تاریخ اسلام

ہجری کیلنڈر : جسے مسلمانوں نے فراموش کردیا

لمحۂ فکریہ

ڈاکٹر شمس کمال انجم

اسلام سے قبل عرب چاند دیکھ کر اپنی تاریخوں کا تعین کرتے تھے۔قریش نے عام الفیل سے اپنی تاریخ کی ابتدا کی۔اسلامی کیلنڈر سے قبل مسلمان عام الفیل سے اپنی تاریخ لکھتے تھے لیکن تاریخ کا وہ اہتمام نہیں کرپاتے تھے۔ امام ابن حجرعسقلانی نے فتح الباری میں ذکر کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے گورنر حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے انھیں لکھا کہ امیر المومنین! آپ کے خطوط ہمارے پاس آتے ہیں مگر اس پرکوئی تاریخ درج نہیں ہوتی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فورا اس کا نوٹس لیا اور صحابۂ کرام کی میٹنگ طلب کی۔صحابۂ کرام نے اس بات پر اتفاق رائے کا اظہار کیا کہ مسلمانوں کی اپنی کوئی تاریخ ہونی چاہیے۔کسی نے کہا کہ اللہ کے رسول کی ولادت سے اس تاریخ کا آغاز کیا جائے ۔ کسی نے کہا اللہ کے رسول کی بعثت سے اس تاریخ کا آغاز کیا جائے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ آپ کی وفات سے اس تاریخ کا آغاز ہو۔ حضرت علی نے مشورہ دیا کہ اللہ کے رسول کی ہجرت سے تاریخ کا آغاز کیا جائے (مستدرک للحاکم) حضرت عمر کو یہ بات اچھی لگی۔ آپ نے فرمایا کہ ہجرت نے حق اور باطل کے درمیان تمیز کردی تھی لہذا ہجرت نبوی ہی سے تاریخ کا آغا ز کیا جائے گا۔آپ کی ولادت اور بعثت سے تاریخ کا آغاز نہیں کیا گیا کیونکہ ولادت اور بعثت کی تاریخوں کے تعین کے میں کوئی نہ کوئی اختلاف ہے۔وفات سے اس لیے اعراض کیاگیا کہ وفات حسرت وافسوس اور درد وغم کی محرک ہوتی ہے لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت کرنے کے وقت سے اسلامی تاریخ کے تعین پر اتفاق کیا گیا۔البتہ سوال یہ پیدا ہوا کہ کس ماہ سے نئے ہجری سال کا آغاز کیا جائے۔حضرت عمر ، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم نے مشورہ دیا کہ یکم محرم سے ہجری سال کا آغاز کیا جائے چنانچہ اسی پر اتفاق رائے کیا گیا۔
ایک شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول کے مہینے میں مدینہ ہجر ت کی تھی توپھر مسلمانوں نے محرم کے مہینے سے نئے ہجری سال کا آغازکیوں کیا؟مشہور مفسر قرآن علامہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ عربوں کے یہاں نیا سال محرم سے شروع ہوتا تھا اس لیے محرم سے نئے ہجری سال کا آغاز کیا گیا۔امام ابن حجر عسقلانی صحیح بخاری میں وارد حضرت سہل بن سعد کی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے ہجری سال کا آغازاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آمد کے ’’مہینے‘‘ سے نہیں بلکہ ان کے مدینہ آمد کے ’’وقت‘‘ سے کیا۔آپ فرماتے ہیں کہ حدیث میں واردلفظ’’ مِن مَقدَمِہِ‘‘ کا مفہوم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آمد کا وقت نہ کہ مدینہ ہجرت کا مہینہ (فتح الباری)
امام ابن الجوزی لکھتے ہیں ’’اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو مکہ سے ہجرت کی اجازت بیعت عقبہ کے بعد دے دی تھی۔ بیعت عقبہ ذی الحجہ کے مہینے میں ہوئی تھی جس کے بعد محرم کا مہینہ آتا ہے اس لیے ہجرت کا آغاز گویا محرم کے مہینے سے ہوا۔دوسرا سبب یہ ہے کہ محرم سے قبل ذی الحجہ کے مہینے میں مناسک حج کا اختتام ہوتا ہے لہذا اس عظیم فریضے کے بعد آنے والے مہینے سے نئے ہجری کیلنڈر کے آغاز پر اتفاق کیا گیا۔ جمہور علمائے کرام کی یہی رائے ہے۔یکم محرم الحرام سن ایک ہجری کو 16 جولائی 622عیسوی تاریخ ہوتی ہے۔
اسلام سے قبل عربوں کے یہاں بارہ مہینے تھے۔ جب مسلمانوں نے ہجری کیلنڈر کی بنیاد رکھی تو انہو ں نے بھی بارہ مہینوں کاتعین کیا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: (ترجمہ)’’مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ کی ہے ‘‘(سورۃ التوبۃ آیت نمبر 36)ان مہینے کے نام اور ان کی وجہ تسمیہ کچھ اس طرح ہے۔
1۔ محرم الحرام:ماہ محرم کو محرم اس لیے کہاگیا کہ عرب اس ماہ میں قتال کو حرام سمجھتے تھے۔
2۔ صفر : صَفَریصفُر کا لفظی معنی ہے خالی ہونا۔ صفر کے مہینے میں عرب لڑائی کے لیے نکلتے تھے اور ان کی بستیاں ان سے خالی ہوجاتی تھیں اس لیے اس ماہ کا نام صفر رکھاگیا۔یہ بھی کہاجاتاہے کہ اس مہینے میں عرب لڑائی کرتے تھے اور اگر کوئی شخص ان سے راستے میں مل جاتا تو لوٹ کر اسے اس کے سازوسامان سے خالی کردیتے تھے۔
3۔ربیع الاول۔ربیع کا مطلب ہے موسم بہار۔ بارش برسنے، گھاس اور سبزے اگنے والے موسم کو عربوں نے ربیع کا نام دیا۔
4۔ ربیع الآخر: چونکہ موسم بہار ایک ماہ سے زائد کے عرصے پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے اس نام سے دو ماہ بنائے گئے۔ پہلے کو ربیع الاول اوردوسرے کو ربیع الثانی کہا گیا۔
5۔جمادی الاولی: لفظ جمادی جمَدَ یجمُدُ سے بنا ہے جس کا مفہوم ہے منجمد ہونا۔سردی والے موسم اور سردی کی شدت سے پانی وغیرہ کے منجمد ہوجانے والے مہینے کا نام جمادی الاولی رکھاگیا۔
6۔ جمادی الثانی: چونکہ سردی کا موسم ایک سے زائد ماہ پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے دوسرے مہینے کو جمادی الثانی کہاگیا۔
7۔ رجب المرجب:رجب کا ایک لفظی معنی ہے ڈرنا اور عزت کرنا ۔ چونکہ یہ مہینہ بھی حرام مہینوں میں سے ہے اور عرب اس میں لڑائی بند کردیتے تھے اس لیے عرب اس ماہ سے ڈرتے اور اس کی عزت کرتے تھے اسی لیے اس کا نام رجب المرجب رکھاگیا۔
8۔ شعبان : شعبان کا لفظی مفہوم ہے متفرق ہونا۔ چونکہ عرب اس ماہ میں حملوں کے لیے یا پانی کی تلاش میں ادھر ادھر نکل جاتے تھے تھے اس لیے اس کانام شعبان رکھا گیا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رجب کے مہینے میں لڑائی نہ کرنے کے بعد اس میں مہینے میں لڑائی کے لیے متفرق ہوجاتے تھے۔
9۔ رمضان: لفظ رمضان رمضَ یرمضُ سے بنا ہے ۔ عرب کہتے تھے رمضتّ الحجارۃُ یعنی سورج کی تپش سے پتھر گرم ہوگیا۔ جس وقت ا س مہینے کا نام رکھا گیا اس وقت بہت شدید گرمی تھی ۔لہذا اس کا نام رمضان رکھا گیا۔جس کا مطلب ہے شدید گرمی۔
10۔ شوال:شوال تشوّٰلتِ الِابل سے بنا ہے جس کا مطلب ہے اونٹنی کے تھن کا خشک ہوجانا۔جس ماہ میں اونٹیوں کے تھن دودھ سے خشک ہوجاتے تھے اس کا نام شوال رکھا گیا۔
11۔ ذی قعدہ: قعد یقعد کامفہوم ہے کسی کام سے رک جانا۔ چونکہ ذی قعدہ بھی ان مہینوں میں سے ایک ہے جس میں عرب لڑائی کو حرام سمجھتے تھے اور جنگ سے رک جاتے تھے اس لیے اس کانام ذی قعدہ رکھا گیا۔
12۔ ذی الحجہ: جس ماہ میں عرب حج کرتے تھے اس کانام ذو الحجہ رکھا گیا۔یعنی حج والا مہینہ۔
ہجری مہینوں کا انحصار قمریعنی چاند پر ہوتا ہے اس لیے انھیں قمری مہینے کہاجاتا ہے۔اللہ تعالی کاارشاد ہے (ترجمہ)’’لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ یہ لوگوں (کی عبادت) کے وقتوں اور حج کے موسم کے لیے ہے‘‘ (سورۃ البقرۃ آیت نمبر189) ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا(ترجمہ ) ’’وہ اللہ تعالی ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو نورانی بنایا اور اس کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو۔ اللہ تعالی نے یہ چیزیں بے فائدہ پیدا نہیں کیں‘‘ (سورۂ یونس آیت نمبر 5)
قمری مہینے چاند کی رویت سے انتیس یا تیس دن کے ہوتے ہیں اورایک قمری سال تین سو چوّن دن (354.36) پر مشتمل ہوتا ہے جب کہ عیسوی کیلنڈر میں کل تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں۔اس طرح عیسوی کیلنڈر کے بالمقابل ہجری کیلنڈر سے سال میں تقریباگیارہ دن کم ہوتے ہیں اور ایک صدی میں دونوں کیلنڈروں کے درمیان تین سال کا فرق پڑجاتا ہے۔ عیسوی کیلنڈر کے مطابق نئی تاریخ کا آغاز بارہ بجے رات سے ہوتا ہے جب کہ ہجری کیلنڈر کے اعتبار سے غروب آفتاب سے نئی تاریخ کا آغاز ہوتا ہے۔ہجری کیلنڈر میں سنیچر ہفتے کا پہلا دن ہوتا ہے اور جمعہ تعطیل کا دن کیونکہ شریعت اسلامیہ نے جمعہ کے دن کو عبادت اور عید کا دن تسلیم کیا ہے۔ یہاں تک کہ بعض علماء نے صرف جمعہ کے دن روزے سے بھی منع کیا ہے۔جب کہ عیسوی کیلنڈر کے مطابق پیر کوہفتے کا پہلا دن اور اتوارکو یوم تعطیل تسلیم کیا جاتا ہے۔
آج پوری دنیا میں عیسوی کیلنڈر کی پابندی کی جاتی ہے لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ عیسوی کیلنڈر ایک بہت بڑے تنازعے کا شکارہے اور وہ یہ ہے کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے عیسوی تاریخ کا آغاز کیا گیا تو یہ آغاز پچیس دسمبر سے ہونا چاہیے جبکہ عیسوی کیلنڈر کا آغاز پچیس دسمبر کے بجائے یکم جنوری سے کیا گیا۔ عیسوی کیلنڈر بنانے والوں نے تاریخ کے صفحات سے سات دن ہضم کرلیے۔ اس تنازعے کو انگریزی میں کیلنڈر وار (Calender War) کا نام دیا گیا جب کہ عربی، اسلامی اور ہجری کیلنڈر میں اس طرح کا کوئی نزاع پیش نہیں آیا۔
پوری دنیا میں سعودی عرب واحد ملک ہے جہاں ابھی بھی تمام سرکاری وغیر سرکاری امور میں ہجری کیلنڈر کی پابندی کی جاتی ہے۔ میں جب سعودی عرب میں تھا اس وقت یہ معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ عیسوی تاریخ کا کون سا مہینہ اور کون سا سال ہے۔ماضی قریب تک بہت سارے عرب ممالک خاص طور سے خلیجی ممالک ہجری کیلنڈر ہی کی پابندی کرتے تھے لیکن جب انھیں یہ سکھادیاگیا کہ عیسوی کیلنڈر کو اپنانے سے سال میں گیارہ دن کی تنخواہ نہیں دینی پڑے گی تو رہے سہے عرب ممالک نے بھی اسلامی تاریخ اورہجری کیلنڈر سے منہ موڑ لیا۔جب کہ بعض علماء کے بقول ہجری کیلنڈر کی پابندی واجب ہے۔ اسے خلیفۂ راشد حضرت عمر نے بنایا تھا اور اللہ کے رسول کا ارشاد گرامی ہے کہ (ترجمہ) ’’تم پر میری اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کی اتباع واجب ہے‘‘ (الحدیث)میرے ایک استاد محترم (اللہ ان کی مغفرت کرے اورجنت الفردوس میں انھیں جگہ دے آمین) فرماتے تھے کہ اگر انسان ایسی جگہ رہائش پذیر ہو جہاں عیسوی تاریخ کی پابندی کی جاتی ہوتو عیسوی تاریخ کے ساتھ ساتھ ہجری تاریخ بھی لکھنے کی پابندی کیا کرو۔ یوں ہجری تاریخ بھی یاد رہے گی اور خلیفۂ راشد کی سنت بھی ادا ہوجائے گی۔
ہر سال نیا ہجری سال کی آمد ہوتی ہے مگر مسلمانوں کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔نہ انھیں ہجرت نبوی کی یاد آتی ہے نہ ہجری کیلنڈر کی بنیاد رکھنے والے عظیم صحابۂ کرام کی۔غیروں کی تقلید اور نقالی میں ہر سال 31 دسمبر کوآسمان سر پر اٹھالینے والے ہمارے اسلامی بھائیوں کے کانوں پر نئے اسلامی سال کی آمد پر جوں تک نہیں رینگتی کیونکہ ہم نے اپنی تہذیب وتمد ن ، معاشرت اور دینی عقائد واحکام کے ساتھ ساتھ ہجری کیلنڈر کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے۔آج نہ تو ہمیں اس کی اہمیت کا احساس ہے نہ اس کی تاریخ کا پتہ۔در اصل مسلمان جوں جوں اپنی تہذیب وتمدن سے دور ہوتے گئے انھوں نے ہجری تاریخ کو فراموش کرکے اس عیسوی تاریخ کی پابندی کرنے لگے جس کے مہینوں کے نام رومیوں کے معبودوں کے ناموں پر رکھے گئے ہیں۔ٖمثلا جنوری سورج کے معبود کا نام ہے تو مارچ لڑائی کے معبود کا نام ۔ تھرس ڈے کا مفہوم ہے مقدس سورج تو ٹیوزڈے بھی رومیوں کے کسی الہ کا نام ہے۔
سچ یہ ہے کہ جب کوئی قوم ضعف کا شکار ہوتی ہے تو وہ اسی طرح اپنے شعائر کو پس پشت ڈال دیتی ہے۔مشرق سے مغرب تک ، شمال سے جنوب تک مسلمان غیروں کی اتباع میں حد سے گذر گئے ہیں اور یوں اللہ کے رسول کی پیشین گوئی سچ ثابت ہورہی ہے کہ’’ تم اپنے پہلے لوگوں کی ضرور بالضرورشانہ بشانہ اتباع کرو گے یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں بھی داخل ہوں گے تو تم بھی اس میں داخل ہوجاؤ گے (صحیح بخاری ومسلم)۔

مزید دکھائیں

ڈاکٹر شمس کمال انجم

ڈاکٹر شمس کمال انجم شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری جموں وکشمیر میں صدر شعبہ ہیں۔

متعلقہ

Close