تاریخ اسلام

شہادت : یہ رتبہ ٔبلند ملا جس کو مل گیا

مفتی محمد صادق حسین قاسمی کریم نگری

   دین کی سربلندی اور خدا ورسول کی تعلیمات کو زندہ رکھنے کے لئے مال ومتاع کی قربانیوں ،وطن اور اہل وعیال کے فراق کے ساتھ اپنی حیات عزیزکو اور جا ن کو قربان کردینا بہت ہی اور نچا مقام و مرتبہ رکھتا ہے ،تن من کی بازی لگاکر اور کفن بردوش ہو کر میدان جہاد میں جام ِ شہادت نوش کرنا نہایت سعادت اور خوش نصیبی کا زینہ ہے ،راہ خدا میں قربان ہو نے والا مرتا نہیں ہے بلکہ ابدی حیات اور دائمی سرخروی سے بہرورہوجاتا ہے ،زندہ جاوید ہوکر انسانوں کے لئے نشان عبرت بن جاتاہے ،شہادت اور شہید کا قرآن وحدیث میں بہت بلند مقام ومرتبہ بیان کیا گیا ،اور خدا ورسول کی نظر میں وہ انتہائی معزز ومکرم ہوجاتا ہے ،شہادت کی بے شمار فضیلتیں خود قرآن میں بیان کی گئی اور نبی کریم ﷺ نے ان کے مقام کی رفعت اور شان و عظمت کو مختلف احادیث میں اجاگر کیا ۔ان کوپیش ِ نظر رکھا جائے تو پھر شہید کی قسمت پر انسان افسوس والم اور غم و ماتم نہیں کرے گابلکہ رشک و حسر ت کرے گا کہ یہ رتبہ بلند جو کو ملنا تھا ملا ہر مدعی کے لئے یہ دار و رسن کہاں ۔

شہادت کی عظمت:

 قرآن وحدیث میں شہادت کی عظمت کو اور فضیلت کو جابجا بیان کیا گیا اور اس کی اہمیت کو واضح کیا گیاکہ یہ کتنی بڑی اور عظیم سعادت ہے اور انسان کو کس بلندی پر فائز کردیتی ہے ۔مومن کی زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ اس کی جان و مال کو اللہ تعالی نے جنت کے عوض خرید لی ہے ،قرآن کریم میں اللہ تعالی فرمایا :ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسہم و اموالہم بان لہم الجنۃ  یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون و یقتلون  وعدا علیہ حقا فی التوارۃ والانجیل و القران  ومن اوفی بعہد ہ من اللہ فاستبشروا ببیعکم الذی بایعتم بہ  وذلک ہو الفوز العظیم۔( التوبۃ :۱۱۱)واقعہ یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بات بدلے خرید لئے ہیں کہ جنت انہی کی ہے ۔وہ اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہیں ،جس کے نتیجہ میں مارے جاتے ہیں ،اور مرتے ہیں ۔یہ ایک سچا وعدہ ہے جس کی ذمہ داری اللہ نے تورات اور انجیل میں بھی لی ہے ،اور قرآن میں بھی ۔اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہو؟لہذا اپنے اس سودے پر خوشی مناؤجو تم نے اللہ سے کرلیا ہے ۔اور یہی بڑی زبردست کامیابی ہے ۔ایک جگہ فرمایاکہ:ولئن قتلتم فی سبیل اللہ او متم لمغفرۃ من اللہ ورحمۃ خیر مما یجمعون۔( ال عمران:۱۵۷)اور اگر تم اللہ کے راستے میں قتل ہوجاؤیا مرجاؤ ،تب بھی اللہ کی طرف سے ملنے والی رحمت اور مغفرت ان چیزوں سے کہیں بہتر ہے جو یہ جمع کررہے ہیں ۔شہادت کی موت کو حیات ابدی سے تعبیر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا :جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوں ان کو مردہ نہ کہو ۔دراصل وہ زندہ ہیں ،مگر تم کو ( ان کی زندگی کا) احساس نہیں ہوتا۔( البقرۃ :۱۵۴)

دوسری جگہ مزید تاکید کے طور پر بیان فرمایا :اور( اے پیغمبر!) جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ہیں ،انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا ،بلکہ وہ زندہ ہیں ،انہیں اپنے رب کے پاس سے رزق ملتا ہے ۔( ال عمران:۱۶۹)اس کے علاوہ دیگر آیتوں میں بھی شہادت کی عظمت کو بیان کیا ،اور نبی کریم ﷺ نے بھی اس کی فضیلت و رفعت کو ظاہر کیا ۔نبی ﷺ نے فرمایا کہ :جو شخص بھی فوت ہوتاہے اللہ تعالی کے یہاں اس کو اتنی خیر ملتی ہے کہ وہ پسند نہیں کرتا کہ دنیا کی طرف لوٹ جائے اور اس کودنیاومافیہامل جائے مگر شہید کیوں کہ اس فضیلت کو دیکھ چکا ہوگا اس لئے وہ تمنا کرے گا کہ پھر لوٹ کر دوسری مرتبہ شہید ہو۔( مسلم:رقم الحدیث :۳۴۹۵)بعض روایات میں عشر مرات ( دس مرتبہ ) کا ذکر بھی ہے ۔( بخاری رقم الحدیث:۲۶۲۹)یہ دس کا عدد بھی اکثری ہے مطلب یہ ہے کہ دنیا میں باربار لوٹے اور اللہ کی راہ میں باربا ر قتل ہو۔( فضائل شہادت:۹۶)شہادت کی موت پر شہید کو لذت اور کیفیت ملتی ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا :عضۃ نملۃ اشد علی الشہید من مس السلاح ،بل ھی اشہی عندہ من شراب ماء بارد لذیذ فی یوم ضنائف۔( الاحادیث المختارۃ :۳۶۹۱)شہید پر چیونٹی کا کاٹنا ہتھیار کی ضرب سے زیادہ تکلیف دہ ہے ،بلکہ یہ تکلیف شہید کو سخت گرمی کے دن میں ٹھنڈے پانی کے پینے سے زیادہ لذیذ ہے ۔اسی طرح ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ کے یہاں سب سے محبوب قطرہ آنسو کا وہ قطرہ ہے جو اللہ کی خشیت سے گرتا ہے ،اور ایک وہ جو اللہ کے راستے میں خون کا قطرہ گرتا ہے۔(شعب الایمان للبیہقی:۷۸۱۵)اور بھی احادیث میں شہادت کی عظمت و اہمیت کو نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا۔

شہید کا مقام:

راہ خدا میں جان قربان کرنا بھی عظیم ہے اور قربانی دینے والے کا بھی مقام و مرتبہ بہت اعلی و ارفع ہے ۔رسول اللہ ﷺ نے شہید کے مقام ِ بلند کو مختلف احادیث میں بیان فرمایا۔ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا :سب سے افضل شہدا ء وہ ہیں جو جہاد کی پہلی صف میں شامل ہوکر لڑتے ہیں اور وہ اس وقت تک نہیں ہٹتے جب تک کہ مارے نہ جائیں یہی لوگ ہیں جو جنت کے بالاخانوں میں عیش و عشرت کے ساتھ رہیں گے ان کو ان کا رب دیکھ کر ہنسے گا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جب آپ کا رب کسی بندے پر کسی بھی موقع پر ہنس دے تو اس کا حساب کتا ب نہیں ہوگا۔(مصنف ابن ابی شیبہ ، رقم الحدیث:۱۸۷۹۰)شہید کوملنے والے عظیم انعامات اور خصوصی نوازشات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :شہید کی خون کی پہلی دھار کے اچھلتے ہی بخشش کردی جاتی ہے ، اس کی دو روحوں سے شادی کردی جاتی ہے ،اس کے گھر کے ستر شخصوں کے متعلق سفارش قبول کی جاتی ہے ۔۔۔(معجم الاوسط للطبرانی،رقم الحدیث:۳۴۰۷)ایک روایت میں فرمایا : اللہ تعالی کے یہاں سات انعامات ہیں :(۱)خون کی دھار بہتے ہی اس کی مغفرت کردی جاتی ہے ،(۲)وہ اپنا ٹھکانہ جنت میں دیکھ لیتا ہے،(۳)اس کو ایمان کی پوشاک پہنائی جاتی ہے ،(۴)حور عین میں بہترعورتوں سے اس کی شادی کردی جاتی ہے ،(۵)عذاب قبر سے محفوظ کردیا جاتا ہے،(۶)بڑی گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا،(۷)اس کے سرپر وقار کا تاج سجایا جاتا ہے اس تاج کا ہر یاقوت دنیا ومافیھا سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے اور اس کے گھر کے ستر انسانوں سے متعلق شفاعت قبول کی جاتی ہے ۔(الجہاد لابن ابی عاصم :۱۶۵)

تمنائے شہادت:

 شہادت ایک عظیم مقام ہے اور سعادت خوش نصیبی کا زینہ ہے ،اس کی تمنا خود سرور دوعالم ﷺ نے کی تھی ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا :لوددت ان اقتل فی سبیل اللہ ، ثم احی ،،ثم اقتل ،ثم احی ،ثم اقتل ثم احی ۔کہ میرا جی  چاہتا کہ میں اللہ کے راستہ میں مارا جاؤں ،پھر زندہ کیا جاؤں ،پھر مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ،پھر مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ۔(بخاری؛حدیث نمبر:۲۶۰۱)سیدنا حضرت عمر ؓ نے اللہ تعالی دعا کی تھی:اللہم الرزقنی شہادۃ فی سبیلک ،واجعل موتی فی بدلک رسولک۔( بخاری؛حدیث نمبر:۱۷۶۶)  اے اللہ ! اپنے راستہ میں شہادت کی موت نصیب فرمااور اپنے رسول ﷺ کے شہر میں موت نصیب فرما۔حضرت خالد بن ولید ؓ جن کی زندگی کا بیشتر حصہ میدان جہاد میں گذرا ،اسلام لانے کے بعد بڑے بڑے معرکے لڑے ،اور دشمنوں کا ناکام کیا ،جب آخری عمر میں بستر ِ مرگ پر پڑے ہوئے تھے ،ایک صاحب آپ سے ملاقات کے لئے آئے آپ ؓ نے بڑی حسرت ساتھ کہا:میں نے بہت سی جنگوں میں شرکت کی ،میرے جسم پر بالشت بھر نہیں ایسی نہیں جہاں تیر و نیزہ نہ لگا ہو۔۔۔میں ہر جنگ میں یہ آرزو لے کر دشمنوں کی صفوں میں دور تک گھستا چلاجاتا رہا کہ شہادت کی موت نصیب ہوجائے ،مگر آج نے بسی سے بستر مرگ پردراز یہ حسرت دل میں دنیا سے رخصت ہونے کے انتظار میں پڑا ہوں ۔دوست نے جواب دیا آپ کو لسان ِ نبوت سے سیف اللہ کہلانے کی سعادت نصیب ہوچکی ہے ،پھر اللہ کی تلوار کو کسی دشمن کی تلوار سے کیسے گزند پہنچ سکتا تھا۔(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ:۲/۱۰۰۔۔حیات ِسیف اللہ ؓ: ۱۶۳)

حضرات ِ صحابہ کرام غزوہ ٔ احد کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں ،عمر و بن جموحؓ کے تین بیٹے بھی خوشی مسرت سے جہاد کی تیاریوں میں مصروف ہیں ،صبح وشام اسی فکر میں گھر آتے جاتے۔عمرو نے دیکھا تو آپ کے دل میں بھی جہاد میں شریک ہونے کی آرزو پیدا ہوگئی،بیٹوں نے فرمایا کہ : اباّ جان! آپ کی عمر بھی کافی ہوچکی ہے اور لنگڑے پن کی وجہ سے اللہ تعالی نے معذور قرار دیا ہے اس لئے آپ شریک مت ہوئیے۔حضرت عمرو بن جموح کو بیٹوں کی اس خیر خواہی پربہت غصہ آیا ،اور سیدھے سرور ِ دو عالم ؐکی خدمت میں حاضر ہوئے،اور سب کچھ عرض کردیا،اور کہا کہ یا رسول اللہ !میں اسی لنگڑے پن سے جنت میں جانا چاہتا ہوں ۔نبی کریم ﷺ نے ایک سچے مومن کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے اجازت مرحمت فرمادی،اب یہ خوشی خوشی گھر آئے،اور جہاد کی تیاری شروع فرمادی،اور جب رخصت ہونے کا وقت آیا تو اپنی بیو ی کو وداع کیا جیسے کوئی ہمیشہ کے لئے کسی سے رخصت ہوتا ہو اس انداز میں ،اور دعا مانگی:   اللہم ارزقنی الشہادۃ ولا تردنی الی اہلی خائبا۔(ائے اللہ مجھے شہادت نصیب فرمایا،اور نامراد واپس گھر والوں کی طرف مت لوٹا)۔اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی ،اور یہ میدان جہاد میں اپنے نبی ؐ کے دفاع کے لئے کود پڑے،اور پڑے شوق وجذبات میں کہہ رہے تھے کہ میں جنت کا مشتاق ہوں ، یہاں تک کہ اپنے بیٹے کے ساتھ جامِ شہادت نوش کیا۔(صور من حیاۃ الصحابۃ:۸۱)

 غزوۂ احد ہی کے موقع پر حضرت عبد اللہ بن جحشؓاور حضرت سعدبن ابی وقاصؓ قریب ہی کھڑے تھے،دونوں نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے دعا مانگی،اور ایک کی دعا پر دوسر ے نے آمین کہی،حضرت سعد نے فرمایاکہ ائے اللہ! کل جب میدان ِ کار زار گرم ہوتومیرامقابلہ ایک طاقت ور بہادر سے کروانا،وہ مجھ پر حملہ کرے اور میں اس کو تیر ے راستہ میں قتل کردوں ،اور اس کی غنیمت حاصل کرلوں ،عبداللہ ؓ نے آمین کہی،اب عبد اللہؓ کا نمبر تھا،انہوں نے ہاتھ اٹھائے اور کہا کہ ،ائے اللہ! میرا مقابلہ کل ایک سخت حملہ آور سے کرانا،وہ مجھ پر حملہ کرے،اور مجھے قتل کردے،اور میرے ناک کان کاٹ ڈالے،جب قیامت کے میدان میں میں کھڑا ہوں اور آپ فرمائے کہ عبداللہ تیرا یہ حال کیوں ہوا ؟تو میں کہ سکوں کہ تیرے اور تیرے رسول ؐ کے راستہ میں ہوا،تو آپ کہے کہ ہاں تو سچ کہتا ہے میرے راستہ میں تیرا یہ حال ہوا،سعد نے آمین کہی اور کہا کہ یہ دعا میری دعا سے بہتر ہے،دونوں کی دعائیں قبول ہوئیں ،جب معرکہ ختم ہوا تو سعد ؓ

نے دیکھا کہ حضرت سعد کے کان ،ناک ایک تاگے میں پروئے ہوئے ہیں ۔(حکایات ِ صحابہ:۷۴)ایسے سیکڑوں واقعات ہیں جس سے ان حضرات کا شوقِ شہادت معلوم ہوتا ہے ،وہ زندگی کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کو عظیم سعادت سمجھتے ،اور جب بھی دین کے لئے تقاضا ہوتا ،جانوں کوہاتھ میں لے کر میدان میں کود پڑتے اور ابدی سعادت سے ہمکنار ہوجاتے ۔

شہادت ِ حسین ؓ :

 شہادت اور باوفا شہیدوں کا جب تذکرہ چھیڑا تو راہِ وفا میں قربانی دینے والے اور جان جانِ آفریں کے سپرد کرکے سرخرو ہونے والوں میں نواسہ ٔ رسول ،جگر گوشہ ٔ بتول سیدنا حضرت حسین ؓ کی شہادت کا مختصر ذکر کرتے چلیں جس نے اپنے خاندان کے ساتھ میدانِ کربلا میں لازوال ،المنا ک او رقیامت خیز شہادت پائی اور شہدان ِ باوفا کی ایک تاریخ رقم کی۔، چناں چہ عاشورہ ٔ محرم ۶۱ ھ کو اپنے ۷۲ وفاداروں کے ساتھ حضرت حسین جامِ شہادت نوش فرمایا۔( البدایہ والنہایہ:۱۱/۵۶۹)حضرت حسین ؓ کی شہادت بلاشبہ تاریخ کی نہایت کی المناک اور درد انگیز شہادت ہے ،ظالموں نے بڑی بے دردی کے ساتھ خاندان ِ رسول ﷺ کے مبارک کو بہایا ،اور خاک وخون میں تڑپا ،لیکن سیدنا حسین کی استقامت و عزیمت کہ آپ ؓ نے سب کچھ قربان کردیا مگر اپنے موقف پر قائم رہے ۔

مقام عبرت:

  شہادت کی موت بہت ہی مبارک موت ہوتی ہے ،اور خود قرآن کی تصریح کے مطابق شہید مرتا نہیں بلکہ زندہ ٔ جاوید ہوجاتا ہے ،انعامات ِ الہی اس پر ہوتے ہیں ،پروردگار کی خصوصی نوازشوں کے سایہ میں ہوتا ہے ،اورشہادت پانے والا حقیقت میں کامیاب و کامران ہوتا ہے ،شہادت کوئی غم وماتم کی چیز نہیں بلکہ سعادت وخوش بختی کی علامت ہے ،لہذا اس پر ماتم کرنا ،رونا اور آہ وبکا کرنا کسی بھی طرح زیب نہیں دیتا ،بالخصوص نواسہ ٔ رسول ﷺ حضرت حسین ؓ کی ذات ِ مبارک اس لائق نہیں ہے کہ ان پر نوحہ کیا جائے ،یا ان کی شہادت کا ماتم کیا جائے ،بلکہ حسین ؓ نے تو دینِ حق کے لئے اپنا سب کچھ قربان کیا اور دین کی عظمتوں سے انسانوں کو روشناس کروایا،جو لوگ حضرت حسین ؓ کی جواں مردی اور شہادت پر ماتم کرتے ہیں وہ گویا آپ کی عظمتوں کا انکار کرتے ہیں ،آپ کی حیات ابدی کے منکر ہیں ،شہادت کے عظیم کارنامہ کو نامبارک تصور کرتے ہیں ۔جس حسین ؓ نے نانا کے دین کی تقدس کے تسلسل کو باقی رکھنے کے لئے بیعت نہیں ،اور دین کے اسی تصور کو امت میں باقی رکھنا چاہے جو نبی کریم ﷺ نے دیا تھا ،آج امت انہی کا نام لے کر دین کے تقدس کو ،نبی کی پیاری اور مبارک تعلیمات کو پامال کررہی ہے ،اپنے مزے کے لئے نواسہ ٔ رسول کا نام کے کر طرح طرح کے کاموں کو انجام دی رہی ہے ۔بقول حضرت مفتی محمد شفیع ؒ کہ :جگر گوشہ ٔ رسول ﷺ سید الشباب اہل الجنۃ حضرت حسین ؓ کی دردناک مظلومانہ شہادت پر تو زمین و آسمان روئے ،جنات روئے ،جنگل کے جانور متاثر ہوئے ،انسان اور پھر مسلمان تو ایسا کون ہے جو اس کا درد محسوس نہ کرے ،یاکسی زمانہ میں بھول جائے ،لیکن شہید ِ کربلا ؓ کی روح مقد س درد وغم کا رسمی مظاہر ہ کرنے والوں کی  بجائے ان لوگوں کو ڈھونڈتی ہے جو ان کے درد کے شریک اور مقصد کے ساتھی ہوں ،ان کی خاموش مگرزندہ جاوید زبان ِ مبارک مسلمانوں کو ہمیشہ عظیم مقصد کی دعوت دیتی رہتی ہے جس کے لئے حضرت حسین ؓ بے چین ہوکر مدینہ سے

 مکہ اورپھر مکہ سے کوفہ جانے کے لئے مجبور تھے اور جس کے لئے اپنے سامنے اپنی اولاد اور اپنے اہل ِ بیت کو قربان کرکے خود قربان ہوگئے ۔( شہید ِ کربلا :۶)اس لئے ضروری ہے کہ شہادت کی عظمت کو سمجھیں اور شہداء کے مقام و مرتبہ کو جانیں ،شہادت کوئی غم والم یا نوحہ وماتم کی چیز نہیں بلکہ عظیم تر کامیابی اور ابدی حیات  کی علامت ہے ،یہ رشک و فخر کا ذریعہ ہے نہ کہ افسوس و غم کا سبب ہے ۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close