تاریخ اسلام

قرن اول کی صدا

سلیمان سعود رشیدی

 تاریخ انسانی نے تشکیل وتعمیرانسانیت کے اعلی ترین نتائج اور شاندار نمونے کم ہی دیکھے ہیں ، لیکن جب تاریخ کو اس مشاہدہ کی سعادت حاصل ہوئ تووہ کسی نبی کے آئینہ تربیت کے واسطے سے ہی ہوئ ہے، دنیا کی کوئ قوم ایسی روشن اور تابناک مثالوں سے خالی نہیں رہی ہے بنوت کے تحفہ کئی ایک کو ملا اور اسکے اثرات اور نتائج بھی دیکھائے گے، لیکن ساتویں صدی عیسوی کے آغاز میں جب انسانی تاریخ کے اس سلسلہ کے اختتام کا اعلان ہورہا تھا اور چشم فلک اور روئے زمین کو بس ایک نظارہ کا موقع رہ گیا تھا، توایک جلوہ آسمانی پیش کیا گیا، جسکے سہر تاہان کی تیز  روشنی کے سامنے سارے چراغ ماندپڑگئے، یعنی سید الاولین کی سیادت وقیادت کا علم اٹھا، اور انکے قافلے ہدایت نے صدائے جرس لگائ پھر بس کیا تھا کون مکان چشم براہ اور گوش بر آوازہوگےسونے چاندی کے کانوں سے ہی نہیں بلکہ لوہے اور کوئلے کی کانوں سے جو مال نکالاگیا اور جب اسکو صقیل کرکے دنیا کے سامنے پیش کیا گیا تو دنیا اس کندن اور آبداری موتی کو آنکھیں مل مل کر دیکھتی رہی۔

پہلا سبق 

یہ قانون قدرت ہے کہ  طلوع آفتاب سے قبل سپیدہ  سحرنمودار ہوجاتی ہے، بران رحمت سے پہلےٹھنڈی ہوائیں موسم پر شگال کا پتہ دیتی ہیں  اسی طرح جوں جوں آپکی عمر بڑھتی جاتی اور نبوت کا قریب آتاجارہاتھاآپکے مزاج میں غیر معمولی تغیر نمایا ہورہا تھا اور روح ایک لامعلوم شئ کے لیے بے قرار بے چین تھی، دھیرے دھیرے آپکی طبیعت عزلت نشینی کی طرف مائل ہوتی جارہی تھی، آپ سامان خورد ونوش لیے مکہ سے باہرغار حرا میں دنیا کے نگاہوں سے الگ مجاہدہ وریاضت اور مراقبہ میں مشغول رہتے تھے، جب قلب فیضان الہی کو قبول کرنے کے قابل ہوگیا تب نبوت کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوگے۔

مولانا ابو الاعلی مودودی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں :

آپ پروحی کی ابتداسچے واقعات  خوابوں کی شکل میں ہوئ آپ جو خواب دیکھتےوہ ایسا ہوتا کہ جیسے آپ دن کی روشنی میں دیکھ رہے ہیں ۔ ۔۔بیہقی کی روایت ہے کے یہ معاملہ نبوت کے چھ مہینہ پہلے سے شروع ہوگیا تھا، (۱)

جوں جوں یہ مدارج بڑھتے جارہے تھے، فیضان الہی کی لہریں زیادہ تیز ہوتی جارہی تھی تا آنکہ آپ عمر مبارک کے چالیسویں بہار میں پہنچ گئے تو اچانک فرشتہ غیب نظر آیا اور آپ سے کہنے لگا۔

علامہ علی ابن برہان الدین علی حلبی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں :

غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب میں سورہاتھا میرے پاس حضرت جبرئیل ایک ریشمی کپڑا لیے ہوے آئےجسمیں ایک کتاب تھی یعنی ایک تحریر، اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ اقرا۔۔۔ میں نے کہا میں پڑھ نہیں سکتا  اسپر انہوں نے سینے سے ملا کر بھینچا۔۔اور پھرکہا پڑھیے۔۔۔اس پر میں نے کہا کیا پڑھوں ۔ ۔۔اسپر جبرئیل نے کہا’’اقرا باسم۔ ۔۔۔۔‘‘(۲)

آغاز اسلام

یہ موقع نہایت غیر معمولی تھا گھر واپس تشریف لائے تو سینہ جلال الہی سے لبریز تھا حضرت خدیجہ سے واقعہ بیان کیا، جس پر آپ نے تسلی دی، اور آپ ﷺ کو اپنے عزیز ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئے، بن نوفل نے واقعہ سن کر کہا :یہ تو وہی ناموس ہے جو حضرت موسی ؑ  پر اترتا تھا، کاش اگر میں زندہ رہوں تو آپ کی مدد ضرور کرونگا، اس کے بعد حضرت جبرئل ؑ کے ذریعہ آپ ﷺ پر اصل حقیقت منکشف ہوگئی اور آپ نے اپنا فرض انجام دینا شروع کیا۔

خفیہ تبلیغ

 ایک ایسی قوم جو پیڑیوں سے شرک وضلالت کے گھٹاٹوپ اندھیرویوں میں خیمہ زن تھی، ایسے میں انہیں دعوت اسلام دینا، گویا رؤسائے قوم کے برسہابرس سے گڑھے اقدار کے شامیانہ کو بھسم کرنے کے مرادف تھا اس لئے ابتدائی تین سالوں تک  آپ خفیہ طریقہ سے اسلام کو ان سعید روحوں تک پہچاتے رہئے جو محض افہام وتفہیم، ذکر وتذکیر سے شرک کی چادر میں شگاف کرکے آغوش اسلام میں پناہ گزینی کے لئے آمادہ ہوسکتی تھیں ۔

علامہ شاہ معین الدین احمد ندوی تحریر فرماتے ہیں :

جو لوگ آپ کی عادات وفضائل سے اچھی طرح واقف تھے، انہوں نے بلاتامل اس دعوت کو قبول کرلیا، چنانچہ عورتوں میں سب سے پہلے آپکی رفیقہ حیات حضرت خدیجہؓ، مردوں میں آپکے قدیم رفیق ومحرم راز ابوبکر صدیق، غلاموں میں آپکے محبوب غلام زید، نوعمروں میں آپکے چچازاد بھائی حضرت علیؓ اسلام سے مشرف ہوئے۔

اس کام میں سب سے زیادہ صدیق اکبر کے اثرات کارگرثابت ہوئے، انہوں نے جن جن پر اعتماد کیا انکو دعوت اسلام پیش کیا، جنکی تبلیغ سے متاثر ہوکر ایک اچھی خاصی تعداد قلعہ اسلام میں داخل ہوتی گئی، اورجو مسلمان ہوا وہ آگے اپنے حلقہ احباب میں زندہ روحوں کی تلاش کرکے اندر ہی اندراسلام پھیلاتا گیا، اس زمانہ میں مسلمان چھپ کر مکہ کی گھاٹیوں میں خدا کی عبادت کرے تاکہ کسی کو انکے اصلی گھر واپسی کا پتہ نہ چلے۔

دار اقم مرکز تبلیغ

 ڈھائی سال سے کچھ زیادہ ہی مدت گذری تھی کہ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس پر خدشہ ہونے  لگا کہ کہیں کفار مکہ سے قبل از وقت تصادم نہ ہوجائے، واقعہ یہ تھا کہ سعد بن ابی وقاص اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مکہ کی گھاٹیوں میں عبارت میں مصروف تھے (نماز پڑھ رہے تھے) جسے کفار کی ایک جماعت دیکھ کر انھیں سخت سست جیسے طعنہ دینے لگی اوران پر (صحابہ) چڑھ  آنے لگی، جس پر سعد بن وقاص نے برہمی سے ایک کو پکڑ کرمارا جس سے اسکا  منھ پھسٹ گیا یہ وہ پہلا خون تھا جو اسلام کے نام پر بہایا گیا، اس واقعہ کے بعد آپﷺ اپنے صحابہ کو لیکر دارارقم میں آگئے جو کہ صفا کے قریب تھا۔

سید ابو الاعلی مودودی ؒ تحریر فرماتے ہیں :

حضرت ارقم بن ارقم کے مکان کو مسلمانوں کا اجتماع اوردعوت وتبلیغ کا مرکز بنادیا گیا، تاکہ مسلمان یہی جمع ہوکر نماز پڑھیں اورجو لوگ خفیہ طور سے مسلمان ہوتے جائیں وہ یہاں  آتے ہیں ۔ ۔۔خفیہ دعوت کے دورکے اختتام ہوتے اور اعلانیہ دعوت عام کےابتدا کےبعد بھی یہ مسلمان کا مرکز رہا۔

تین سالہ رپورٹ

  آفتاب حق کی کرنیں ان کثیف بادلوں اوردقیق پردوں سے چھن چھن کر سطح قلوب پر پڑی اوراکناف واطراف کو روشن کرتی جارہی تھی جسکا ثمرہ یہ نکلا، خفیہ دعوت کے اس مختصر عرصہ میں قریش کے جن جن قبیلوں کے جتنے لوگ مسلمان ہوئے اورباہر کے لوگوں اورمولیٰ وغلاموں میں سے جن جن نے اسلام قبول کیا ان مسخر دلوں اورروشن میناروں کا اجمالی خاکہ یہ ہے۔

بنی ہاشم سے چار مرد تین عورتیں بنی عبد المطلب سے ایک مرد، بنی عبدالشمش سے ایک مرد ایک عورت، بنی امیہ سے دومرد تین عورتیں ، خلفائے بنوامیہ سے تین مرد، بنوتمیم سے پانچ  مرد دوعورتیں ، خلفائے بنوتمیم سے ایک مرد، بنواسد سے چارمرد، بنی عبدالعزی سے ایک مرد، بنوزہرہ سے سات مرد، بنی عدی سے آٹھ مردوعورتیں خلفائے بنی عدی سے آٹھ مردوعورتیں ، خلفائے بنی عدی سے چانچ مرد، بنی عبد الدار سے چار مرد، بنوجمح سے نومرد دوعورتیں ، بنو سہم سے تیرہ مرد، خلفائے بنوسہم سے دومرد، بنومخزوم سے نومردوعورتیں ، خلفائے بنومخزوم سے تین مرد، بنی عامر سے سات مرد تین عورتیں ، بنی فہر سے چھ مرد، بنی قفی سے ایک مرد۔

یہاں تک وہ لوگ تھے جو مکہ کے بڑے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں انکے علاوہ مولی غلاموں لونڈیوں کے نام یہ ہے۔

ام ایمن، زنیرہ، بلال بن رباح، حمامہ، ابوفکہہ، لبیبہ، عامربن فہرہ، سمیہ، محجن بن الاورع، مسعود بن ربیعہ

ابتدائی چار کو ملاکر کل تعداد ۱۳۳ بن جاتی ہے، مذکورہ اعدادوشمار متعددکتب سے اخذ شدہ ہے، ان تمام کے ناموں کے لئے ابوالبرکات عبدالروف صاحب کی تصنیف”اصح السیر”کے صفحہ ۱۶ سے ۲۴ تک اورابوالاعلی مودودی صاحب کی تصنیف ”سیرت سرور عالم”کی جلد ۲صٖفحہ ۱۵۵ سے ۱۶۱ تک ملاحظہ ہو۔

اعلانیہ تبلیغ

آپ کا فرض تنہاخفیہ تبلیغ اور چند آدمیوں کے ہدایت یاب ہونے پر ختم نہ ہوجاتاتھا، بلکہ سارے عالم کو اعلانیہ دعوت  دینا تھا، اس لیے تین سال کے بعد اعلانیہ تبلیغ کے احکام نازل ہوئے۔

فاصدع بما توامرواعرض عن المشرکین

ترجمہ آپ کو جسبات کا حکم دیا گیااسکو صاف صاف سنادیجئےاور مشرکین کی پرواہ نہ کیجئے

وانذر عشیرتک الاقربین۔۔۔

اس حکم پر آپ پرچم توحیدسنبھال کر سارے صدمے برداشت کرتے ہوئے لات ومنات  کے آستانوں کی نفی کرتے گئے، اور فاران کی بلندچوٹی   سےیا معشر قریش کہہ کر لوگوں کوخطاب کیا، اس عظیم مقصد کے تحت بعض حالات میں انتہائ خطرناک صورت حال کا سامنے کرتے ہو تبلیغ کا فریضہ اداکیا۔

سید سلمان ندوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں :

آپ علیہ السلام نے ان (مکہ والوں ) سے پوچھااگر میں تم سے کہواس پہاڑکے پیچھے تمہارے دشمن کا ایک لشکر آرہاہے تو کیاتم اس کا یقین آئیگا؟سب نے کہا ہاں ۔۔۔تومیں یہ کہتا ہوں اگر تم نے اللہ کے پیغام کونہ مانا تو تمہاری قوم پر ایک بہت بڑی آفت آئے گی یہ سن کر ابولہب نے کہا، کیا تم یہ سنانے ہم کو بلایا تھایہ کہہ کر اٹھااور چلاگیا اور قریش کے دوسرے سردار بھی خفاہوکر چلے گئے۔

اس واقعہ کے چند دن بعد آپ نے ایک دعوت کا انتظام کیا اورآل عبدالمطلب کو جمع کرکے کہا کہ میں وہ چیز لیکر آیا ہوں جو دین ودنیا دونوں کی کفیل ہے، اس میں میرا کون ساتھ رہیگا، اس پر بھی سوائے حضرت علی ؓ کے کوئی آپ  کی بات میں حامی نہیں بھری بلکہ سب خاموشی کے ساتھ لوٹ گئے۔

مخالفت کا آغاز

  اب تک مسلمانوں کی تعداد میں خاصہ اضافہ ہوچکا تھا اس پر آپ ؑ نے ایک دن حرم میں داخل ہوکر توحید کا اعلان کیا۔

شاہ معین الدین احمد ندوی تحریر فرماتے ہیں :

۔۔۔حرم کے اندرہی مشرکین آپ پر ٹوٹ پڑے، حارث بن ابوہالہ نے آپ کو بچانے کی کوشش کی اس میں وہ شہید ہوئے، یہ راہ خدا میں پہلا خون تھا۔

 یہاں سے اس تبلیغ کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے جس میں حق وباطل کے مابین ایک سخت جان گسل کشمکش برپا ہوئی، جس کا سلسلہ آٹھ سے نو سال تک چلتا رہا، جس طرح گھر گھر ایک الگ خدا تھا، اسی طرح قبیلہ، قبیلہ کا ایک رئیس تھا، سبھی متفقہ طور پر پرانی جاہلیت کو برقرار رکھنا چاہتے تھے، وہ اس تحریک کو سرے سے مٹادینے پر تل گئے، اولاً توصلح وآشتی سے آپ ؑ کو باز رکھننے کی کوشش کی، جب اس کے اندر مایوسی مقدر آئی تو روسائے قریش کا ایک وفد ابوطالب کے پاس شکایت لیکر آیا، لیکن بات نہ بن پڑی دوبارہ، سہہ بارہ ابوطالب کے پاس آئے، تو ابوطالب (چچا) نے اپنے بھتیجے محمد بن عبداللہ کو پاس بلا کر کہا کہ اے محمد۔۔!اپنے چچا کو ناقابل برداشت غم نہ دے اورقوم کی مخالفت چھوڑدے، توجواباً آپ ﷺ نے کو کہا اس کے الفاظ کچھ اس طرح سے تھے ”میں کامیاب ہوجاؤں یا اس راہ میں میرا خاتمہ ہوجائے ”یہ سن کر ابوطالب خاموش ہوگئے، کفار کف افسوس ملتے ہوئے یہ پلان بنایا کہ آپ ؑ کو طرح طرح سے اذیتیں دیں گے اور ہر زاویہ سے آپ کو اپنے شکنجہ میں لینے کی کوشش کریں گے، نیز دین کے خاتمہ کے لئے اہل اسلام کو ہر قسم کا لالچ دیتے رہے گے، لیکن امت محمدیہ کے ساتھ خدا کی مدد شامل حال تھی، کفار مکہ بدنصیبی اور ناکامی میسر آئی۔

مخالفین کی آمد

چند دنوں کے بعد آپ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ اوربنی عدی کے منصب دار حضرت عمردائر اسلام میں داخل ہوئے، ابن خطاب دوسرے روسائے قریش کے طرح اسلام اورمسلمانوں کے بڑی دشمن تھے، لیکن قرآن کی سحر آفرین آیتیں سن کر مسحور ہوگئے۔

شاہ معین الدین احمدندوی تحریر فرماتے ہیں :

۔۔۔بڑے جری اوردیدہ شکوہ شخص تھے، ان کے مسلمان ہوتے ہی دفعتاً حالات بدل گئے، انہوں نے بھرے مجمع میں اپنے اسلام کا اعلان کیا، مشرکین نے اول اول ان پر پڑئ سختی کی لیکن انکی ثابت قدمی انے انھیں شکست دی، حضرت عمر نے مسلمانوں کو لیکر حرم میں اعلانیہ نماز ادا کی۔ (۱)

مشرکین کا ظلم

 جب اسلام غربا اور کمزوروں سے بڑھ کر اکابرین شہر عمائدین  کنبے میں پھیلنے لگا اورانکے مقابلہ سے بے بس ہوگئے تو انکا غصہ غریب وبے حامی ومددگار مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا، چنانچہ انھیں ستاتے نئے نئے انداز ستم ایجاد کئے جانے لگے، تپتے سنگریزوں پر لٹایا، دہکتے انگاروں پر بٹھایا، کھولتے پانی میں غوطہ لگایا جاتا رسی سے باندھ کر گھسیٹا جاتا، بلال وخباب، عمار وصہیب اس ستم رسیدہ جماعت کے سرگروہ تھے، مرد تو مرد مسلمان عورتیں تک ان ظالموں کے ظلم سے محفوظ نہ رہ سکی، سمیہ، زنیرہ، لبیبہ بھی مشق ستم تھیں ، سمیہ کو تو ابوجہل نے نیزہ سے چھیدہ چھیدہ کر ہلاک کیا، لیکن یہ تمام سفاکیاں کسی ایک مسلمان کو بھی راہ اسلام سے ہٹانہ سکی۔

ہجرت حبشہ

 جب مشرکین کی ستم رانیاں حد سے سوا ہوگئی، جہاں جانور تک کو ستانے کی ممانعت تھی وہاں مسلمانوں کو سانس لینے کی گنجائش باقی نہ رکھی۔

سید ابوالاعلی مودوی ؑ فرماتے ہیں :

حالات جب ناقابل برداشت حدتک پہنچ گئے رجب ۵ (بعدبعث)مطابق اپرئل۶۱۴ءمیں حضور نے اپنے صحابہ سے فرمایا۔ ۔۔اچھا ہوگا کہ تم لوگ نکل کر حبشہ چلے جاؤ، وہاں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے یہاں کی ظلم نہیں ہوتا اوروہ بھلائ کی سر زمین ہے۔

ان مہاجرین میں گیارہ مرد چار عورتیں تھی، لیکن یہ ظالم قریش اپنی سفاکیت کے ساتھ وہاں بھی آدھمکے، لیکن نجاشی نے انکے سفارت کو ناکام لوٹادیا، اپنی ناکامی پرمارے طیش کے ستم رانی کا شکنجہ اورزیادہ کس دیا، اس لئے دوبارہ ایمائے رسول اللہ پر ۱۰۲مسلمانوں نے تحفظ دین وتبلیغ اسلام کی غرض سے ہجرت کرگئے۔

طائف کا تبلیغی سفر

اگرچہ یہ ستم گری کوئی نئی شیئ نہ تھی آپؑ اسے عرصہ دراز سے برداشت کرتے چلے آرہے تھے، اس راہ کے ہرکانٹے کو پھول سمجھے، لیکن اہل مکہ کی تمردانہ روش سے آپ ؑ کو ان کے قبول حق کی امیدباقی نہ رہی، کیونکہ یہ ہر آس کو یاس میں تبدیل کرچکے تھے، اسی لئے دوسرے بندگان خدا تک تبلیغ کی غرض سے ۱۰نبوی ۲۷شوال مطابق فبروری ۶۱۹ءکو طائف تشریف لے گئےاوریہاں کے روسا کے سامنے اسلام پیش کیا لیکن یہاں بھی وہی تمردوسرکشی نظر آئی، مکہ والے پھر بھی اپنے تھے سب تو نہ سہی بعضوں کوآپ ؑ کا پاس ولحاظ تھا، طائف والے بالکل بیگانہ تھے اس لئے انہوں نے اہل مکہ سے بھی زیادہ گستاخانہ سلوک کیا۔ ۔۔ع تھوڑے کہے کو کافی جانو

سیدابوالاعلی مودودی ؒ تحریر فرماتے ہیں :

۔۔۔اپنے آباشوں اورغلاموں کو آپکے خلاف اکسایا اورانہوں نے آپ کو گالیاں دی اورشورمچاکر لوگوں کو اکھٹا کیا۔ ۔۔ان لوگوں نے تاک تاک کر آپکی ایڑیوں اورٹخنوں پر پتھر مارے۔۔

لہذا آپ ان سے مایوس ہوکر ۲۳ ذیقعدہ ۱۰ نبوی کو طائف سے واپس ہوئے

تبلیغ میں وسعت

 واپسی پر مطعم بن عدی نے برادری کو بنیاد بناکر اپنے حمایت میں لیا، نیز مکہ داخل ہوکر یہ اعلان کردیا کہ اب کوئی نہ ستائے آپ ﷺ مطعم بن عدی کے امان کے بعد اوربھی زیادہ تیزی کے ساتھ اپنا فریضہ ادا کرنا شروع کیا۔

ابوالبرکات عبد الروف ؒ تحریر فرماتے ہیں :

موسم حج کے علاوہ، عکاظ، مجنہ، ذی المجاز، جہاں جہاں کفار جمع ہوتے تھے، وہاں جاکر آپ لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے۔ ۔۔ایام حج میں جب قبائل منیٰ میں جمع ہوتے تو آپ ایک ایک کے پاس جاتے اورترغیب وترہیب سے اسلام کی طرف رجوع کرنے کی کوشش کرتے۔

دشمن ابولہب آپکے پیچھے پیچھے ہرجگہ ساتھ جاتا اورہرسننے والے سے کہتا یہ دین سے بھر گیا ہے اس کی بات نہ سنو لیکن اس کی ساری محنت اکارت گئی اور ہوا وہی جو منظور خداتھا کہ رعایا تو رعایا قوم کے سردار تک دین کے سلسلہ میں تجسس برتنے لگے اورجوق درجوق اسلام کے چھنڈے تلے لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نام پر جمع ہونے لگے اوران کے سینوں اوردلوں سے کفروضلالت شرک وجہالت کی تاریکی ریت ومٹی کے تودوں کی طرح گرنے لگی۔

مدینہ میں تبلیغ اسلام

 ان حالات میں اللہ نے مدینہ کے دوقبیلہ اوس وخزرج کو ایمان کی سعادت بخشی، یہ لوگ حج کے لیئے مکہ آیا کرتے تھے، آپ نے انکے سامنے اسلام پیش کیا ان افراد میں سے چھ نفوس قدسیہ نے گہوارے اسلام کو مسکن بنانا پسند کیا اور اگلے سال بارہ آدمی آغوش اسلام میں پناہ لی، اورانھیں کی درخواست پر مصعب بن عمیرؓ کو ان کے ساتھ آپ ؑ نے انکا معلم بناکر روانہ کیا، انہوں نے گھر گھر نگر نگر چکر کاٹ کر مدینہ میں تبلیغ اسلام کیا جنکی کوشش سے مدینہ میں خاصی تعداد اسلام لانے لگی، سردار بھی رعایا کے ساتھ دامن اسلام میں پناہ لینے لگے سردار کا اسلام گویا ہورے قبیلہ کا اسلام تھا اگلے سال حج کے موقع پر ۷۲ اہل مدینہ آپ کے دست مبارک پر بیعت کی۔

مرکز تبلیغ کی منتقلی

 اگرچہ آفتاب اسلام کی کرنیں مکہ کی پہاڑیوں سے نکل کر مدینہ کے افق تک پہنچ گئیں تھی لیکن اہل مکہ کے تمردوسرکشی کا وہی حال تھا معتد بہ جماعت اسلام لاچکی تھی، سوئے قسمتی ان چند رؤسا کی جو راہ اسلام کے سنگ گراں تھے، جواب تک ضلالت پر ہی قائم تھے، اسلام کی ترقی دیکھ کر ان کا جنون تیز ہوجاتا جس کے سبب غریب مسلمانوں کے لئے مکہ کی زمیں تنگ کررہے تھے، آپ ﷺ کا مشن سارے عالم کو اللہ کے سامنے جھکانا تھا، دنیا کو بتوں کی آلائش سے پاک کرنا تھا، یہ امرمکہ میں رہ کر ممکن نہ تھا، جس کے لئے کسی پر امن مقام کی ضرورت تھی اوس وخزرج کے اسلام سے مدینہ میں اسلام کی ایک پشت پناہ جماعت تیار ہوچکی تھی، اس لئے آپ نے اسلام کا تبلیغی مرکز مکہ سے مدینہ منتقل کرنے کا عزم کیا، جس پر انصار مدینہ اپنے سینوں کو جاہ قدم اورپلکوں کو فرش راہ بنادیا اورمہاجرین کی ذرہ نوازی میں کوئی کوتاہی نہ برتی۔

مدینہ اور تبلیغ اسلام

جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے جیساکہ اوپر گذرچکا کہ اوس وخزرج پہلے اسلام لاچکے تھے انہیں سابقین میں سے قبیلہ غفار کا آدھا قبیلہ مسلمان ہوچکا تھا اب باقی آدھا بھی دامن عافیت مین امان لی، اور قبیلہ اسلم بھی اسلام میں داخل ہوگیا، اس طریقہ سے قبیلہ مزینہ کے چار سوآدمی قبیلہ اشجع، جہنیہ کی یہ اطاعت اورسبقت اسلام دیکھ کر آپ ﷺ نے انکے حق میں دعا خیر کی، جب صلح حدیبییہ کا واقعہ پیش آیا اورکفار مکہ اورسلم مسلمان نہایت آزادی کے ساتھ ایک دوسرے سے ملنے لگے جنکے مابین ایک خاموش تبلیغ ہوتی رہی، جس کا اندازہ اس سے لگا سکتے کہ یہ وہ مسلمان جنکی تعداد صلح حدیبہ کے وقت صرف ڈیرھ ہزار تھی لیکن جب دوسال بعد فتح مکہ کا مودقع آیا تواس اسلام کے علمبردار کے ساتھ دس ہزار کا لشکر جرّار تھا۔

فتح مکہ کے ثمرات

تمام عرب تو لیت کعبہ کی بنا پر قبیلہ قریش کو مذھبی رہنما تصور کرتا تھا، اس سے بیشتر احباب انتظار میں تھے کہ دیکھیں قریش کا کیا ہوگا، عمرو بن سلمہ ایک صحابی رسول میں اس سلسلہ میں آپ کے الفاظ  کچھ اس طرح میں جو آج بھی بخاری شریف کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔

وکانت العرب تلوم باسلامھم الفتح فیقولون اترکوہ وقومہ فانہ ان ظھر علیھم فھوبنی صادق فلما کانت وقعہ اھل الفتح بادر کل قوم باسلامھم

عرب قریش کے اسلام کا انتظار کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ کو انکے قوم (قریش) پر چھوڑدو اگر محمد غالب آگئے تو بے شبہ وہ سچے پیغمبر ہے، پس جب فتح مکہ ہوا تو ہر قبیلہ نے اسلام کی طرف پیش دستی کی

غرض اسلام کی سچائی وسادگی اورعرب کی تیز فہمی اورذہانت کے لحاظ سے اسلام کے پھیلنے میں جو دیر لگی وہ زیادہ تر قوی وخاندانی عصبیت کی وجہ سے تھی اب جب باطل کا سنگ گراں راہ سے ہٹ گیا تو حق کے پھیلنے اورپھلنے اورآگے بڑھنے میں کیا باقی تھا ؟اب تبلیغ اسلام میں کوئی خطرہ نہ تھا، اس بنا پر آپ ﷺؑ نے اطراف  عرب وفود بھیج دے کہ لوگوں کو اسلام کے فضائل اورمحاسن بتاکر اس کو اسلام کی ترغیب دلائیں پھر کیا تھا کہ کامیابی قدم چومتی اورکامرانی متھے کا سندوربنتی جاتی، جس ملک وجس قطہ میں قدم رنجائی کرتا  وہ ملک کا ملک مسلمان ہوتاجاتا۔

علامہ شبلی نعمانی ؒ تحریر فرماتے ہیں :

فتح مکہ کے تین مہینہ بعد ذوالحجہ ۹ کے موسم حج میں اعلان براۃ ہوا، اس واقعہ کے بعد بلااستثناء حجاز نے عام طور سے اسلام قبول کرلیا۔

نبوت اکیس برس کو پہنچ چکی تھی لیکن قریش ویہود کی مزاحمت سے اسلام آگے نہ بڑھ سکا تھا، لیکن فتح مکہ کی وجہ سے یہ دیواریں جب زمین بوس ہوگئی توصرف تین برس ۸ھ ۹ھ ۱۰ھ میں اسلام فلک بوس ہوگیا ایک طرف یمن، بحرین، یمامہ، عمان، تو دوسری طرف عراق وشام تک وسیع ہوتاگیا، تاہم اسلام بغیر تلوار کی رفاقت کے صلح وامن کے سایہ میں اپنی آواز بلند کرتا چلاگیا، اورہرگوشہ سے لبیک کی صدائیں خود بخود آنے لگی۔

خلاصہ

 یہ دین جو آج ہم تک پہنچاہے  وہ کوئی متھراکے پیالوں میں سچھ کر نہیں ، بلکہ الزامات وشبہات واعتراضات کے دقیق پردے ہٹاتا ہوا، عوام الناس کے دلوں میں پیدا شدہ وسوسوں کو مٹاتا ہوا، ناآشنا  بھی زندگی کا سراغ لگانے سے قاصر ہے ان میں سے کسی کو راہ راست پر چلنے ہوئے کسی کا ہادی بننے کی توفیق بخشے۔ کوشناسا بناتا ہوا، نہایت وحشیانہ ظلم وستم کو سہتا ہوا، معاشی ومعاشرتی مقاطعہ سے لڑتا ہوا، ہم تک پہنچا ہے، لہذا ہم سے ہر فرد بشر کو اس وقت اس نبی کے امتی کہلانے کا حق نہیں تب تک کہ اس کے لائے ہوےدین کے خاطر کوئی قربانی نہ دیں ، ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ انسان جو نفس وشیطان کا غلام اورجس کی زیست کا اعلیٰ، مقصد صرف اورصرف حیوانی ضروریات کی یافت اورعزیزی خواہشات کی پرستش ہے جو زندگی بسرکرتے ہوئےبھی زندگی کے راز سے ناآشناہے، عقل معرفت کاسرمایہ رکھتے ہوئے بھی اپنے من میں ڈوب کر زندگی کاسراغ لگانے سے قاصر ہے  ان میں سے کسی ایک کو اس نبی کے لائے ہوئے طریقت وشریعت کی راہ دیکھانا ہے، اللہ ہم سب  کو راہ راست پر چلتے ہوئےکسی کا ہادی بننے کی توفیق بخشے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close