تاریخ اسلامسائنس و ٹکنالوجی

مسلم سائنس داں اور ہندوستان میں علوم اسلامیہ  

علم ایک ایسا ذہنی قضیہ اور تصور ہے جو عالم خارج میں موجود کسی حقیقت کو جان لینے اور سمجھنے کا نام ہے۔

ریاض فردوسی

مذہب اسلام میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر سب سے پہلی وحی   میں جو آیت نازل ہوئی اس میں تعلیم کا ہی ذکر ہے۔ ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تمہیں پیدا کیا۔‘‘ ( سورہ علق پارہ ۳۰)

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد وعورت پر فرض ہے۔ علم کی اہمیت لوگوں کے دلوں میں بٹھانے کے لیے آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا:  ـعلم وحکمت کی باتیں ایک گھنٹہ سننا ایک ہزار شہیدوں کے جنازے میں شامل ہونے اور ایک ہزار راتوں کی عبادت سے زیادہ قابل تعریف ہے۔ جو عالم کی قدر کرتا ہے وہ میری قدر کرتا ہے اور جس نے ایک عالم کی عزت کی اس ستر نبیوں کی عزت کی اور جس نے ایک طالب علم کی توقیر کی اس نے ستر شہیدوں کی توقیرکی۔ ’’صفہ‘‘ پہلا با ضابطہ اسلامی اسکول تھا، (صفہ اس چبوترے کو کہتے ہیں جو اللہ کے رسول ﷺ کے زمانے میں تھا، اور اب بھی وہاں موجود ہے) اس چبوترے پر لوگ جمع ہوتے تھے اسلامی تعلیمات سیکھتے اور اللہ کا ذکر اور عبادت میں مشغول رہتے۔ کئی کئی دنوں کا فاقہ ہوتا، لیکن وہ صادق طالب علم رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین، علوم دینیہ سیکھنے اورہمہ وقت دیدار نبی آخرالزماں ﷺکے لئے ہر طرح کی مشقت وپریشانی کو برداشت کرتے ہوئے دونوں عالم کے استاد ﷺ سے علم سیکھ رہے ہوتے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، علم سیکھو گود سے گور تک۔ فنی اعتبار سے علم کا مادہ ’’ع ل م،، ہے جس کے معنی’جاننا‘ کے ہیں۔

’علم کسی شے کو اس کی حقیقت کے حوالے سے جان لینے کا نام ہے‘۔

یعنی علم ایک ایسا ذہنی قضیہ اور تصور ہے جو عالم خارج میں موجود کسی حقیقت کو جان لینے اور سمجھنے کا نام ہے۔

لغت میں ‘علم’ جہالت کی ضد ہے، اور اس سے مراد ‘کسی چیز کی اصل حقیقت کو مکمل طور پر پالینا’ ہے۔ اصطلاح میں بعض علما کے نزدیک ‘علم’ سے مراد وہ معرفت ہے جو جہالت کی ضد ہے۔ جبکہ دیگر اہل علم کا کہنا ہے کہ ‘علم’ اس بات سے بالاترہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔ مطلب یہ کہ لفظ ‘علم’ خود اتنا واضح ہے کہ اس کی تعریف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ علم عربی زبان کا لفظ ہے۔ المنجد میں لفظ علم کا معنی ’’ادراک الشی بحقیقتہ(کسی شے کی حقیقت کو جان لینا ہے )اور الیقین و المعرفۃ(یقین اور معرفت)مذکور ہے۔ اللہ جل شانہ نے علم اور اہل علم دونوں کی تعریف فرمائی ہے اور اپنے بندوں کو علم حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اسلام میں حصول علم کو بہترین عمل قرار دیا گیا ہے۔ اہل یورپ کا دعویٰ ہے کہ سائنس کی تمام تر ترقی میں صرف ان کا حصہ ہے مگر اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ تجرباتی سائنس کی بنیاد مسلمانوں نے ہی رکھی ہے اور اس کا اعتراف آج کی ترقی یافتہ دنیا نے بھی کیاہے۔ اس ضمن میں ایک انگریز مصنف اپنی کتاب ’’میکنگ آف ہیومینٹی‘‘ میں لکھتا ہے:

’’مسلمان عربوں نے سائنس کے شعبہ میں جو کردار داا کیا وہ حیرت انگیز دریافتوں یا انقلابی نظریات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کی ترقی یافتہ سائنس ان کی مرہون منت ہے۔‘‘

ایک دوسرا انگریز مصنف جان ولیم ڈریپرا اپنی کتاب ’’یورپ کی ذہنی ترقی‘‘ میں لکھتا ہے کہ مسلمان عربوں نے سائنس کے میدان میں جو ایجادات و اختراعات کیں وہ بعد میں یورپ کی ذہنی اور مادی ترقی کا باعث بنیں۔

آٹھویں صدی سے بارہویں صدی عیسوی میں مسلمان سائنس پر چھائے رہے۔ جس وقت مسلمان سائنس میں نئی نئی ایجادات اور انکشافات کررہے تھے‘ اس وقت سارا یورپ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ مسلمانوں کا سنہری دور تھا۔ اس دور میں الخوارزمی‘ رازی‘ ابن الہیشم‘ الاہروی‘ بو علی سینا‘ البیرونی‘ عمر خیام‘ جابر بن حیان اور فارابی جیسے سائنس دان پیدا ہوئے۔ اس کے علاوہ چند مسلم سائنس دان  کے نام یہ ہیں،

اگر یہ کہا جائے کہ دنیا ابھی تک البیرونی جیسی شخصت پیش نہیں کرسکی تو غلط نہ ہوگا۔ جو بیک وقت ماہر طبیعات و ماہر لسانیات و ماہر ریاضیات‘ و ماہر اراضیات و جغرافیہ دان و ادیب و طبیب و مورخ ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر اور کیمیا دان بھی تھا۔

الحمیاری:     ساتویں / آٹھویں صدی۔ عرصہ حیات زیرتحقیق، حیان سے پہلے ہونے کا امکان غالب ہے۔ ان کا شمار کیمیاء دان  جابربن حیان کے معلمین میں کیا جاتا ہے۔

ابراھیم الفزاری:    آٹھویں صدی تا 777ء       خلافت عباسیہ کے دور میں خلیفہ ہارون الرشید کے  تحقیقاتی اداروں سے وابستگی رہی۔ علم فلکیات پر تحقیق و تحریر کیں جن میں اسطرلاب اور سالنامہ کی ترتیب بھی  شامل ہیں۔ ہارون الرشید کے کہنے پر یعقوب بن طارق کی شراکت میں ہندوستانی فلکیاتی تحریروں کا عربی  میں ترجمہ کیا، یہ کتاب 750ء میں بیت الحکمہ بغداد میں الزیج علی سنی العرب کے نام سے تکمیل کو پہنچی]1[۔ ان کے بیٹے کا نام بھی مماثلت کے ساتھ محمد الفزاری تھا، جو خود بھی اپنی جگہ ایک فلکیات داں تہے۔ ابراہیم الفزاری کا انتقال 777ء میں  ہوا۔

جابر بن حیان:  721ء ت تا 815ء  ت     کیمیائدان (بابائے کیمیاء کا لقب دیا گیا ]2[)؛ طبیعیات میں کام؛ علم الادویہ میں تحقیق؛ علم الہیئت میں تحقیق (چاند پر موجود حفرہ کی منسوبیت، حفر? جابر / Geber crater کہا جاتا ہے ]3[)۔ امام جعفر الصادق علیہ السلام اور الحمیاری جیسے معلمین سے  استفادہ اور علم حاصل کیا۔ معلومہ کتب؛ کتاب الکیمیاء، کتاب الزہرہ۔

محمد الفزاری : 796ء (806ء)؟ ت مسلم ریاضی دان، فلکیات دان اور فلسفی۔ ان کے والد کا نام ابراہیم الفزاری تھا جو خود  بھی ایک سائنس دان تہے۔ یعقوب بن طارق کے ساتھ مل کر براہماگپتا کے ہندوستانی فلکیاتی کام بنام سندھانتا (Brahmasphutasiddhanta) کا عربی ترجمہ کیا۔

یعقوب بن طارق:      پیدائش تا 796ء۔ مسلم ریاضی دان، فلکیات دان اور فلسفی۔ محمد الفزاری کے  ساتھ سنسکرت کے فلکیاتی کام کو عربی میں ترجمہ کیا۔ سندھانتا سے ماخوذ اور  اضافوں کے ساتھ کتاب بنام الزیج المحلول من السندھند لدرجات الدراجہ تحریر کی۔

ابن ترک :     830ء ریاضیات میں تحقیق۔ الجبرا پر کام کیا جس کا آج چکوری مساواتوں (Quadratic Equations) سے متعلق  صرف ایک باب دستیاب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا کام الخوارزمی کے کام سے بہت  مماثل تھا اور اس کی اشاعت کا زمانہ بھی الخوارزمی کی کتاب ال?تاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ کی  اشاعت کا عہد ہی بیان کیا جاتا ہے۔

الاصمعی:      739ء تا 831ء     حیوانیات و نباتیات پر تحقیق و تحریر۔ معلومہ کتب؛ کتاب الخلیل، کتاب خلق الانسان (جو انسانی تشریح سے متعلق  ہے)۔ عباسی خلیفہ مامون الرشید کے استاذ اور بہت بڑے عالم دین، عربی لغت میں درجہ امامت پر فائز ہیں۔

الخوارزمی :   780ء تا 850ء ریاضی، فلکیات، علم النجوم اور جغرافیہ کے شعبہ جات  میں تحقیق و تحاریر۔ بابائے الجبرا کا لقب حاصل (یا شراکت) ہے ]4[۔ معلومہ کتب؛ کتاب الجبر و المقابلہ، کتاب الجمع و التفریق بی حساب الہند]5[، کتاب صورۃ الارض۔

الجاحظ۔ :776ء ت تا 868ء تاریخ، الہایات، حیوانیات اور فلسفہ میں تحقیق و تحاریر۔ دیگر تاریخی دستاویزات سے ان کی قریباً دو سو کتب کا اندازہ لگایا گیا ہے جن میں سے تیس کے قریب ہی دستیاب ہو سکی ہیں۔ ان میں کتاب الحیوان، کتاب البخلا، ?تاب البیان والتبیین وغیرہ شامل  ہیں۔

الکندی: 801ء  تا 873ء  ریاضی دان، فلسفی، طبیعیات دان اور موسیقی سے لگاؤ(علاج بالموسیقی یعنی Music Therapy میں تجربات ]6[)۔ خلافت عباسیہ کے بغداد میں بیت الحکمہ کی ایک اہم  ترین شخصیت۔ بابائے Cryptanalysis یا صفری تجزیہ کا اعزاز حاصل ہے۔ اطباء کے لیے ادویات کی طاقت ناپنے کا صیغہ (فارمولا) تشکیل دیا۔ چند معلومہ کتب: کتاب فی الاستعمال الاعداد الہند، On Deciphering Cryptographic Messages یعنی، تخطیط  صفری پیغامات کی کشف صفری کا موجد کہلائے گئے۔

ابن فرناس:     810ء ت تا 887ء طبیعیات اور علم الہیت میں  تحقیق و تجربات۔ ساعت الماء (آبی گھڑی) کی تخلیق۔ انہوں نے Wright Brothers سے 1000 ہزار سال قبل 875ء اپنا glider تخلیق کر کے پہلی انسانی پرواز کا تجربہ کیا۔ اس سے قبل 852ء میں مسلم اسپین ہی کے آرمین فرمان نے اسی قسم کا تجربہ  کیا تھا اور وہ ہوائی چھتری کے ذریعے کیا گیا تھا، اسی وجہ سے Philip Hitti کے مطابق؛ ابن فرناس تاریخ میں پہلے شخص تہے، جنہوں نے سائنسی طریقے سے پرواز کی کوشش کی۔

علی ابن ربان الطبری:        838ء تا 870ء  ت طب میں تحقیق و تحریر۔ انہوں نے دنیا کا سب سے پہلا طبی دائرہ المعارف مرتب کیا۔ مشہور مسلم سائنس دان الرازی کے معلم بھی تہے۔ معلومہ کتب؛ فردوس الحکمہ، تحفات الملوک، حفظ الصحت  وغیرہ

جابر بن سنان البتانی: 850ء  تا 923ء ان کے نام میں الصابی شامل ہونے کی وجہ سے غیر مسلم ثابت کرنے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں لیکن اگر نام ہی کی بات کی جائے تو ان کا مکمل نام تو، ابو عبد اللہ محمد بن جابر بن سنان الحرانی الصابی البتانی ہے۔ ریاضی اور بالخصوص مثلثیات (Trigonometry) میں اہم تحقیقات۔ شمسی سال کے 365 دن، 5 گھنٹے  46 دقیقے اور 24 ثانیے ہونے کا  تخمینہ لگایا۔ معلومہ کتب؛ کتاب الزیج۔

الفرغانی: 860ء اجرام فلکی کی حرکات پر تحقیق و تحریر۔ المامون کی زیرسرپرستی (813ء تا 833ء) بغداد میں ہونے والے زمین کے قطر کی پیمائش کے  منصوبے میں شامل رہے۔ بغداد سے مصر واپس آکر 856ء میں اسطرلاب پر ایک تحقیقی شرح لکھی۔ 861ء کے دوران میں بنائے گئے نیل پیما کی  اپنی زیرنگرانی تعمیر کروائی۔ چاند پر موجود حفرہ الفرغانی (Alfraganus Craterr) انہی کے نام سے منسوب ہے

ابوبکرالرازی:  864ء تا 925ء     طب، فلسفہ و کیمیاء میں  تحقیق و تحریر۔ کیمیائی مرکب الکحل کی دریافت کا  سہرا ان کے سر ہے۔ جبکہ بعض ذرائع تیزاب ?ِبرِيت (sulfuric acid) کی دریافت بھی انہی  سے منسوب کرتے ہیں اور دیگر ایسے تاریخی شواہد بھی پیش کیے جاتے ہیں جن کی رو سے اس تیزاب کی دریافت کا سہرا جابر بن حیان کے سر جاتا ہے۔

الفارابی: 870ء تا 950ئعلم ریاضی، طب، فلسفہ اور موسیقی میں تحقیق و تحاریر۔ منطق (logic) کی  علمی گروہ بندی کی۔ ان کو ارسطو کے بعد دوسرا بڑا  فلسفی بھی کہا جاتا ہے۔ علم طبیعیات میں وجود خلا پر اہم تحقیقات۔

المسعودی:     896ء تا 956ء     پہلی بار وسیع پیمانے پر تاریخ اور جغرافیہ کو پیوست کرتے ہوئے کتب تحریر کیں۔ دنیا بھر میں اپنے سفر سے اخذ کردہ تجربات کی بنا پر تخطیط التاریخ (histography)، جغرافیہ اور زمینیات (earth sciences) جیسے موضوعات  کا احاطہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس عالم کا تعلق معتزلہ گروہ  سے تھا۔

احمد بن وحشیہ:       نویں صدی    کیمیاء دان، زراعت دان اور ماہر مصریات و مورخ۔ یورپ میں ہونے والے عربی سائنس  کے ابتدائییییییی تراجم میں ان کا نام احمد بن ابوبکر بن وحشیہ بھی آتا ہے۔ عربی کتب و مقالات کی مشہور فہرست تیار کرنے والے ابن الندیم کی کتاب بنام کتاب الفہرست میں  ابن وحشیہ کی متعدد کتب و مقالات کے نام پائے جاتے ہیں۔

عبدالرحمن الصوفی: 903ء تا 986 ئفلکیات اور ریاضیات کی بے شمار کتب کا عربی میں ترجمہ کیا۔ کواکب اور نجوم کی درجہ بندی کی جو کسی نہ کسی حد تک آج بھی رائج ہے۔ اصطرلاب کے ایک ہزار استعمالات پر کتابچہ تحریر کیا۔ مشہور کتب میں، ?تاب ال?وا?ب الثابت? (9644ء میں شائع ہوئی اور اس کے متعدد نسخے آج بھی موجود ہیں۔ انگریزی میں یہ Book of Fixed Stars کے نام سے مشہور ہے)،

ابوالقاسم الزہراوی: 936ء تا 1013ء  ۔  جدید آپرشن کا موجد اس نے آپرشن میں کام آنے والے بہت سے اوزار بنائے جو اب تک استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ اشبلہ اندلس میں پیدا ہوا تھا اور  بارہویں صدی کے کا بہت بڑا طبیب اور جراح تھا۔

ابو الوفا البوزجانی: 940ء تا 998ء

ابن الہیثم : 965ء تا 1040ء   تیسری صدی ہجری میں مصر کا عظیم سائنس دان تھا۔ اس نے ہی اب سے پہلے روشنی پر تجربات کیے تہے۔ اس نے ہی سب سے پہلے اسوان ڈیم بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ مگر وسائل کی کمی کی وجہ سے اس منصوبے پر عمل درآمد نہیں کرا سکا۔

الماوردی:      972ء تا 1058ء

البیرونی:       973ء تا 1048ء

ابن سینا:       981ء تا 1037ء

الجزار دسویں صدی

الناصبی:

ابن حوقل:      دسویں صدی (9200ء؟)

ابواسحاق الزرقالی:    1028ء  تا 1087ء ماہر فلکیات، انہوں نے 1080ء میں زمین کی سورج کے گرد  گردش کا نظریہ پیش کیا۔

محمد الازدی:    دسویں صدی

عمر خیام :     1048ء  تا 1131ء علم نجوم اور ریاضی کے ماہر تہے۔ شمسی کیلنڈر ان کی  محنت کا نتیجہ تھا۔

غزالی:   1058  تا 1111

عبدالرحمن الخزینی:

الخازن: گیارہویں  تا بارہویں صدی  مرو (Merv) کے تاریخی شہر  سے سب سے نمایاں سائنس دان۔ ریاضیات و فلکیات میں  نمایاں کارکردگی، اہم کتب میں سے چند کے نام کتاب میزان الحکمہ اور کتاب فی الآلات درج کیے جاسکتے ہیں۔

ابن زہر؛        1091ء  تا 1161ء

الادریسی؛      1100ء  تا 1165ء

طفیل القیسی؛

ابن طفیل؛      1105ء  تا 1185ء

ابن باجا :      1106ء  تا 1138ء

الجزاری:       1136ء  تا 1111ء

ابن جبیر؛       1145ء  تا 1206ء

عبداللطیف؛     1162ء  تا 1231ء

محمد الفارسی: Al-Farisi   1320ء  تا 1260ء

نصیرالدین طوسی:    1201ء  تا 1274ء

ابن ابی اصیبع:          (نامعلوم)

ابن ابی اصیبعہ:       1203ء  تا 1270ء

ابن النفیس:     1213ء  تا 1288ء

المغربی :       1220ء  تا 1283ء

ابوالفداء  :     1273ء  تا 1331ء

ابن خلدون:     1332ء  تا 1406ء

الغ بیگ:       1393ء  تا 1449ء

ابوالحسن:      1412ء  تا 1486ء

احمد بن ماجد:   1430ء  عرب جہاز راں۔ جس نے بحریات و جہاز رانی پر معلوماتی کتابیں تحریر کی۔

سلیم الزماں صدیقی:   1897ء  تا 1994ء جامعہ کراچ? کے مرکزِ  فضيلت برائے اطلاق? کيميا کے سربراہ تھے۔

اختر حمید خان:    1914ء تا 1999ء ایک پاکستانی ترقی پسند کارکن اور سائنس دان تہے، جنہیں ترقی پزیر ممالک میں چھوٹے قرضوں، چھوٹی مالیاتی امدادی پروگراموں، کسان کے تعاون کے فروغ اور دیہاتی ترقی کے پروگراموں کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔

عبد الکلام :    1931ء  تا 2015ء بھارت کے ايٹم? پروگرام کے خالق ہيں۔ بعد ازاں بھارت کے صدر بھ? رہے۔

عبد القدیر :    1936ء  تا حال     آپ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق ہیں۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، میری بات لوگوں تک پہنچا دو،اگرچہ ایک ہی آیت ہو۔ (او کماقال ﷺ)آپ ﷺ کے اس قول کو لے کر ہمارے اکابرین ہندستان تشریف لائے۔ اسی مشن کو لے کر ہمارے اکابرین نے سر زمین ہندوستان میں بھی علوم اسلامیہ کو فروغ دیا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ تو اسلام کی ابتدائی صدیوں ہی سے شروع ہوگیاتھا۔ مسلمان

 تاجر جنوب کے راستے سے آئے، تو فاتحین محمد بن قاسم رحمۃ اللہ علیہ کی سر کردگی میں مغرب کی طرف داخل ہوئے۔ مگر ہندوستان میں ایک منظم اور پائیدار مسلم سلطنت شہاب الدین غوری کے  ۱۱۹۲؁ء میں (سلطان الہند خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ کی دعائوں کی برکت سے) ہندوستان کو فتح کرنے کے بعد قائم ہوئی اور یہ مسلم سلطنت مختلف حکمراں خاندان کی تبدیلیوں کے ساتھ ۱۸۵۷؁ء تک قائم رہی۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہونے کے بعد نہ صرف عرب، ایران، افغانستان، اور ترکستان سے مسلمانوں کی بڑی تعداد یہاں آکر آباد ہوئی، بلکہ مقامی باشندوں کی بڑی تعداد نے بزرگان دین کی محنت ومشقت کے سبب اس دین کو اپنے طریقے حیات کے طور پر منتخب کیا اور حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ ان حالات میں یہاں اسلامی تعلیمات کی اشاعت کی بھی ضرورت محسوس ہوئی۔ یہاں کے باشندوں کے مزاج اور ذہنی استعدادکے پیش نظر علوم قرآن، تفسیر، حدیث، فقہ، نیز تاریخ و دیگر علوم پر متعدد کتابیں لکھی گئیں اور ان علوم کی اشاعت کی گئی۔ شروعات میں عربی زبان میں، پھر فارسی زبان اور اس کے بعد دیگر زبانوں میں بھی بڑی تعداد میں اسلامی علوم پر کام ہوئے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے عہد میں جتنے فقہاء گزرے ہیں اور فقہ اور اصول فقہ پرانہوں نے جو کام سر انجام دئیے ہیں اس کی فہرست بہت لمبی ہے۔ صرف مغلیہ عہد سلطنت میں تقریباً تین سو فقہاء  موجود تھیں۔ ان علما ء اکرام کا احسان عظیم امت مسلمہ پر بے انتہا ہے۔ ان کے کارنامے بہت اہم ہیں۔ ہندوستان میں عہد وسطیٰ میں جو علوم قرآن میں کارہائے نمایاں انجام دئیے گئے ہیں ان میں سے چند مشہور کتابوں کا ذکر حسب ذیل ہیں۔ (۱) ’’دستور المفسرین ‘‘۔ اس کے مصنف مولانا عماد الدین محمد عارف عرف عبد النبی اکبر آبادی (م: ۱۰۲۱ھ /۱۶۱۱ء) ہیں۔ (۲) ’’الفوز الکبیر۔ ‘‘ اس کے مصنف شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ہیں۔ یہ کتاب فارسی زبان میں لکھی گئی ہے۔ (۳) ’’الرسالۃ الواضحۃفی تخریج الآیات موسوم بہ ہادیہ قطب شاہی‘‘۔ اس کو محمد علی کربلائی (۱۰۸۳ھ/۱۶۷۲ء)نے مرتب کیا ہے۔ (۴) ’’مجمع الفوائد‘‘۔ اس کے مصنف قلی بن پادشاہ قلی (م ۱۱۱۱ھ/۱۶۹۹ء) ہیں۔

چند عربی تفاسیراس سے قبل لکھی گئی تھی، ان کے نام یہ ہیں۔ (۱)’’جواہر القرآن‘‘۔ اس کے مصنف تاج الدین حنفی (متوفی ۷۳۶ھ/۱۳۳۶ء) ہیں۔ (۲) ’’کاشف الحقائق وقاموسالدقائق‘‘۔ یہ محمد بن احمد گجراتی ( ۸۲۱ھ/ ۱۴۱۸ء) کی تفسیر ہے۔ (۳)’’ تفسیر ملتقط‘‘۔ اس کے مصنف سیدگیسودرا ز (۸۲۸ھ/۱۴۲۵ء) ہیں۔ (۴)’’ تبصیر الرحمن فی تفسیر القرآن ‘‘۔ یہ تاج علاء الدین علی ابن احمد مہائمی (متوفی ۸۳۵ھ/۱۴۳۲ء) کی تفسیر ہے۔ (۵) ’’ نور النبی ‘‘ اس کے مصنف شیخ حسین ابن خالد ناگوری (متوفی ۹۰۱ھ /۱۴۹۶ء ) ہیں۔ (۶) ’’تفسیر القرآن‘‘۔ یہ شیخ حاجی عبد الوہاب بخاری (متوفی ۸۶۹ھ/۹۳۳ ء) کی ہے۔ (۷)’’ تفسیر القرآن‘‘۔ اس کے مصنف شیخ محمد یوسف (متوفی ۸۲۵ھ) ہیں۔ (۸) ’’النور بخشہ ‘‘۔ اس کے مصنف سید الشرف ابن ابراہیم کچھوچھوی ہیں (متوفی ۹۰۱ ھ)۔ (۹) ’’تفسیر منبع عیون المعانی‘‘۔ اس کے مصنف شیخ مبارک ابن خضر نا گوری (متوفی ۱۰۰۱ء)ہیں۔ (۱۰) ’’ تفسیر محمد‘‘۔ یہ شیخ محمد بن عاشق چریاکوٹی (متوفی ۹۷۲ھ) کی تصنیف ہے۔ (۱۱)’’ انوار

 الاسرار ‘‘۔ یہ عیسیٰ ابن قاسم برہان پوری نے لکھی ہے۔ (۱۲)’’ تفسیر نظامی‘‘۔ یہ شیخ نظام الدین ابن عبد الشکور تھانیسری (متوفی ۱۰۳۶ھ ) کی تصنیف ہے۔ (۱۳) ’’ تفسیر احمدی‘‘۔ اس کے مصنف ملا جیون انبیٹھوی جو استاد اورنگ زیب عالمگیر ہیں۔ (۱۵)’’ تفسیر جہانگیری‘‘۔ اس کے مصنف شیخ نعمت اللہ فیروز آبادی ہیں۔ (۱۵) ’’شرح القرآن ‘‘۔ اس کے مؤلف شیخ معین الدین ابن خاوند محمد کشمیری ہیں۔ (۱۶)’’ فتح الرحمان‘‘۔ یہ شاہ ولی اللہ (متوفی ۱۱۷۴ھ) کی تصنیف ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت خواہ وہ سلاطین کی رہی ہو یا مغلوں کی، اسلامی شریعت کو قانون کے طرز پر نافذ کئے رہی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فقہ اسلامی کا دور دورہ ایک طرف قاضیوں اور شیوخ اسلام کی عدالتوں میں رہا تو دوسری طرف اس کی گونج مدارس اور مکاتب میں بھی سنائی دیتی رہی۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے دورِ اقتدار میں جتنے فقہاگزرے ہیں اور اصول فقہ پر انہوں نے جو کام سر انجام دئیے ہیں اس کی مثل آپ نہیں ملتی بعض مصنفوں کو حکومت وقت کی سر پرستی حاصل تھی۔ کچھ فتاویٰ حکومت کی سرپرستی میں کچھ انفرادی اور باقی شرح اور حواشی بھی تصنیف ہوئے۔

چند فتاویٰ کے نام حسب ذیل ہیں:

(۱)’’فتاویٰ تاتارخانیہ‘‘ تاتار خانیہ سلطان غیاث الدین تغلق ۱۳۹۷ء کے دربار کا ایک عالم اور فاضل امیر تھا۔ اس کے ایک ہم عصر عالم مولانا عالم بن علاء ا لدین حنفی دہلوی نے اس کے فیصلوں اور فتوئوں کو کتابی شکل میں ’’فتاویٰ تاتارخانیہ ‘‘کے نام سے تین جلدوں میں مرتب کیا جس کی حیثیت ایک فقہی انسائیکلو پیڈیا کی تھی اس فتاویٰ کا امتیاز یہ ہے کہ مسائل کی تشریح وتوضیح میں نہایت باریک بینی اور تفصیل سے کام لیا گیا ہے۔

(۲)’’ فتاویٰ فیروز شاہی‘‘ فتاویٰ فیروزشاہی کی امتیازی خصوصیات یہ ہے کہ باب وفصل کے تحت مسائل استفتاء فتویٰ کے پیرایہ میں بیان کیے گئے ہیں۔ زبان کے سلسلہ میں بھی یہ کتاب انفرادی حیثیت رکھتی ہے۔ سوال وجواب کی حد تک اس کی زبان فارسی ہے لیکن فتویٰ یا جواب کی تائید میں اقتباسات عربی کتابوں سے نقل کئے گئے ہیں۔ یہ سوالات اس زمانے کے سیاسی، معاشی وسماجی حالات سے متعلق ہیں۔

(۳)’’ فتاویٰ عالمگیری ‘‘ فتاویٰ عالمگیری کی تالیف اس زمانے کا بلاشبہ ایک عظیم کارنامہ ہے۔ اس کی تدوین کے لیے تقریباً پچاس علماء پر مشتمل ایک مرکزی جماعت تشکیل ہوئی۔ جماعت کے صدر شیخ نظام الدین برہان پوری تھے۔ مرکزی جماعت کے تحت ذیلی جماعتیں بھی تھیں۔ ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ کو ’’فتاویٰ ہندی‘‘ بھی کہا جاتاہے۔ اورنگزیب خود اس کا مطالعہ کرتے کہ اس میں کسی قسم کی کمی نہ ہوجائے۔ آپ اس کی خود نشاندہی کرتے، اور اس کی اصلاح فرماتے۔ اس کی تدوین میں تمام معتبر کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے۔ ایک ایک مسئلے کی اچھی طرح چھان بین کی جاتی تھی بقول’مولانا اسحاقبھٹی‘ ان فتاویٰ کی تالیف کا آغاز (۱۰۷۸ھ/۱۷۶۸ء) میں ہوا اور( ۱۰۸۰ھ/۱۷۷۰ء) میں تکمیل ہوئی۔ اس پر دو لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اس کی مرکزی جماعت کے علماء زیادہ تر بہار اور اودھ کے تھے۔ کچھ لوگ لاہور اورسندھ کے بھی تھے۔ ان میں مشہور، ملا محمد جمیل جون پوری، شاہ عبد الرحیم، شیخ رضی الدین بھاگلپوری، سید علی اکبر الٰہ آبادی، سعید اللہ خاں سید محمد اکبر لاہوری، شیخ محمد غوث کا کوروی وغیرہ۔ مولانا نجم الدین ثاقب قاضی القضاۃ (م ۱۲۲۹ھ /۱۸۱۱ء) نے لارڈ سرجان (۱۷۹۲ء۔ ۱۷۹۸ء) کے مشورے سے اس کا فارسی میں ترجمہ کیا تھا۔ فتاویٰ عالمگیری کو نہ صرف بر صغیر میں قبولیت حاصل ہوئی بلکہ پورے عالم اسلام میں اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ ترکی، شام، مصر اور دیگر ممالک میں شرعی فیصلوں میں اسے بطور سند استعمال کیا جانے لگا۔ یہ وہ فتاویٰ کی تصنیفات ہیں۔ جن کی تالیف میں حکومت کی سر پرستی حاصل تھی۔ اس کے علاوہ انفرادی طور پر تصنیف کی گئی فتاویٰ کی ترتیب یہ ہے۔

(۱) فوائد فیروز شاہی (۲) تحفۃ النصائح (۳) طرفۃ الفقہاء (۴) فتاویٰ ابراہیم شاہیہ (۵) فتاویٰ حمادیہ (۶) شروح وحواشی وغیرہ۔

’علامہ رشید رضا ‘کے قول کے مطابق موجودہ زمانہ میں علم حدیث کی تعلیم واشاعت میں ہندی مسلمان سب سے آگے ہیں۔ اگر ہندی مسلمان علم حدیث کے لیے اس قدر جان فشانی سے کام نہ لیتے تو یہ علم اب تک ختم ہوچکا ہوتا۔

صوفی علماء نے علم حدیث کی درس وتدریس پر خود بھی توجہ دی اور اپنے مریدوں میں بھی اسے حاصل کرنے کا شوق پیدا کیا، اور صالح مریدوں نے یہ کام بہ حسن خوبی انجام دیا۔ چند مشہور ومعروف صوفی علماء کی سرکردگی میں شمال ہند میں علم حدیث کے چار مکاتب قائم ہوئے۔ سیدناشیخ نظام الدین اولیاء اس مکتب کے مشہور محدثین میں شامل ہیں۔ اس مکرم گروہ محدثین میں شیخ نظام الدین اولیا (۱۲۲۶۔ ۱۳۲۵ء) صف اول میں ہیں۔ شمس الدین محمد یحیٰ اور (متوفی ۱۳۴۶؁ء) فخر الدین زراد سمانوی دہلوی (متوفی ۱۳۴۷ء )ضیاء الدین معید الملک برنی، محی الدین بن جلال بن قطب الدین کاشانی (م ۱۳۱۹ء) نظام الدین علامی الہاشمی ظفرآبادی (م ۱۳۳۴ء) شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی (م ۱۳۵۶ء) سید محمد گیسودراز (م ۱۳۲۱۔ ۱۴۲۲ء) شیخ وجیہ الدین، قاضی شہاب الدین دولت آبادی (م ۱۴۴۵ء) اور شمس الدین خواجگی کڑوای (م ۱۴۷۳ء) ہیں۔ بہار میں مخدوم شرف الدین منیری اور ان کا مکتب (۱۲۶۳ء۔ ۱۳۸۱ء) اس مکتب میں شیخ مخدوم مظفر بلخی (م ۱۲۸۴ء)مخدوم حسین بن معیز بلخی بہاری (م۱۴۴۱ء)مخدوم احمددریالنگربلخی (م ۱۴۸۱ء )شاہ علیم الدین بلخی دوم (م ۱۲۸۷ھ کے تصنیفات اور تالیفات) وغیرہ ہیں۔ کشمیر میں میر سید علی ہمدانی، سید جمال الدین قاضی حسین شیرازی، میر سید علی ہمدانی مشہور ومعروف محدثین میں شامل ہیں۔ ملتان میں شیخ زکریا ملتانی (۱۱۸۰ء۔ ۱۲۶۷ء) جمال الدین محدث، مخدوم سید جلال الدین بخاری (۱۳۰۸۔ ۱۳۷۵ء) وغیرہ ہیں۔ ان درس گاہوں میں سنن ابودائود، مشارق الانوار، مصابیح السنۃ، صحیحین، سنن اربعہ، سنن البیہقی، المستدرک حاکم، شرح معانی الآثار، مسند فردوس الدیلمی، مشکوٰۃ المصابیح، مسند فردوس وغیرہ ہیں۔

عہد مغلیہ کے مشہور محدثین کے اسم گرامی یہ ہیں :

(۱) ابو بکر محمد بھروچی (م ۱۵۰۹ء)

(۲) میر سید عبد الاول حسینی زید پوری (م ۱۵۶۰ء)

(۳) خواجہ مبارک بن مخدوم ارجانی رہتکی بنارسی  (م ۱۵۷۳ء)

(۴) شیخ بخاری کا کوروی (۱۴۸۵ء۔ ۱۵۷۳ء)

(۵) ظاہر پٹنی (۱۵۰۸ء۔ ۱۵۷۸ء)

(۶) شیخ محمد طیب سندھی (م ۱۵۹۰ء)

(۷) شیخ عبد اللہ انصاری سلطان پوری (م ۱۵۸۲ء)

(۸) شیخ عبد النبی گنگوہی (متوفی۱۵۸۲ء)

(۹) شیخ وجیہ الدین علوی گجراتی (۱۵۰۴ء۔ ۱۵۸۰ء)

(۱۰) شیخ طاہر بن یوسف سندھی برہان پوری (متوفی ۱۸۹۵ء)

(۱۱) شیخ یعقوب بن حسن صرفی کشمیری(۱۵۰۲ء۔ ۱۵۹۵ء)

(۱۲) حاجی محمد کشمیری (۱۵۹۵ء)

(۱۳) شیخ احمد سرہندی (۱۵۶۴ء۔ ۱۶۲۴ء)

(۱۴) شیخ عبد الحق محدث دہلوی (۱۵۵۱ء۔ ۱۴۴۲ء ) وغیرہ۔

 ڈاکٹر حامد رضوی نے ایک مقالہ  ’ادب اردو کے ارتقاء میں بھوپال کا حصہ‘  میں لکھتے ہیں کہ ثمالی ہند میں سب سے پہلے قرآن کریم کا  اردو ترجمہ قاضی معظم سنبھلی(مراد آباد)نے (۱۷۱۹ء۔ ۱۱۳۱)میں کیا۔ اور اس کا ایک غیر مطبوعہ نسخہ بھوپال کے کتب خانے میں موجودہے۔

(بحوالہ، تاریخ اسلامیہ،ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد،محمد ابن قاسم سے اورنگ زیب تک،تاریخ دعوت و عزیمت، تاریخ قاسم فرشتہ،تاریخ ابن خلدون،( ڈاکٹر غضنفر اے خان(ماہر انڈو اسلامک کلچر ماہر تاریخ اسلامیہ) شمسل عارفین،اور ذیشان حیدر (ماہر تاریخ و اسلامک تحزیب کے مقالوں سے بھی ماخوذ)و یگر مضامین اسلامیہ)

مزید دکھائیں

ریاض فردوسی

الشفاء کلینک سکہ ٹولی عالم گنج (نزد سکہ ٹولی مسجد )پٹنہ۔

متعلقہ

Back to top button
Close