تاریخ اسلام

سعودی عرب: ماضی، حال اور مستقبل

محمد صادق جمیل تیمی

سعودی عرب روئے زمین کی وہ مقدس و تاریخی مقام ہے جہاں حرمین شریفین پوری دنیا کی امت مسلمہ کے دلوں کی دھڑکن ہے – جسے مہبط وحی، منہل قرآن اور منبع علوم و سنت ہونے کا فخر حاصل ہے -یہ وہ واحد ملک ہے جہاں اسلام کے پورے احکام کا نفاذ ہے، جس کو اسلام کی مکمل بالادستی حاصل ہے -سعودی عرب مملکت کا کل رقبہ 870000مربع میل ہے اور رقبے کے اعتبار سے دنیا کے پندرہ ملکوں میں شمار ہوتا ہے -آبادی تقریباً دو کروڑ پچیس لاکھ نفوس کے لگ بھگ ہے -یہ ملک براعظم ایشیا، افریقہ اور یورپ کے سنگم پر واقع ہے -پچھلے 87/برسوں سے اپنی شاندار روایات و اقدار کے ساتھ رواں دواں ہے -سعد ابن محمد سے لے کر موجودہ حکمران شاہ سلمان تک سبھوں نے سعودی عرب کو ایک فلاحی، رفاہی، تعلیمی و تہذیبی اور ثقافتی مملکت بنانے میں نہ صرف بے لوث قربانیاں پیش کیں بلکہ عرصہ دراز کی جاں کاہی و جگر کاوی کے بعد ایک پر امن و خوشنما اور اسلامی معاشرہ بنانے میں بڑی جراتمندی کا مظاہرہ کیا ہے -یہاں کے فرمانرواوں کے اندر اخوت ایمانی اور رفاہی امور کی انجام دہی کا وہ جذبہ ودیعت کر دی ہے جس کے ذریعہ سے وہ لوگ ہمیشہ باطل کے سامنے سینہ سپر رہے رہے لیکن اسلام کو کوئی آنچ آنے نہ دیے –

موجودہ سعودی حکومت کی جب داغ بیل ڈالی جا رہی تھی تو اس وقت سیاسی اعتبار سے شاہ عبد العزیز ابن عبد الرحمن آل سعود اپنے مخالفین سے ایک عرصے تک سخت نبردآزما ہوتے رہے اور اس جزیرہ کی بکھری پڑی آبادی کو اتحاد کی لڑی میں پرو کر اسلامی اصول پر مبنی ایک اسلامی ریاست کی تشکیل دینے کا ارادہ کیے -جب تمام مخالفین کو اتحاد کی لڑی میں پاٹ دیے تو قرون مفضلہ کے سنہرے نقوش کی پیروی کرتے ہوئے 23/ستمبر 1932ء کو جدید ملک بنام "سعودی عربیہ "کی بنیاد رکھی -(سعودی عرب کی دعوتی و تعلیمی سرگرمیاں اور ان کے اثرات و نتائج: 87)

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ سعودی عرب کے بانی عبد العزیز اپنی پوری عمر ایک جدید اور پرومن ملک کی بنیاد رکھنے میں صرف کی -اس کے بعد شاہ سعود نے 1953ء سے 1964ءتک مسند اقتدار سنبھالی، ان کے بعد شاہ فیصل 1964ء سے 1975ء تک بر سر اقتدار رہے -ان کے بعد شاہ خالد 1982ء تک حکومت کی کرسی پر فائز رہے -ان کے عہد میں تیل کی آمدنی کی راہیں کھل گئیں اور ملک معیشت کے اعتبار سے مضبوط ہوگیا اور دنیا کے طاقتور ترین ملکوں میں شمار ہونے لگا -ان کے انتقال فرمانے کے بعد شاہ فہد بن عبد العزیز نے اقتدار سنبھالی اور 2005ء تک برقرار رہے -ان کی جگہ شاہ عبداللہ نے لی اور 2015ء تک مسند اقتدار پر فائز رہے -ان کے بعد آخر کار زمام حکومت شاہ سلمان کے کاندہوں پر آئ جسے انہوں نے اپنی شبانہ روز کی محنت و مشقت سے جدیدیت کا ایک حسین امتزاج پیدا کر دیا ہے -تمام شہریوں کو مکمل سہولیات فراہم کرنے میں بھی کامیاب ہیں اور شاہ عبداللہ کے ذریعہ تشکیل شدہ منصوبوں پر بھی کام زور و شور سے ہو رہا ہے -یہی نہیں بلکہ تعلیمی امور پر کارہائے نمایاں انجام دینے کے لئے سال 2017ء میں "حدیث کمپلیکس ” کے نام سے ایک ادارہ کا افتتاح کیا جہاں پوری دنیا کے منتخب اساطین علوم و فنون بالخصوص حدیث کے متخصص رجال کی سر کردگی میں علوم حدیث اور اس کے تمام عناصر پر سیر بحث کام کئے جائیں گے.

81سالہ شاہ سلمان اپنی ضعف العمری کو دیکھتے ہوئے 21/جون 2017ء کو ولی عہد محمد بن نائف کو تمام عہدوں سے بر طرف کرتے ہوئے اپنے 31 سالہ صاحبزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد اور وزیر دفاع مقرر کیا اور نائب ولی عہد کا فرمائشی عہدہ کو ختم کر دیا-(ڈان نیوز 6/نومبر 2017)

لگے ہاتھوں یہ بھی بتاتا چلوں کہ پوری دنیا کو یہ مغالطہ ہوگا کہ آخر محمد بن نائف کو ولی عہد سے کیوں ہٹایا گیا ؟جب کہ وہ ایک تجربہ کار، سیاسی گتھیوں کو سلجھانے میں ماہر اور دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرنے والے ہیں -جی! تو یہ کسی اکیلے کا روگ نہیں کہ کسی قسم کی تبدیلی یکایک کر دی جائے بلکہ سعودی بیعت کمیٹی کی معیت میں شاہ سلمان نے ایسا کیا -اس موقع پر محمد بن نائف نے نہ صرف مجلس شوریٰ کے فیصلے کو بخوشی و رضا تسلیم کیا بلکہ سب سے پہلے بیعت انہوں نے کی اور محمد بن سلمان کو دعائیہ کلمات سے نوازے اور مزید آگے فرمایا کہ مجھے یاد ہے کہ "بڑے بڑے جرنیلوں کے باوجود بھی حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم کو سندھ کے راجہ داہر سے مقابلہ کے لئے بھیجا تھا تو محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو شکست و ریخت سے دوچار کیا اور نہایت ہی جرات مندی و بے باکی کے ساتھ اسلام کا پرچم لہرایا، اب اگر ملک نوجوان کی قیادت میں ملک ترقی کرے تو ہمیں بخوشی و رضا منظور ہے "(نوائے وقت لاہور سموار 20/نومبر 2017)

یعنی اب اگلا سعودی بادشاہ اور خادم الحرمین الشریفین محمد بن سلمان بنے گا -اکتیس سالہ محمد کو پوری دنیا میں کم عمری میں وزیر دفاع ہونے کا شرف حاصل ہے، سعودی میں کافی مقبول ہیں، ناچ، گانے اور مشتبہ جگہوں میں نہیں جاتے ہیں -ویژن 2030کا اعلان کا اہم محرک نوجوان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہی ہیں -اب دنیا سعودی بادشاہ کو جدیدیت کے اس دور میں نئے تقاضوں کے ساتھ ہمہ آہنگ پائے گی -اور نئ سعودی نسل کو ایک ایسے قوم کا جیالہ اور نوجواں حکمراں کی تلاش تھی جو ان کے ہمالیاتی خوابوں کی تکمیل کرنے والا ہو، چنانچہ ان لوگوں کو بھی ایک نوجواں و ترقی پسند شخص محمد کی شکل میں مل گیا –

قارئین! لگے ہاتھوں یہ بھی آپ کے باصرہ نواز کر دوں کہ محمد بن سلمان کا وزیر دفاع ہونے کے بعد ہی 4/نومبر 2017 ء کی رات سعودی میں ایک شاہی فرمان کے ذریعہ قائم ہونے والی اینٹی کرپشن کمیٹی نے شاہی خاندان کے گیارہ اہم ترین افراد سمیت درجنوں وزراء اور کاروباری شخصیات کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا اور تمام کو جیل کے کال کوٹھری میں بند کر دیا -گرفتار افراد میں تمام کے تمام اہم ضرور ہیں لیکن ان میں سے شہزادہ ولید بن طلال اور متعب بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں -شہزادہ ولید نے محمد بن سلمان کے خلاف امریکی میڈیا میں کھل کر مخالفت کی خصوصاً ویژن 2030اور سعودی آرامکو کے حصص کے نیویارک اسٹاک ایکسچینج کے ذریعہ فروخت کی مخالفت کرتے ہوئے اس امریکہ کی قومی مفاد قرار دیا (ڈان نیوز: 6/نومبر 2017)جب کہ دوسری طرف محمد بن سلمان کی یہ سب تبدیلیاں امریکہ کے قومی مفاد کے خلاف ہیں-امریکہ روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ "یمن اور قطر میں سعودی ولی عہد کے کارنامے امریکی مفادات کے خلاف اور اس کے لئے خطرے کی گھنٹیاں ہیں "(تسنیم نیوز ایجنسی: جمعرات 7/دسمبر 2017)

حاسدین و شیعوں کے سارے خدشات اور قیاس آرائیاں سوائے جھوٹ کے پلندوں کے کچھ نہیں، کیونکہ پانچ چھ سالوں کی مکمل تیاری و ٹھوس ثبوتوں کے ذریعہ سے کرپشن پر جس طرح ہاتھ ڈالا گیا ہے اسے بدعنوانی و کربشن کے سدباب میں ایک اہم اور قابل تعریف قدم کہا جا سکتا ہے -تاکہ ہر شہری مطمئن رہے اور ظلم و زیادتی سے محفوظ ہو کر پر امن طریقے سے اپنی زندگی کی نیا کو آگے بڑھائیں -بلکہ ایک  اسلامی اور پاک و صاف معاشرہ برسوں کی روایاتی اقدار کے ساتھ اپنے آگے کا سفر کامیابی و کامرانی کے ساتھ طئے کرے –

حقیقت یہی ہے کہ اس طرح فلاحی انسانی معاشرہ کی بنیاد آخر الزماں، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تربیت یافتگان اسلام کے درخشندہ ستارے خلفائے راشدین اور صحابہ کرامؓ نے ساڑھے چودہ سو سال قبل رکھی تھی -آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا تاریخی خطبہ میں بیان فرمایا تھا کہ "لعن رسول اللہ الراشی و المرتشی "(سنن ابی داؤد: 3580،و صححہ الالبانی)

یعنی رشوت لینے والے اور دینے والے دونوں پر رسول کی لعنت ہو -معاشرہ کو بد عنوانی اور کرپشن سے پاک رکھنے کے لئے اسلام کی سی عمل پسندی دنیا کے  کسی مذہب میں نہیں ملتی -اگر معاشرہ کو شعائر اسلام پر استوار کیا جائے تو اس میں کسی بھی  قسم کے جرائم  پنپنے کا کوئ تصور نہیں پایا جائے گا…..کیوں کہ شعائر اسلام سے ڈھلا ہوا معاشرہ ہی شرف انسانیت کا ضامن ہے -اور حقیقت بھی یہی ہے کہ سعودی عرب آج ریاستی قوانین کا عمل دار اور ڈسپلن کا ایک مثالی معاشرہ ہے جو عالمی معاشرے کے لئے مشعل راہ ہے جہاں ہر شہری کسی جبری ماحول میں نہیں بلکہ رضا کارانہ طور پر ملکی قوانین اور ہر شاہی فرمان کی اطاعت کرتے ہیں -بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب تمام مسلم دنیا کے لئے قابل تقلید ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

صادق جمیل تیمی

جامعہ ابن تیمیہ سے 2015میں فارغ التحصیل ہوں۔ صحافت میں خاصی دلچسپی ہے درس و تدریس کے مشغلہ میں منہمک ہوں

متعلقہ

2 تبصرے

  1. سعودی خاندان کا ماضی جدوجہد سے بھرپور اور امت مسلمہ کے وسیع تر مفاد کے تحفظ سے عبارت ہے جس کی آخری کڑی شاہ فیصل شہید تھے۔ اس کے بعد کا سفر زوال آمادہ نظر آتا ہے جس کی انتہا مصری عوام کے مقابلہ میں ایک فوجی ڈکٹیٹر کی مدد اور اسرائیل سے خفیہ ساز باز کے ذریعہ فلسطینی عوام کا سودا۔ مستقبل بہتری کی طرف جائے گا یا بدتری کی طرف اس انحصار موجودہ شہزادہ کے رویے پر ہے۔ اگر انہوں نے مسلم اُمّہ کے مجموعی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے افتراق بین المسلمون کو ایجنڈا بنایا اور امت کی قیادت کے لئے رجب طیب اردگان کی بصیرت اور حوصلے کو پیش نظر رکھا تو کامیابی قدم چومے گی۔ ورنہ سعودی خاندان مشکلات سے دوچار ہوگا اور امت کے درمیان اس کی جو بے توقیری اب تک ہو چکی ہے وہ مزید بڑھے گی ب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close