تاریخ اسلام

کربلا :فسق وفجورکے خلاف ایک منفرد جہاد

جہاں گیرحسن مصباحی

ماہ محرم کے آتے ہی دل دماغ میں جو سانحہ سب سے پہلے ابھرتاہے وہ کربلاکا سانحہ ہے جو سنہ ہجری میں رونماہوا۔یہی وہ دل دوزسانحہ ہے جس میں حضرت امام عالیمقام کی شہادت کا دردناک واقعہ پیش آیاجو اسلامی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتاہے اورجس سانحے نے پوری انسانیت کی چولیں ہلاکر رکھ دی تھیں۔
اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے کیوں ایساکیاکہ انھوںنے خود شہیدہونااوراپنے گھرانے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا گوارا توکرلیا لیکن یزید کی بیعت کوقبول کرناپسندنہ فرمایا۔آخر اس کے اسباب وعوامل کیا تھے؟چنانچہ اس سلسلے میںجب ہم اسلامی تاریخ کاجائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ اس کے کئی اسباب وعوامل تھے:
1۔امام حسین رضی اللہ عنہ نے ایسا اس لیے کیاکہ وہ دین کی حفاظت اور فسق وفجورکاخاتمہ چاہتے تھے جس میں یزید ڈوباہوا تھا،اگر وہ ایسا نہ کرتے اور خاموش رہ جاتے تو دنیاکے سامنے وہ دین نہ پہنچ پاتا جس دین کو لے کرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے ۔ یزید کا فسق وفجوراس حد تک بڑھ چکا تھاکہ اگراُس کو ختم نہیں کیاجاتاتو نہ صرف مسلمانوں کے اندر بے راہ روی حد سے بڑھ جاتی،بلکہ اصل اسلام پر بھی پردہ پڑجاتااور لوگ دین کی حقیقت سے دورہوجاتے، اسی لیے امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت قبول کرنے سے انکار کردیا۔آپ کے اس عمل کو بغاوت کا نام نہیں دیا جا سکتا،کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے ہراُس شخص کی اطاعت وتابع داری سے منع فرمایاہے جو اپنی خواہش کا غلام ہو، اور فسق وفجورمیں مبتلا ہو۔
ارشادباری تعالیٰ ہے کہ’’اس شخص کی اطاعت وفرماںبرداری نہ کرو جس کے قلب کو ہم نے اپنے ذکرسے غافل کردیاہے اورنہ اس شخص کی جو اپنی خواہش کی اتباع کرے اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔‘‘(سورۂ کہف:28)
اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیںکہ’’اللہ کی نافرمانی کرنے والے کسی بھی انسان کی کوئی بھی بات نہیں مانی جائے گی۔‘‘
(مسند احمد،حدیث:1094)
2۔ جن حالات میں کوفیوںنے امام حسین رضی اللہ عنہ کو بار بارخط بھیجااور جن اسباب کا ذکرکرکے مددکے طالب ہوئے،ان اسباب کی بنیادپر مدد کرنا بہرحال لازم تھا،اگرامام حسین رضی اللہ عنہ اہل کوفہ کی مدد کرنے سے انکارکردیتے اوران کی مددکو نہ پہنچتے توامام حسین پرہمیشہ کے لیے یہ الزام عائد ہوجاتاکہ اہل کوفہ فسق وفجور کے خاتمے کے لیے مدد کے طالب ہوئے لیکن امام حسین نے اُن کی مددکرنے سے انکارکردیا، ان کی مدد کو نہ پہنچے،اوراس طرح امام حسین رضی اللہ عنہ نے فسق وفجورکوپھلنے پھولنے کا موقع دیا۔
چنانچہ پہلے آپ نے اپنے چچازادبھائی مسلم بن عقیل کووہاں بھیجا،تاکہ حقیقت حال کا پتاچل سکے کہ کیا واقعی اہل کوفہ دین کے خیر خواہ ہیں یا محض ان کادکھاواہے۔اگر امام حسین رضی اللہ عنہ کو حکومت کی خواہش ہوتی (جیساکہ کچھ لوگوںکاخیال ہے)تواُس کی تکمیل کے لیے نہ آپ کو کوفیوں کے خطوط کی ضرورت تھی اور نہ امام مسلم بن عقیل کو تحقیق حال کے لیے بھیجنے کی،بلکہ آپ خود تشریف لے جاتے، نیزاگرواقعی یہی بات ہوتی تواہل کوفہ کے خطوط آنے سے پہلے بھی آپ اپنی حکومت کا اعلان کرسکتے تھے اورمدینہ منورہ میںاپنی حکومت بھی قائم کرسکتے تھے، مگر آپ نے ایسانہیں کیا جو اِس بات کا ثبوت ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کوحکومت میں کوئی دلچسپی نہیںتھی بلکہ بات صرف یہ تھی کہ آپ ایک فاسق وفاجرشخص کی بیعت کرنا نہیں چاہتے تھے۔
3۔پھرجب امام عالی مقام کربلاکی سرزمین پرپہنچے اورآپ رضی اللہ عنہ کی ملاقات یزیدی سپہ سالارعمروبن سعد سے ہوئی توآپ نے میٹنگ کے دوران یہ تین شرطیں رکھیں:
٭ مجھے یزید سے ملنے کاموقع دیاجائے۔
٭ مجھے سرحدکی طرف جانے دیاجائے۔
٭ مجھے مدینہ منورہ لوٹ جانے دیاجائے۔
لیکن امام حسین رضی اللہ عنہ کی یہ شرطیں نہیں مانی گئیں ۔کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ امام حسین رضی اللہ عنہ قتل و قتال نہیںچاہتے تھے،بلکہ اس سے مسلمانوںکومحفوظ رکھناچاہتے تھے، ورنہ ایسی شرطیں رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔
ان تمام حقائق کو جان لینے کے بعد کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کوفہ اس لیے روانہ ہوئے کہ شرعاًوہاںجاناواجب تھااور آپ نے یزید کی بیعت سے انکار اِس لیے نہیں کیاکہ یزیدنے امام حسین کا حق غصب کرلیاتھا،بلکہ بیعت سے انکار کی اصل وجہ یہ تھی کہ یزید کھلم کھلافسق وفجور میں مبتلا تھا،جس پر آج بھی جمہورعلماکا اتفاق ہے ۔
چنانچہ آج بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ یاد حسین اور ذکر حسین کی محفلیں منعقد کرتے وقت خلاف شرع اعمال سے پرہیزکیا جائے اور یہ احتیاط بھی کیاجائے کہ کہیں جانے انجانے میںبھی کچھ ایسے اعمال نہ ہوجائیںجن کاتعلق فسق وفجورسے ہو۔پھراِس بات کوبھی دل ودماغ میں بٹھالینے کی ضرورت ہے کہ یاد حسین یا ان کے ذکر کی محفلیں اگرشریعت کے دائرے میں ہیںتووہ قابل قبول ہیںاور ثواب کا باعث بھی ہیں، لیکن یادحسین یا ان کے ذکرخیرکے نام پر ایسی محفلیں جن میں شریعت کی پابندی نہ کی جائے اورشریعت مصطفوی کا کوئی لحاظ نہ رکھاجائے یقیناً نفرت کے لائق ہیں،کیوںکہ یادحسین یا ذکرحسین کی ایسی محفلیں نہ تو اللہ تعالیٰ کو پسندہیں، نہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ،اور نہ خودامام حسین رضی اللہ عنہ کو۔
یوںہی کربلا کے واقعات کو یادکرنے کے ساتھ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے آفاقی پیغام کو عام کیاجائے اورجس طرح امام حسین نہ خودفسق و فجورمیںمبتلاتھے اور نہ ہی انھوںنے فاسق و فاجرکی امارت تسلیم کی،اسی طرح ہمیںبھی چاہیے کہ نہ ہم فسق وفجورمیں مبتلارہیںاور نہ کسی فاسق وفاجرکی امارت وامامت تسلیم کریں ،خواہ وہ کسی عالم دین کا بیٹا ہی کیوںنہ ہو،کسی شیخ کامل کا جانشیں ہی کیوںنہ ہو،اور نہ ہی فسق فجور کو کبھی بڑھنے دیں،بلکہ جس طرح امام عالی مقام اخلاص و تقویٰ سے مزین، متقیوں کی امارت میں رہنے والے تھے اسی طرح ہم بھی اپنے آپ کو اخلاص و تقویٰ سے آراستہ کرنیا ور مخلصین و متقین کی امارت قبول کرنے اور ان کی امامت کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کریں تبھی جاکرہم اپنے آپ کو حسینی کہہ سکتے ہیں ورنہ نہیں۔

مزید دکھائیں

جہاں گیر حسن مصباحی

ڈاکٹریٹ جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی۔ مدیرمسئول: ماہنامہ’’خضرراہ‘‘ الہ آباد۔ استاذ:جامعہ عارفیہ، سیدسراواں، الہ آباد۔ متعدد اسلامی سماجی سیاسی اور ادبی مقالات ومضامین اشاعت پذیر۔

متعلقہ

Close