تاریخ اسلام

اُمّ المومنین حضرت خدیجتہؓ الکبریٰ

 عبدالعزیز

20 اور 25 سال کی عمر کے درمیان حضورؐ کے وہ جوہر ساری قوم پر (اور قوم سے مراد یہاں آپؐ کا قبیلۂ قریش ہے) عیاں ہوتے چلے گئے جو بچپن سے اب تک ایک محدود دائرہ میں معلوم و معروف تھے۔ آپؐ کی شرافت ، دیانت و امانت، صداقت شعاری، حسن اخلاق، نیک نفسی، سنجیدگی و دانش مندی، ضبط نفس اور حِلم و وقار، علی حوصلگی اور سردارانہ شان، غرض ایک ایک خوبی نمایاں ہونے لگی جس کی وجہ سے آپؐ کا غیر معمولی احترام اور اعتماد اور نفوذ و اثر لوگوں میں قائم ہوتا چلا گیا۔ یہی زمانہ ہے جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپؐ کے ساتھ تجارتی شرکت کا معاملہ کیا۔
حضرت خدیجہؓ قریش میں اپنی عفت اور پاکیزہ سیرت کی بنا پر طاہرہ کے لقب سے معروف تھیں۔ پورے قبیلے میں ان کی دانائی اور فہم و فراست اور اخلاق و اوصاف کے لحاظ سے ان کا احترام کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حسن و جمال کی دولت سے بھی نوازا تھا۔ قریش کی کوئی عورت ان سے زیادہ مالدار نہ تھی۔ بسا اوقات قریش کا آدھا قافلۂ تجارت صرف ان کے مال پر مشتمل ہوتا تھا ۔ پہلے ان کی شادی ابو ہالہ بن زُرارہ تمیمی سے ہوئی تھی جس سے دو لڑکے ہند اور ہالہ پیدا ہوئے اور دورِ رسالت میں دونوں مسلمان ہوگئے۔ ابو ہالہ کی وفات کے بعد ان کی شادی عُتَیق بن عابد المخزومی سے ہوئی جس سے ان کی صاحبزادی ہند پیدا ہوئیں اور عہد نبوت میں وہ بھی مسلمان ہوگئیں۔ اس دوسرے شوہر کی وفات کے بعد وہ بیوہ ہی رہیں۔ قریش کے بہت سے سرداروں نے چاہا کہ وہ ان میں سے کسی کے ساتھ شادی کرلیں مگر وہ راضی نہ ہوئیں۔ اپنے مال سے وہ تجارت کرتی تھیں اور کسی نہ کسی شخص سے معاملہ کرلیتی تھیں کہ وہ ان کی طرف سے تجارتی قافلوں میں جائے اور مقرر حصہ لے لے۔
(1 انھیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق اور امانت اور بلند اخلاق کا حال معلوم ہوا تو انھوں نے آپؐ سے کہاکہ آپ میرا مالِ تجارت شام لے جائیں، میں دوسروں کو جتنا دیتی ہوں، آپؐ کو اس سے زیادہ دوں گی۔ یہ ابن اسحاق کی روایت ہے۔
(2 دوسری روایت جو ابن سعد نے نُفَیسہ بنت مُثْنیہ سے نقل کی ہے اور جس کی مزید تفصیل زُرقانی نے بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ ابو طالب نے حضورؐ سے کہا ’’بھتیجے میں مالدار آدمی نہیں ہوں، ہمارے حالات خراب ہورہے ہیں اور ہمارے پاس کوئی مالِ تجارت بھی نہیں ہے۔ یہ قافلہ جو تمہاری قوم شام کی طرف بھیج رہی ہے اس کے چلنے کا وقت قریب آگیا ہے۔ اس میں خدیجہؓ بھی اپنا مال بعض لوگوں کے ہاتھ تجارت کیلئے بھیجنا چاہتی ہوں۔ اگر تم ان کے پاس جاؤ تو وہ تمہیں دوسروں پر ترجیح دیں گی، کیونکہ انھیں تمہاری پاکیزہ سیرت کا حال معلوم ہے‘‘۔ حضورؐ نے فرمایا: شاید خدیجہؓ مجھے خود اس کام کیلئے کہلوائیں گی۔ ابو طالب نے کہاکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ کسی دوسرے کو منتخب نہ کرلیں۔ چچا بھتیجے کی یہ گفتگو حضرت خدیجہؓ تک پہنچ گئی مگر حضورؐ کا اندازہ بالکل صحیح نکلا، کیونکہ وہ پہلے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ پیغام بھیج چکی تھیں جس کا ذکر اوپر ابن اسحاق کے حوالہ سے کیا جاچکا ہے۔
(3 طبقات ابن سعد میں ایک روایت یہ بھی ہے جو محمد بن عقیل سے مروی ہے کہ ابو طالب نے حضرت خدیجہؓ سے جاکر کہاکہ اے خدیجہؓ !کیا تم پسند کروگی کہ اپنی تجارت کیلئے کسی اور کی خدمات حاصل کرنے کے بجائے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے معاملہ کرلو۔ انھوں نے جواب دیا کہ آپ اگر کسی دُور کے ناپسندیدہ آدمی کیلئے بھی فرماتے تو میں مان لیتی۔ آپ تو ایسے شخص کیلئے کہہ رہے ہیں جو صبیب قریب ہے۔
غرض حضرت خدیجہؓ سے حضورؐ کا تجارتی معاملہ طے ہوگیا اور انھوں نے اپنے غلام مَیسرہ کو آپؐ کے ساتھ اس تجارتی سفر پر شام بھیج دیا۔ یہ سفر 15 یا 16 ذی الحجہ 25 عام الفیل کو شروع ہوا۔ راستے میں میسرہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق، عادات اور خصائل کی وہ خوبیاں دیکھیں جن سے وہ آپؐ کا گرویدہ ہوگیا۔ واپس آکر اس نے حضرت خدیجہؓ کو تفصیل کے ساتھ بتایا کہ اس نے آپؐ کو کیسا پایا ہے۔ تجارت میں بھی حضورؐ نہایت کامیاب رہے۔ ابن سعد نُفَیسہ بنت مُنیہ کا بیان نقل کیا ہے کہ پہلے جتنا کچھ منافع کما کر دوسرے لوگ حضرت خدیجہؓ کو لاکر دیتے تھے آپؐ نے اس سے دُگنا منافع لاک دیا اور حضرت خدیجہؓ نے بھی آپ کو جتنا دینے کا وعدہ کیا تھا اس سے دو گنا دیا۔
حضرت خدیجہؓ سے حضورؐ کا نکاح: میسرہ جو مکہ سے شام تک اور واپسی پر مکہ تک کے طویل سفر میں شب و روز آپ کے ساتھ رہا تھا اور ہر پہلو سے آپ کی زندگی کو دیکھ کر آپؐ کا بندۂ بے دام بن چکا تھا، اس سے آپؐ کے حالات سن کر حضرت خدیجہؓ نے آپ سے شادی کا عزم کرلیا۔ اگر چہ پہلے بھی وہ آپ سے واقف نہ تھیں اور قریش میں آپؐ کے جو محاسن معلوم ہوتے جا رہے تھے ان کا چرچا وہ سن چکی تھیں، لیکن اب انھوں نے طے کرلیا کہ حضورؐ سے بہتر شوہر انھیں کوئی نہیں مل سکتا۔ نکاح کا معاملہ کس طرح طے ہوا اس کے متعلق کچھ روایات میں اختلاف ہے۔
ابن اسحاق کی روایت یہ ہے کہ حضرت خدیجہؓ نے خود حضورؐ سے براہِ راست بات کی اور کہا کہ اے ابن عم؛ آپ سے میری قرابت بھی ہے اور میں آپؐ کی امانت و صداقت اور حسنِ خُلق اور شرافت نسبی اور اوصافِ حمیدہ کی وجہ سے بھی یہ چاہتی ہوں کہ آپ سے شادی کرلوں۔
دوسری روایت ابن سعد کی ہے جو انھوں نے نفیسہ بنت منیہ سے نقل کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ حضرت خدیجہؓ نے نکاح کی خواہش ظاہر کرنے سے پہلے مجھے آپؐ کے پاس بھیجا تاکہ آپؐ کی مرضی معلوم کرلوں۔ میں نے جاکر آپؐ سے کہا ’’اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ شادی کیوں نہیں کرلیتے؟‘‘ فرمایا: ’’میرے پاس کیا رکھا ہے کہ میں شادی کروں؟‘‘ میں نے کہا ’’اس کا انتظام ہوگیا ہے اور آپؐ کوایک ایسی جگہ شادی کرنے کی دعوت دی جارہی ہے جہاں جمال بھی ہے، مال بھی ہے، شرف بھی ہے اور قابلیت بھی۔ کیا آپ اسے قبول کریں گے؟‘‘ فرمایا: وہ کون ہے؟ میں نے کہا: خدیجہ۔ فرمایا: میری ان سے شادی کیسے ہوسکتی ہے؟ میں نے کہا: اسے آپؐ میرے اوپر چھوڑ دیں۔ آپؐ نے فرمایا: اگر یہ بات ہے تو میں تیار ہوں۔
اس کے بعد حضرت خدیجہؓ نے پیغام بھیجا کہ فلاں وقت آجائیے اور اپنے چچا عَمرو بن اسد کو کہلا بھیجا کہ آکر میری شادی کر دیں (حضرت خدیجہؓ کے والد خُوَیلدکا انتقال ہوچکا تھا)۔ اس طرح ادھر سے عمرو بن اسد اور ادھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچاؤں حضرت حمزہ اور ابو طالب کو لے کر پہنچ گئے اور شادی ہوگئی۔ عقد کے موقع پر حضرت ابوبکرؓ اور رؤسائے مُضَر اور سردارانِ قریش شریک تھے۔ مہر میں حضورؐ نے 20 اونٹ دیئے۔ ابن عبدالبر نے لکھا ہے کہ یہ شادی سفر شام سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی کے دو مہینے 25 دن بعد ہوئی۔ حضورؐ کی عمر اس وقت 25 سال تھی اور حضرت خدیجہؓ 40سال کی تھیں۔
حضرت خدیجہؓ سے حضورؐ کی اولاد: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری اولاد ما سوائے حضرت ابراہیمؓ کے (جو ماریہ قبطیہؓکے بطن سے پیدا ہوئے) حضرت خدیجہؓ سے تھی۔ ان میں سے دو صاحبزادے تھے اور چار صاحبزادیاں: (1) القاسم جن کی نسبت سے آپ ابوالقاسمؓ کہلاتے تھے۔ (2) عبداللہؓ جن کو طیب اور طاہر بھی کہا جاتا تھا۔ (3) حضرت زینبؓ، (4) حضرت رقیہؓ ، (5) حضرت اُمّ کلثومؓ، (6) حضرت فاطمہؓ۔ اس میں اختلاف ہے کہ ان میں سے کون کس سے بڑا تھا؛ لیکن یہ معلوم ہے کہ حضرت زینبؓ اس وقت پیدا ہوئیں جب حضورؐ کی عمر 30 سال تھی (اصابہ)۔ حضرت فاطمہؓ کی ولادت اس وقت ہوئی جب آپ 41 سال کے تھے (شرحِ مواہب)۔ نیز یہ بھی تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلی ہجرت حبشہ جو 5 ؁ بعد بعثت میں ہوئی ، اس میں حضرت رقیہؓ اپنے شوہر حضرت عثمانؓ کے ساتھ گئی تھیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ حضرت زینبؓ سے ایک دو سال ہی چھوٹی ہوں گی تب ہی تو 5 ؁ بعدِ بعثت میں شادی شدہ تھیں۔
ازدواجی زندگی: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر میں 15 سال کا فرق تھا لیکن دونوں کے درمیان اتنی محبت کہ حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد آپؐ تمام عمر ان کو یاد کرتے رہے۔ بخاری میں حضرت علیؓ کی روایت ہے کہ آپؐ فرماتے تھے: خیر نسائھا و خیر نسائھا خدیجہ۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اپنی امت کی بہترین عورت مریم تھیں اور اس امت کی بہترین عورت خدیجہؓ ہیں، لیکن مسلم میں یہ روایت وکیع کے حوالہ سے آئی ہے اور اسے بیان کرتے ہوئے وکیع نے آسمان و زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضورؐ کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وکیع نے یا جن لوگوں سے یہ روایت ان کو پہنچی تھی انھوں نے اس کا یہ مطلب لیا کہ دنیا کی بہترین خواتین یہ دو ہیں۔ بخاری میں حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کسی پر مجھے اتنا رشک نہیں آتا تھا جتنا حضرت خدیجہؓ پر آتا تھا؛ حالانکہ آپؐ سے میری شادی ہونے سے پہلے ان کا انتقال ہوچکا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں اکثر آپؐ کو ان کا ذکر کرتے سنتی تھی اور جب کبھی آپؐ کوئی بکری ذبح فرماتے تو اس میں سے ضرور حضرت خدیجہؓ کی ملنے والیوں کو ہدیہ بھیجتے تھے۔ بخاری کی ایک اور حدیث میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت خدیجہؓ کی بہن حضرت ہالہ خُوَیلِد آئیں اور انھوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ حضورؐ ان کی آواز سن کر تڑپ گئے اور فرمایا اللہم ہالہ (خدایا یہ ہالہ ہوں) کیونکہ ان کی آواز حضرت خدیجہؓ سے مشابہ محسوس ہوتی تھی۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اس پر میں جل گئی اور میں نے کہا ’’آپ قریش کی ایک بوڑھی عورت کو اتنا یاد کرتے ہیں جسے انتقال کئے مدت گزر گئی اوراللہ نے آپؐ کو اس سے اچھی بیوی دے دی‘‘۔ مسند احمد اور طبرانی کی روایت میں اس پر یہ اضافہ ہے کہ میری اس بات پر حضورؐ کو غصہ آگیا اور میں نے آپؐ کو ناراض دیکھ کر عرض کیا کہ قسم ہے اس خدا کی جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں آئندہ کبھی ان کا ذکر بھلائی کے سوا کسی طرح نہ کروں گی۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ابوالعاص بھی گرفتار ہوکر آئے تھے۔ حضورؐ کی صاحبزادی حضرت زینبؓ نے (جو اس وقت مکہ میں تھیں) ان کو چھڑانے کیلئے ایک فدیہ بھیجا جس میں حضرت خدیجہؓ کا وہ ہار بھی تھا جو انھوں نے ابوالعاص سے ان کی شادی کے وقت زمانۂ جاہلیت میں دیاتھا۔ اس ہار کو دیکھ کر حضورؐ پر رِقت طاری ہوگئی اور آپؐ نے لوگوں سے فرمایا کہ اگر تم مناسب سمجھو تو زینبؓ کے قیدی کو ویسے ہی چھوڑ دو اور اس کا فدیہ واپس کردو۔ سب لوگ اس پر راضی ہوگئے اور ابوالعاص فدیہ کے بغیر دئیے گئے۔ بلاذُری نے انساب الاشراف میں حضرت عائشہؓ کی روایت نقل کی ہے کہ ایک کالے رنگ کی عورت حضورؐ کے پاس حاضر ہوئی تو آپؐ نے بڑی مسرت کے ساتھ اس کا استقبال فرمایا۔ اس کے جانے کے بعد میں پوچھا کہ اس عورت کی آمد پر آپ ؐ کے اس قدر خوش ہونے کی کیا وجہ تھی؟ فرمایا یہ اکثر خدیجہؓ کے پاس آیا کرتی تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت خدیجہؓ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنی گہری محبت تھی جو ان کی وفات کے بعد بھی عمر بھر آپؐ کے دل میں تازہ رہی۔
15 سال حضرت خدیجہؓ نبوت سے پہلے اور دس سال نبوت کے بعد آپؐ کی بیوی رہیں۔ نبوت کے دسویں سال ان کا انتقال ہوا جبکہ آپ پچاس سال کے تھے اور وہ 65سال کی تھیں؛ لیکن آپؐ نے اپنی ساری جوانی انہی ایک سن رسیدہ بیوی کے ساتھ گزار دی اور کسی دوسری عورت کا خیال تک نہ کیا، حالانکہ اس وقت اہل عرب میں کسی شخص کا ایک سے زیادہ بیویاں رکھنا کسی درجہ میں بھی معیوب نہ تھااور نہ بیویاں ہی اس میں مانع ہوتی تھیں۔ خود حضرت خدیجہؓ کے خاندان سمیت قریش کے تمام ہی خاندانوں میں ایک ایک شخص کی کئی کئی بیویاں ہونے کی بے شمار مثالیں موجود تھیں۔ اس کے باوجود آپؐ کا پچاس برس کی عمر تک ایک ایسی بیوی پر قانع رہنا جن کی عمر 65سال کی ہوچکی تھی ان تمام معترضین کیلئے عملاً ایک منہ توڑ جواب ہے جو عمر شریف کے آخری دس سالوں میں حضورؐ کی کثرتِ ازواج کو معاذ اللہ نفس پرستی پر محمول کرتے ہیں۔
خوشحالی کا دور: حضرت خدیجہؓ سے شادی کے بعد حضورؐ کی مفلسی کا دور ختم ہوگیا۔ پہلے وہ دوسروں کے ذریعہ سے تجارت کرتی تھیں جس میں ان کو فائدہ کم ملتا تھا، کیونکہ دوسرے لوگ جس اخلاقی حالت میں مبتلا تھے اس میں یہ امر کم متوقع ہو سکتا تھا کہ وہ خیر کے مال میں پوری دیانت اور خیر خواہی سے کام لیں گے، مگر جب ان کی تجارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے امین اور فرزانہ شخص کے ہاتھ میں آئی جو فطری خیر خواہی کے ساتھ شوہر ہونے کے باعث بھی اپنی اہلیہ کے حق میں کمال درجہ کے خیر خواہ تھے، تو آپ تجارت چمک اٹھی اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد پورا ہوا: وَوَجَدَکَ عَآئِلاً فَاَغْنٰی ’’اور اللہ نے آپؐ کو غریب پایا پھر غنی کر دیا‘‘ (الضحیٰ 8-)۔
اس دور میں آپؐ کی صداقت و امانت، معاملات میں انتہائی راست بازی، سخاوت اور جودو کرم، صلہ رحمی، بیکسوں کی مدد، غربا پروری اور دانائی و فرزانگی کے وہ اوصاف تمام قریش اور گرد و نواح کے قبائل پر عیاں ہوگئے جوپہلے اپنے ظہور کے مواقع نہ پانے کی وجہ سے مخفی تھے۔ اب معاشرے میں بھی آپؐ کا مرتبہ محض اخلاقی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ مادی حیثیت سے بھی اتنا بلند ہوگیا کہ آپؐ کا شمار سردارانِ قریش میں ہونے لگا۔ آپؐ کے اوپر لوگوں کا اتنا اعتماد قائم ہوگیا کہ وہ اپنی قیمتی امانتیں آپؐ کے پاس رکھوانے لگے، حتیٰ کہ یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری رہا جب اعلانِ نبوت کے بعد مکہ کے عوام واخواص آپ کے خون کے پیاسے ہوگئے تھے۔ اس دشمنی کے باوجود وہ اپنی امانتیں آپ ہی کی حفاظت میں دیتے رہے اور ہجرت کے وقت آپؐ کو اپنے پیچھے صرف اس لئے حضرت علیؓ کو چھوڑناپڑا کہ ہر ایک کی امانت اسے واپس کرکے آئیں۔ یہ اس بات کی کھلی علامت تھی کہ نبوت سے پہلے ہی نہیں، نبوت کے بعد بھی دشمنانِ اسلام کے دلوں میں آپؐ کی دیانت و امانت کا نقش بیٹھا ہوا تھا اور وہ اپنے درمیان آپ کو سب سے زیادہ قابل اعتماد آدمی سمجھتے تھے۔
تجارتی معاملات میں اس قدر کھرے تھے کہ ایک صاحب جو زمانۂ جاہلیت میں آپؐ کے شریک تجارت رہ چکے تھے، وہ شہادت دیتے ہیں کہ آپؐ بہترین شریک تجارت تھے۔ کبھی دھوکا نہ دیا، کبھی کوئی چالبازی نہ کی اور کبھی جھگڑا نہ کیا۔ ان صاحب کا نام مختلف روایتوں میں مختلف آیا ہے۔ ابن عبدالبر نے اِستیعاب میں قیس بن السائب بن عُوَیمر مخزومی لکھا ہے۔ مُسْند احمد کی کسی روایت میں سائب بن عبداللہ مخزومی بیان کیا گیا ہے اور کسی میں سائب بن ابی السائب ابو داؤد (کتاب الادب، باب فی کراہیۃ المِراء) میں ان کا نام سائب ہی بیان کیا گیا ہے اور خود ان کی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو لوگ میری تعریف کرنے لگے۔ آپؐ نے فرمایا: میں ان کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ میں نے عرض کیا ’’میرے ماں باپ آپؐ پر قربان، آپؐ نے سچ فرمایا، آپ میرے شریک تجارت تھے لیکن ہمیشہ معاملہ صاف رکھا، نہ کبھی دھوکا دیا، نہ جھگڑا کیا‘‘۔ ابو داؤد ہی میں ایک اور صاحب عبداللہ بن ابئی الخمساء کی روایت ہے کہ ایک دفعہ میں نے زمانۂ جاہلیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خرید و فروخت کا معاملہ کیا۔ کچھ معاملہ طے ہوا تھا اور کچھ باقی تھا۔ میں نے کہاکہ میں اسی جگہ اگر آپؐ سے پھر ملوں گا۔ اس کے بعد میں بھول گیا۔ تین دن گزر جانے کے بعد مجھے یاد آیا اور میں اس جگہ پہنچا تو دیکھا کہ آپؐ وہاں موجود ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اے جوان؛ تم نے مجھے بڑی تکلیف دی، تین دن سے میں یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں‘‘ (کتاب الادب، باب فی العدۃ)۔ (سرور عالمؐ)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close