تاریخ اسلام

سنی سلطنت عثمانیہ کی طرف سے یورپ کی فتح میں شیعہ ایران کیسے رکاوٹ بنا؟  

سلطنت عثمانیہ کی طرف سے درویشوں اور علویوں پہ ظلم کی اصل حقیقت کیا ہے؟

ڈاکٹر احید حسن

13 ویں صدی عیسوی میں اناطولیہ اور کردستان میں پھیلے مسلح شیعہ گروہ قزلباش کہلاتے تھے جنہوں نے بعد ازاں موجودہ ایران میں صفوی سلطنت کی توسیع میں بڑی مدد دی۔ انہی قزلباشوں کی نسل آج افغانستان، ایران، آذربائیجان، پاکستان، شام اور ترکی تک پھیلی ہوئی ہے۔ پاکستان میں ان کی اکثریت اثنائے عشری شیعہ عقیدے سے تعلق رکھتی ہے۔ پاکستان کے ایک صدر یحیٰی خان بھی قزلباش تھے۔1

چودہویں صدی عیسوی میں ان میں سے کئ شیعہ صوفیوں کے روپ میں سلطنت عثمانیہ کے علاقے اناطولیہ( موجودہ ترکی) میں شیعت پھیلانے کے لیے سرگرم تھے جن میں سے ایک سید رستم نامی ایک شیعہ درویش بھی تھا جس کو مقامی عثمانی افسران نے سلطنت عثمانیہ کے علاقے سے نکال دیا۔ عثمانی چونکہ راسخ العقیدہ سنی مسلمان تھے۔ اس لیے انہوں نے جہاں یورپ سے صدیوں جہاد کیا وہاں اپنی سلطنت میں گمراہ فرقوں کا تعاقب بھی جاری رکھا جس میں سے ایک گمراہ علماء، گمراہ درویشوں پہ نظر رکھنا بھی شامل تھی جو تصوف کے روپ میں سلطنت کی مذہبی بنیادوں پہ حملہ  آور ہو رہے تھے۔

ان شیعہ درویشوں کی سرپرستی میں سلطنت عثمانیہ کے علاقے میں قزلباش شیعوں نے بار بار بغاوت کی تاکہ یورپ سے جہاد کرنے والی سنی سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کرکے ایران اور ازرباییجان کی طرح یہاں بھی تلوار کے زور پہ شریعت نافذ کی جا سکے لیکن عثمانی سلاطین نے ان کی ہر بغاوت اور سازش کو ناکام بنا دیا۔ان گمراہ صوفیوں میں سے ایک شیخ بدر الدین بھی تھا جس نے دعوٰی کیا تھا کہ میں مہدی ہوں اور خدا نے مجھے دنیا کی اصلاح کے لیے بھیجا ہے۔ اس نے 1416ء میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کی جس پہ اسے سلطان محمد اول کے حکم پہ قتل کر دیا گیا تھا۔

سلطنت عثمانیہ میں موجود قزلباش شیعہ بار بار سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کرتے رہے اور یہ سلسلہ سلطنت کے اختتام تک جاری رہا جس پہ مختلف عثمانی سلاطین نے ان کی بغاوتوں کو سختی سے کچلا۔

1826ء عیسوی میں ینی چری اور بکتاشی سلسلے کے لوگ عثمانی سلطان کی سرکوبی کا نشانہ بنے، کیونکہ وہ انہوں نے حد سے زیادہ قوت جمع کر لی تھی اور باغی ینی چری فوج کا ساتھ دے رہے تھے۔

حروفیہ ایک صوفی فرقہ ہے جس کی ابتدا آٹھویں صدی ہجری/چودہویں صدی عیسوی میں ایران میں ہوئی۔ اس فرقے کا بانی فضل اللہ استرابادی تھا جس کو تیمور کے بیٹے میران شاہ نے قتل کر دیا تھا۔ بعد میں حروفیوں میں کئ گمراہ عقائد پیدا ہوگئے۔ابتدا میں حروفیوں کی ایک الگ تنظیم تھی اور ان کی اپنی رسوم اور نمازیں تھیں۔ مثلا اذان میں ایسے کلمات شامل تھے :”اشهدان لا اله الا۔ ف۔ء۔ہ۔ میں گوائی دیتا ہوں کہ ف۔ء۔ہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ "اشهدان آدم خليفة الله“، میں گواہی دیتا ہوں کہ آدم اللہ کا نائب ہے۔فضل اللہ کے قتل کی جگہ کا حج ذوالقعدہ کے مہینے میں کیا جاتا تھا۔ مقتل کے دروازے کا اٹھائیس مرتبہ طواف کرنے کے بعد حرونی دنیا کے مشرق و مغرب کے چالیس عارفانِ حق کے نام لیتے ہیں۔ دریا کے مجری میں اتر کر تین مرتبہ پانی لیتے ہیں اور پھر انہیں آگ میں ڈال دیتے ہیں جو شیطان کا منبع ہے۔ یہ عمل کرتے وقت ان کا منہ میران شاہ کے قلعے کی طرف ہوتا ہے اور زبان سے ’ملعون و بدکار‘ کے الفاظ ادا کرتے ہیں۔2

ان لوگوں نے سلطان محمد خان فاتح کو بھی اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کی۔ سلطان نے ان کی بات توجہ سے سنی اور ان پہ یہ ظاہر کیا کہ وہ ان کے گمراہ عقائد میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن اس نے بعد ازاں ایک عالم فخر الدین اعجمی کو ان سے مباحثے کے لیے بلایا جس سے سلطان پہ ان کے گمراہانہ عقائد واضح ہوگئے اور اس نے ان کے قتل کا حکم دیا۔ کچھ کے مطابق سلطان نے ان کے اس وقت کے سربراہ کو زندہ آگ میں جلا دیا تھا لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

سلطان محمد فاتح نے قزلباش مسلح شیعوں کے خود مختار علاقے کرامان پہ بھی سلطنت عثمانیہ کا تصرف قائم کیا اور ان کو بغاوت اور شیعہ عقائد کی ترویج کے جرم میں سلطنت کے رومی علاقوں کی طرف جلا وطن کر دیا۔

جب 1488ء میں قزلباش صفوی شیعوں کا سربراہ اور اسماعیل شاہ صفوی کا والد ازرباییجان اور داغستان کے علاقوں پہ حملے اور لوٹ مار کے دوران قتل ہوا تو سلطان بایزید دوم نے اس پہ خوشی کا اظہار کیا کیوں کہ شیخ حیدر کے پیروکار اس کو خدائی شخصیت سمجھتے تھے اور سلطان ان کو گمراہ سمجھتا تھا۔1492ء میں ان کے ایک درویش نے سلطان کو قتل کرنے کی کوشش کی جس پہ سلطان نے ترکی سے ایران جانے والے قزلباش کو قتل کرنے کا حکم دیا کیونکہ سلطان کو اناطولیہ کے مختلف حصوں میں ان کی طرف سے بار بار بغاوت کا سامنا تھا اور سلطان نے ان کے باقی ماندہ افراد کو سلطنت عثمانیہ کے یورپی علاقوں کی طرف جلا وطن کر دیا۔

اسماعیل صفوی سے ایران کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے جسے ایران کا شیعی دور کہا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل ایران میں اکثریت سنی حکمران خاندانوں کی رہی تھی اور سرکاری مذہب بھی اہل سنت کا تھا لیکن شاہ اسماعیل نے تبریز پر قبضہ کرنے کے بعد شیعیت کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دیا اور اصحاب رسول پر تبرا کرنا شروع کر دیا۔ اس وقت تبریز کی دو تہائی آبادی سنی تھی اور شیعہ اقلیت میں تھے۔

شاہ اسماعیل صفوی نے صرف یہی نہیں کیا کہ شیعیت کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دیا بلکہ اس نے شیعیت کو پھیلانے میں تشدد اور بدترین تعصب کا بھی ثبوت دیا۔ لوگوں کو شیعیت قبول کرنے پرمجبور کیا گیا، بکثرت علما قتل کر دیے گئے جس کی وجہ سے ہزار ہا لوگوں نے ایران چھوڑدیا۔ شاہ اسماعیل کی فوج "قزلباش” کہلاتی تھی۔

مصر سے نمٹنے کے بعد سلیم نے ایران کی صفوی سلطنت کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور شاہ اسماعیل اول کو جنگ چالدران میں بدترین شکست دی اور صفویوں کے دار الحکومت تبریز پر بھی قبضہ کر لیا تاہم اس نے قدرت پانے کے باوجود ایران کو اپنی سلطنت میں شامل نہیں کیا۔ سلیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اہل تشیع سے شدید نفرت کرتا تھا اور ایران میں اہل تشیع کی اکثریت کو ایران پر قبضہ نہ کرنے کی اہم ترین وجہ سمجھا جاتا ہے۔اس نے اپنی سلطنت میں موجود چالیس ہزار شیعہ باغیوں کو قتل کرا دیا جو خفیہ معلومات کے مطابق اسماعیل شاہ صفوی کے اکسانے پہ سلطان کے خلاف بغاوت کی تیاری کر رہے تھے لیکن تاریخی ذرائع چالیس ہزار کے عدد کی مکمل تصدیق نہیں کرتے۔

کثرت سے شراب نوشی کرنے کی وجہ سے اسماعیل شاہ صفوی نے محض چھتیس سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر چالدران کی جنگ میں عثمانیوں کو شکست ہو جاتی تو شاہ اسماعیل صفوی ایک فاتح کے طور پر امیر تیمور سے بھی بڑا نام ہوتا اور نہ صرف یہ کہ ایران بلکہ پورا مشرق وسطی آج شیعہ مسلک کا پیروکار ہوتا۔

سلطان سلیم یاؤز کے جانشین سلطان سلیمان ذی شان اور دیگر سلاطین عثمانیہ، شاہ طہماسپ صفوی، عباس صفوی اور دیگر ایرانی بادشاہوں کو چالدران جیسی شکست دینے میں ناکام رہے۔ جنگوں کا سلسلہ چلتا رہا۔ دونوں سلطنتوں میں پہلا بڑا معاہدہ امن 1555 میں سلطان سلیمان ذی شان اور شاہ طہماسپ صفوی میں معاہدہ آسماسیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سنہ 1639 میں ہونے والے قصر شیریں کے معاہدے نے آسماسیہ کے معاہدے کو مزید مضبوط کیا۔

ان معاہدوں کی ایک اہم شق، جسے سنی عثمانیوں کی ایک بڑی فتح اور شیعہ صفویوں کے لئے کافی ذلت آمیز شق تسلیم کیا جاتا ہے، وہ یہ تھی کہ صفوی سلطنت میں حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت عائشہؓ اور دیگر صحابہ پر تبرا بازی پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ صفوی سلطنت خود کو ایک انتہا پسند شیعہ سلطنت کے طور پر پیش کرتی تھی اور یہ شق ان کے لئے اپنے عقیدے پر خود ہی پابندی تسلیم کرنے کے مترادف سمجھی جاتی تھی۔ بعد کے تمام عثمانی و صفوی معاہدوں میں بھی یہ شق شامل رہی۔3

صفویوں کا سب سے بڑا کارنامہ ایران میں فوجی حکومت کا قیام بتایا جاتا ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے ایران کی سنی آبادی کو جس طرح بزور شمشیر شیعہ بنایا اور علما کو قتل کرایا وہ تاریخ اسلام کا ایک کریہہ باب ہے۔ ایران میں شیعیت کے فروغ نے اور اس معاملے میں ایرانیوں کے غلو اور تعصب نے ایران کو باقی اسلامی دنیا سے کاٹ دیا اور اپنے پڑوسیوں کو بھی اپنا دشمن بنالیا۔ اسلامی دنیا سے کٹ جانے سے ایران کو سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ایرانیوں کی تخلیقی قوتوں کے اظہار کے راستے بند ہو گئے اور ایران باقی اسلامی دنیا کے افکار سے پہلے کی طرح استفادہ کرنے سے محروم ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جو ایران قبول اسلام کے بعد سے تیموری دور تک عالمی اسلام کے بہترین دماغ پیدا کرتا رہا اسی ایران کی سرزمین عہد صفوی میں اہل علم و کمال کے لیے بنجر ہو گئی۔ اس کے بر خلاف بر صغیر کے تیموری سلاطین نے رواداری اور وسعت قلبی کا ثبوت دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایران کے صاحب کمال ہندوستان کا رخ کرنے لگے اور تیموری مملکت میں علم و ادب کو غیر معمولی فروغ ملا۔ ایران میں متعصب شیعی حکومت قائم ہونے کی وجہ سے اسلامی دنیا بھی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ برصغیر اور ترکستان کا دنیائے عرب اور ترکی سے روایتی تعلق بڑی حد تک ختم ہو گیا اور مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق کی طرف علوم و افکار کی منتقلی میں رکاوٹیں پڑگئیں۔4

سلطنت عثمانیہ کے خلاف شیعہ صفوی سلطنت نے یورپ سے معاہدہ کر رکھا تھا جس کو تاریخ میں صفوی ہیبسبرگ معاہدہ یا Safvid Habsburg agreement کہتے ہیں۔ اس طرح شیعہ ایران کی طرف سے سلطنت عثمانیہ کے خلاف یورپ کا ساتھ سلطنت عثمانیہ کی طرف سے یورپ کی مکمل فتح اور اس کے ایک اسلامی براعظم میں تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔5

اگر شیعوں اور شیعہ صفوی سلطنت کی طرف سے سلطنت عثمانیہ کی مشرقی سرحد محفوظ ہوتی اور شیعہ سلطنت عثمانیہ کی یورپ سے جنگ کی صورت میں اس کے مشرقی سرحد پہ حملہ کرنے کا معاہدہ نہ کر چکے ہوتے تو آج پورا یورپ سلطنت عثمانیہ کے ہاتھ میں ہوتا۔ یورپ کی تقدیر ہی اور ہوتی لیکن جب بھی عثمانی سلاطین مغرب میں یورپ کے خلاف جہاد کا آغاز کرتے پیچھے سے ایرانی آستین کے سانپ حملہ کر دیتے۔ اس طرح وہ یورپ جو ایک تہائی سلطنت عثمانیہ کے قبضے میں آچکا تھا مکمل فتح ہوتے ہوتے رہ گیا اور اس کی جگہ یورپ نے مسلمان ملک فتح کر لیے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور اس کا ذمہ دار کون ہے خود جان لیجئے۔

حوالہ جات:

1:https://ur.m.wikipedia.org/wiki/قزلباش

2:https://ur.m.wikipedia.org/wiki/حروفیہ

3:http://www.humsub.com.pk/32169/adnan-khan-kakar-266/?print=print

4:https://ur.m.wikipedia.org/wiki/صفوی_سلطنت

5:https://en.m.wikipedia.org/wiki/Habsburg%E2%80%93Persian_allia

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. – عنوان میں "سنی” "شیعہ” کے الفاظ غلط فہمی پیدا کرسکتیں ہیں۔اگر ایران کی حکومت نے عثمانی سلطنت کا ساتھ نھی دیا، یا پھر یورپ کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کیئے تو یہ تصرف کو محض ایک سیاسی تدبیر کے نظر سے کیا ہم نھی دیکھ سکتیں ہیں ؟
    ہندوستان کے مغلوں کی (anti-Ottoman policies) کا بھلا کوئی انکار کر سکتا ہے؟پھر کیا یہ مغل حکومت شیعہ تھی؟
    جزیرہ عرب کے عربوں نے ،عثمانی خلافت کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے میں یورپ کا ساتھ دیا۔ کیا یہ عرب شیعہ تہے؟
    – جب مسئلہ سنی ، شیعہ کانھی ہے – تو پھر اس موضوع کا عنوان صراحتا غلط ہوا۔ اور اس کے نتائج پر اعتماد کرنا دوسری غلطی ہوگی۔

متعلقہ

Close