانی سے انحراف کی کیفیت پائی جانے لگی تھی۔ مثلاً پہلی سہویہ ہوئی کہ تقرر خلیفہ کے دستور میں تبدیلی، خلفاء کے طرز زندگی میں تبدیلی، بیت المال کی حیثیت میں تبدیلی، آزادی اظہار رائے کاخاتمہ، عدلیہ کی آزادی کا خاتمہ، شورائی حکومت کا خاتمہ، نسلی و قومی عصبیتوں کا ظہور وغیرہ وغیرہ

ان حالات کے وقوع پذیر ہونے کے بعد جب یزید لوگوں پر حکمراں کی حیثیت سے مسلط ہوئے تو ریاست اسلامی مزاج (عدل و انصاف) سے نکل کر ایک بادشاہی طرز زندگی اختیار کرنے لگی۔ یعنی جہاں پر اللہ کے حکم اور نبی کریم ﷺکی سنت کے عین مطابق عوام کی خواہشات کا پاس و لحاظ رکھا جاتا تھا اب وہاں پر بادشاہ کی پسند و نا پسند پر عمل درآمد ہونا شروع ہوگیا تھا، جہاں پر خلفاء کی غلطی پر عوام کو یہ حق حاصل تھا کہ اس کی نشاندہی کریں، لیکن اس کی جگہ کسی کو کوئی مجال نہیں کہ بادشاہ کی بڑی سے بڑی غلطی پر اْف کہہ سکے، جہاں پر بیت المال امانت سمجھا جاتا تھا اب بادشاہ اپنی ملک سمجھنے لگا۔

جہاں پر عوام کو کھلے عام اپنی رائے کو ظاہر کرنے کی آزادی تھی وہاں پر لوگوں کی زبانوں پر تالے لگادیئے جانے لگے۔ جہاں پر حکومت کے سارے کام مجلس شوری کے مشوروں سے ہوا کرتے تھے اب وہاں بادشاہ کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا۔ جہاں پر حکومت کے عہدے مساوی طور پر سب کو ملتے تھے اب وہاں پر بادشاہ اپنے قبیلے اور رشتہ داروں کو عہدے دینا شروع کردیئے یہ اور اس قسم کی کئی دوسری باتیں تھیں جو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو سخت ناپسند تھیں اسی لئے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور اس کو حق ماننے سے بھی انکار کردیا۔ الغرض یزید نے اپنی حکومت کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ذریعہ عوام میں حق ثابت کرنے کیلئے نواسہ رسول کا استحصال کرنا چاہا اسی لئے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو یزید کے ہاتھ پر بیعت کرنے کیلئے مجبور کیا گیالیکن حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی جان قربان کردی مگر اسلامی شریعت کے تحفظ کی خاطر باطل طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔ محترم قارئین!! اب ہم تھوڑا غور کریں کہ کیا شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہمارے لئے صرف ایک واقعہ ہے یا اس میں کچھ درس بھی ہے اس کو صرف ایک واقعہ یا حادثہ سمجھ کر ہم یوں ہی سرسری گذر جائیں یا کچھ آنسو بہا لیں ؟ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں جتنے بھی واقعات گذرتے ہیں یہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک نصیحت ہیں یعنی ان واقعات سے انسان کو اپنی راہ متعین کرنے، حق و باطل کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور اسے تجربہ حاصل ہوتا ہے اسی لئے اللہ رب العالمین کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنے کلام میں پچھلی قوموں کے واقعات نقل کرتا ہے یعنی باغی قوموں کا ذکر کرتا ہے اور ان کے انجام کو ظاہر کرتا ہے اور فرمانبردار گروہ کا تذکرہ کرتا ہے اور ان کے بہترین انجام کو واضح کرتا ہے۔ یہ سب اس لئے کہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کیلئے درس بن جائے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو لوگ گذرے ہوئے واقعات پر نظر رکھتے ہیں جنہیں مستقبل سنوارنے کی فکر رہتی ہے اور ایسے ہی لوگ قرآن کی نظر میں ہوش مند لوگ ہیں۔

اس طرح مومن کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ ماضی کے تجربات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حال پر غور کرتا ہے یعنی حالات حاضرہ کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیتا ہے تا کہ مستقبل خوشگوار بن سکے۔ یعنی فلاح آخرت و رضا الہی کا مستحق بن سکے۔

تو لیجئے قارئین!! اب ہم اپنے مستقبل کی فکر کرتے ہوئے حالات حاضرہ پر غور کریں اوریہ دیکھیں کہ واقعہ کربلا میں یا شہادت حسین رضی اللہ عنہ سے ہمیں کیا درس ملتا ہے ؟ مضمون کے ابتداء میں ہی عرض کیا جاچکا کہ دنیا میں شروع ہی سے دو طرح کے گروہ رہے ہیں ایک وہ ہے جس کی اساس حق پر قائم ہے ایک گروہ وہ ہے جس کی بنا باطل پر کھڑی ہے۔ اول الذکر گروہ کی پشت پناہی اللہ تعالیٰ کرتے رہے ہیں۔ اس طرح اللہ کی جماعت اور شیطان ملعون کے ٹولوں کے درمیان ہمیشہ سے ہی معرکہ آرائی ہوتی رہی اور ہمیشہ جیت حق کی ہوئی اور باطل ہر وقت ناکام رہا۔ الغرض ہر حق کو دبانے اور اس کو مٹانے کیلئے بدی کی طاقتیں اٹھ کھڑی ہیں جس کا مشاہدہ ہر با شعور آنکھ کررہی ہے یعنی ہر جگہ فرعونی اور طاغوتی قوتیں اسلام اور اہل اسلام کو مٹانے کیلئے کمر بستہ ہیں۔ خود اپنے ملک کے حالات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ملت اسلامیہ کے ساتھ کیا کچھ ہورہا ہے۔ اب حالات اتنا کچھ نازک موڑ احتیار کرجارہے ہیں کہ ملت اسلامیہ کا مذہبی تشخص خطرے میں پڑ چکا ہے۔ مسلمانوں کو عملی ارتداد میں مبتلا کرنے کی تیاریاں شروع کی جارہی ہیں۔ غرض کہ اہل ایمان کی پوری زندگی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے جڑی ہوئی ہوتی ہے اور اس سلسلہ میں کئی آزمائشوں اور قربانیوں سے گذرنا پڑتا ہے۔ اس آزمائشوں میں پورا اترنے میں سب سے پہلے خود اپنا نفس آڑے آتا ہے۔ جب ایک مومن اس نفس شریر پر قابو پالیتا ہے تو پھر باہر کے شیطانوں سے مقابلہ کرنے کا عزم و حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ آج دنیا میں ہر طرف نمرودی افکار فرعونی نظریات، اور یزیدی اعمال ہورہے ہیں ظلم وبربریت کا ماحول گرم ہے۔ خدا کے ساتھ بغاوت صبح و شام ہورہی ہے۔ ایسے حالات میں اہل ایمان کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی اور آپ کے عمل سے درس حاصل کریں اور دنیا کے سامنے مومنانہ کردار پیش کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں راست رو خلافت یعنی خلافت راشدہ کے دور کے ختم ہونے کے تھوڑے عرصہ بعد سے ہی ان کی اجتماعی زندگی میں بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا جسے آج تک پر نہیں کیا جاسکا۔ یہی وجہ ہے کہ ظہور اسلام سے لے کر خلفائے راشدین کے زمانے تک اسلام جس طرح عروج پارہا تھا ملوکیت کے آغاز کے ساتھ اس کی رفتار سست پڑ گئی اور عام طور پر مسلمانوں کے اندر اس بات کا احساس ختم ہوتا چلا گیا کہ یہ خیر امت بناکر اٹھائے گئے ہیں اور یہ لوگ اس بات کو بھی بھول چکے تھے کہ غلبہ دین کیلئے ان کو جدوجہد کرنا ہے اور اقامت دین کیلئے راہیں ہموار کرنا ہے۔ چونکہ جب بڑے بگڑتے ہیں تو اس کا اثر چھوٹوں پر بھی پڑتا ہے۔ اس لحاظ سے جب سربراہ ملک اپنے فرائض منصبی جن میں امر بالمعروف اور نہی المنکر بھی شامل ہے اس سے غفلت برتیں تو ان حالات میں اندازہ لگایئے کہ عوام الناس کی دینی و اخلاقی حالت کیا ہوکر رہ گئی ہوگی۔

(امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تعطل) کے عنوان سے حضرت مولانا مودودی نور اللہ مرقدہ نے یوں تحریر فرمایا ہے کہ اسلامی ریاست کا مقصد خدا کی زمین میں ان نیکیوں کو قائم کرنا اور فروغ دینا تھا جو خدا کو محبوب ہیں اور ان برائیوں کو دبانا اور مٹانا تھا جو خدا کو نا پسند ہیں۔ مگر انسانی بادشاہت کا راستہ اختیار کرنے کے بعد حکومت کا مقصد فتح ممالک اور تسخیر علائق اور تحصیل باج و خراج اور عیش دنیا کے سواء کچھ نہ رہا۔ خدا کا نام بلند کرنے کی خدمت بادشاہوں نے کم ہی انجام دی۔ ان کے ہاتھوں اور ان کے امراء اور احکام اور درباریوں کے ہاتھوں بھلائیاں کم اور برائیاں زیادہ پھیلیں۔

بھلائیوں کے فروغ اور برائیوں کی روک تھام اور اشاعت دین اور علوم اسلام کی تحقیق و تدوین کیلئے جن اللہ کے بندوں نے کام کیا انہیں حکومتوں سے مدد ملنی تو درکنار اکثر وہ حکمرانوں کے غضب ہی میں گرفتار رہے۔ اور اپنا کام وہ ان کی مزاحمتوں کے اعلی الرغم ہی کرتے رہے۔ ان کی کوششوں کے برعکس حکومتوں اور ان کے حکام وہ متوسلین کی زندگیوں اور پالیسیوں کے اثرات مسلم معاشرے کو پیہم اخلاقی زوال ہی کی طرف لے جاتے رہے۔ حد یہ کہ ان لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر اسلام کی اشاعت میں رکاوٹیں ڈالنے سے دریغ نہ کیا جس کی بدترین مثال بنوامیہ کی حکومت میں نو مسلموں پر جزیہ لگانے کی صورت میں ظاہر ہوئی۔

اسلامی ریاست کی روح، تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیز گاری کی روح تھی جس کا سب سے بڑا مظہر خود ریاست کا سربراہ ہوتا تھا حکومت کے عمال اور قاضی اور سربراہ سپہ سالار سب اس روح سے سرشار ہوتے تھے اور پھراسی روح سے وہ پورے معاشرے کو سرشار کرتے تھے، لیکن بادشاہی کی راہ پڑتے ہی مسلمانوں کی حکومتوں اور ان کے حکمرانوں نے قیصر و کسری کے سے رنگ ڈھنگ اور ٹھاٹھ باٹھ اختیارکرلئے، عدل کی جگہ ظلم وجور کا غلبہ ہوتا چلا گیا پر ہیزگاری کی جگہ فسق و فجور اور راگ رنگ اور عیش و عشرت کا دور دورہ شروع ہوگیا، حرام و حلال کی تمیز سے حکمرانوں کی سیرت و کردار خالی ہوتی چلی گئی سیاست کار شتہ اخلاق سے ٹوٹتا چلا گیا، خدا سے خود ڈرنے کے بجائے حاکم لوگ بندگان خدا کو اپنے آپ سے ڈرانے لگے اور لوگوں کے ایمان و ضمیر بیدار کرنے کی بجائے ان کو اپنی بخششوں کے لالچ سے خریدنے لگے۔ ( حوالہ ترجمان القرآن جولائی1960)

معزز قارئین کرام!! آج کے دور میں مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں جو تنزل پایا جارہا ہے یہ کوئی حادثاتی طور پر ایک دم نہیں ہوا بلکہ نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے طریقہ سے ہٹتے ہوئے جب حکمرانوں نے زمین پر سربراہی شروع کردی تو آہستہ آہستہ حالات کچھ اس طرح بگڑے کے ملت اسلامیہ کا شیرازہ بکھر کر رہ گیا اور اسلامی خلافت کے نہ ہونے کا سب سے خراب نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ دین کے دائرے کو اپنی اپنی فکر و نظر کے تحت محدود کرتے چلے گئے مطلب یہ کہ جس طرح اللہ کے آخری رسول محمد ﷺ نے اللہ کے حکم کے عین مطابق اسلامی سیاست چلائی اور لوگوں کو دین اسلام کا ایک مکمل ترین تصور دیا اور آپ خود نمونے کے طور پر اس پر عمل کر کے دکھایا اور معاشرے پر نافذ فرمایا اور آپ ﷺ کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ علیہم اجمعین نے بھی اس کے عین مطابق خلافت فرمائی اور دین کو ایک مکمل نظام حیات کی حیثیت سے نافذ فرمایا لیکن جب انسانی بادشاہت شروع ہوئی تو اسلامی ریاستیں ان تمام خوبیوں کو کھوتی چلی گئیں جو قرون اولی میں پائی جاتی تھیں اور لوگوں کے اندر سے دین کی جدوجہد اور جذبہ جہاد میں کمی آتی گئی اور آخر کار ایک زمانہ یہ بھی آگیا کہ دین کا ایک محدود تصور لوگوں کے ذہنوں میں اْبھرا اور اسی محدود تصور دین کے ساتھ امت مسلمہ کا ایک بڑا حصہ منسلک ہوگیا جس کے خطرناک نتائج ہمارے سامنے یہ آئے ہیں کہ اللہ کی اس سرزمین کے ایک بڑے حصہ پر نمرودیوں، فرعونیوں اور باغیوں کا قبضہ ہوگیا اور آپس میں یہ متحدہ طور پر کچھ ایسے اصول بنالیئے ہیں جس سے اہل ایمان کو اور اسلام کو جس طرح چاہیں نقصان پہنچاسکیں۔

محدود تصور دین رکھنے والے حضرات کا یہ خیال ہے کہ مسلمانوں کو اور دین کا کام کرنے والوں کو یہ جائز نہیں ہے کہ وہ حکومتی یا سیاسی معاملات میں دخل اندازی کریں، اس طرح کے لوگوں سے یہ سوال کرنے کو جی چاہتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کے مد مقابل جو موقف اختیار کیا تھا وہ خالص دینی تھا یاسیاسی ؟ اگر یہ اپنا جواب دینی تھا میں دیتے ہوں تو انہیں چاہئے کہ اپنے محدود دائرہ کو تھوڑا وسیع کرلیں اور باطل طاقتوں کے خلاف آواز اٹھائیں، اگر ان کا جواب یہ ہو کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا موقف سیاسی تھا تو یہ حضرات اپنے اس جواب سے نعوذ باللہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے موقف کو نا جائز ٹھیراتے ہیں، حالانکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کتاب سنت کی روشنی میں اپنے موقف پر قائم رہے اور اسی کی خاطر اپنی جان کو قربان کردیا۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے موقف کی قرآن بھی تائید کرتا ہے، سورہ آل عمران میں اللہ تبارک تعالیٰ فرماتے ہیں ’’تم وہ بہترین امت ہو جسے لوگوں کی اصلاح و ہدایت کیلئے نکالا گیا ہے تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو‘‘ ایک دوسری جگہ فرمایا یعنی اہل ایمان کی شان یوں بیان کی جارہی ہے کہ ’’نیکی کا حکم دینے والے، بدی سے منع کرنے والے اور حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں (سورہ توبہ ) اس سلسلہ میں نبی کریم ﷺ کے ارشادات یوں آئے ہیں کہ ’’تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے اسے چاہئے کہ اس کو ہاتھ سے بدل دے اگر ایسا نہ کرسکے تو زبان سے روکے اور اگر یہ بھی نہ کرسکے تو دل سے برا سمجھے اور روکنے کی خواہش رکھے اور یہ ایمان کا آخری درجہ ہے۔

ایک دوسری حدیث یوں آئی ہے کہ ’’سب سے افضل جہاد ظالم حکمراں کے سامنے انصاف کی یا حق کی بات کہنا ہے ‘‘ ایک ارشاد نبوی یوں ہے ’’میرے بعد کچھ لوگ حکمراں ہونے و الے ہیں، جو ان کے جھوٹ میں ان کی تائید کرے اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں ‘‘۔

اس سلسلہ کی ایک اور حدیث ملاحظہ فرمایئے ’’ جس نے کسی حاکم کو راضی کرنے کیلئے وہ بات کی جو اس کے رب کو ناراض کردے وہ اللہ کے دین سے نکل گیا ‘‘ محترم قارئین !! ابھی آپ کے سامنے دو آیات کی ترجمانی اور چار احادیث کا ترجمہ پیش کیاگیااس کے مطالعہ سے یہ بات صاف طور پر ظاہر ہورہی ہے کہ بدی کو ہاتھ سے روکنا اور نیکی کا حکم کرنا اہل ایمان کی شان ہے اور آخر میں جو حدیث بیان کی گئی ہے وہ یہ صاف بتا رہی ہے کہ کسی حاکم کو راضی کرنے کیلئے کوئی ایسا عمل اختیار کرنا جو اللہ کو ناراض کرنے کا موجب بنتا ہے وہ شخص دین سے نکل گیا اس طرح اب ہمیں اچھی طرح معلوم ہوگیا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے وقت کے جابر حکمراں کے ساتھ جو بھی معاملہ کیا ہے وہ خالص دین کی بنیاد تھی کیوں کہ سیاست دین سے الگ کسی چیز کا نام نہیں ہے بلکہ دین خود ایک ایسا مکمل طریقہ زندگی ہے جس میں سیاست بھی شامل ہے۔ بقول شاعر مشرق علاقہ اقبال اسوہ حسین رضی اللہ عنہ سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ

ماسوی اللہ را، مسلماں بندہ نیست

پیش فرعونے سرش افگندہ نیست

 یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا مسلمان کسی کا غلام نہیں اور کسی فرعون کے سامنے اس کا سر نہیں جھک سکتا۔ اس طرح ہم شہادت حسین رضی اللہ عنہ سے درس حاصل کرتے ہوئے یہ عزم کریں کہ ہمارا یہ سر کسی غیر خدا کے سامنے نہیں جھکے گا اور نہ ہی ہم کسی فرعونی و طاغوتی طاقتوں کے غلام ہیں اور نہ ہی اللہ کے سواء کسی باطل طاقت کی بالاتری ہم تسلیم کریں گے، حضرت حسین رضی عنہ نے اپنے قول و فعل کے ذریعہ ان اطاعتوں کو صحیح تسلیم کرنے سے انکار فرمادیا جو اللہ کی اطاعت اور نبی ﷺ کے طریقہ سے ہٹانے والی تھیں، کیوں کہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ ساری کائنات کا صرف ایک ہی جائز مالک ہے اور اپنی مخلوق کا ایک ہی جائز حاکم اللہ ہی ہے اس لحاظ سے کسی کو فی الوقع مالکیت اور حاکمیت کا حق ہی نہیں پہنچتا اور نہ ہی کسی کو یہ اختیار ہے کہ خدا کے نازل کردہ اور اس کے رسول ﷺ کے نافد کردہ احکام میں ردوبدل کرے۔ دوسرے یہ کہ حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ باطل چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اظہار حق سے کبھی نہ گھبرائیں اور پر قطر ماحول میں بھی اہل حق کو چاہئے کہ وہ حالات کا پامردی کے ساتھ مقابلہ کریں چاہے معاملہ تحفظ شریعت کاہو یا مذہبی تشخص کا، چاہے اسلام کی بقا و سلامتی کا ہو یا دین و ایمان کا معاملہ، ہر حالات میں استقامت کو برقرار رکھیں لیکن اس کیلئے شرط اول یہ ہے کہ ہم ایمان لانے والے ہی نہیں بلکہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے والے بن جائیں، تب جاکر باطل کے سامنے سپر نہیں ڈالتے بلکہ اپنے خون کے آخری قطرے تک اس کا مقابلہ کرتے ہیں اور موقع آنے پر اپنی جان کی بھی بازی لگادیتے ہیں جس کا عملی ثبوت صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگیوں سے پیش کیا ہے اور خدا کے باغیوں سے زمین کو پاک کیا اور ایک صالح معاشرہ کو وجود میں لایا، علاوہ ازیں نواسہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اسی نقش قدم پر چلتے ہوئے باطل سے نبرد آزما ہوئے اوریہاں تک کہ تحفظ شریعت کی خاطر اپنی جان کی بازی بھی لگادی میں اپنی تحریر کو اس شعر پر ختم کرتا ہوں۔

زندہ حق از قوت شبیری است

باطل آخر داغ حسرت میری است

یعنی حق کی بقاء کا راز قوت شبیر میں مضمر ہے اور باطل کے مقدر میں حسرت و ناکامی کی موت ہے۔ مختصر یہ ہے کہ حق و باطل کی معرکہ آرائی میں مومنانہ کردار ہونا چاہئے وہ ہمیں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ملتا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اسلاف کی مومنانہ زندگی کو احتیار کرنے اور مرتے دم تک قرآن و حدیث پر کامل طریقہ سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close