تاریخ اسلام

صلح حدیبیہ: یہودیوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ

محمد صابر حسین ندوی

صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرامؓ کی جاں نثاری و سر فروشی کے باوجودخواہی نہ خواہی صلح پر آمادہ ہوئے ؛لیکن بیعت رضوان کرنے پر اللہ کا انعام باقی تھا، جو کہ خیبر کی صورت میں حاصل ہوئی، خیبر جس کے معنی قلعہ کے ہیں، یہ مدینہ منورہ سے اسی یا ساٹھ میل پر واقع ایک بھرپورآباد شہر تھا، یہ یہودیوں کا سب سے بڑا مرکز اور اسلام مخالفین کی سب سے بڑی جگہ تھی، انہیں کے جوش انتقام میں غزوۂ احزاب جیسی عظیم لڑائی پیش آئی تھی، جس میں ان کا سردار حیی بن اخطب مارا گیا تھا اور اس کے بعد تخت و تاج سلا م بن ابی الحقیق (ح پر پیش اور ق پر زبر کے ساتھ)نے سمبھالاتھا، اس نے پھر سے اسلام پر حملہ کرنے کی سازش کرنی شروع کی، جس کیلئے نت نئے حربے استعمال کئے، اس دفعہ اس کی حکمت عملی یہ تھی کہ خیبر میں رہ کر مسلمانوں کا مقابلہ کر نا چاہئے، جس کے لئے اس نے اپنے حلیف غطفان کو بھی اپنے ساتھ شریک کر لیا تھا، حضورﷺ کو جب یہ خبر معلو م ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر تیار کرنے اور یہودیوں کا استیصال کرنے کا تیہ کرلیا، ابن اسحاق کا بیان ہے کہ حدیبیہ سے واپس آکر ذی الحجہ کا پورا مہینہ اور محرم کے چند دن مدینے میں قیام فرمایا، پھر محرم کے باقی ماندہ ایام میں خیبر کیلئے راونہ ہوئے۔

 یہودیوں نے اسید بن حضیرکو مسند رئاست پر بٹھایا، اس نے قبائل قریش کو کہا کہ: وہ بھی اسلام کا مخالف ہے لیکن وہ جنگی حکمت عملی میں الگ نظریہ رکھتا ہے، اور اسی نظریہ کے تحت محمد کے ریاست پر حملہ ور ہوگا، پھر اس نے مستقل دیگر عرب قبائل کا دورہ کیا اور سبھی کو اپنے ساتھ جنگ میں شامل کرلیا، حضور صلی اللہ علیہ سلم کو جب یہ خبر ملی تو تحقیق کی خاطر چند اصحاب کوبھیجا، تصدیق کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ کو ایک فوجی ٹکڑی کے ساتھ لے کر خیبر روانہ کیا، انہوں نے اسید سے کہہ دیا کہ : حضورﷺ نے ہمیں اس لئے بھیجا ہے کہ تم اگر سپر ڈال دو تو حکومت تم ہی کو دے دی جائے گی، لیکن وہ تیس آدمی لے کر خیبر سے نکلا، ازراہے احتیاط خطوط قافلہ اس طرح چلاکہ دو دو شخص ہم رکاب تھے، دو میں ایک یہودی اور دوسرا مسلمان ہوتا تھا؛لیکن اسید نے دوران سفر ایک مسلمان کی تلوار چھین لی، جس پر دفعتاً اپنی حفاظت میں ایسی تلوار ماری کہ اس کی ران کٹ گئی، وہ گھوڑے سے گرا مگر گرتے گرتے اس نے عبداللہ بن انیس کو زخمی کر دیا، تب مسلمانوں نے پیش کش کی اور یک لخت ٹوٹ پڑے نتیجتاً ایک یہود کے سوا کوئی بھی نہ بچا۔

خیبر کے یہود قریش سے مل کر پہلے ہی احزاب کی صورت میں قیامت برپاکر چکے تھے لیکن ناکام رہے، مگر اس بار پھر سر اٹھانے کی کوشش کی، جسے مدینہ کے منافقین نے بھی ہوا دی اور یہاں تک کہہ دیا کہ اگر تم محمد پر حملہ کرنا چاہتے ہو ںتو تم نہ ڈرنا، ان کی ہستی کیا ہے؟، ایسے میں اہل خیبر مزید حوصلہ مند ہوگئے اور جنگ کی مکمل تیاری میں لگ گئے، دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں خیبر کوچ کرنے کا علان کروادیا، مگر اس بار چونکہ منافقین مال غنیمت کیلئے جہاد کرتے ہیں ؛اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان میں یہ بھی ذکر فرمایا:ہمارے ساتھ صرف وہی لوگ جائیں گے جو طالب جہاد ہوں، کیونکہ اس غزوہ سے اصل مقصد تبلیغ و اشاعت میں آنے والے رکاوٹ اور اسلام مخالفین کی کمر توڑنا تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے حضرت سباع بن عرفطہ۔ ۔ اور ابن اسحاق کے مطابق نمیلہ بن عبداللہ لیثی کو مدینہ کا گورنراوراپنے ہمراہ بیعت رضوان(چودہ سو) کے ساتھوں کو لے کر روانہ ہوئے، جن میں ۲۰۰ سوار باقی پیدل تھے، مقدمہ لشکر کے سردارعکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ اور میمنہ لشکر کے سردار عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، بیس صحابیہ عورتیں لشکر میں شامل تھیں جو بیماروں اور زخمیوں کی خبر گیری اور تیمار داری کیلئے ساتھ ہولی تھیں، ، یہ پہلا موقع تھا جس میں خواتین اسلام بھی مرہم پٹی کر نے اور سقایہ کے فرائض انجام دینے کے لئے شریک ہوئیں، جنہیں مال غنیمت میں بھی حصہ دیا گیا، چونکہ خد شہ تھا کہ غطفان اہل خیبر کی مدد کو آئینگے، حضورﷺ نے مقام خیبر اورغطفان کے درمیان مقام رجیع پر فوج اتاری اور یہیں خیمہ زن ہوئے، نیزمستورات کو چھوڑ کر فو ج خیبر کی طرف بڑھی ؛جس کا فائدہ یہ ہواکہ غطفان پیش قدمی کرنے سے اپنے آپ کو روک لیا۔

خیبر عظیم قلعوں کا مرکز تھا جو یہودیوں کے لئے زبردست قوت کی حیثیت رکھتا تھا، یہ قلعے جو آبادی کے دائیں بائیں واقع تھے، شمار میں دس تھے، جن کے اندر دس ہزار جنگی مرد رہتے تھے، جیسے: قلعہ ناعم، نطاۃ، حصن صعب بن معاذ، قلعہ زبیر، یہ چاروں قلعے نطاۃ کے نام سے نامزد تھے، اس کے علاوہ حصن شن، حصن البر، حصن ابی یہ تینوں حصون شن کے نام سے مشہور تھے۔ حصن قموص طبری، حصن وطیح، حصن سلام جسے حصن بنی الحقیق بھی کہتے ہیں یہ تینوں حصون کتیبہ کے نام سے نامزد تھے۔، ان میں قموص نامی قلعہ بہت ہی مضبوط اور محفوظ سمجھاجاتا تھا، جس کارئیس مرحب تھا جو ہزار سواروں کے برابر مانا جاتا تھا، ادھر اسلامی لشکرنے عصر کے وقت خیبر کے قریب ’’صہباء‘‘ پر قیام کیا، مسلمانوں نے وہیں عصر کی نماز ادا کی او ر پھر فوج لے کر آگے بڑھے، خیبر غلس میںپہونچے، جب خیبرکی آبادی نظر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہر نے کا حکم دیا او خدا سے دعا گو ہوئے، کیونکہ سنت نبوی یہی رہی ہے کہ رات کو حملہ نہیں کیا جاتا تھا، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں صبح کی ؛پھر خیبر میں علی الصباح داخل ہوئے، اہل خیبر جو اپنے کدال و پھاوڑے کے ساتھ کھیتوں میں جارہاتھا، انہوں نے لشکر اسلام کو دیکھتے ہی وہ پکار اٹھے :خدا کی قسم محمد لشکر سمیت آگئے ہیں!اور فوراً یہودیوں نے مستورات کو مضبوط قلعوں میں پہونچا دیا، رسد اور غلہ قلعہ ناعم میں یکجا کیا اور فوجیں قلعہ نطاۃ اور قموس میں جمع ہوگئیںاور مکمل تیاری کے ساتھ جنگ پر آمادہ ہو گئے۔

حضور اکرمﷺ جنگ نہیں چاہتے تھے لیکن انکی تیاری دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کی رغبت دلائی اور سب سے پہلے قلعہ ناعم کی طرف فوجیں بڑھی، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے بڑی پامردی سے جنگ کی، مگر سخت دھوپ اور تکان کی وجہ وہ دیوار کی آڑ میں آرام کر نے کیلئے بیٹھے تو یہودیوں نے قلعہ کے اوپر سے چکی کا باٹ گراکر آپ کو شہیہد کر دیا، اس کے باوجود قلعہ ناعم جلد ہی فتح ہوگیا اس کے بعد دیگر قلعے بآسانی فتح ہونے لگے، مگر قموس جو مرحب کا تخت گاہ تھا ابوبکر اور عمر کے بھیجے جانے کے باوجود بھی فتح نہ ہو سکا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں فرمایا :کل میں اس شخص کو علم عنایت کرونگا، جس کے ہاتھ پر فتح ہوگی اور جو خدا اور اس کے رسول کا محبوب ہوگا، سیرت نگاروں نے لکھا ہے :اکابرین صحابہ کرام ؓ جیسے حضرت عمرؓ جنہوں نے کبھی عہدہ کی خواہش نہ کی ؛انہوں نے بھی اس عنایت کے لئے دل میںتمنا کی، لیکن جب صبح ہوئی تو آپؐﷺنے حضرت علیؓکو آواز دی، جو مسلمانوں کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا ؛کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ آشوب چشم کے مرض میں مبتلا تھے، تاہم آپ ﷺکی آواز پر لبیک کہا اور آپ ﷺنے انکی آنکھوں پر لعاب دہن لگایا، دعا فرمائی اور انہیں روانہ کیا، حضرت علی نے پوچھا :کیا یہود سے لڑکر مسلمان بنادیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نرمی کے ساتھ ان پر اسلام پیش کرو، اگر ایک شخص بھی تمہاری دعوت پر اسلام لے آئے، تو سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہود صلح یا اسلام پر راضی نہ ہو سکتے تھے، کیونکہ اسلام دشمنی ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی، وہ اسلام کو اپنا حریف مانتے تھے، چنانچہ مرحب قلعہ سے شعر پڑھتے ہوئے نکلا، حضرت علی ؓ نے بھی شعر میں ہی اس کا جواب دیا، اور پھر دونوں آپس میں بھڑ گئے، لیکن حضرت علی ؓ نے اتنی زور سے تلوار ماری کہ سر کو کاٹتی ہوئی دانتوں تک اتر گئی، اور عام حملہ کے ساتھ قلعہ ناعم فتح ہوگیا، اسی روز قلعہ صعب کو حضرت خباب بن منذر نے محاصرہ کیا اور تیسرے دن فتح کر لیا، رفتہ قلعوں کی فتح دیکھ کر اور مسلمانوں کی جاں نثاری سے یہیود مبہوت ہوگئے اور اپنے آپ کو قلعوں میں محصور کر لیا، اور مجبورا صلح پر جنگ ختم کرنے کی نوبت آئی۔ ان معرکوں میں ۹۳ یہود مارے گئے، جن میں مشہور شہسوار حارث، مرحب، اسید، یاسر وغیرہ قابل ذکر ہیں، صحابہ کرامؓ میں ۱۵ بزرگوں کو شہادت حاصل ہوئی، فتح کے بعد یہودیوں کی خواہش پر نصف پیداوار کے بدلے زمین انہی کو لوٹادی گئی، خیبر کی بقیہ زمینوں کو مسلمانوں میں تقسیم کردیا گیا، حضور اکرمﷺ کا حصہ خمس بھی شامل تھا، جب فصل کاموسم آتا تو حضور صلی اللی علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ کو بھیجتے وہ اندازہ لگا کر انصاف کے ساتھ پیداوار کو تقسیم کرتے تھے، فیصلہ اتنا عمدہ اور دو ٹوک ہوتا کہ یہود بھی کہتے تھے:انہیں فیصلوں کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہیں۔

اس غزوہ میں حضور اکرم ﷺ کے ساتھ پیش آنے والا ایک جاں سوز واقعہ قابل ذکر ہے، جو یہودیوں کی اصل منشاء کو کھول کر رکھ دیتا ہے، ان کے ساتھ ہزارہا حسن سلوک کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دے کر مارنا چاہا اور خاتون کے ذریعہ بکری کے دست میں زہر ملا کر خدمت میں پیش کیا گیا، جسے نوش کر نے کی وجہ سے ایک صحابی جاں بحق بھی ہوئے؛ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت الہی نے محفوظ رکھاار عفو درگزری سے کام لیا، اس کے بعد حضرت ابوبکر ضی اللہ عنہ کے زمانے میں وہ خیبر ہی قیم رہے ؛تاہم وہ مسلسل سازشوں میں لگے رہے، اسلام دشمنی اور مسلمانوں کے ساتھ دوہرا سلوک کرنے کے ساتھ اسلام مخالف قوموں کی مدد بھی کرتے رہے، شاید یہی وجہ تھی صلح نامہ میں یہ بات درج کر دی تھی کہ ضرورت کے وقت خیبر سے انہیں جلا وطن کیا جاسکتا ہے، ایسے میں تنگ آکر حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت کے زمانے میں انہیں خیبر سے شام کی طرف نکال دیا۔

اب اسلام تقریباً دشمنان اسلام سے محفوظ تھا، لہذا اللہ رب العزت نے متعدد فقہی احکام نازل فرمائے اور حضورﷺ نے ان کی تبلیغ کی، جیسے پنجے سے شکار کرنے والے پرندے اور درندے جانور حرام کر دئے گئے، گدہے اور خچر کو بھی حرام قرار دیا گیا، اب تک معمول تھا کہ لونڈیوں سے بغیر استبرائے رحم وطی کرنا جائز سمجھاجاتا تھا؛ لیکن حکم ہوا کہ اگر وہ حاملہ ہے تو وضع حمل تک یا ایک مہینہ تک وطی کرناجائز نہیں، چاندی، سونا تفاضل کے ساتھ خریدنا حرام ہوا۔ ۔ وغیرہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے فاتح ہو کر لوٹے ؛لیکن راستے میں تیمہ اور خیبر کے درمیان واقع ایک وادی جسے وادی القراء کہتے ہیں، جوزمانہ قدیم میں عاد و ثمود کا ٹھکانہ تھا، اب وہاںیہودیوں کی بہت سی بستیاں آباد تھیں، جن کے متعلق خبر ہوئی کہ جنگ کی تیاری کر رہے ہیں، آپ ﷺنے ان کا دورہ کیا، جس پر انہوں نے فوراً تیر اندازی شروع کر دی، لیکن حضورﷺ نے جوں ہی مورچہ کھولا انہوں نے سپر ڈال دی، اور خیبر کے شرائط پر صلح کی۔

اب وقت آن پڑا کہ اس امن و سکون کے عالم میں اپنی دیرینہ تمنا پوری کی جائے، اور مکہ مکرمکرمہ کی زیارت کی جائے، لہذا معاہدے(صلح حدیبیہ) کا لحاظ کر تے ہوئے، سب سے پہلے عمرہ کی فکر کی، چونکہ معاہدے میں یہ شرط تھی ؛کہ صحابہ مکہ میں آئیں تو ہتھیار ساتھ نہ لائیں، اس لئے صحابہ نے اسلحوں کو مکہ کے باہر چھوڑا اور دو سو سواروں کا ایک دستہ اسلحوں کی حفاظت کے لئے متعین کیا، حضورﷺ اور صحابہ کرام ؓ لبیک کہتے ہوئے مسجد حرام کی طرف بڑھے، صحابہ کا جمع غفیر تھا جو جوش و خوشی سے لبالب تھے، چونکہ اہل مکہ نے چار و ناچار عمرہ کی اجازت دی تھی اس لئے تمام قریش پہاڑی پر چلے گئے اور اپنے آپ کو چھپا لیا، ٹھیک جب تین دن گزرگئے تو حضرت علی کے پاس آئے اور کہا :محمد سے کہہ دو شرط پوری ہوچکی ہے، اب مکہ سے نکل جائیں، حضورﷺ تین دن قیام کے بعد مدینہ کے لئے ہم رکاب ہوئے؛ لیکن ساتھ ہی حضورﷺ کی حقانیت اور اسلام کی علویت اور خداکی بزرگی و برتری اہل مکہ پر ثبت کر گئے۔ (دیکھئے:سیرۃ ابن ہشام:۱؍۳۳۱ وغیرہ۔ مغازی ابوواقدی۔ ۔ خیبر۔ ۔ :۱۱۲۔ فتح الباری:۷؍۴۶۵۔ زاد المعاد:۲؍۱۳۳۔ تاریخ طبری وغیرہ)۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close