تاریخ اسلام

فضائے بدر پیدا کر۔۔۔۔!

شیخ فاطمہ بشیر

17 رمضان المبارک، 2ہجری، بروز جمعہ، اسلامی تاریخ کا وہ دن ہے جب کفر و اسلام کا عظیم الشان معرکہ رونما ہوا۔ بدر کے میدان میں ایک عظیم اور اہم واقعہ پیش آیا۔ حق باطل پر غالب آگیا۔ اللہ رب العزّت نے اپنی قدرتِ کاملہ کے ذریعے اپنے رب ہونے کی تائید کو ظاہر فرما کر اہلِ ایمان کے حق پر ہونے کو مدلّل  فرما یا۔ سچ اور جھوٹ، حق اور باطل، صحیح اور غلط اور کھرا و کھوٹا چھانٹ کر رکھ دیا گیا۔ جنگِ بدر تاریخ کا ایسا مشہور سانحہ ہے جب کفر کی طاقت میدانِ جنگ میں توڑ ڈالی گئی اور اسلام کو بلندی عطا کی گئی۔

 آئیے اس جنگ کا تاریخی پسِ منظر ملاحظہفرما تے ہیں ۔ مدینہ منوّرہ میں رسولؐ اپنے جاں نثاروں سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا 40 سواروں پر مشتمل شام سے لوٹتے ہوئے ابو سفیان کے قافلے پر حملہ کیا جائے یا مکّہ سے آنے والی فوج کے ساتھ نبردآزما ہوا جائے؟ حضرت ابوبکرؓ،  حضرت عمرؓاورحضرت  عثمانؓ کی رضامندی کے بعد انصاری صحابی سعد بن ابی معاذؓ کے الفاظ تاریخ میں سنہرے حرفوں میں درج ہیں : ’یا رسول اللہؐ مدینہ والوں کی رائے آپؐ کی رائے سے محتلف نہیں ۔ ہم آپؐ کے حکم کے تابع ہیں ۔ آپؐ جس سے ہمیں لڑائیں گے، ہم لڑیں گے۔ جس سے صلح کروائیں گے، کریں گے۔جن تعلقات کو توڑیں گے، انھیں توڑدیں گے۔جن سے جوڑیں گے، ان سے جڑ جائیں گے۔آپؐ ہمیں حکم دیں ، ہم آپؐ کے ساتھ ہوں گے۔ہم میں سے ایک بچہ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اگر آپؐ ہمیں سمندر میں کودنے کا حکم دیں گے تو ہم کود جائیں گے۔ہم موسٰیؑ کی قوم کی طرح نہیں کہینگے ـکہ آپؐ اور آپؐ کا رب جاکر لڑیں ہم یہاں بیٹھے ہیں ۔بلکہ آپؐ اور آپؐ کا رب جہاں چلے، ہم ساتھ ہیں ۔ہم آپؐ کے آگے، پیچھے ، دائیں اور بائیں  لڑیں گے، اور آپؐ پر قربان ہوں گے۔

‘بالآخر رضائے خداوندی اور صحابہ اکرامؓ کے مشوروں کے بعد 12 رمضان المبارک کو 313 مجاہدین کی فوج کے ساتھ آپؐ نے مدینہ سے کوچ کیا اور 14 رمضان کو مکّہ اور مدینہ کے درمیان بدر کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ یہی وہ اسلامی لشکر تھا جن کے ذریعے قدرت تاریخ کا رُخ موڑنے والی تھی۔ یہ وہ جاں نثار تھے جنھیں قرآن میں بخشش کی نوید سنائی جانے والی تھی اور جن کے لیے مغفرت کے وعدے کیے جاچکے تھے۔ یہی وہ بندگانِ خدا تھے جو دین کی اقامت کے لئے ، خیر کا معاشرہ قائم کرنے کے لئے،نظامِ اسلام کے نفاذ کے لئے، شر کو مٹانے کے لئے اور خیر کو پھیلانے کے لئے، انسانیت کی فلاح کے لئے، امن و امان کے قیام کے لئے اور قرآن کا نظام نافذ کرنے کے لئے اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہوئے تھے۔جن کی بے سروسامانی کا حال یہ تھا کہ پورے لشکر میں صرف ۶ زرہیں ،8 تلواریں ، 60 نیزیں ، 2 گھوڑے اور 70 اونٹ تھے۔ان کے مقابل کفّار کی فوج 1000 جنگجو اور بہادر سپاہی، 100 بہترین گھوڑے، 700 اونٹ، نیزہ بردار، تیر انداز اور عیش و عشرت کے سامان کے ساتھ تھیں ۔ ایک طرف مسلمان تعداد اور اسلحہ کے لحاظ سے بہت ہی کمتر اور پست حالی میں تھے وہیں دوسری طرف باطل کی طاقت پوری طرح کیل کاٹے سے لیس میدانِ جنگ میں اتر آئی تھیں ۔

 16 رمضان رات آپؐ نے بدر میں جاگ کر اللہ کے حضور گریۂ وزاری میں گزاری۔ بدری صحابہؓ کے متعلق گواہی دیتے ہوئے آپؐ فرمارہے تھے کہ’یا اللہ اگر یہ چند نفوس ہلاک ہوگئے تو قیامت تک روئے زمین پرتیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔‘ایسی رقت آمیز دعا مانگی کہ آپؐ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ دوشۂ انور سے چادر ِمبارک گرگئی ،اور حضرت ابوبکرؓ کو تسلی کے یہ الفاظ کہنے پڑے کہ ’اے اللہ کے رسولؐ، اللہ ضرور آپؐ کی مدد کریگا۔‘آخر17 رمضان کی صبح طلوع ہوئی۔آپؐ نے آیتِ جہاد کی تلاوت فرماکر ولولہ انگیز وعظ فرمایا جس سیمجاہدین کی رگوں میں خون کا قطرہ قطرہ جوش و خروش کا سمندر بن کر طوفانی موجیں مارنے لگا۔آپؐ نے انکی صفوں کو درست فرمایا۔ اللہ کی مدد کا وعدہ یاد دلایا کہ اگر صبر کے ساتھمیدانِ جنگ میں ڈٹے رہے تو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے فرشتوں کی فوج آسمان سے ضرور نازل فرمائے گا۔باضابطہ دوبدو لڑائی شروع ہوئی۔ 1000 فرشتوں کے ذریعے اللہ نے    مجاہدینِ اسلام کی مدد فرمائی۔بڑے بڑے سردارانِ قریش قتل کر دیئے گئے۔ سردارِ لشکر ابوجہل کو دو بچوں نے قتل کیا۔صحابہـ ـکرام ـؓجذبہ اور ہمت سے اس معرکے میں موجود رہے اور عزم و ولولے سے مقابلہ کرتے رہے۔ اور پھر سورج غروب ہونے کے قریب  میدانِ جنگ کا نقشہ پلٹ کر رہ گیا۔ اللہ کی تائید سے مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔14 خوش نصیب شہید ہوئے۔ بے شمار قیمتی مالِ غنیمت حاصل ہوا، جبکہ کفار تباہ و برباد کر دیئے گئے۔ 70 قتل، 70 گرفتار اور باقی اپنا سازوسامان چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ قریش کے بڑے بڑے نامور سردار موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔

 جنگِ بدر ایک ایسا عظیم اور عجیب و غریب معرکہ تھا جب تعداد اور سامانِ جنگ کی قلّت کے باوجودفتح مبین نے مسلمانوں کے قدموں کا بوسہ لیا۔اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ فتح کثرتِ  تعداد اور سامانِ جنگ کی فراوانی پر موقوف نہیں بلکہ اسکا دارومدار نصرتِ خداوندی پر ہے، اور اللہ کی مرضی پر منحصر ہے۔ وہ جب چاہتا ہے تو فرشتوں کی فوج  میدانِ جنگ میں اتارکر مسلمانوں کی امداد و نصرت فرماتا ہے، جس سے وہ قلتِ تعداد اور قلیل سامانِ جنگ کے باوجود کفار کے لشکروں کو تہس نہس کرکے انھیں فنا کے گھاٹ اتار دیتے ہیں ۔ لیکن اس مدد کے لیے اللہ سبحانہ‘ تعالیٰ نے صبر اور تقویٰ کی شرطیں رکھی ہیں ۔ اگرمسلمان  صبر و تقویٰ کے دامن کو تھام کر ، نصرتِ خدا پر بھروسہ کرکیمیدانِ جنگ میں اَڑ جائے تو انشاء اللہ ، ہمیشہ اور ہر محاذ پرفتح مبین   مسلمانوں کے قدم چومیں گی اور کفار شکست سے دوچار ہوکرراہِ فرار اختیار کریں گے یا محاذ سے فنا ہوکر فی النار ہوجائیں گے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان  صبر و تقویٰ کے پیمانوں سے لیس ہوکر اللہ کی مدد پر بھروسہ کرکے ، تعداد کی کمی اورسامانِ جنگ کی قلت و کثرت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کفار کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے   میدانِ جنگ میں استقامت کا پہاڑ بن کر کھڑے رہے تو اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:’مدد فرمانے والا تو صرف اللہ ہی ہے۔‘ اور جب اللہ کی ذات اور اسکی مدد پر گہرا یقین ہو تو ہر انشاء اللہ۔۔الحمداللہ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

 آج ہم منتظر ہیں کہ ویسی ہی مدد آئے جیسی مدد صحابہـ ـکرام ـؓکے ساتھ تھی ۔ لیکن آج ہمارے عمل، کردار،اخلاق،خیال،دیانت،امانت،صداقت،نیز ہر شئے کے جنازے اُٹھ گئے ۔ہر جگہ درندگی، آوارگی، فحاشی، بے حیائی، بد دیانتی، ظلم و ستم اور جھوٹ نے ڈیرے ڈال دیے ہیں ۔ہماری اکثریت اخلاقی پستی میں دفن ہوگئی ہے۔سچ بولنے والے کم ہیں ۔حیا روٹھ گئی ہے اور پاکدامنی گُم ہوگئی ۔ عدل، صدق ، امانت اور دیانت صرف کتابوں کے الفاظ رہ گئے ہیں ۔ دنیا کی ہوس اور آخرت سے دوری، فانی چیز کی محبت اور ابدی چیز سے لا تعلقی ہم میں رَچ بَس گئی ہے۔اور اللہ کی مدد کا وعدہ ان سے ہیں جو دین و اسلام کے متوالے، تقویٰ و پرہیزگاری کے حامل ، عقبیٰ کے طلبگار اور حسنِ انجام کے خواہشمند ہوتے ہیں ۔

؎  اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی

ہو جسکے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد

  شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا

پر دَم ہے  اگر تو ، تو نہیں  خطرہـ ٔافتاد

بدر کا پیغام:

 1)مجاہدینِ اسلام کی کامیابی اور فتح اللہ کی تائید سے ہے اور اسکا سبب ایمان، عزم و وفاداری، تعلق باللہ اور پیرویٔـــــــــــ ــــرسول ؐ ہے۔

2)اطمینان ہو کہ اللہ کی رضا کے لیے ہم نکلیں ہیں تو اللہ ہرگز ہمیں ضائع نہیں کریں گا۔

3)اللہ پر توکّل اور عزم و ولولہ، وسائل کی کمی پر غالب آجاتا ہے۔

4) وہی جذبہ ایمان اور اقامتِ دین کے لیے جدو جہد ہم میں بھی ہو، تاکہ اسلام سر بلند رہے۔

5) فرائض کی پابندی ہو۔ اللہ کی راہ میں جدو جہد ، انفاق اور دین کی اقامت بھی  فرائض میں شامل ہیں ۔ اور جہاد بالمال وقت کی ضرورت اور تقاضہ ہے۔

6) ہماری صفوں کی کمزوری ، اتحاد کی کمی اور انتشار دور کرنا ہمارا مقصد ہو۔ امّتِ مسلمہ کامیاب تھی، کامیاب ہیں اور کامیاب ہوگی۔ بس متحد ہوکر اس دین کے غلبہ کے لئے کوشش ہو، کیونکہ خیر اسی امّت کے پاس ہے۔ اصلاح بھی ہو اور عالمِ انسانیت تک خیر و امن کا پیغام بھی پہنچایا جائے۔

7) اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا ہے، کیونکہ

؎  فضائے بدر پیدا کر، فرشتے تیری نصرت کو

اُتر سکتے ہیں گردوں سے، قطار اندر قطار اب بھی

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close