تاریخ اسلام

غزوۂ بدر!

عبدالعزیز

بدر مدینہ یا مکہ سے جو راستہ ملک شام کی طرف جاتا ہے اسی راستہ میں ایک مقام آتا ہے جسے بدر کہتے ہیں ۔ یہ چاروں طرف سے پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے۔ سمندر وہاں سے نظر آتا ہے۔اس کی لمبائی 5½ کیلو میٹر اور چوڑائی 4کیلو میٹر مدینہ کے جنوب میں ہے۔ مدینہ سے اس کی دوری 80کیلو میٹر ہے۔ اونٹ کی سواری سے 10 گھنٹے کا راستہ ہے جبکہ موٹر یا کار سے ڈھائی تین گھنٹے کا راستہ ہے۔ یہاں اسلام کیلئے پہلی جنگ لڑی گئی تھی۔ اسلامی تاریخ میں حق و باطل کی پہلی جنگ کہلاتی ہے۔ لڑائی یا جنگ کی بنا ہر زمانے میں ہوا کرتی ہے وہی بنائے نزاع تھی۔

 ایک گروہ دعوت حق قبول کرچکا تھا مگر مادی اور دنیوی اعتبار سے کمزور تھا۔ تعداد کے لحاظ سے بہت تھوڑے سے تھے ،چند گھروں اورمکانوں پر پورا مدینہ مشتمل تھا۔ آج جو مسجد نبویؐ کا رقبہ ہے یہی پورا رقبہ اس وقت مدینہ کا تھا۔ راقم نے حج کے موقع پر ایک ہندستانی عالم سے جو نماز ظہر کے بعد مسجد نبویؐ میں مختلف ملکوں کے بچوں کو پڑھا رہا تھا اور 25/30سال سے مدینہ میں رہتا تھا، اس سے جب دریافت کیا کہ صحابہ کرام کے گھر یا کوئی آثار مدینے میں ہیں ؟ تو اس نے کہاکہ کیسے کسی کے گھر یا کسی چیز کی نشانی ہوسکتی ہے۔ آج مسجد نبوی کا جو رقبہ تھا بس اتنا ہی بڑے رقبہ میں آنحضرتؐ کے زمانے میں مدینہ آباد تھا۔ اس کے مقابلے میں مکہ اور عرب میں آباد سارے قبائل اور یہود و نصاریٰ سب کے سب آنحضرت کی ذات مقدس اور آپ کی دعوت کے نہ صرف خلاف تھے بلکہ آپؐ کی جان اور آپؐ کی دعوت حق دونوں کے دشمن تھے۔ ان کو یہ کہا جاتا ہے کہ آپؐ جو چاہیں لے لیں مگر حق کی دعوت سے باز آجائیں اور جو ان کا کلچر، سنسکرتی اور مذہب و عقیدہ ہے اس پر چلیں جو ہمارے آبا و اجداد کا مذہب اپنائیں ورنہ آپؐ کی اور آپ کے رفقاء کی خیر نہیں ۔

مکہ والوں نے جب زندگی تنگ کر دی توداعیان حق بشمول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چند لوگوں کے سوا سب کے سب مختلف مقامات کیلئے ہجرت کرگئے۔ بعد میں سب کے سب مدینہ میں جمع ہوئے اور میثاق مدینہ کے تحت ایک ریاست کی بنیاد ڈالی۔ یہ مٹھی بھر داعیان حق مدینہ کے باطل پرستوں کی آنکھ میں کھٹکنے لگے اور مکہ والوں کا تو یہ حال تھا کہ وہ اپنے شہر میں رہنے نہیں دیئے اور مدینہ سے بھی حق پسندوں کے وجود کو مٹانے کیلئے 950 افراد پر مشتمل لڑنے کیلئے میدان بدر میں آکر پڑاؤ ڈال دیئے۔ ان سب کے پاس 100گھوڑے تھے اور اونٹ لاتعداد ۔ ہر پڑاؤ پر کھانے کیلئے نو دس اونٹ ذبح کرتے تھے اور سازو سامان بھی بہت تھے۔ سامان جنگ میں زرہیں اور تلواریں سب کے پاس تھیں ۔ ان کے 950 کے مقابلے میں حق پرست صرف 313 تھے۔ ان میں صرف دو کے پاس گھوڑے تھے اور 70 اونٹ تھے۔ ہر اونٹ کی سواری میں تین تین افراد شریک تھے۔ باری باری سوار ہوتے تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شریک مرکب ایک حضرت علیؓ اور دوسرے حضرت ابو لبابہؓ دونوں نے رسول اکرمؐ کی خدمت میں عرض کیا ہم خوشی سے پیدل چلیں گے، آپؐ سواری فرمائیں ۔ فرمایا: تم دونوں پیادہ روی میں مجھ سے زیادہ طاقت ور ہو اور نہ میں ثواب حاصل کرنے میں بے نیاز ہوں یعنی پیدل چلنے کا ثواب زیادہ ہے تو میں اسے کیوں چھوڑ وں ۔ یہ ہے نبوی قیادت اور نبوی مساوات ۔ آج کی مسلم قیادت ان بنیادی امور سے غافل ہوگئی ہے۔ قائدوں کی کمی نہیں جو اپنی برتری کیلئے سیکڑوں بہانے تلاش کر لئے ہیں جو فکر و نظر کے قریب ہیں ۔

 اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے سورہ آل عمران کی آیت 13 میں جنگ شروع ہوجانے پر جو تبصرہ فرمایا ہے اس میں چشم بینا رکھنے والوں کیلئے بڑا سبق ہے اور عبرت آموز ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’تمہارے لئے ان دو گروہوں میں ایک نشان عبرت تھا جو (بدر میں ) ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا۔ دیکھنے والے بچشم سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دو چند ہے، مگر (نتیجے نے ثابت کر دیا کہ) اللہ اپنی فتح و نصرت سے جو چاہتا ہے مدد دیتا ہے۔ دیدۂ بینا رکھنے والوں کیلئے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے‘‘۔

اللہ تعالیٰ اپنی آیت کریمہ میں فرمایا کہ اس میں نشانیاں ہیں جو دو گروہ ایک دوسرے سے میدان جنگ میں برسر پیکار ہیں ۔ یہ بھی بتایا کہ ایک اللہ والوں کا گروہ ہے جبکہ ایک گروہ شیطانی گروہ جو اللہ والوں کے خلاف اگر چہ ان کی تین گنا ہے ان کے پاس بہتر اسلحہ یا ہتھیار کی طاقت ہے اس کے باوجود ان کی ہزیمت اور ہار ہوتی ہے جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اللہ کی تائید پہلے والے گروہ کے ساتھ ہے جو اللہ کی راہ میں لڑ رہے ہیں ۔

دونوں گروہ کو دیکھ کر بھی لوگ سمجھ سکتے تھے کہ ایک گروہ اللہ والوں کا ہے جو خدا ترس،پرہیزگار، نمازوں اور روزوں میں مشغول ہے جبکہ دوسرا گروہ جو شیطانوں کی جماعت ہے ان میں شرابوں کا دور چل رہا ہے اپنے ساتھ وہ لونڈیاں لے کر آئے ہیں ۔ ایک دوسرے کو خوب داد عیش دے رہے ہیں ۔ دونوں گروہوں کا فرق ہر ایک کی سمجھ میں آسانی سے آسکتا ہے۔ آیت کے آخرمیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حق و باطل کی اس جنگ کی ہار اور جیت سے ایسے لوگوں کیلئے تازیانہ ہے جو اپنے مال و دولت ساز و سامان پر اترا رہے تھے مگر ان کو زبردست ہزیمت اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کا سبق تھا کہ اللہ والے حق پر ہیں ۔ ابو جہل نے خود کہا تھا کہ جو جیتے گا وہی حق پر ہوگا۔ وہ تو نارجہنم ہوا مگر جو لوگ شیطانی گروہ میں بچ گئے وہ بھی اس جنگ سے سبق نہ لے سکے۔

 آج بھی یہی صورت حال ہے۔ باطل پرست کسی بھی شئے یا واقعہ سے سبق لینے سے قاصر ہوتے ہیں ۔ شیخ سعدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ عقلمند کھیل کھیل کی باتوں سے بھی کچھ سیکھ لیتے ہیں جبکہ بیوقوف عقل کی باتوں کو بھی کھیل سمجھتے ہیں ۔ بے عقلوں اور بے وقوفوں کا حال ہمیشہ دنیا میں اسی طرح رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close