تاریخ اسلام

مالابار میں اسلام-(ایک تاریخی جائزہ )

ہندوستان کے جنوب مغرب میں مالابار کا علاقہ اپنی طبعی اور جغرافیائی خصوصیات کے باعث ملک کی تاریخ میں ایک اہم مقام کاحامل ہے ۔ مالابار اور اس سے ملحق دوسرے علاقوں کو اب ’’کیرالا‘‘ کہا جاتا ہے۔

محلِ وقوع:
کیرالا ہندوستان کے جنوب مغرب عرض البلد 8ء18 اور 48ء12 اور طول البلد 52ء74 اور 24ء77 پر واقع ہے ۔ اس کے مشرق میں مغربی گھاٹ کے پہاڑ ہیں اور مغرب کی طرف بحرِ عرب ہے ۔ کیرالا شمال سے جنوب تک 574 کلو میٹر کی پٹی ہے جس کی چوڑائی صرف 112 کلو میٹر ہے۔ کل علاقہ 38864 مربع میٹر ہے ۔ مالابار کیرالا کے شمال میں واقع ہے ۔ یہ علاقہ پہلے صوبۂ مدراس کا ایک ضلع تھا جوانگریز کلکٹر کے ماتحت تھا ، مگر آزادی کے بعد جب 1956ء میں ملایالم بولنے والوں کا اپنا صوبہ بنا تو کیرالا کے نام سے اس وقت اِس علاقہ مالابار میں کئی ضلعے بنے، یعنی ٹریچور ، پالی گھاٹ، کالی کٹ، کینا نور،پھر بعد میں مسلمانوں کی اکثریت کا ایک ضلع ملاپرم کے نام سے بنا ۔ اس کے بعد ویانا ڈ اور کاسر گوڈ دو ضلعے اور بنے ۔ اس طرح مالابار میں چھ ضلعے ہو گئے ۔ ملا پرم کی آبادی ٹریوینڈرم، کو چین اور ٹریچور سے کم ہے ، اصل آبادی مذکورہ پانچ ضلعوں میں ہے ۔ ٹریچور میں بھی آبادی کم ہے ۔1991ء کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی تعداد کیرالا میں 23 فیصدی ہے ۔
’’مالابار‘‘ اور’’ کیرالا‘‘ کی لغوی تشریحات:
مؤرخین کا خیال ہے کہ لفظ مالابار میں پہلا لفظ ملایالم ہے اور دوسرا عربی۔ملاکے معنی ملایالم میں پہاڑ کے ہیں ۔’بار‘ دراصل بَر ہے جس کے معنی عربی میں زمین یا خشکی کے ہیں۔ عرب مؤرخین نے مالا بار لفظ ہی استعمال کیا ہے ۔ خاص طور سے جن سیّاحوں نے اِس علاقہ کا سفر کیا ہے انھوں نے مانی بار یامالی بار لکھا ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد موجودہ مالابار ہے۔ لیکن اِ س کو معبر بھی کہتے ہیں ۔
لفظ کیرالاکی کئی تشریحیں کی گئی ہیں ۔ بعض نے لکھا ہے کہ یہ لفظ سنسکرت سے عبارت ہے ، جس کا مطلب ہے ناریل کی سرزمین ۔ یہی بات دل کو زیادہ لگتی ہے ۔ کیرم کے معنی ہیں ناریل اور الم کے معنی زمین کے ہیں، یعنی ناریل کی سر زمین۔ مگر یہ معنٰی متفق علیہ نہیں ہیں۔ دوسری تاویل ’’کیرالا‘‘ کی یہ ہے کہ یہ لفظ کیرا سے نکلا ہے ۔ کیرا ایک خاندان کا نام ہے۔ اس خاندان نے کئی صدیوں تک کیرالا پر حکومت کی تھی۔ ’’الیا‘‘ کے معنی ہیں زمین کے ۔ کیرالیا کیرالا بن گیا جس کے معنی ہیں ’خاندانِ کیرا کی سرزمین‘‘۔ تیسری تاویل اس لفظ کی یہ ہے کہ کیرالاعربی کا لفظ خیر اللہ ہے چوں کہ یہاں کی سرزمین میں مسالے، ناریل ، لونگ، چائے ،کافی ، جائفل، کالی مرچ اور الایچی وغیرہ پیدا ہوتی ہیں اور یہ قیمتی چیزیں ہیں، لہٰذا اس زمین کو خیراللہ کہا گیا ۔ اس نظریہ کے موجد عبد اللہ ملی باری ہیں جو کہ مکۃ المکرمہ میں محکمۂ برید سے منسلک ہیں اور شاعری بھی کرتے ہیں۔
عربوں سے تعلقات:
کیرالا میں ناریل ،کاجو اور مسالے پیدا ہوتے ہیں اور پوری دنیا کو جاتے ہیں۔ چوں کہ پورا علاقہ ساحلِ سمندر پر واقع ہے لہٰذا غیر ملکیوں خصوصاً عربوں کی آمدو رفت کا سلسلہ اِس علاقہ میں صدیوں سے قایم ہے ۔ عرب تجار یہاں سے لونگ ، الائچی ، جوز،(جائے پھل)، ناریل، لکڑی، کالی مرچ اور دوسری چیزیں لے جاتے ہیں۔وہ یہاں اب بھی آتے ہیں ۔چار چھ ماہ قیام کرتے ہیں ، شادیاں بھی کر لیتے ہیں جس کوملایالم زبان میں’’ویواہم‘‘ کہا جاتا ہے ۔ یہ عرب شادیاں کس قسم کی ہوتی ہیں : یہ لوگ بیس پچیس ہزار روپے دے کر کسی مسلمان لڑکی سے شادی کر لیتے ہیں ۔ کبھی لڑکی کو اپنے ساتھ عرب لے جاتے ہیں، کبھی ہندوستان میں ہی چھوڑ جاتے ہیں اور خرچ دیتے رہتے ہیں اور جب دوبارہ آتے ہیں تو پھر اسی خاندان میں ٹھہرتے ہیں ۔ اس طرح ان کو اس سر زمین میں اپنے اعزہ اور اپنے ہم درد مل جاتے ہیں جو فصل آنے پر عمدہ سامان ان کے لیے خرید لیتے ہیں اور صحیح اطلاع تجارتی نقطۂ نظر سے ان کو دیتے ہیں، پھر وہ دھوکہ سے محفوظ رہتے ہیں۔ جب وہ تجارت کرکے واپس جاتے ہیں تب بھی ان کے مفادات کی حفاظت ان کا یہ نیا خاندان کرتا رہتا ہے ۔ عرب شادی کی تیسری قسم یہ ہے کہ چلتے وقت یہ تاجر طلاق دے دیتے ہیں اور زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے ۔ ا س علاقے کے مصلحین نے یہ کوشش کی کہ اس طرز کی شادیاں ختم کر دی جائیں ، مگر ان کو اپنے مقصد میں کام یابی حاصل نہیں ہوئی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنوبی ہند میں تلک کی رسم زوروں پر ہے ۔ مسلمانوں میں بھی نقد ، سونا اور قیمتی سامان لڑکیوں کو دینے کا رواج ہے۔ یہ عرب تو کچھ مطالبہ نہیں کرتے ، بلکہ بطور مہر ایک خطیر رقم دیتے ہیں ۔ اس بنا پر عرب شادیاں برابرجاری ہیں ۔ اس طرح غریب طبقہ اس طرز کی شادیوں سے متاثر ہوتا ہے اور ان میں کشش محسوس کرتا ہے ۔ کبھی کبھی پورا خاندان اس رشتہ کی بنا پر اپنی حیثیت بلند کرلیتا ہے ۔
عربوں کا تعلق اس سر زمین سے بہت قدیم ہے ، حتی کہ کالی مرچ کا ذکر عہدِ جاہلی کے مشہور شاعر امرؤ القیس کے یہاں ملتا ہے ، جب کہ وہ ہرنیوں کی مینگنیوں کو کالی مرچ سے تشبیہ دیتا ہے اور کہتا ہے :
’’تری بعر الآرام فی عرصاتہا و قیعا نہا کانہ حب فلفل ‘‘
(تم ہرنیوں کی مینگنیاں میدانوں میں اس طرح دیکھو گے گویا وہ کالی مرچ ہے )
چوں کہ عربو ں کا تجارتی تعلق اس سر زمین سے بہت قدیم ہے ، اس بنا پرجب اسلام کا نور جزیرۃ العرب پر چمکا تو اس کی کرنیں کیرالا پر بھی پڑیں اور یہاں کے لوگ اس سے مستفید ہوئے ۔ مگر اسلام یہاں تلوار سے نہیں ، بلکہ تاجروں کے ذریعہ پھیلا ۔ اس علاقہ میں مسلمانوں کی حکومت کبھی نہیں رہی۔ مغل یہاں تک نہیں پہنچے ۔ البتہ صرف چند برس حیدر علی اور سلطان ٹیپونے یہاں حکومت کی، مگر اس زمانہ میں بھی کوچین پر ان کا اقتدار نہ تھا ، کوچین ہی ایک ایسا علاقہ ہے جہاں مسلمانوں نے کبھی حکومت نہیں کی۔
یہاں اسلام پھیلنے کے بارے میں کئی طرح کے قصے مشہور ہیں جو عوامی روایتوں پر زیادہ منحصر ہیں، مگر تاریخی استناد کے فقدان کے باعث ان کو من وعن تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔ البتہ ان سب کے تحلیلی مطالعہ سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کو پھیلانے کی کوشش اس دیار میں کی گئی ہے اور بہت ممکن ہے اس سلسلہ کے واقعات صحیح ہوں جن پر امتدادِ زمانہ کے باعث گردو غبار پڑ گیا ہے ۔
ماپلّا مسلم:
کیرالا میں مالابار کے علاقہ کے مسلمان ماپلایا ماپلّا کہلاتے ہیں، جس کے معنی ملایالم زبان میں شریف ، خائق یا دولھا کے ہیں مگر یہ تاویل مسلّم نہیں ہے ۔ جب کہ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ یہ در اصل لقب مہا پلا ہے جو ان مسلمان بحری محافظوں کو دیا گیا تھا جو سمندر کی حفاظت کرتے تھے ۔ شمالی کیرالا میں مسلمان اور جنوب کیرالا میں عیسائی ماپلا کہلاتے ہیں ۔ ماپلّا در اصل اسی سر زمین کے باسی ہیں ، مگر دوسرا طبقہ مسلمانوں میں تھنگل کہلاتا ہے ۔ تھنگل عزت کا لقب ہے جو بڑے اور مقدس آدمی کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ عرب قبائل خصوصاً قریش اور بنی ہاشم کے افراد جو اس علاقہ میں آکر بس گئے یعنی ’’سید‘‘ انہیں کو تھنگل کہا جاتا ہے جن کی عوام بڑی عزت کرتے ہیں ۔ ان کے عربی ناموں کے ساتھ کچھ ملایالم الفاظ بھی مل جاتے ہیں۔
لفظ ماپلّا کی تشریح بھی مؤرخین نے بالکل مختلف کی ہے ۔ عام نظریہ یہ ہے کہ مغربی ساحل پر ہندوستان میں ہر سال عرب تجارت کے لیے آتے ہیں۔کیرالا کے ساحل پر انھیں عربوں نے اپنی مخصوص بستیاں بنا لی تھیں۔ ان علاقوں میں غیر ملکی جو گروہ در گروہ تجارت کے لیے آئے تھے ، رہنے لگے۔ ان کو اپنے ہم زبانوں کے ساتھ رہنے میں آسانی ہوتی تھی ۔ اسی بنا پر ان کی بستیوں کے لیے لفظ’’محفلہ‘‘ استعمال کیا گیا ۔ ان کی کالونیاں محفلہ کہلائیں۔ کثرتِ استعمال سے یہ لفظ ماپلّا بن گیا، جس کی اصل محفل ہے اسی بنا پر جو عیسائی بستیاں جنوبی کیرالا میں ہیں ان کو بھی محفلہ کہا گیا ہے اور وہ بھی ماپلا کہلاتے ہیں ۔
یہ تاویل دل کو اپیل نہیں کرتی ۔ محفلہ خالص عربی کا لفظ ہے جس میں سے ح ، الف سے اور ف ، پ سے بدل گیا ہے ۔ علاوہ ازیں اکثر اس لفظ کو مشدّدپڑھا جاتا ہے، یعنی ماپلّا۔ ایسی صورت میں یہ تاویل اور زیادہ بعید ہوجاتی ہے۔
تاجروں کے ذریعہ اسلام کی اشاعت:
بہر حال اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عربوں کی تجارت اور ان کے اس دیار میں قیام نے عربی زبان کو رائج کیا اور اسلام کو مقبول بنایا۔وہ تجارت کی غرض سے پابندی سے یہاں آتے ہیں اور اکثر یہ لوگ یہاں آکر عارضی شادیاں بھی کر لیتے ہیں۔ان سے اولاد بھی ہوتی ہے۔ یہ عرب خون رکھنے والے لوگ آگے چل کر تجارتی ایجنٹ بن جاتے ہیں جو اپنے والد کے کاروبار کے لیے کیرالا میں معاون ثابت ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ کالی مرچ ، لونگ،الایچی ، مسالے اور ہاتھی دانت وغیرہ خرید کر رکھ لیتے ہیں اور جب عرب آتے ہیں تو ان کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ اس طرح عربوں کو فصل کے وقت سستے داموں پر سودا مل جاتا ہے اور چوں کہ خودیہاں کے لوگ عربوں سے عزیز داری کا تعلق رکھتے ہیں لہٰذا ان کو بھی نفع ہوتا ہے۔ اس طرح ہو سکتا ہے کہ یہی لوگ اسلام بھی دوسروں سے قبل لائے ہوں ۔ آج بھی’’ مچھیرے ‘‘کیرالا میں اکثر مسلمان ہیں ۔ اور کیرالا کے آس پاس کے سارے جزیروں میں صرف مسلمان آباد ہیں ۔اکثر مؤرخینلکھتے ہیں اور بات صحیح بھی ہے کہ اسلام پھیلنے میں ہندو مذہب کے اندر ذات پات اور چھوت چھات کو دخل ہے،اس لیے کہ اسلام لاتے ہی آدمی اپنے معاشرہ میں مساوی حقوق حاصل کر لیتا ہے جو اسے کسی دوسرے مذہب کو قبول کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتے ۔
صوفیہ اور اشاعتِ اسلام:
کیرالا میں اسلام در اصل صوفیوں،مبلغوں اور تاجروں نے پھیلایا مگر صوفیوں کے نام ہم کو معلوم نہیں،وہ زیادہ تر تاریخ کے کہر میں گم ہیں۔پھر بھی مالابار کے علاقے میں ’’مالا‘‘کے نام سے صوفیا نہ نظمیں گائی جاتی ہیں جن میں ان اولیا کی کرامات کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ ان سے بھی واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے علما کے دلوں پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں ۔ ابن بطوطہ نے کیرالا کے علاقہ میں قیام کیا تھا ۔ اس نے یہاں کے کئی صوفیوں کا ذکر اپنے سفر نامہ میں کیا ہے۔ وہ یہاں 1342ء تا 1345ء کے درمیان آیا تھا۔ وہ کالی کٹ شہر میں ایک صوفی شیخ شہاب الدین قزارن (Quzarun)سے ملا تھا اور اس نے قاضی فخر الدین سے بھی ملاقات کی تھی جو شہاب الدین کے بیٹے تھے ۔ ایک مقام اڑملا میں بھی اس کی ملاقات ایک صوفی سے ہوئی تھی ۔ ان بیانات سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان علاقوں میں صوفی پھیلے ہوئے تھے۔ مگر اس سلسلہ میں کوئی معتبر کتاب نہیں لکھی گئی ، جس سے صحیح تصویر ابھر سکے ۔ بہر حال اس کے بعد ایک صوفی جلال الدین بخاری 900ھ مطابق 1494ء میں بلیا پٹم (Baliapatam)آئے ۔ ان کی اولاد پانچویں پشت میں سید محمد مولا مشہور ہیں جو جزیرہ کواراتی (Kavarati)میں لکشا دیپ میں رہتے تھے۔ یہ مشہور ہے کہ انہی کی کوششوں سے پورا جزیرۂ لکادیپ ومالدیپ مشرف بہ اسلام ہوا۔ دسویں صدی میں ایک اور صوفی پروئل شیخ عبد القادر تھانی (Al-thani)تشریف لائے اور تبلیغ کا فرض انجام دیا ۔ انھوں نے مکہ شریف میں محمد بکر ی (868 ھ تا 952 ھ) سے ملاقات کی تھی ۔
تبلیغی کوششیں:
اسلام اس علاقہ میں اگر چہ تاجروں کے ذریعہ پھیلا ، مگر تبلیغی کوششوں کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ۔ سب سے پہلا قصہ تو یہ مشہور ہے کہ کڈنگالور کا بادشاہ پیرومل مسلمان ہو گیا ۔ اس نے معجزۂ شق القمر دیکھا، آں حضرت ﷺ کے حالات سنے تو وہ سلطنت چھوڑ کر مکہ روانہ ہوگیا اور پھر وہاں سے وہ واپس نہیں آیا ۔یہ قصہ عوام میں اب تک مشہور ہے ، مگر تاریخی طور پر مضبوط ثبوت اس سلسلہ میں مؤرخ تاریخ فرشتہ کی شہادت ہے۔ اس کا انتقال شحر میں ہو ا ۔ وہاں اس کی قبر موجو دہے ۔
ایک دوسرا مورخ جن کا تعلق جدید دور سے ہے وہ بالا کرشنن پلائی کہتے ہیں جو کہتے ہیں کہ جس طرح آں حضرت ﷺنے تمام امراء اور ملوک کو خطوط لکھے اسی طرح آپ نے کالی کٹ کے راجہ کوبھی خط لکھا جس کی وجہ سے وہ مسلمان ہوگیا۔ مگر آں حضرت ﷺ کے تمام خطوط، جو آپ نے لکھے تھے، سب موجو د ہیں،ان میں کوئی خط ایسا نہیں جو اس تخیل کی موافقت کرتا ہو۔
بہرحال اس بات پر تمام مؤرخین متفق ہیں کہ ایک بادشاہ چرامن پیرومل (Charaman Paromal)مسلمان ہو گیاتھا،مگر اس بارے میں اختلاف ہے کہ وہ دور، جس میں اسلام لایا آں حضرت ﷺ کا دور تھا ۔یہ دوسری صدی ہجری کا واقعہ ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت ، جو لنکا جارہی تھی ، وہ پیرومل کے یہاں آگئی ۔ وہ ان لوگوں سے متاثر ہوا ۔وہ اس پارٹی کے ایک شخص شیخ الدین سے متاثر ہوا۔ اس نے اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ وہ اس جماعت کے ساتھ عرب جائے گا ، چناں چہ اس کی تیاریاں ہو گئیں۔ بادشاہ پہلے ’’کولم‘‘ (Pandalavini Kollam)گیا، وہاں سے دھرمادم (Dharmadam)پہونچا۔ اس کے قریب ایک علاقہ ہے جو اب تک عوام میں پویاناڈو(Poya Nadu)کے نام سے مشہور ہے ، جس کا مطلب ہے ’’وہ جگہ جہاں سے سفر کیاگیا ‘‘ یعنی جس جگہ سے بادشاہ نے اپنا سفر شروع کیا ۔ بادشاہ وہاں سیچل کر ساحل عرب پر رکا، جس کا نام شحر (Shahr)ہے۔ ظاہر ہے کہ بادشا ہ نے حج بھی کیا ہوگا اور مکہ ومدینہ کی زیارت بھی کی ہوگی اور وہاں کے دینی فضا سے مستفید ہوا ہوگا۔ ورنہ عرب جاکر محض ساحل پر رہ جانا بے معنی ہے ۔ کہتے ہیں کہ اس نے یہ ارادہ ظاہر کیا کہ وہ لوٹ کر پھر مالابار واپس آئے گا اور ایک اسکیم کے تحت مختلف مقامات پر مساجد بنائے گا اور اسلام کی تبلیغ کرے گا مگر وہ بیما ر پڑ گیا اور جب بچنے کی امید نہ رہی تو اس وقت اس نے اپنے سرداروں کو ، جو اس کے ساتھ گئے تھے ، زمینیں عطا کیں اور ہدایت کی کہ ان جگہوں پر مساجد قائم کریں ۔ ا س کے بعد اس کا انتقال ہو گیا ۔
اس سلسلہ میں ایک تفصیلی قصہ اس طرح ہے کہ دھرما پٹنم ،جو اب دھرما دم کہلاتا ہے اور ٹلیچری سے ملحق ہے ، وہاں ایک راجہ تھا۔ اس کا خاندان مدتوں حاکم رہا ۔ اس خاندان کا نام اراکل شاہی خاندان (Arrakal Royal Family)ہے ۔ در اصل یہی مسلم خاندان ہے جو مالا بار کے ایک علاقہ پر حکومت کر سکا ۔ اس کا علاقہ دھرمادم سے کینا نور تک تھا، مگر سمندر میں اس کی حکومت میں لکشا دیپ (لکادیپ) بھی شامل تھا۔ آخر میں انگریزی دور تک اس کے پاس دھرمادم اور کینا نور کا بیچ رہ گیا تھا جو آزادی کے بعد ان کا محل ہے جو علی راجہ کہلاتے ہیں مگر حکومت باقی نہیں رہی ۔
کلانڈو مِلّر (Kolondu Miller)چرامن پیرومل کے متعلق اپنی مشہور کتاب ماپلا مسلمس آف کیرالا میں لکھتا ہے کہ’’ ماپلا کی اصلیت میں کوئی بحث مکمل تصور نہیں کی جاسکتی جب تک کہ چرامن پیرومل کے متعلق روایتوں کا استقصا نہ کیا جائے ۔ یہ بادشاہ کیرالا کے درمیانی حصہ میں حکم رانی کرتے تھے ۔ پیرومل حکم رانوں نے ایک وسیع علاقہ پر غالباً چیرا بادشاہوں کے نام سے حکومت کی اور وہ کئی سلطنتوں میں بٹ گئی۔
پیرومل کے متعلق روایتوں میں کہا جاتا ہے کہ آخر میں اس خاندان نے اپنا مذہب تبدیل کر دیا ۔ تبدیلئ مذہب اس طرح شروع ہوئی کہ چرامن پیرومل جو کڈنگا لور (Kodungalur)پر حکومت کررہا تھا۔ اس نے ایک غیر معمولی اہمیت کا خواب دیکھا۔ اس نے دیکھاکہ ایک نیا چاند مکہ مقام پرطلوع ہوا اور دو ٹکڑے ہو گیا ۔ نصف آسمان پر رہا اور نصف زمین پر آرہا۔ اس کے بعد چاند کے دونوں حصے پھر سے جڑ گئے اور پورا چاند نظر آنے لگا ۔اس کے چند ماہ بعد عرب مسلمانوں کی ایک پارٹی حضرت آدم کے قدم کی زیارت کے لیے لنکا جارہی تھی ۔ وہ راستہ میں کڈنگا لور میں ٹھہری ۔اس موقع پر مسلمانوں نے راجہ پیرومل سے یہ قصہ بیان کیا کہ کس طرح محمد رسول اللہ (ﷺ) نے معجزۂ شق القمر دکھا کر کافروں کو مسلمان کیا۔ یہ حالات سن کر پیرومل نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی مسلمان ہوجائے گا ۔ا س نے خفیہ طور پر یہ پروگرام بنایا کہ وہ خود مسلمان ہوجائے گا اور جب یہ پارٹی حضرت آدم کے نشانِ قدم کی زیارت کر کے واپس لوٹے گی تو اس وقت وہ خود ان لوگوں کے ساتھ مکہ روانہ ہوجائے گا ۔ اس نے حکومت کی ذمہ داریاں مقامی گورنروں اور چھوٹے راجاؤں کے ذمہ کیں ۔ اس نے سب کام باقاعدہ لکھ کر کیا۔ اس نے یہ تاثر پید اکیا کہ وہ مکہ سے لوٹ کر جلد دار الحکومت واپس آجائے گا۔ اس نے اپنا نام عبد الرحمن سمیر ی رکھا۔ اس نے یہ پلان بنایا کہ وہ لوٹ کر مالابار میں مساجد قائم کرے گا ، مگر اس اثنا میں وہ سخت بیمار پڑ گیا ۔ اس لیے اس نے اپنے دوستوں سے یہ استدعا کی کہ وہ اس کے وطن جاکر وہاں ’’چوتھی دید‘‘ کی اشاعت کریں (ماپلا قرآن کو چوتھی دید کہتے ہیں ، پہلی دید توریت ، دوسری زبور اور تیسری انجیل ہے)۔ کہتے ہیں کہ پیرومل مر گیا۔وہ ظفر(Zupher)کے مقام پر 822ء میں عرب کے ساحل پر دفن کیا گیا۔
بادشاہ کا مشنری گروپ حضرت مالک بن دینارؓ کی سر کردگی میں مالابار آیا، جس میں خود ان کا خاندان اور تین اصحاب اور شامل تھے۔ کہتے ہیں کہ یہ لوگ پیرومل کے انتقال کے آٹھ برس بعد مالابار آئے اور انھوں نے یہاں کے حاکم کو اس کا خط دیا، مگر انھوں نے اس کی موت کا معاملہ خفیہ رکھا۔ یہاں کے حاکموں نے اس گروہ کا استقبال کیا ۔ انھوں نے اپنے مذہب کی اشاعت کے لیے پورے علاقہ کا سفر کیا۔ انھوں نے نو(یادس) مسجدیں تعمیر کیں۔ مالک بن دینار نے ان مساجد میں اپنے خاندانوں کے افراد میں سے مناسب اشخاص کو قاضی مقرر کیا اور پھروہ عرب واپس چلے گئے ۔
ایک دوسری روایت یوں بیان کی جاتی ہے کہ پیرومل کا خواب خود آں حضرت ﷺ کے زمانہ کا ہے، جب کہ معجزۂ شق القمر کا واقعہ پیش آیا تھا ۔ بادشاہ خود مکہ گیا،اس نے آں حضرتؐ سے ملاقات کی اور اسلام لایا۔ اس کا نام تاج الدین تھا ۔ اس کا مکہ میں 624ء میں انتقال ہوا ۔ بہرحال اس میں در حقیقت پہلی ہی روایت کا عکس نظر آتا ہے ۔ آج کل کے ماپلا اسی روایت کو ترجیح دیتے ہیں ۔ چرامن پیرومل کی کہانی پرکافی لوگوں نے بحث کی ہے۔اس سلسلہ میں نظریات بڑے متضاد ہیں۔ ایک مؤرخ کہتا ہے کہ یہاں کچھ معقول دلائل نظر آتے ہیں کہ یہ روایت اسلام کو مالابار میں روشناس کرانے میں معتبر ہے ۔ مگر دوسرا انتہا پسند نظریہ ہے کہ یہ مسلمانوں کی ایک ’’مقدس ایجاد‘‘ ہے ۔ مگر ایک اعتدال پسند مؤرخ لکھتا ہے کہ ’’ہم کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس روایت میں کچھ صداقت ضرور ہے‘‘۔ کیرالا کے معروف مؤرخ کے پی پڈمانا بھامنن کا اصرار ہے کہ ان روایتوں کی اہمیت عوامی اور اسطوری ہے ، یہاں کو ئی ایسا تاریخی واقعہ نہیں ہے جو ان روایتوں کی تصدیق کر سکے اور نہ کوئی ایسی موروثی دستاویز میسر ہے جس کو اس کے خلاف یقینی تصور کیا جاسکے ۔ واقعہ یہ ہے کہ چیرا (CHERAS) خاندان کی حکومت نویں صدی عیسوی سے 12 ویں صدی تک رہی، اس کے بعداختتام کو پہنچی۔ مزید تفصیلی حالات ابھی پردۂ خفا میں ہیں۔
چوں کہ پیرومل خاندان کی حکومت اچانک نویں صدی عیسوی میں ختم نہ ہوئی ہوگی ، اس بنا پر انّس (INNES)نے یہ نظریہ قائم کیاکہ ایک خاندان جو کرنگا نور (CRONGANAORE)پر حکومت کر رہا تھا وہ اس وقت ختم ہوگیا جب کہ پیرومل نے اسلام قبول کیا۔غالباً کیرالا پوتھی(KERALAPOTHI)کے مطابق راجہ پیرومل مکہ چلاگیا اور جانے سے قبل اس نے سلطنت کو گورنروں اور خاندان کے افراد کے درمیان تقسیم کر دیا تھا۔جب واپس ہونے لگا تو’’سرس مقلا‘‘ (SHARS MUQALA)کے مقام پر پہونچ کر اس کا انتقال ہو گیا ۔ اس کے ساتھ جو افراد گئے تھے انھوں نے اس کی موت کا حال اس کی بہن سری دیوی کو بتایا۔ انھوں نے اس کو اسلام کی دعوت بھی دی ۔ راجہ پیرومل کا بیٹا مہابلی جو بعد میں محمد علی کے نام سے معروف ہوا اور پھر پورا خاندان ’’علی راجاز‘‘ بن گیا ، در اصل وہ شروع ہوتا ہے اسی محمد علی سے جو پیرومل کا لڑکا تھا اور جس کا ثبوت ان کاغذوں سے بھی ملتا ہے جو کینا نور میں علی راجاز خاندان کے پاس آج بھی محفوظ ہیں ۔ لفظ ’’علی راجاز‘‘ کی دوسری تاویل یہ ہے کہ یہ دراصل اڈی راجا تھا ، اڈی کا مطلب سنسکرت میں سمندر کے ہیں، یعنی سمندر کا راجا اور پھر اس کے بعد 14ویں صدی میں پیرومل کے وارث نے اپنی حکومت قائم کرنے اور اپنا اقتدار جمانے کی کوشش کی، مگر وہ زمورن کے حملوں کی تاب نہ لاسکا جس کو مسلمانوں اور عربوں کی طاقت وہمدردی حاصل تھی۔
آخر میں یہ نتیجہ نکالاجاسکتا ہے کہ مسلمان اسلام کے آغاز میں اس سر زمین پر پہونچ گئے ۔ پر امن آمدورفت اور معاشی رشتوں نے عربوں کو کیرالا سے قریب کر دیا۔ اسلام کو ایک نیا میدان مل گیا، جہاں عربوں کی کالونیاں موجود تھیں، پھر مذہبی آزادی اورمقامی عوام اور حکومت کی دریا دلی نے اسلام کی تحریک کو تقویت عطا کی ۔ یہ باہمی تعلقات ترقی کرتے رہے ۔ باوجود تمام نسلی اور قومی اختلافات کے جب عرب اور ملایالی خون کے امتزاج سے ایک نئی نسل پیدا ہوئی تو اس میں ہندوستان اور عرب دونوں تہذیبوں کا گنگا جمنی رنگ نظر آنے لگا ۔
اس سلسلہ میں ایک دلچسپ قصہ بیان کیا جاتا ہے کہ علی راجا خاندان اس طرح وجود میں آیا کہ ایک شہزادی جس کا تعلق کلا تھیری (KOLATHIRI) خاندان سے تھا، جس کا پاےۂ تخت چیراکل (CHIRAKKAL)تھا ،وہ دریا میں نہاتے وقت بہہ گئی۔ اس کو ایک نوجوان محمد علی نے بچایا ۔ وہ پانی میں کود گیا اور اس کو باہر نکالنا چاہا، مگر وہ لڑکی کمر بھر پانی تک آکر رک گئی۔ تب محمد علی نے سمجھ لیا کہ وہ برہنہ ہے۔ لہٰذا اس نے اپنا عمامہ، جو کافی لمبا تھا ،اس کو دے دیا ۔ اس کے بعد اس لڑکی کے والد اور چچا وہاں پہنچ گئے ۔ لڑکی نوجوان کی طرف مائل ہوگئی اور اس نے کہا کہ اس نے میرا ہاتھ بھی پکڑا اور نئے کپڑے بھی دیے ۔ لہٰذا یہاں کے رواج کے مطابق میری شادی اس سے ہوگی ۔ کولاتھاری نے محمد علی کو وزیر بنالیا اور اس طرح علی راجا کا خاندان وجود میں آیا۔
کینا نور کے راجا وزیر رہے ہوں یا بادشاہ ،بہر حال ان کے اثرات مالابار کے سماج پر ضرور مرتب ہوئے ہیں ۔
حضرت مالک بن دیناؓر کا تبلیغی مشن:
اس علی راجا کے خاندان کے علاوہ ایک اہم واقعہ وہ ہے جو حضرت مالک بن دینارؓ کے تبلیغی مشن سے تعلق رکھتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ مالک بن دینار نے ایک پارٹی کے ساتھ مالابار کا سفر کیا اور یہاں دس مسجدیں بنائیں جو کڈنگا نور، کلّم، پنڈلایانی، چالیم، دھرمادم، سری کند اپرم، اڑمالا، کا سر گوڈ، فنگلورس اور پکانوا میں قائم ہیں۔
انھوں نے یہاں پر تبلیغی مراکز بنائے ۔ ان کی تبلیغی مساعی کا اثر خاطر خواہ ظاہر ہوا اور عوام الناس میں اسلام مقبول ہونے لگا۔ حضرت مالک بن دینارؓ کی قبر کاسرگوڈ میں سمندر کے کنارے موجود ہے۔ اس کے قریب ہی ایک مسجد ، یتیم خانہ اور اسپتال انہی کے نام سے قائم کیا گیا ہے ۔ ا س میں کوئی شبہ نہیں کہ صحابہؓ اور تابعینؒ ان علاقوں میں تشریف لائے اور ان کے اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔ قاضی اطہر مبارک پوری اس سلسلے میں رقم طراز ہیں کہ:
’’مالک بن دینارؓ کے ساتھ جو لوگ مالابار آئے ان میں ان کے دس بیٹے اور بیوی شامل ہیں ۔ ان دس بیٹوں کے نام صاحب تحفۃ المجاہدین نے یہ بتائے ہیں : حبیب، محمد، علی، حسین، تقی الدین، عبدالرحمن، ابراہیم، موسیٰ، عمر اور ہمام۔ ان کے ساتھ پانچ بیٹیاں فاطمہ، عائشہ، زینب، حلیمہ اور منیرہ تھیں۔ وہ سب سے پہلے کوڈنگا نور ٹھہرے اور یہیں سے کام شروع کیا ، مساجد بنانے کے ساتھ انھوں نے قاضی بھی مقرر کیے۔ اس کے بعد مالک بن دینارؓ اور حبیب بن مالک عرب واپس گئے ۔ راستہ میں انھوں نے ’’شحر‘‘ میں پیرومل کی قبر بھی دیکھی ۔ حبیب لوٹ کر مالابار آگئے اور کینا نور میں ہمیشہ کے لیے بس گئے ‘‘
اس بیان سے ایک بات اور واضح ہوتی ہے کہ حضرت مالک بن دینار نے مسجد وہیں بنائی ہوگی جہاں مسلم آبادی پہلے سے رہی ہوگی اور اسی بنا پر قاضی بھی مقرر کیے ۔ علاوہ ازیں جن دس جگہوں کو انھوں نے تعمیر مساجد کے لیے چنا ان میں باہم بہت طویل فاصلہ ہے ۔مثلاً کڈنگا نور سے کاسر گوڈ کا فاصلہ بہت زیادہ ہے ، جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ مساجد وہیں بنائی گئیں جہاں پہلے کچھ کام ہوا تھااور کچھ مسلم آبادی تھی۔
شیخ زین الدین مخدوم کا نظریہ یہ ہے کہ عام طور پر اسلام مالابا ر میں دوسری صدی ہجری میں پھیلا ۔ چنا ں چہ مسٹر لاگن جو ضلع مالابار کا انگریز کلکٹر تھا وہ بھی اس رائے کی تائید کرتا ہے ۔
شیخ زین الدین نے حضرت مالک بن دینارؓ کی آمد کا ذکر کیا اور لکھا ہے کہ پھر وہ اور ان کا بیٹا حسیب بن مالک واپس چلے گئے ۔ بیٹا تو دوبارہ واپس آگیا، مگر وہ خراسان چلے گئے ۔
یہاں دو باتیں قابل ذکر ہیں کہ اگر حضرت مالک بن دینارؓ خراسان چلے گئے تو پھرکا سر گوڈ میں ان کی قبر کیسی ہے ؟ پھر انہی کی قبر مدراس سے چند میل دور بتائی جاتی ہے۔ یہ اور اس طرح کے کئی شبہات ذہن میں پیدا ہوتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ امتدادِ زمانہ سے صحیح واقعات پر بھی گردو غبار جم جاتا ہے ، پھر ان واقعات کی مذہبی اہمیت اور ان کا تعلق بادشاہِ وقت سے ہونے کے باعث حقیقی واقعات میں افسانے کا رنگ پیدا ہوجانا مستبعدنہیں۔
ایسا محسوس ہوتاہے کہ صحابۂ کرام کی اس دیارمیں آمد سے اسلام پھیلنا شروع ہوگیا تھا اور دھیرے دھیر ے اس کے اثرات بڑھتے رہے ۔ 15ویں صدی عیسوی تک اسلام کے دو بڑے مراکز کیرالا میں وجود میں آئے۔ ایک شہر کالی کٹ جہاں قاضیوں کا خاندان اسلام کی سر گرمیوں کا مرکز تھا اور دوسرا خاندن ’’مخدوم‘‘ کے نام سے موسوم ہوا ،جس نے پُنَّائی کو مرکز بنایا اور اسلام کی خدمت کی ۔ اس خاندان کے مختلف افرادنے کئی صدیوں تک تصنیف و تالیف ، شعر و شاعری اور تصوف و سلوک کے ذریعہ دین و ادب کی زبردست خدمات انجام دیں۔
سامری کی تاریخ؟
شیخ زین الدین معبری نے اپنی کتاب ’’تحفۃالمجاہدین‘‘ میں لکھا ہے کہ سامری کی تاریخ ہمارے نزدیک متحقق نہیں ہے ۔ ظن غالب یہ ہے کہ یہ واقعہ دوسری صدی ہجری کے بعد پیش آیا ہے،لیکن جو واقعہ مسلمانان مالابار میں مشہور ہے کہ زمورن (سامری) آں حضرت (ﷺ ) کے زمانہ میں اسلام لایا ، جب کہ اس نے رات میں معجزۂ شق القمر دیکھا ۔ پھر وہ آں حضرتؐ کی طرف خود گیا اور آپؐ سے ملاقات کا شرف حاصل کیا ۔ اس کے بعد ’’شحر‘‘ واپس آیا ، وہاں سے وہ ایک جماعت کے ساتھ مالابار کے لیے روانگی کا قصد کر رہا تھاکہ وہیں اس کا انتقال ہوگیا۔
ان تمام باتوں میں تقریباً سب ہی ناقابلِ اعتبار ہیں۔ سامری زمورن کی تعریب ہے ۔ قدیم زمانہ میں ہندوستان میں ایک شاہی خاندان ’’چرومن پیرومل‘‘ تھا جو ملک مالابار پر حکومت کرتا تھا ۔ مذکورہ بالا سامری ان بادشاہوں میں سے ایک تھا۔
بہرحال ان طبقوں سے حقیقت اور افسانہ دونوں میں امتیاز قدرے آسان ہوجائے گا ۔ عربوں کا تجارتی تعلق اسلام کی وسیع پیمانہ پر اشاعت ، عربی کا رواج اور مسلمانوں کی تہذیب اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس سماج پر اسلام کے اثرات بہت قدیم ہیں اور براہ راست عربوں نے ان کو متاثر کیا ہے ۔ ان کے یہاں نام بھی وہی انداز رکھتے ہیں جو عربوں میں ہیں، یعنی :احمد ، محمد، عمر، ابو بکراور عبداللہ وغیرہ۔
ابتدائی تاریخ کے بارے میں بعض آراء :
البتہ قاضی اطہر مبارک پوری نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ہندوستان کے کسی بادشاہ نے آں حضرتؐ کو ایک گھڑا بھر کر زنجبیل(ادرک) روانہ کی تھی ۔ ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ حضور اس کو صحابہؓ کو کھلاتے تھے اور مجھ کو بھی کھلایا۔ کتاب الذخائر والتحف کے مصنف قاضی رشید بن زبیر کے حوالہ سے قاضی اطہر مبارک پوری فرماتے ہیں کہ شاید یہ تحفہ بنگال کے بادشاہ نے آں حضرتؐ کو روانہ کیا ہوکہ بنگال میں ایسے تحفے دیے جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ خیال صحیح نہیں ہے ۔ عربوں کی پوری تاریخ میں بنگال سے تعلقات کا پتہ نہیں چلتا ۔در حقیقت جنوبی ہند اور خصوصاً کیرالا کے ساحل عربوں کی جستجو کی آماج گاہ تھے ۔ زنجبیل(ادرک) ، ناریل اور ڈلی کے باغوں کی کثرت تھی، اس لیے کہ وہ سایہ میں پید ا ہونے والی چیز ہے ۔ کیا عجب ہے کہ یہ تحفہ چیرامن پیرومل کے شاہی خاندان کے ذریعہ خدمتِ اقدس میں پیش کیا گیاہو۔ در حقیقت قاضی اطہر مبارک پوری نے اپنی توجہ شمالی ہند پرمرکوز کی ہے ۔ بہر حال بزرگ بن شہر یار نے اپنی کتاب عجائب الہند میں یہ اعتراف کیا ہے کہ لنکا کے لوگوں نے آں حضرتؐ کے ظہور کی خبر سن کر ایک ہوشیار شخص کو حقیقتِ امر دریافت کر نے کے لیے روانہ کیا۔ جب وہ مدینہ پہونچا تو آں حضرتﷺ اور حضرت ابو بکرؓ دونوں گزر چکے تھے ، حضرت عمرؓ کا دور تھا ۔ اس شخص نے حضرت عمرؓ کے پیوند دار کپڑے دیکھے اور مسلمانوں سے متاثر ہوا، مگر وہ دانش مند شخص جب واپسی میں مکران پہونچا تو اس کا انتقال ہوگیا ، اس کے غلام نے لنکا والوں کو صحیح صورتِ حال سے واقف کرایا۔
خاندانِ مخدومین:
پندرہویں صدی کے نصف آخر میں پُنَّانی (Punnani)اسلامی تبلیغ اور اصلاح کا اصل مرکز قرار پایا،اس لیے کہ وہاں کا مشہور خاندان جو ’’مخدوم‘‘ (Makhdums)کہا جاتا ہے وہاں آکر آباد ہوگیا۔ مخدوم اول کا نام زین الدین بن علی معبری تھا۔یہ لوگ معبر سے کوچین اور کوچین سے پُنَّانی آکر بس گئے تھے ۔ معبر کے بارے میں اہلِ نظر میں بڑے اختلافات ہیں ۔ بعضوں کا خیال ہے کہ معبر ایک علاقہ ہے عین میں جہاں یہ مخدوم آئے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ معبر کائل پٹنم اور کیلا کارا کیعلاقہ کو کہتے ہیں ۔ بعض یہ تصور رکھتے ہیں کہ معبر خود کیرالا میں کوئی جگہ تھی ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جو علاقہ تامل ناڈ و میں کورومنڈل (Coromandal)کہلاتا ہے یہ عرب سے ،پہلے وہاں آئے ، پھر وہاں سے کوچین اور کوچین سے پُنَّانی ۔ بہ ظاہر یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ یہ خاندان یمن سے کائل پٹنم آیا،وہاں سے مدورائی (Madurai) تنجاور (Tanjaur)ترچنا پلّی (Trichnapally)اور ناگور (Nagore)وغیرہ ہوتے ہوئے کوچین پہونچا ۔ یہ سارے علاقے تمل ناڈ میں، مگر کیرالا سے قریب ہیں۔ کایل پٹنم اسی میں واقع ہے ۔ یہ خاندان پندرہویں صدی عیسوی کے وسط میں پُنَّانی میں آباد ہوا ۔ زین الدین ابراہیم بن احمد مصری کوچین سے پُنَّانی (Punnani)تشریف لائے اور انھوں نے اس شہر میں ایک جامع مسجد تعمیر کی جو آج پوری شان سے موجود ہے۔ یہاں انھوں نے ایک مدرسہ بھی قائم کیا اور اس شہر میں علم کی وہ رونق پیدا ہوئی کہ اطراف وجوار سے لوگ علم دین سیکھنے کے لیے جمع ہونے لگے، حتی کہ اسی کو ’’مکہ صغیر‘‘ کہا جانے لگا ۔ یہ شہر کیرالا کے مسلمانوں کی علمی وتہذیبی قدروں کا ترجمان ہے ۔ ابن بطوطہ نے پُنَّانی شہر کی زیارت کی تھی، مگر چودھویں صدی عیسوی میں اس وقت مخدوم خاندان یہاں نہیں آیا تھا ۔ اس شہر کو پرتگالیوں نے کئی بار فتح کیا ۔ انھوں نے جامع مسجد کے ایک حصہ کو آگ لگا دی تھی۔جو مسجد زین الدین کبیرنے 966ھ مطابق 1510 میں بنائی تھی ، وہ چار منزلہ تھی ،لمبائی اس کی 90؍ فٹ اور چوڑائی 60 فٹ تھی ۔ مدرسہ کے کلاسز بالائی منزلوں میں منعقد ہوتے تھے ۔
زین الدین تین گزرے ہیں : زین الدین ابراہیم بن احمدمعبری کوچین میں قاضی تھے ۔ وہ اپنے بھتیجے زین الدین بن علی بن احمد معبری کے ساتھ ’’پُنَّانی‘‘ آئے اور یہاں زین الدین بن علی قاضی مقرر ہوئے اور مخدوم کہلائے ۔ یہ پہلے مخدوم ہیں ۔ اسی بنا پر زین الدین الکبیر کے نام سے معروف ہیں۔ تیسرے زین الدین الغزالی ہیں۔یہ ’’تحفۃ المجاہدین فی احوال البرتغالیین‘‘ کے مصنف ہیں۔
پرتگالیوں کا حملہ :
اس علاقہ کی تاریخ میں اس واقعہ کو بہت اہمیت حاصل ہے جس میں مسلمانوں نے یورپی طاقتوں کامقابلہ کیا تھا اور نتیجۃً ہزاروں مسلمان شہید ہوئے تھے۔اس کا تعلق پرتگالیوں کے مالابار پر حملہ سے ہے، جب کہ واسکوڈی گاما یہاں وارد ہوا تھا اور اس کا مقابلہ یہاں کے مقامی مسلمانوں ، یہاں کے راجہ زمورن اور نائروں نے مل کرکیاتھا ۔ تحفۃ المجاہدین انہی جنگوں کی تاریخ ہے، مگر مصنف نے یہاں کی سماجی زندگی کے حالات بھی قلم بند کردیے ہیں ۔
واس کو ڈی گاما (Vas Ko De Gama)جو پرتگال کا باشندہ تھا ، کپاڈ (KAPAD)کے مقام پر 1498ء میں پہونچا ۔ یہ جگہ کالی کٹ شہر سے 15 کلو میٹر دوٗر واقع ہے ۔ وہ کالی کٹ آیا اور یہاں کے بادشاہ زمورن سے ملا ۔ زمورن نے سوچا کہ تجارت کے لیے یورپی ممالک سے تعلقات بہتر ثابت ہوں گے، اس لیے کہ ا س دور میں کالی کٹ تجارتی سامان خصوصاً مسالوں کی برآمد کا بڑا مرکز تھا ۔ یہاں عرب ، ایران، چین اور مصر وغیرہ سے بہت جہاز آتے تھے اور کالی مرچ ، مسالے، ہاتھی دانت اور دوسری چیزیں لے جاتے تھے ۔ واس کوڈی گاما نے یہ پلان بنایا کہ زمورن کی مدد حاصل کرکے عربوں کو سمندر کی بالادستی سے بے دخل کردے اور خود اپنی قوم کو اس عظیم طاقت کا مالک بنادے ۔ اس زمانہ میں بھی جب کہ صدیوں سے سمندر پر عربوں کا قبضہ تھا ۔ جب زمورن نے اس کی مدد کرنے سے انکار کر دیا تو وہ کوچین چلا گیا اور وہاں اس نے ایک فیکٹری بنالی ،پھر اس نے کینا نور میں ایک قلعہ بنایا جس کو FORT ANGELOکہا جاتا ہے۔ اس طرح اس نے یہ کوشش کی کہ زمورن کی طرف آنے جانے والے جہازوں کو پریشان کرے۔
دراصل واس کو ڈی گاما زمورن کی تجارت معطل کر دینا چاہتا تھا ۔ اس نے یہ شرط رکھی کہ جتنے جہاز بحرِ عرب سے گزریں ان کو پرتگالیوں سے اجازت نامہ لیناچاہیے۔زمور ن جو در حقیقت اس علاقہ کا بادشاہ تھا اور یہ اس کی حکومت میں تصرف اور اس کے علاقہ پر طاقت کے قبضہ کا اعلان تھا۔ اس نے واس کو ڈی گاما کے اس اقدام کو ناپسند کیا اور امیر البحر کنہا علی مرک کارکو مقابلہ کا حکم دیا ، لیکن وہ پر تگیزیوں کی بحری طاقت کا مقابلہ نہ کر سکا اور کوچین میں اس کے کئی جہاز غرق ہوگئے ۔ اس وقت اس نے اپنا مستقر پُنَّانی کو بنایاجہاں بڑی مسلم آبادی تھی ۔ پھروہ زمورن کی خدمت میں حاضر ہوا ، زمورن نے اس کو مزید اختیارات دے کر پرتگالیوں کے مقابلہ کا حکم دیا۔
دریائے ارنگال (IRINGAL)جو کالی کٹ سے 25 میل شمال میں واقع ہے،اس کا میدان اور آس پاس کے علاقے زمورن نے کنہا علی مرک کار کو عطا کیے اور حکم دیا کہ ایک قلعہ تعمیر کیا جائے ۔ جب وہ قلعہ تیار ہوگیا تو زمورن کے دل میں یہ خدشہ پرتگالی جاسوسوں نے پیدا کردیا کہ اس قلعہ سے خود اس کی پوزیشن کمزور ہوگئی ہے ۔اس لیے کہ اگر کبھی کنہا علی بغاوت کرنا چاہے تو بادشاہ اس قلعے کے باعث اس پر قابو حاصل نہیں کرسکتا ۔ کالی کٹ کے ایک پرتگالی پادری نے بادشاہ زمورن کے دل میں اس خیال کو اور پختہ کر دیا ۔ اس کے نتیجہ میں بادشاہ نے کنہا علی مرک کار کے مقابلہ میں پرتگیزیوں کی مدد طلب کی ، حالاں کہ علی خود بادشاہ کا وفادار ملازم تھا۔یہ محض پرتگالیوں کی سازش اور وضع کردہ کہانیاں تھیں جنھوں نے بادشاہ کو بدظن کر دیا اور پرتگال کے ایجنٹ ہر طرف اسی قسم کی خبریں پھیلانے لگے ۔پھر جب انہی ایجنٹوں کی کوششوں سے بادشاہ زمورن نے پرتگالیوں سے مدد طلب کی تو دونوں نے مل کر کنہا علی پر حملہ کردیا۔ اس حملہ میں در اصل شکست زمورن اور خود پر تگالیوں کی ہوئی ۔علی نے ان کے بہت سے جہاز غرق کرادیے۔ جب ان دونوں نے دوبارہ حملہ کرنا چاہا تو علی رابع نے زمورن سے کہلا بھیجا کہ اگر آپ ہماری جان اور ہمارے ساتھیوں کی حفاظت کا یقین دلائیں تو ہم سب بادشاہ کے فرماں بردار بن کر خدمت میں حاضر ہوجائیں گے ۔ بادشاہ نے وعدہ کیا کہ وہ ان سب کی حفاظت کرے گا ، مگر جب علی اور اس کے ساتھی قبضہ میں آئے تو ان کو پرتگالیوں کے حوالے کر دیا جنھوں نے علی کو ’’گوا‘‘ لے جاکر اس کا سر قلم کردیا ، پھر اس کو کیرالالاکر کینا نور میں ایک کھمبے پر لٹکایا۔ اس طرح 1600ء میں علی خاندان کا خاتمہ ہوگیا۔ ا س کے ساتھ ہی عربوں کا بحری اقتدار بھی ختم ہوگیا اور ہندوستان کی تاریخ نے ایک نیا رخ اختیار کیا ۔ پر تگالی جنھوں نے ایک صدی تک اپنے اقتدار کو قائم کرنے کی جدوجہد کی وہ غائب ہوگئے اور فرانس اور انگلستان کے جہازوں نے سمندر پر قبضہ کرنا شروع کیا ۔ اگر کنہا علی کو اس بے دردی کے ساتھ زمورن نے ختم نہ کردیا ہوتا اور اس کے اقتدارکو سمندر پر باقی رکھتا تو غالباً ہندوستان کی تاریخ آج کچھ اور ہوتی ، اس لیے کہ اس صورت میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کو آگے بڑھنے کی ہمت نہ پڑتی۔

مراجع:
۔ پی،پی، عبد الرحمن، ملایالم ذخیرۂ الفاظ اور گرامر پر عربی کے اثرات (انگریزی)
(غیر مطبوعہ)
۔ لاگن، اے مینول آف مالابار
۔ کولانڈ ملر، ماپلّا مسلمس آف کیرالا ، مدارس، 1976ء
۔ زین الدین ، تحفۃ المجاہدین فی احوال البرتغالیین
۔ قاضی اطہر مبارک پوری، العقد الثمین، بمبئی، 1968ء

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close