تاریخ اسلام

غزوۂ بدر: حق و باطل کا ٹکراؤ

حقیقت یہ ہے کہ یہ معرکہ جاں نثاری اور جاں بازی کا سب سے بڑا میدان تھا

محمدصابر حسین ندوی

مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین کی اسلام دشمنی کی کوئی انتہا نہ تھی، انہی کے ظلم و زیادتی کی وجہ سے مسلمانوں کو مادر وطن چھوڑنا پڑا تھا؛لیکن اب بھی یہ اپنی عناد و سرکشی پر ڈٹے رہے اور ہر ممکن انہیں پسپا کر نے اور ان کی ہوا اکھاڑنے کے در پے رہتے، تو دوسری طرف مدینہ ہجرت گاہ ہو نے باوجود خاطر خواہ مخزن اسلام نہ ہو پارہاتھا، جس کی بڑی رکاوٹ وہاں کے مقیم یہودی تھے،جو عادات وخصائص، مذہب اور دیانت میں انصار سے بالکل مختلف، حریف اور مد مقابل تھے ؛ساتھ ہی دشمنوں کی ایک نئی جنس منافقین نے بھی جنم لے لیا تھا جو پس پردہ اپنا کام کر رہے تھے، اور مارے آستین ہونے کی وجہ سے دونوں سے زیادہ خطرناک تھے، یہ الگ بات ہے؛ کہ مدینہ کا اثر چار دیواریوں میں محدود تھا، اور بیرونی طاقتوں سے بالکل مطمئن تھا ؛لیکن جب آپﷺ تشریف لائے تو قریش نے عبداللہ بن ابی بن سلول کو خطوط کے ذریعہ بھڑکانا شروع کیا،یہ وہ شخص تھا جسکی واقعہ ہجرت سے قبل کفار اور انصار تاج پوشی کر نے والے تھے، جس کی تقریباً تیاری ہو چکی تھی، مگر اسلام اور مسلمانوں کی آمد نے رکاوٹ ڈال دی تھی،جس سے وہ اور اس کے حواریین بے چین تھے (دیکھئے:بخاری :باب التعلیم فی مجلس فیہ اخلاط من المسلمین والمشرکین)۔

آپ ﷺنے مخالفین کیساتھ حتی الامکان فہمائش سے کام لیا ؛لیکن حالات دن بدن نازک ہوتے جارہے تھے، جس کا ندازہ  اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مدت تک آپ شب بیداری میں گزارتے، صحیح نسائی میں ہے،’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اول ماقدم المدینۃ یسھر من اللیل ‘‘(۲۸۱۷)صحیح بخاری؛باب الجہادکی اس روایت سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ ؛ایک دفعہ آپ ﷺنے فرمایا :’’آج کوئی اچھا آدمی پہرا دے ‘‘،چنانچہ حضرت سعد بن وقاص نے رات بھر پہرادیا،تب آپؐ نے آرام فرمایا،اس سے بڑھ کر حاکم کی ایک روایت میں ہے کہ :جب انصار نے مسلمانوں کو پناہ دی توتمام عرب ان کے مخالف ہو گئے، عالم یہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہتھیار باندھ کر سویا کرتے تھے، ’’۔۔۔۔۔۔کا نوا لا یبیتون الا بالسلاح ولا یصبحون الا فیہ‘‘(لباب فی اسباب النزول للسیوطی:سورہ نور،وعداللہ الذین آمنوا۔۔۔) زرقانی نے لکھا ہے کہ :انہی دنوں خدا نے بارہ صفر دو ہجری میں جہاد کی اجازت دی، اور یہ آیت نازل ہوئی :اذن للذین یقاتلون بأنھم ظلموا وان اللہ علی نصرھم لقدیر(زرقانی بحوالہ :نسائی:۱؍۴۴۸)جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ :مسلمانوں نے حد درجہ ظلم و مظالم کے بعد ہتھیار اٹھائے اور انہی لوگوں سے لڑنے کی اجازت دی گئی جو ان سے لڑنے آتے ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ اس آیت کے بعد حضورﷺ نے مسلمانوں کو خود کفیل کرنے اور دشمنوں کی دشمنی توڑنے کی تدبیریں شروع کیں، اہل مکہ اسلام دشمنی میں گھلے جارہے تھے، اس لئے سب پہلے ان کا بندوبست ضروری تھا،چونکہ قریش کا دارومدار تجارت پر تھا اورزہے نصیب !کہ ان کی تجارت کا راستہ مدینہ سے قریب ہو کر گزرتا تھا، آپؐ نے اسے بند کرنا چاہا؛ تاکہ وہ صلح پر مجبور ہوجائیں اور ان کا مایہ غرور ٹوٹ جائے،ساتھ ہی قرب و جوار کے قبائل سے اطمینان کے لئے دوسری تدبیر یں اختیار کی گئیں ؛ کہ ان سے معاہدہ کیا جائے، اس غرض سے آپؐ نے مختلف سریہ روانہ کئے جیسے:جہینہ اور بنو مدلج، ذولعشیرۃ،بنو ضمرہ وغیرہ کی مہمیں، اوراسی مقصد کے تحت  بذات خود آپ ﷺ ساٹھ مہاجرین کے ساتھ مقام ابواء تک تشریف لے گئے تھے، زرقانی نے ایک صلح نامہ بھی نقل کیا ہے (دیکھئے:زرقانی:۱؍۴۵۶،روض الأنف:۱؍۸۵)؛لیکن ان میں سے کسی میں جنگ نہیں ہوئی البتہ چھوٹی موٹی جھڑپین ہوتی تھیں، ۔

اہل مکہ بھی خاموش نہیں تھے بلکہ یہ بھی فوجی دستوں میں مدینہ کے آس پاس آجاتے اور چھیڑخانی کرتے تھے،ایک دفعہ کرزبن جابر فہری نے مدینہ کی چراگاہ پر حملہ کیا اور مویشی لوٹ لئے، اس کا تعاقب کیا گیا لیکن بھاگ نکلا،انہی دنوں ایک واقعہ پیش آیا جو غزوۂ بدر اور بعد میں آنے والے جنگوں کا خصوصی سبب بنا، یعنی رجب ۲ہجری میں آپ نے عبداللہ بن جحش کو ۱۲ آدمیوں کے ساتھ بطن نخلہ کی طرف بھیجا جو مکہ اور طائف کے درمیان؛ایک دن اور ایک رات کی مسافت پر تھا،آپ ﷺ انہیں ایک خط دیا ؛جسے مقام نخلہ پہونچ کر کھولنے کا حکم تھا، منزل پر پہونچ کر خط کھولا تو اس میں لکھا تھا کہ :وہیں قیام کرو اور قریش کے حالات  معلوم کر کے اطلاع دو، اتفاق سے قریش کے چندآدمی جوشام سے مال تجارت لے کر آرہے تھے، حضرت عبداللہ نے ان پر حملہ کیا اور ان میں سے ایک آدمی عمرو حضرمی مارا گیا اور دو گرفتار ہوئے ساتھ ہی مال غنیمت بھی ہاتھ آیا۔

آپؐ کو جب خبر ملی تو ناراضگی کا اظہار فرمایا، حتی کہ مال غنیت سے بھی قبول نہ فرمایا،صحابہ کرام نے بھی برہم ہو کر کہا:’’صنعتم مالم تومروا بہ وقاتلتم فی الشھر الحرام ولم تمروا بقتال‘‘(تاریخ طبری:۲؍۱۲۶)،مقتول شخص عبداللہ حضرمی کا بیٹا تھا جو حرب بن امیہ کا حلیف تھا اور عبدالمطلب کے بعد رئاست عام اسی کو حاصل تھی، گرفتار لوگوں مین عثمان اور نوفل دونوں معزز گھرانے سے تھے، اس بناپر تما قریش مشتعل ہوئے، اور انتقام لینے پر آمادہ ہو گئے، حضرت عروہؓ کی روایت کے مطابق غزوۂ بدر اور قریش سے پیش آئی تمام لڑائیوں کا سبب اسی حضرمی کا قتل ہے۔(تاریخ طبری:۲؍۱۳۱)،اب قریش نے مدینہ پر حملہ کر نے کا انتظام شروع کردیااور اس موسم قریش کاجو کاروان تجارت شام سے ؛اس سروسامانی کے ساتھ واپس آرہاتھا کہ مکہ کی تمام آبادی نے جس کے پاس جو رقم تھی کل کے کل دے دی تھی،اسی اثنا میں یہ غلط خبر پھیل گئی ؛کہ مسلمان قافلہ لوٹنے آرہے ہیں، قریش کے غیظ و غضب کا بادل بڑے زور و شور سے اٹھا اور تمام عرب پر چھا گیا، آپ ﷺ کو ان حالات کی خبر ہوئی تو صحابہ کرام کو جمع فرماکر مطلع فرمایا، عمومی رضامندی کے باوجود آپؐ کا اشارہ انصارکی طرف تھا ؛کیونکہ انصار بیعت کے وقت صرف مدینہ پر دشمن کے چڑھ آنے پر بیعت کی تھی، سعد بن عبادہ سمجھ گئے اور پورے جوش و خروش کے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے کہا:حضورﷺکا اشارہ ہماری طرف ہے، خدا کی قسم آپ فرمائیں تو ہم سمندر میں کود پڑیں، یہ سن کر آپؐ کا چہرہ چمک اٹھا۔

غرض بارہ رمضان سنہ ۲ہجری کو آپﷺ؍ ۳۱۳ جاں نثاروں کی فوج لے کر؛ جن میں ۶۰ مہاجرین اور باقی انصار تھے شہر سے باہر نکلے،جن میں ساٹھ مہاجر اور باقی انصار تھے،ایک میل چل کر فوج کا جائزہ لیا اور جو کم عمر تھے انہیں واپس کر دیا، مگر شوق جہاد اور جذبہ رضا الہی سے جاں بلب کم عمر صحابی حضرت عمیر بن ابی وقاص کوع بھی اجازت دی گئی، آپؐ نے لبابہ بن عبد المنذرکو مدینہ منورہ کا حاکم منتخب فرمایا اور عالیہ پر عاصم بن عدی کو مقرر کیا، ساتھ ہی دوجاسوسوں کو آگے بڑھ کر قریش کی خبر لانے کو کہا اور آپ ﷺ لشکر لے کر روانہ ہوئے، اور ایک طویل مسافت طے کرتے ہوئے ۱۷؍ رمضان کو بدر کے مقام پر پہونچے، مخبروں نے خبر دی کہ قریش جوش انتقام میں مکہ مکرمہ سے نکل چکے ہیں، آپؐ یہیں رک گئے اور فوجوں نے پڑاؤ ڈالا، تو دوسری طرف مکہ سے قریش بڑے سروسامان کے ساتھ نکلے تھے ۱۰۰۰ آدمیوں کی جمعیت تھی، سو سواروں کا رسالہ تھا، جس میں ابو لہب مجبوری کی وجہ سے نہ آسکا، لیکن عباس بن عبدالمطلب،عتبہ بن ربیعہ، حارث بن عامر، نظر بن الحارث،ابوجہل، امیہ بن خلف وغیر رؤسائے قریش شامل تھے، جو پورے عیش و سرمستی میں ڈوبے ہوئے تھے، ان کا سپہ سالار عتبہ بن ربیعہ تھا۔

بدر پہونچ کر معلوم ہواکہ ابو سفیان کا قافلہ خطرے کی زد سے نکل گیا ہے، تو بعض شرفاء نے جنگ نہ چھیڑنے کی رائے دی ؛لیکن ابوجہل نہ مانا اور پیش قدمی کی حتی کہ دونوں فوجیں آمنے سامنے تھیں، مسلمانوں نے کنوئیں پر قبضہ کر لیا تھا، اور جنگی حکمت علی کے پیش نظر قرب و جوار کے کئویں پاٹ دئے گئے تھے، ساتھ ہی اللہ کی رحمت یوں بھی ہوئی؛ کہ ریتیلی زمین پر بارش ہوگئی، جس سے جنگجووں کے پیر وں کو ثبات ملا، جس کا تذکرہ  قرآن کریم نے بطور احسان کیا ہے، سورہ انفال میں ہے’’وینزل من السماء ماء لیطھرکم بہ‘‘ (آیت نمبر:۲)؛لیکن دربار رسالت کی سخاوت جاری رہی، اس طور پر کہ آپؐ نے دشمنوں کو بھی پانی لینے کی اجازت دیدی، اس رات پوری فوج نے آرام کیا؛ مگر ذات نبوی ﷺصبح تک بیدار مصروف عبادت رہی، صبح ہوئی تو نماز کے لئے آواز دی اور جہاد پر وعظ فرمایا۔

ادھر قریش جنگ کے لئے بے تاب تھے اور ہر پل حملہ کر نے کی آڑ میں تھے، مزید اس چنگاری کو شعلہ عتبہ کے واقعہ نے بنادیا، جب کہ اس نے ابوجہل سے جنگ نہ کرنے کی بات کہی، تو اس نے یہ بات حضرمی کے بھائی کو عار سے کہہ دی ؛وہ چیخ پڑا اور دستور عرب کے مطابق کپڑے پھاڑ ڈالے، اور گرد اڑاتے ہوئے نعرہ بازی کرنی شروع کی، جس سے پوری فوج میں آگ لگ گئی۔ اب دونوں فوجیں آمنے سامنے ہو گئیں، خودآپؐ نے نیزہ سے صف درست کی اور پھر آپؐ ایک چھپر کے سائبان کے نیچے بیٹھ کر دعاء و مناجات کر نے لگے، اسی دعا میں وہ تاریخی الفاظ ہیں جو آج بھی اس امت کے لئے امید نو ہیں :آپؐ نے فرمایا تھا:اگر یہ چند نفوس آج مٹ گئے تو قیامت تک تو پوجا نہ جائے گا۔ اس بے قراری پر محب خاص کو رقت آگئی اور حضرت ابوبکر کہنے لگے:خدا اپنا وعدہ وفا کرے گا،چنانچہ اللہ رب کریم نے بھی یہ آیت نازل فرمائی :’’فیھزم الجمع ویولون الدبر‘‘(سورہ قمر:۳)۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ معرکہ جاں نثاری اور جاں بازی کا سب سے بڑا میدان تھا، دونوں فوجیں سامنے آئی تو لوگوں کو نظر آیا کہ :خود ان کے جگر کے ٹکڑے ان کی تلواروں کے سامنے ہیں، حضرت ابو بکر کے بیٹے جو اب تک کا فر تھے ؛خود ابو بکر اس کے مقابلے کے لئے نکلے، عتبہ میدان میں آیا تو ان کے بیٹے حذیفہ مقابلے کو آئے، حضرت عمر کی تلوار ماموں کے خون سے رنگین تھی، لڑائی کا آغاز ہوا ؛حضرمی کا بھائی عامر لڑتا ہوا آگے بڑھا، جس کامقابلہ عمر کے غلام نے کیا اور اس کی گردن اڑادی، پھر عرب کے جنگی دستور کے مطابق باہمی مبارزۃ کے لئے قریش کی جانب سے عتبہ، ولید اور شیبہ نکلے،مسلمانوں کی جانب سے عوف،معاذاورعبداللہ بن رواحہ بڑھے جو کہ انصار تھے؛ لیکن عتبہ نے ہم پلہ نہ بتلاکر مبارزۃ سے انکار کر دیا، تو آپؐ نے حضرت علی، حمزہ اور عبیدہ کو میدان میں بھیجا، حمزہ نے عتبہ کا، علی نے ولید کا ایک پل میں ہی کا م تمام کر دیا؛ جبکہ عبیدہ، شیبہ سے لڑتے رہے اور انہیں چوٹ آگئی، ایسے میں ان دونوں نے لپک کر شیبہ پر حملہ کیا اور قتل کردیا،پھر عبیدہ کو کاندھے پر اٹھا کر آپؐ کے پاس پیش کیا، ار وہیں وہ رفیق اعلی سے جا ملے۔ اب عام حملہ شروع ہوگیا، مشرکین اپنے اسلحہ وقوت کے بل پر لڑ رہے تھے، لیکن سروردو عالمﷺ  سر بسجدہ صرف خدا کی قوت کا سہارا مانگ رہے تھے، عبد الرحمن بن عوف کا بیان ہے کہ :جنگ کے دوران ابوجہل کو تلاش کرتے ہوئے ؛معاذ اور معوذ دو بچوں نے اس پر حملہ کیا اور اس کو موت کے گھاٹ اتاردیا، جس کو کہ آپؐ نے اس امت کا فرعون قرار دیاتھا،اسی طرح آپؐ نے جنگ سے قبل ہی مشرکین مقتولین کے نام اور جگہ کی نشاندہی فرمادی تھی، جب جنگ تھمی اور فضاپر سکون ہوگئی اور قریش نے سپر ڈال دی، تو مسلمانوں نے انہیں گرفتار کرناشروع کیا، ایسے میں انہوں نے پایا کہ رؤسائے قریش اوندھے منھ جہاں آپؐ نے بتایا تھا وہیں قتل کئے گئے ہیں۔ (تاریخ طبری:۲؍۱۸۷)

واقعہ یہ ہے کہ مسلمان صرف اور صرف رب واحدکی نصرت و اعانت میں مرتب صف بندی اور باقاعدگی کے ساتھ لڑ رہے تھے، جن کا ساتھ خدا کے برگزیدہ بندے فرشتے بھی دے رہے تھے،جبکہ کفارتین گنا زیادہ ہو نے کے باوجود ان میں کوئی ترتیب اور صف بندی نہ تھی، حالانکہ مسلمان جن میں صرف دو گھوڑے اور معمولی ہتھیار تھے ؛تب بھی قریش کے لوہے میں غرق سپاہیوں پر فتح پائی اور اختتام جنگ پر صرف چودہ لوگوں نے شہادت پائی جن میں چھ مہاجر اور باقی انصار تھے، لیکن دوسری طرف قریش کی اصل طاقت ٹوٹ گئی اور ان میں نام نہاد رؤسائے قریش مارے گئے، جیسے: شیبہ،عتبہ،ابوجہل،بختری،زمعہ بن اسود،عاص بن ہشام اور امیہ بن خلف وغیرہ۔۔ تقریباً ۷۰ آدمی قتل کئے گئے اور اسی قدر گرفتار ہو ئے، جنگوں میں آپؐ کا معمول تھا کہ لاش کو مٹی میں دبوا دیاکرتے تھے؛ مگر زیادہ تعداد ہو نے کی وجہ سے نعشوں کو ایک کنویں میں ڈلوادیا گیا، کاروائی مکمل ہو نے کے بعد اسیران جنگ کے ساتھ مدینہ لوٹے اور انہیں دو دو، چار چار صحابہ پر تقسیم کر دیا گیا،اور ارشاد ہوا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کامعاملہ کیا جائے۔ (تاریخ طبری:۲؍۱۳۶)

رحمت رسالت دیکھئے کہ ان میں سے بہتوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا، جس کی تعداد چار ہزار درہم تھی، اور جو لوگ غریبی کی وجہ سے فدیہ نہ ادا کر سکے وہ بھی چھوڑ دئے گئے؛ لیکن ان میں جو پڑھنا لکھنا جانتا تھا ان کو حکم ہوا کہ ہر ایک دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے یہی ان کا فدیہ ہو گا، حضرت زید بن ثابت نے اسی طرح لکھنا پڑھنا سیکھا تھا، جہاں ایک طرف مسلمانوں میں خوشی کی لہر تھی تو مکہ میں جب بدر کی خبر پہونچی تو گھر گھر ماتم تھا؛ لیکن عناد و دشمنی میں یہ اعلان کر دیا گیا تھا ؛کہ کو ئی بھی رونے نہ پائے غالباً یہ خدا کا عذاب ہی تھا جو بدر کے بعد اللہ نے ان پر مسلط کردیا تھا کہ وہ اپنے اپنوں پر آنسو بھی نہ بہا سکیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close