تاریخ اسلام

یوم عاشورہ اورشہادت امام حسینؓ

نازِش ہما قاسمی

مسلمانوں کے یہاں محرم الحرام کا مہینہ بڑا ہی محترم’ اور فضیلت والا ہے۔ محرم کے معنی ہی محترم ‘ معظم اور مقدس کے ہیں۔ محرم تحریم باب تفعیل سے اسم مفعول ہے، اس کے ایک معنیٰ تعظیم کرنے کیلئے بھی آتے ہیں اس اعتبار سے محرم کے معنی معظم (عظمت والا) ہوئے۔ اس مہینہ کا نام محرم الحرام اس وجہ سے رکھا گیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں اس مہینہ میں قتال کرنا حرام تھا (غیاث اللغات)۔ حافظ الحدیث حضرت ابوہریرۃؓ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ سب روزوں سے افضل رمضان کے بعد اللہ تعالیٰ کا مہینہ محرم یعنی عاشورہ کا روزہ ہے ویسے تو تمام مہینے ہی اللہ کے ہیں لیکن اس حدیث میں خاص طور پر محرم الحرام کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت اس مہینے کے شرف وفضیلت کے اظہار کیلئے ذکر کی گئی ہے۔

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس مہینے کو اس لئے فضیلت ملی کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت اس میں ہوئی۔ یہ غلط ہے اس مہینے کی فضیلت اسلام سے بھی بہت پہلے سے ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو یہود کو دیکھا کے وہ اس دن کو روزہ رکھاکرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم روزہ کیوں رکھتے ہو کہنے لگے یہ بہت اچھا دن ہے اس دن (یوم عاشورہ) کوحق تعالیٰ نے کو بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون سے نجات دی تھی اس لئے حضرت موسی علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم تمہاری نسبت حضرت موسی علیہ السلام کی موافقت کے زیادہ حقدار ہیں پھر آپﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو بھی اس دن کے روزے رکھنے کا حکم دیا۔

صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رمضان کے بعد افضل روزہ محرم کا ہے اور فرض نماز کے بعد افضل نماز تہجد کی نماز ہے۔ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ دس محرم کو ہم بھی روزہ رکھتے ہیں اور یہود بھی روزہ رکھتے ہیں۔جس کی وجہ سے ان کے ساتھ ہلکی سی مشابہت پیدا ہوجاتی ہے اس لئے اگر آیندہ سال زندہ رہا تو صرف عاشورہ کا روزہ نہیں رکھونگا بلکہ اس کے ساتھ ایک روزہ اور ملائونگا تا کہ یہودیوں کے ساتھ مشابہت ختم ہوجائے۔اس لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عاشورہ کے روزہ میں اس بات کا اہتمام کیا کہ عاشورہ سے پہلے یا عاشورہ کے بعد کا روزہ رکھا۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے حدیث بیان فرمائی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص عاشورہ کے دن اہل و عیال پر وسعت کرتا ہے تو حق تعالیٰ پورے سال رزق کو فراخ کردیتے ہیں۔

عاشورہ میں رونما ہونے والے واقعات:

اس ماہ محرم الحرام میں ’’دسویں محرم‘‘ کی تاریخ خاصی اہمیت کی حامل ہے جسے یوم عاشورہ کہتے ہیں۔ یوم عاشورہ بڑا ہی مہتم بالشان اور شرف عظمت والا دن ہے اس دن تاریخ کے عظیم واقعات رونما ہوئے ہیں چنانچہ مورخین نے لکھا ہے کہ (1) یوم عاشورہ میں حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی(مصنف عبدالرزاق) (2)حضرت ادریس ؑ کو اسی دن آسمان پر اٹھایا گیا۔ (3)اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی خدائی عذاب سے محفوظ ہوکر جودی پہاڑ پر ٹھہری۔ (مسند احمد، مصنف عبدالرزاق)۔ (4) اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو نمرود کے تیار کردہ آگ کے کنویں سے نجات دی۔ (5)اسی دن حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ظلم واستبداد سے نجات دلائی۔ (مصنف عبدالرزاق) (6) اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو بادشاہت ملی۔ (7) اسی دن حضرت ایوب علیہ السلام کو سخت بیماری سے شفا نصیب ہوئی۔ (8)اسی دن حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں 40؍ دن گزارنے کے بعد بحکم خداوندی باہر نکالے گئے۔ (9)اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کی ملاقات ایک طویل عرصے کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام سے ہوئی۔ (10) اسی دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن یہودیوں کے شر سے نجات پاکر آسمان پر اٹھائے گئے۔ (11)اسی دن اللہ تعالیٰ نے آسمان وزمین ، قلم ، حضرت آدم وحوا علیہماالسلام کو پیدا کیا۔ (12) اسی دن حضرت موسیؑ پر تورات نازل ہوئی۔ (13) اسی دن حضرت اسماعیل کی پیدائش ہوئی۔ (14)اسی دن حضرت یوسف ؑ کو قید خانہ سے رہائی نصیب ہوئی اور مصر کے بادشاہ بنے۔ (15) اسی دن قریشی خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالتے تھے۔ (16) اسی دن حضور اکرم ﷺ نے حضرت خدیجہ الکبریؓ سے نکاح فرمایا۔ (17) اسی دن حضور ﷺ کے نواسے، حضرت فاطمہ ؓ کے لخت جگر اور علی کرم اللہ وجہہ کے نور نظر حضرت حسینؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا عظیم اور کربناک واقعہ پیش آیا۔اور روایتوںمیں آتا ہے کہ اسی دن قیامت بھی آئے گی۔

پیشین گوئی  شہادت امام حسین ؓ

عبداللہ بن نجیؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیںکہ وہ صفین روانگی کے وقت حضرتؓ کے ساتھ تھے، جب حضرت علیؓ ’’مقام نینویٰ‘‘ کے قریب پہنچے تو حضرت علیؓ نے پکار کر کہا ’’اے ابو عبداللہ دریائے فرات کے کنارے صبر کرنا‘‘ (ابو عبداللہ حضرت حسینؓ کی کنیت ہے) ’’ ایک روز میں حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپﷺ کی مبارک آنکھیں اشکبار تھیں، میں نے عرض کیا ’’یانبی اللہ! کیا کسی نے آپ کو ناراض کیا ہے؟ آپ کی آنکھیں اشکبار کیوں ہیں؟‘‘ حضور ﷺ نے فرمایا’’ ابھی ابھی جبرئیل امین میرے پاس سے گئے ہیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ حسینؓ کو دریائے فرات کے کنارے قتل کیا جائے گا، میں نے جبرئیلؑ سے کہا کہ ’’کیا آپ مجھے اس کی مٹی سونگھا سکتے ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا ’’ جی ہاں‘‘ پھر اپنے ہاتھ کولمبا کیا اور مٹی لاکر مجھے دے دی، پس میں صبر نہ کرسکا اور میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے‘‘۔ (رواہ احمد فی مسندہ قال عبدالواحد الخیاری فی الام الحسین ؓ ص: 34)۔

تعارف حضرت  حسینؓ

حضرت حسینؓ کا پورا نام حسین بن علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم ہے۔ آپؓ کی کنیت ’’ابوعبداللہ‘‘ ہے اورآپ حضور اکرم ﷺ کے نواسے، حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہما کے بیٹے اور حضرت حسن ؓ کے چھوٹے بھائی ہیں۔ حضرت حسین ؓ کی پیدائش پانچ شعبان المعظم سنہ ۴ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ پیدائش کے ساتویں روز آپ کا عقیقہ کیا گیا اورحضور اکرم ﷺ نے بکری ذبح فرمائی، ان کے کان میں اذان دی، ان کے منہ میں اپنا لعاب مبارک داخل فرمایا اور ان کیلئے دعا فرمائی اور انہیں ’’حسینؓ‘‘ کے نام سے موسوم فرمایا۔ حضرت حسینؓ کو بہت سے القابات سے ملقب کیا گیا جن میں سے مشہور القاب یہ ہیں: ’’زکی، رشید، طیب، وفی،سبط، اصغر، سید، مبارک، نواسہ، ریحانۃ النبیﷺ‘‘۔ آپؓ میں حضور ﷺ کی مشابہت پائی جاتی تھی۔

واقعہ کربلا:

کاتب وحی حضرت امیر معاویہ ؓ کے انتقال کے بعد جب یزید مسنداقتدار پرمتمکن ہوا تو حسینؓ نے نیک نیتی اور دیانتداری سے یزید کی خلاف پر بیعت کرنے سے انکار کردیا، اسی اثنا میں اہلیان کوفہ میں سے سلیمان بن خزاعی نے کوفہ کی میٹنگ میں کہا کہ تم ان کے اور ان کے بزرگوار کے گروہ میں سے ہو، اگر تم ان کی بیعت کرسکو تو ان کو عریضہ لکھ کر بلوالو، پھر ایک خط حضرت حسینؓ کی خدمت میں لکھا گیا، یہاں تک کہ 600خطوط حضرت حسینؓ کے پاس پہنچے اور متعدد قاصد حضرت حسینؓ کے پاس جمع ہوگئے اور آخر تک بارہ ہزار خطوط کوفہ سے مدینہ تک پہنچے ان خطوط کے جواب میں حضرت حسینؓ نے اہل کوفہ کو جواب لکھا:’’ میں تمہارے پاس مسلم بن عقیل کو بھیجتا ہوں، اگرمسلم مجھے لکھیں تو میں تمہارے پاس آجائوں گا‘‘۔ جب حضرت حسینؓ کے چچازاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کوفہ پہنچے تو اٹھارہ ہزارکوفیوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی، پھر اچانک دوسرے روز ہزاروں کوفیوںنے منہ پھیر لیا اور شام تک صرف تیس اور پھر دس آدمی آپ کے ساتھ رہ گئے (جلاالعیون)۔ چند دنوں کے بعد حضرت حسین ؓکو یہ خبر پہنچی کہ مسلم بن عقیلؓ، ہانی بن عروہؓ، عبداللہ بن یقطرؓ کوشہید کردیا گیا ہے ۔ امام زین العابدینؒ سے منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے حضرت حسینؓ کو باصرار کہاکہ اہل کوفہ بے وفا ہیں، ان کے پاس آپ نہ جائیں، مگر آپؓ نے جانے کا ارادہ ترک نہ فرمایا، حضرت حسینؓ جب کوفہ پہنچے تو تیس ہزار عراقیوں نے آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کی لیکن دوسرے ہی دن بیعت کرنے والوں نے حضرت حسینؓ پر تلوار کھینچی، ان کا ناطقہ بند کیا، اور بیعت ان کے گردنوں میں لٹکی ہی ہوئی تھی کہ انہوں نے امام حسینؓ کو دمشق جانے والے راستے پر10؍محرم الحرام 61ہجری مطابق اکتوبر680عیسوی کو دریائے فرات کے کنارے مقام کربلا میںآپؓ کو اورآپ کے بہتر ساتھیوں کو بڑی بے دردی اور مظلومیت کے ساتھ ذبح کردیا اور اسی طرح اسلامی تاریخ کے اوراق پر یہ عظیم اور کرب ناک سانحہ ثبت ہوگیا۔

معرکہ کربلا میں خاندان نبوت کے شہید افراد کے اسمائے گرامی:

سعد غلام علیؓ، قنبر غلام علیؓ، عبداللہ بن عقیلؓ، عبدالرحمان بن عقیلؓ، عبداللہ بن مسلمؓ، محمد بن عبداللہؓ، عون بن عبداللہؓ، ابوبکر بن حسینؓ، عثمان بن حسنؓ، عمربن حسنؓ، عبداللہ بن حسنؓ، محمد بن علیؓ، عثمان بن علیؓ، علی اکبر بن حسینؓ، علی اصغر بن حسینؓ، عبداللہ بن علیؓ، جعفر بن علی، محمد بن سعدؓ۔

(نوٹ یہ تحریر مورخ اسلام مولانا ضیاء الرحمن فاروقی شہید ؒ کی تقریر اور دیگر کتب سے ماخوذ ہے)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close