تاریخ اسلام

سقوط غرناطہ اور امریکہ

عتیق الرحمن

2جنوری1492کادن مسلمانوں کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم باب بند ہونیکا اور یورپینز کی تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ ااس عہد کا نقطہ آغاز ہے جس نے رومن کیتھولک ہسپانیہ کو یورپ سمیت دنیا بھر میں میں نسلی اور قوم پرستانہ جذبات کے تحت اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو آزمانے کا موقع فراہم کیا۔ اس دن پرتگال کی پرتگیزی ملکہ ازابیلا اور اس کے شوہرفاتح بادشاہ فرڈی نینڈ نے اسلامی اندلس کو کیتھولک ہسپانیہ یا سپین میں تبدیل کر دیا۔ آخری مسلمان فرماں روا محمد کو شکست دی جا چکی تھی، غرناطہ کو فرڈینینڈ نے کافی وقت سے محصور کر رکھا تھا مسلمان خوف میں مبتلا تھے کہ نہ جانے اب نیا سلطان ان کی قسمت کے بارے میں کیا فیصلہ کرتا ہے۔

الحمرا کی چابیاں وصول کرنے اور سرنڈر کی دستاویز پر دسخط کرنے خود مسلمان فرماں روا الحمرا کے باہر آیا اور الحمرا میں مقیم شاہی خاندان اور دیگر مسلمان عورتیں اورمرد سہمے ہوئے الحمرا کے درودیوار حسرت بھری نگاہوں سے آخری بار دیکھ رہے تھے۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ اب ہمارا مستقبل کیا ہو گا۔ فرڈینینڈ کے سفیر نے شہر کو مکمل امان دینے کا وعدہ کر رکھا تھا۔ طویل محاصرے کے بعد شہر میں اشیائے خورد و نوش کی شدید قلت تھی۔ ہسپانوی دستے شہر کے محاصرے کو بدستور جاری رکھے ہوئے تھے ایسے میں امیر غرناطہ نے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کر کے خود کو ازابیلا اور فرڈینینڈ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ الحمرا کے باہر کھلے میدان میں سرنڈر کی تقریب ہوئی امیر غرناطہ نے شہر کی چابیاں فرڈی نینڈ کو پیش کیں۔ ایک معاہدے کے تحت شاہی خاندان اور شہریوں کے لئے امان کا اعلان ہوا۔ معاہدے کی دستاویز تیار کی جا چکی تھی امیر غرناطہ نے دستخط کر کے ہمیشہ ہمشہ کے لئے غرناطہ کو فرڈینینڈ کے حوالے کر دیا۔ اور مسلم تاریخ کا ایک سنہری باب ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا۔

فرڈی نینڈ کو طویل جنگوں کے بعد مذید فوجیں درکار تھیں۔ فوجوں کی تلاش ایک اہم کام تھا۔ یہ کام مکمل کرنے کے لئے ازابیلا کے ایک چہیتے سفارشی اور سمندروں کے سفر کے شوقین کو ٹاسک دیا گیا تھا یہ چہیتا سقوط غرناطہ کی اس تقریب میں موجود تھا اور اس دستاویز پر بحیثیت گواہ دستخط کرنے والوں میں بھی شامل تھا۔ ہسپانوی فوجیں سرنڈر کی جس دستاویز کے تحت الحمرا میں فاتحانہ رعونت سے داخل ہوئیں اس دستاویز کے اس گواہ کو ساری دنیا امریکہ دریافت کرنے والے کرسٹوفر کولمبس کے نام سے جانتی ہے۔ اس وقت بھی میڈرڈ (سپین) میں کولمبس اور ملکہ ازابیلا کا مجسمہ موجود ہے۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ کولمبس نے سیر و سیاحت کرتے ہوئے امریکہ دریافت نہیں کیا تھا بلکہ مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لئے فوجیوں کی تلاش میں وہ امریکہ جا ٹپکا تھا۔ اور وہاں کے مقامی باشندوں کو غلام بنا کر زنجیروں میں جکڑ کر یورپ یا دیگر محاذوں پر لانا کولمبس کے فرائض منصبی میں شامل تھا۔

اور وہی امریکہ آج تک امت مسلمہ کے ساتھ مصروف جنگ ہے حتیٰ کے امریکہ کی دریافت بھی مسلمانوں کے خلاف جنگوں کے لئے فوجیوں کی تلاش کی مہم کے دوران ہوئی تھی۔ مسیحی ازابیلا اور فرڈینینڈ نے کولمبس کو ایک شاہی حکم نامے کے تحت اس علاقے کا سربراہ مقرر کر دیا تھا جہاں سے وہ غلاموں کے لشکر بادشاہ سلامت کی خدمت میں بھجے گا۔ کولمبس کی حکمرانی کے لئے اسے جاری ہونے والے شاہی فرمان میں اسے حکم دیا گیا تھا کہ مفتوحہ آبادیوں کو سب سے پہلے رومن کیتھولک عقیدے والے مسیحی ہونے کا حکم دینا اگر وہ رومن کیتھولک عقیدہ اختیار کر لیں تو انہیں امان دینا وگرنہ انہیں غلام بنا لینا اور وہ تمہاری ملکیت ہوں گے۔ خود فرڈینینڈ بھی یہی کرتا تھا اس نے اندلس کے تمام مسلمانوں کو کیتھولک بننے کا حکم دیا اور عدم تعمیل پر انہیں تہہ تیغ کر دیا گیا یا جلاوطن کر دیا گیاکولمبس نے ان ہدایات پر کتنا عمل کیا اورکتنا نہیں یہ الگ بحث ہے مگر یہ سب جانتے ہیں کہ امریکہ کی اصل آبادی کو تہہ تیغ کر دیا گیا تھا کیوں کہ انہوں نے جبرا اس نئے تثلیثی عقیدے کو ماننے سے انکارکر دیا تھا جس عقیدے میں بادشاہ اللہ کی مثل ہو اور اس کے حکم کی آنکھیں بند کر کے تعمیل کرنے سے ہی جنت مل سکتی ہے ایسے لغو عقیدے کو کوئی کیوں کر مانتا۔ البتہ جنہوں نے مان لیا انہیں بھی درجہ دوم کی ہی حیثیت حاصل ہو پائی۔ کولمبس رومن کیتھولک شہنشہاہ کا مقرر کردہ گورنر تھا۔

امریکا کی دریافت کولمبس سے پہلے کی جا چکی تھی کولمبس صرف وہاں انڈینز غلاموں کی تلاش میں گیا تھا اس کو سفرکا خرچہ پانی شاہی دربار سے دیا گیا تھا اور سمندری جہاز اور اس کے عملے سمیت تمام لوگوں کے اخراجات ملکہ ازابیلا نے اٹھائے تھے۔ مشہوریہ کر دیا گیا کہ کولمبس نے امریکہ دریافت کیا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ کولمبس پہلا یورپین نہیں تھا جس نے امریکہ دریافت کیا ہو بلکہ گیارہویں صدی میں امریکہ کا سفر کیا جا چکا تھا۔ اور کولمبس کی پیدائش سے پہلے کے نقشوں میں امریکہ موجود ہے۔ بلکہ قرطبہ میں موجود نقشے میں امریکہ کو ظاہر کیا گیا ہے وہ نقشہ بھی موجود ہے۔ کولمبس صرف ازابیلا کی بحریہ کا ایڈمرل تھا جسے گورنر مقرر کر کے انڈینز کو غلام بنانے پر مامور کیا گیا تھا۔ وہ بد قسمتی سے یا خوش قسمتی سے امریکا جا نکلا۔ اور وہاں اس نے یہ سمجھا کہ وہ غربی ہند میں پہنچ چکا ہے۔ اسی لیئے اس وقت بھی امریکہ کے مشرق میں واقع جزائر کو جزائر غرب الہند (ویسٹ انڈیز) کہتے ہیں۔

 ویسٹ انڈیز کا ہند کے مغرب میں ہونے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ ہند کے بعد اوقیانوس کے بھی انتہائی مغرب میں ہے۔ اورہند یا انڈیا انتہائی مشرق میں ہیں۔ کولمبس ازابیلا کی مہربانی سے فرڈینینڈ سے تعلق بنا کر مدد حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ ٢ جنوری کو سقوط غرناطہ کا واقع ہوا۔ اپریل میں مسلمانوں کو محکوم رکھنے کیلئے غلاموں کی تلاش پر اسے مامور کیا گیا اور اسے سمندری سفر کی تمام سہولیات فراہم کی گئیں۔ اس نے بحیرہ روم سے مغرب میں نکل کر انڈیا تک پہنچنے کی مہم شروع کی اور 12اکتوبر1492کو اس کا جہاز امریکن بندرگاہ سے جا لگا جہاں اس نے ہسپانوی پرچم لہرا کر اپنی گورنری شروع کر دی اور شاہی فرامین یا اپنی صوابدید کے مطابق وہاں کے حالات کو کنٹرول کرتے ہوئے غلام بنانا شروع کئے اور یوں ہسپانوی دربار کو کرائے کے فوجیوں کے ساتھ غلاموں کی وسیع تر فوج میسر آ گئی۔ سینکڑوں ہزاروں امریکیوں کو موت کے گھاٹ اتارا جانے لگا اور لوگوں کو زبردستی رومن کیتھولک بننے پر مجبور کیا جانے لگا۔ ادھر فاتح ہسپانیہ فرڈی نینڈ نے بھی حسب توقع اپنے تمام وعدے جن میں مسلمانوں کو امان دی گئی تھی پس پشت ڈالتے ہوئے مسلمانوں کو پورا اندلس خالی کرنے کا حکم دیا۔ مسلمانوں کی مساجد کو گھوڑوں کے اصطبل بنا دیاگیا۔ کتب خانوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ یورپینز محققین کے مطابق ہسپانیہ کے رومن کیتھولک حکمران نے لاکھ کتابوں کو جلادیا۔

امریکہ کے حوالے سے مسلم دشمنی کا چرچا ہر خاص و عام کی زبان پر ہوتا ہے۔ اگر ماضی کی تاریخ میں جھانکا جائے تو خود امریکہ کی دریافت بھی مسلمانوں کی نسل کشی کیلئے غلاموں کی فوج تلاش کرنے کے دوران ہوئی اور یہ مسلم دشمنی امریکہ کے خمیر کا جزو لاینفک بن چکی ہے۔ اس لیئے اگر مسلم دنیا امریکی تسلط سے نکلنا چاہتی ہے تو اسے غیروں کے ہاتھوں میں اپنا مستقبل دیکر خاموش تماشائی بننے سے کبھی نجات نہیں ملے گی۔ اس وقت دنیا بھر میں جاری امریکی جارحیت کے تانے بانے سقوط غرناطہ کی دستاویز سے ملتے ہیں۔ اگر مسلم حکمران اس تاریخی حقیقت کو غور سے دیکھیں توانہیں معلوم ہو گا کہ ان کے اقتدار کا انحصار نیویارک اور واشنگٹن سے تعلق استوار کرنے میں نہیں بلکہ نیویارک اور واشنگٹن کے مفادات کے تحفظ کرنے میں ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close