تاریخ اسلام

غزوۂ اُحُد

مولانا ندیم احمد انصاری

          ان دنوں غزوہ احد موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔بہ اتفاقِ جمہورشوال تین ہجری میں یہ جہاد ہوا۔ تاریخ میں مختلف اقوال ہیں۔ بدر کے شکست خوردہ مشرکین نے سال بھر کے بعد جب کچھ ہوش سنبھالا، تو حرارتِ انتقام بڑھنے لگی۔ اس غرض کے لیے تین ہزار نوجوانوں کا لشکر پورے ساز و سامان کے ساتھ مدینے کی طرف بڑھا۔ادھر آپ ﷺصحابہ سے مشورہ کرنے کے بعد ایک ہزار صحابہ کی جمعیت کے ساتھ مدینے سے باہر تشریف لائے، جن میں عبد اللہ بن ابی منافق اور اس کے تین سو ہم خیال منافقین بھی شامل تھے، مگر یہ سب راستے ہی سے واپس ہو گئے اور اب مسلمانوں کا لشکر صرف سات سو رہ گیا۔ الغرض مقابلے پر پہنچ کر حضرت نبی کریم ﷺنے صف آرائی فرمائی۔ احُد پہاڑ پُشت کی طرف تھا، اس لیے اس سے غنیم کے آنے کا احتمال تھا۔ آپ ﷺنے پچاس آدمی پہاڑ پر پہرے کے لیے کھڑے کر دیے اور ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کو فتح ہو یا نہ ہو، مگر تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا۔لڑائی شروع ہوئی اور دیر تک گھمسان کی لڑائی کے بعد جب فوجیں ہٹیں تو مسلمانوں کا پلّہ بھاری تھا۔ قریش بد حواس ہو کر منتشر ہو گئے۔ مسلمانوں نے مالِ غنیمت جمع کرنا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر وہ لوگ بھی اپنی جگہ چھوڑ کر یہاں آگئے جن کو عقب کی جانب پہاڑ پر نگرانی کے لیے مقرر فرمایا گیا تھا۔ اُن کے امیر عبد اللہ بن جُبیر رضی اللہ عنہ نے بہت منع کیا، مگرہ وہ یہ سمجھ کر کہ اب یہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں رہی، ہٹ گئے، اور یہاں صرف چند صحابہ رہ گئے۔ یہ دیکھ کر خالد بن ولید نے (جو ابھی تک مسلمان نہ ہوئے تھے اور مشرکین کی طرف سے لڑرہے تھے) عقب کی جانب سے دفعتاً حملہ کر دیا۔ عبد اللہ بن جبیر اور ان کے باقی ماندہ چند ساتھیوں نے نہایت جاں بازی کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا،بالآخر سب شہید ہو گئے۔ اب راستہ صاف ہو گیا تو خالد اپنے دستے کے ساتھ مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔ اس غزوے میں کفار کے صرف بائیس یا تیئیس آدمی مارے گئے اور مسلمانوں میں سے ستّر آدمی شہید ہوئے۔(مستفاد از حیاتِ طیبہ)

          اس واقعے کا تذکرہ قرآن مجید کی سورہئ آلِ عمران میں مفصل موجود ہے، ملاحظہ فرمائیں :

اللہ تعالیٰ نے تسلّی دی

          ارشادِ ربانی ہے:اگر تمھیں ایک زخم لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی اسی جیسا زخم پہلے لگ چکا ہے۔ یہ تو آتے جاتے دن ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ ایمان والوں کو جانچ لے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید قرار دے۔ اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔(آلِ عمران)اور(جنگ کا) مقصد یہ تھا کہ اللہ ایمان والوں کو میل کچیل سے نکھار کر رکھ دے اور کافروں کو ملیامیٹ کر ڈالے۔ (ایضاً)بھلا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (یوں ہی) جنت کے اندر جاپہنچو گے؟ حالاں کہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانچ کر نہیں دیکھا جو جہاد کریں ، اور نہ ان کو جانچ کر دیکھا ہے جو ثابت قدم رہنے والے ہیں۔ (ایضاً)

شہادت کی تمنا پوری کر دی گئی

          ارشادِ خداوندی ہے:اور تم تو خود موت کا سامنا کرنے سے پہلے (شہادت کی) موت کی تمنا کیا کرتے تھے، چناں چہ اب تم نے کھلی آنکھوں اسے دیکھ لیا ہے۔(ایضاً) یعنی جو صحابہ بدر کی شرکت سے محروم رہ گئے تھے، وہ شہدائے بدر کے فضائل سن سن کر تمنا کیا کرتے تھے کہ خدا پھر کوئی موقع لائے تو ہم بھی خدا کی راہ میں مارے جائیں اور شہادت کے مراتب حاصل کریں۔ اِنھی حضرات نے احد میں یہ مشورہ دیا تھا کہ مدینے سے باہر نکل کر لڑنا چاہیے۔ ان کو فرمایا کہ جس چیز کی پہلے تمنا رکھتے تھے وہ تمھاری آنکھوں کے سامنے آچکی، اب آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے ہٹنا کیسا؟(تفسیرِ عثمانی)

حالات کچھ بھی ہوں ، تم ثابت قدم رہو

           ارشادِ خداوندی ہے: محمد ﷺ ایک رسول ہی تو ہیں ، ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ بھلا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا انھیں قتل کردیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور جو شکر گزار بندے ہیں ، اللہ ان کو ثواب دے گا۔(ایضاً)جب غزوہئ احد میں رسول اللہ ﷺ کے دندانِ مبارک شہید ہوئے اور سر مبارک زخمی ہوا تو اس وقت کسی دشمن نے پکار دیا کہ محمد ﷺ قتل کر دیے گئے۔ مسلمان لڑائی بگڑجانے سے بدحواس اور منتشر ہو ہی رہے تھے، اس خبر سے اور بھی کمر ٹوٹ گئی۔۔۔اس پریشانی میں اول آپ ﷺکو حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے دیکھ کر پہچانا اور پکار کر کہا: اے مسلمانو!رسول اللہ ﷺ زندہ، صحیح سلامت ہیں۔ غرض اس وقت پھر مسلمان جمع ہوئے۔ (دیکھیے بیان القرآن)

ہر کام میں آخرت پیشِ نظر رہنی چاہیے

          اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:یہ کسی بھی شخص کے اختیار میں نہیں ہے کہ اسے اللہ کے حکم کے بغیر موت آجائے، جس کا ایک معین وقت پر آنا لکھا ہوا ہے۔ اور جو شخص دنیا کا بدلہ چاہے گا ہم اسے اس کا حصہ دے دیں گے، اور جو آخرت کا ثواب چاہے گا ہم اسے اس کا حصہ عطا کردیں گے۔ اور جو لوگ شکر گزار ہیں ،ان کو ہم جلد ہی ان کا اجر عطا کریں گے۔(ایضاً)

اسلاف کی ثابت قدمی کا تذکرہ

           اللہ تعالیٰ نے اسلاف کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:اور کتنے سارے پیغمبر ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی! نتیجتاً انھیں اللہ کے راستے میں جو تکلیفیں پہنچیں ان کی وجہ سے نہ انھوں نے ہمت ہاری، نہ وہ کمزور پڑے اور نہ انھوں نے اپنے آپ کو جھکایا۔ اللہ ایسے ثابت قدم لوگوں سے محبت کرتا ہے۔(ایضاً)ان کا قول اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ دعا کر رہے تھے: اے ہمارے رب! ہمارے گناہوں کو بھی اور ہم سے اپنے کاموں میں جو زیادتی ہوئی ہو اس کو بھی معاف فرمادے، ہمیں ثابت قدمی بخش، اور کافر لوگوں کے مقابلے میں ہمیں فتح عطا فرما۔ (ایضاً)تو ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کا ثواب بھی عطا فرمایا اور آخرت کے ثواب کا بھی بہت ہی عمدہ حصہ عطا کیا۔اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔(ایضاً)

جو ایمان کے بعد پلٹ جائیں

          پھر ارشادِ ربانی ہوا:اے ایمان والو! جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، اگر تم ان کی بات مانو گے تو وہ تمھیں الٹے پاؤں (کفر کی طرف) لوٹا دیں گے، اور تم پلٹ کر سخت نقصان اٹھاؤ گے۔(ایضاً)(یہ لوگ تمھارے خیر خواہ نہیں ) بلکہ اللہ تمھارا حامی و ناصر ہے، اور وہ بہترین مددگار ہے۔(ایضاً)نیزجن لوگوں نے کفر اپنایا ہے ہم عنقریب ان کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے، کیوں کہ انھوں نے اللہ کی خدائی میں ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ ظالموں کا بدترین ٹھکانا ہے۔(ایضاً)

اللہ تعالیٰ نے وعدہ پورا کر دکھایا

          اس کے بعد فرمایا گیا:اللہ تعالیٰ نے یقیناً اس وقت اپنا وعدہ پورا کردیا تھا جب تم دشمنوں کو اسی کے حکم سے قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ جب تم نے کمزوری دکھائی اور حکم کے بارے میں باہم اختلاف کیا اور جب اللہ نے تمھاری پسندیدہ چیز تمھیں دکھائی تو تم نے (اپنے امیر کا) کہنا نہیں مانا، تم میں سے کچھ لوگ وہ تھے جو دنیا چاہتے تھے، اور کچھ وہ تھے جو آخرت چاہتے تھے۔ پھر اللہ نے ان سے تمھارا رخ پھیر دیا تاکہ تمھیں آزمائے۔ البتہ اب وہ تمھیں معاف کرچکا ہے، اور اللہ مومنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔(ایضاً)

 اللہ کے نزدیک صحابہئ کرامؓ کا مقام

          یہ ظاہر ہے کہ غزوہئ احد میں بعض صحابہئ کرام کی رائے کی غلطی ہوئی تھی،مگر اس پر عتاب اور تنبیہات کے اندر بھی صحابہئ کرام کے ساتھ حق جل شانہ کی عنایات قابلِ دید ہیں۔ اول تو لیبتلیکم فرما کر یہ ظاہر فرما دیا کہ عارضی شکست کی جو صورت پیش آئی، یہ بطور سزا کے نہیں بلکہ آزمائش کے لیے ہے۔ پھر صاف لفظوں میں خطا کی معافی کا اعلان فرما دیا: ولقد عفا عنکم۔آیاتِ مذکورہ میں ارشاد ہوا ہے کہ اس وقت صحابہئ کرام کے دو گروہ ہوگئے تھے؛ بعض دنیا چاہتے تھے، بعض صرف آخرت کے طلب گار تھے۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ جن حضرات کے متعلق طالبِ دنیا ہونے کا ذکر ہے یہ ان کے کسی عمل کی بنا پر ہے، ظاہر ہے کہ مالِ غنیمت جمع کرنے کے ارادے کو طلبِ دنیا سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اب غور کرو کہ اگر یہ حضرات اپنے مورچے پر جمے رہتے اور مالِ غنیمت جمع کرنے میں شریک نہ ہوتے تو کیا ان کے حصہئ غنیمت میں کوئی کمی آجاتی؟ اور شریک ہوگئے تو کوئی زیادہ حصہ مل گیا؟ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ قانونِ غنیمت کو جو شخص جانتا ہے اس کو اس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا کہ مالِ غنیمت سے جو حصہ ان کو ملے گا اس میں کسی حال کوئی فرق کمی بیشی کا نہ تھا۔ مال غنیمت جمع کرنے کی صورت میں بھی ان کا حصہ وہی رہے گا جو اپنی جگہ مورچے پر جمے رہنے کے وقت ملتا۔تو اب یہ ظاہر ہے کہ ان کا یہ عمل خالص طلبِ دنیا تو ہو نہیں سکتا، بلکہ مجاہدین کے کام میں شرکت ہے۔ ہاں طبعی طور پر اس وقت مالِ غنیمت کا خیال دل میں آجانا مستبعد نہیں ، مگر حق تعالیٰ اپنے رسول کے ساتھیوں کے قلوب کو اس سے بھی پاک و صاف دیکھنا چاہتے ہیں کہ مال کا تصرف ہی کیوں آئے، اس لیے اس تصرف کو طلبِ دنیا سے تعبیر کر کے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔(دیکھیے معارف القرآن)

اللہ تعالیٰ نے اُنھیں معاف کر دیا

          اس کے بعد خدا کا فیصلہ ان الفاظ میں آیا کہ تم میں سے جن لوگوں نے اس دن پیٹھ پھیری جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے ٹکرائے، درحقیقت ان کے بعض اعمال کے نتیجے میں شیطان نے ان کو لغزش میں مبتلا کردیا تھا، اور یقین رکھو کہ اللہ نے انھیں معاف کردیا ہے۔ یقیناً اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا بردبار ہے۔(ایضاً)اس آیت میں مکرر اس کا اظہار ہے کہ اس میں جو شکست پیش آئی وہ بھی کوئی سزا نہیں ، بلکہ مومنین مخلصین اور منافقین میں تفرقہ کرنے کے لیے ایک آزمائش تھی اور پھر مکرر صحابہئ کرام رضی اللہ عنہم کی لغزش کی معافی کا اعلان ہے۔(معارف القرآن)

زندگی اور موت اللہ کی طرف سے

          اس آیت میں ایمان والوں کو ہدایت دی جارہی ہے کہ: اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنھوں نے کفر اختیار کرلیا ہے، اور جب ان کے بھائی کسی سرزمین میں سفر کرتے ہیں یا جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو یہ ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے، اور نہ مارے جاتے۔ (ان کی اس بات کا) نتیجہ تو (صرف) یہ ہے کہ اللہ ایسی باتوں کو ان کے دلوں میں حسرت کا سبب بنا دیتا ہے، (ورنہ) زندگی اور موت تو اللہ دیتا ہے۔ اور جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔آگے فرمایا: البتہ اگر تم قتل کردیے جاؤ یا اللہ کی راہ میں مرجاؤ تو بلاشبہ اللہ کی طرف سے مغفرت اور رحمت بہتر ہے، اس چیز سے جسے وہ لوگ جمع کرتے ہیں۔ (ایضاً)اور اگر تم مرجاؤ یا قتل ہوجاؤ تو اللہ ہی کے پاس تو لے جاکر اکٹھے کیے جاؤ گے۔ (ایضاً)

عجیب مشفقانہ انداز

          چند آیتوں کے بعد فرمایا:جب تمھیں ایک ایسی مصیبت پہنچی جس سے دگنی تم (دشمن کواس سے پہلے) پہنچا چکے تھے، تو کیا تم ایسے موقع پر یہ کہتے ہو کہ یہ مصیبت کہاں سے آگئی؟ کہہ دو کہ یہ خود تمھاری طرف سے آئی ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔(ایضاً)اور تمھیں جو مصیبت اس دن پہنچی جب دونوں لشکر ٹکرائے تھے، وہ اللہ کے حکم سے پہنچی، تاکہ وہ مومنوں کو بھی پرکھ کر دیکھ لے۔(ایضاً)اور منافقین کو بھی دیکھ لے، اور اُن (منافقوں ) سے کہا گیا تھا کہ آؤ اللہ کے راستے میں جنگ کرو یاد فاع کرو، تو انھوں نے کہا تھا: اگر ہم دیکھتے کہ (جنگ کی طرح) جنگ ہوگی تو ہم ضرور آپ کے پیچھے چلتے۔اُس دن (جب وہ یہ بات کہہ رہے تھے) وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے۔ وہ اپنے منھ سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتی، اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔(ایضاً)

مزید دکھائیں

ندیم احمد انصاری

ڈائریکٹر الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا اسلامی اسکالر و صحافی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close