اخلاقِ نبوی ﷺ قسط – ۱

مولانا ولی اللہ مجید قاسمی

خالق کائنات نے انسان کو خلاصہ کائنات بنایا ، اسے خوبصورت ترین جسم اوربہترین پیرہن سے نوازا، عقل و شعور کی دولت بخشی، غوروفکر کی صلاحیت عطاکی، احساسات و جذبات کا سرمایہ دیا اور دنیاکی تمام چیزوں پردسترس حاصل کرنے کی قوت دی اور اس میں تصرف کرنے کا اختیار عنایت کیا تاکہ معلوم ہوسکے کہ اخلاق و کردار اور عمل کے اعتبار سے کون بہترہے۔
اور خیرو شر کی تمییز کے لیے نبیوں اور رسولوں کاسلسلہ جاری فرمایاتاکہ علم کے ساتھ اس کا عملی نمونہ بھی لوگوں کے سامنے رہے اور سب سے آخرمیں رہتی دنیا تک کے لیے محمدﷺ کو مبعوث فرمایاجوپوری کائنات کے لیے پیکر رحم و کرم بناکربھیجے گئے۔ چنانچہ تمام جہانوں کے رحمان و رحیم، رب کی طرف سے اعلان کیاگیاکہ
وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین
ہم نے تمہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجاہے۔
اور جن کے متعلق خود اس نے گواہی دی کہ
انک لعلیٰ خلق عظیم
تم اخلاق کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو۔
نیز ارشاد فرمایاکہ:
لقد جاء کم رسول من أنفسکم عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤوف رحیم۔
تمہارے پاس تمہیں میں سے ایک پیامبر آئے جن پر تمہاری پریشانیاں نہایت گراں گذرتی ہیں اور جو تمہاری اچھائی اور بھلائی کے خواہش مندرہتے ہیں اور اہل ایمان پر نہایت نرم اور مہربان ہیں۔
رحم وکرم کی متعدد شکلیں اور مختلف درجے ہیں۔ پیاسے کو پانی پلانا، بھوکے کو کھانا کھلانا، بے لباسوں کو کپڑا پہنانا، مہمان نوازی کرنا، ٹھنڈک میں غریبوں کے لیے گرم کپڑے اور لحاف کا نظم کرنا، اجنبی مسافر کو راستہ بتانا، ناداروں اور کمزوروں کو اوپر اٹھانے کی کوشش کرنا، بچوں، ضعیفوں، غلاموں اور ماتحتوں پر ترس کھانا، جانوروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، مصیبت اور حادثات میں لوگوں کی مدد کرنا، ہر ایک کے دکھ درد میں شریک ہونا۔ یہ سب رحم کی صورتیں ہیں، اور اسی جذبے کے تحت والدین اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں، اور ڈوبنے یا جل کر مرنے والوں کو اپنی جان پر کھیل کر لوگ بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب رحمت کی ظاہری شکلیں ہیں، حقیقی رحمت یہ ہے کہ انسانیت کو ہلاکت وتباہی کے جہنم میں گرنے سے بچا لیا جائے، اور زخمی روح کی شفایابی کی کوشش کی جائے، اور اسے اخلاق وکردار کا پیکر بنا کر دنیا اور آخرت کی سعادت سے ہمکنار کیا جائے۔ اللہ کے رسولؐ کی زندگی اور تعلیمات میں رحمت کی یہ دونوں شکلیں بہت نمایاں ہیں۔
آپ کی تعلیمات کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے جوکچھ کہاسب سے پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھایا، آپ کی پوری زندگی قول و فعل کے تضادسے خالی تھی، آپ کی زندگی اللہ کی رضا سے عبارت تھی۔ عبادت، معاشرت، اخلاق، معاملات، محبت و نفرت، ہرچیز اللہ کی رضا کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی ، جس طرح سے آپ کی نماز اور روزہ عبادت ہوتی تھی، اسی طرح سے آپ ہنسی اور خندہ پیشانی اورخوش خلقی کو بھی عبادت سمجھ کر انجام دیتے تھے۔
قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین، لاشریک لہ وبذالک أمرت وأنا أول المسلمین۔
تم کہہ دو کہ میری نماز ، میری عبادت اور میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ ہی کے لیے ہے جوتمام جہانوں کاپروردگار ہے، جس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں فرمانبرداروں میں سب سے پہلافرمانبردارہوں۔
آپ کو خود دست قدرت نے سجایا اور سنواراتھااور رہتی دنیا تک کے لیے نمونہ اور آئیڈیل بنایاجیساکہ قرآن گواہی دیتاہے کہ
لقد کان لکم فی رسول اللہ أسوۃ حسنۃ 
تمہارے لئے رسول اللہ کی ذات ایک بہترین نمونہ ہے۔
اس لیے کہ آپ کا پیکر قرآن کے سانچے میں ڈھلاہواتھا، قرآن میں جوکچھ بھی ہے اس کے سب سے پہلے مخاطب اور سب سے زیادہ پابند آپ تھے، بیوی سے بڑھ کر رازدار کون ہوسکتاہے، آپ کی اہلیہ حضرت عائشہؓ آپ کے اخلاق کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کرتی ہیں:
کان خلقہ القرآن۔
آپ سراپا قرآن تھے۔(مسنداحمد6/91)
حسن سلوک
اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:
وأحسنوا ان اللّٰہ یحب المحسنین۔
اوراچھی روش اختیار کرو، اللہ تعالیٰ اچھی روش اختیار کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔
اور نبی ﷺ نے فرمایاکہ
ان اللہ کتب الاحسان علی کل شیء۔(رواہ مسلم، ریاض الصالحین/248، باب الحلم والرفق)
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ اچھے برتاؤکوضروری قرار دیاہے۔
آنحضور کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلوحسن سلوک ہے جس میں دوست اور دشمن، اپنے اور بے گانے،طاقتور اور کمزور، مالدار یانادار کی کوئی تفریق نہ تھی، بلکہ ہر ایک کے ساتھ یکساں سلوک روارکھتے تھے ، جو سراپا رحم دلی اور انسانیت نوازی سے عبارت تھی۔ کسی کی دل شکنی اور بے عزتی گوارا نہ تھی ، کسی کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچے یہ برداشت نہ تھا۔
غیرمسلموں کے ساتھ آپ کا برتاؤ
اپنوں ، دوستوں اور مالداروں کے ساتھ اچھابرتاؤتو بہت آسان ہے لیکن غیروں، دشمنوں اور کمزوروں اور ناداروں کے ساتھ حسن سلوک بڑادشوار ہے لیکن یہی حسن اخلاق کے جانچنے کا سب سے بڑا معیار ہے اور اللہ کے رسول کی زندگی میں یہ کٹھن مرحلہ بڑا آسان نظر آتا ہے، اس لیے کہ آپ کی ذات، پوری انسانیت کے لیے پیکررحم و کرم تھی، اس لیے آپ ﷺ سخت غصہ کی حالت میں اور شدید ترین دشمنوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رہاکرتے تھے۔
مکہ کے مشرکوں نے آپ پر ظلم و ستم کے ترکش کے تمام تیر استعمال کرڈالے، ستم رانی کا کون سا ایساطریقہ تھاجوآپ پر آزمایانہ گیاہولیکن ان سب کے باوجود جب غزوۂ بدر میں یہ لوگ مارے گئے تو آپ نے ان کی لاشوں کوچیل کوے، کتے اور جنگلی جانوروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا، بلکہ ان کی تدفین کا انتظام کیا اور اس جنگ میں جولوگ قیدی بنائے گئے تھے ، ان کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرنے کی تاکیدفرمائی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صحابہ کرام خود بھوکے رہ کر انھیں پیٹ بھرکھلایاکرتے تھے اور جب یہ لوگ قید سے رہاہوئے تو انھیں نیا جوڑا عنایت کرکے عزت و احترام کے ساتھ رخصت کیا۔
عکرمہ بن ابوجہل آپ کا جانی دشمن تھا، فتح مکہ کے بعدبھاگ کر یمن چلاگیا، ان کی بیوی نے ان کی جان کی امان چاہی، آپ نے بخوشی امان مرحمت فرمایا، وہ انھیں لے کر آپ کی خدمت میں حاضرہوئیں، فرطِ مسرت کی وجہ سے آپ کھڑے ہوگئے اور آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے۔
مرحبا بالراکب المھاجر
ہجرت کرنے والے سوار! خوش آمدید۔(السیرۃ النبویہ للصلابی 2/618)
ایک شخص جو جنگ کی آگ بھڑکانے میں پیش پیش رہاکرتاتھا اور آپ کی جان لینے کے لیے موقع کی تلاش میں تھالیکن جب اس کی جان پر بن آئی تو بھاگ کھڑاہوا، ایسے شخص کا اس قدر شان دار استقبال، اور بھگوڑاکہنے کے بجائے ’’مہاجر‘‘ کے لفظ کا استعمال ؟کیااس کی کہیں اور کوئی مثال مل سکتی ہے؟؟
صفوان بن امیہ نے عمیر بن وھب کو آپ کے قتل پر اکسایاتھا، جنھوں نے مدینہ پہنچ کر آپ کے حسن سلوک سے متاثرہوکر اسلام قبول کرلیا اور صفوان شرک پر قائم رہا اور فتح مکہ کے بعد جدہ بھاگ گیا۔ حضرت عمیر نے اس کی طرف سے امان چاہا، آپ نے امان دے دیا اور بطور نشانی اپنا عمامہ عنایت فرمایاجسے لے کر وہ صفوان کے پاس گئے، اس نے آتے ہی فوراً پوچھا کہ عمیر کہتے ہیں کہ میری جان کو امان ہے ، کیایہ سچ ہے؟ آپ نے فرمایاکہ ہاں، اس نے کہاکہ مجھے دو ماہ کی مہلت مطلوب ہے ، آپ نے فرمایاکہ چار مہینے کی مہلت دی جاتی ہے ۔ صفوان کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میری نگاہ میں ناپسندیدہ ترین لوگوں میں تھے، لیکن آپ مجھے ہمیشہ نوازتے تھے، یہاں تک کہ آپ کی ہستی میرے نزدیک محبوب ترین ہوگئی۔(صحیح مسلم /2313)
یہودیوں کا آپ کے ساتھ جو رویہ تھا وہ محتاج بیان نہیں ہے ، مشرکوں کے ساتھ جولڑائیاں ہوئیں، زیادہ تر ان ہی کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا نتیجہ تھیں، لیکن ان سب کے باوجود کبھی بھی آپ ان کے ساتھ غلط اور اہانت آمیزسلوک روانہیں رکھتے تھے، یہاں تک کہ جب ایک یہودی کا جنازہ آپ کے پاس سے گذرا توا حترام انسانیت کے تقاضے کے پیش نظر کھڑے ہوگئے ، لوگوں نے کہاکہ یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے ، آپ نے فرمایاکہ وہ بھی تو انسان ہے۔
فتح خیبرکے بعد ایک یہودی خاتون نے آپ کی دعوت کی، آپ نے دلجوئی کے مقصد سے اس کی دعوت قبول فرمالی، اس نے زہرآلود کھانا آپ کو کھلادیا، لیکن اس قدر شدیدجرم کو بھی آپ نے معاف کردیا، آنحضورؐ زندگی کے آخری مرحلے میں کہاکرتے تھے کہ اس زہر کے اثر کی وجہ سے میری شہہ رگ کٹی جارہی ہے۔
نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد مدینہ آیا، آپ نے خندہ پیشانی کے ساتھ ان کااستقبال کیا، نہایت اعزاز و اکرام کامعاملہ فرمایا اور انھیں مسجدمیں ٹھہرایا اور اپنے طریقے پر مسجدنبوی میں عبادت کرنے کی اجازت دی۔(زادالمعاد3/633)
ابن ابی،منافقوں کا سردار اور آپ کے شدید ترین دشمنوں میں سے تھالیکن جب وہ مرض موت میں مبتلاہواتو آپ نے اس کی عیادت فرمائی اور کفن، دفن میں شریک رہے بلکہ ان کے بیٹے کی درخواست پر کفن میں رکھنے کے لیے اپنا پیرہن عنایت فرمایا۔
ان واقعات سے انداہ لگایاجاسکتاہے کہ دشمنوں کے لیے بھی آپ کا سینہ کس درجہ کشادہ تھا اور آپ کی محبت و رحمت کا ابرکرم صرف دوستوں تک محدود نہ تھابلکہ آپ پوری انسانیت کے لیے پیکر رحم و کرم تھے اور مومنوں کو آپ نے یہ تعلیم دی کہ
لایؤمن أحدکم حتی یحب للناس ما یحب لنفسہ۔
تم میں سے کوئی اس وقت تک صاحب ایمان نہیں ہوسکتا ہے جب تک کہ وہ دوسروں کے لیے بھی وہی سلوک اور رویہ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتاہے۔
یعنی مسلموں اور غیرمسلموں کی تفریق کے بغیر ہر ایک کے ساتھ اچھے برتاؤکے بغیر کوئی مومن کہلانے کا حقدار نہیں ہے۔
کمزوروں اور ناداروں کے ساتھ آپ کا طرز عمل
آپ کی نگاہ میں کمزور اور نادار سب سے زیادہ توجہ اور لطف و مہربانی کا مستحق تھا، آپ نے یہ تصوردیا کہ کمزوروں اور ناداروں ہی کی وجہ سے روزی ملتی ہے اور سرفرازی اور کامیابی نصیب ہوتی ہے ۔ 
ھل تنصرون وترزقون الا بضعفاء کم (ریاض الصالحین/130)
حضرت خدیجہؓ آپ ؐ کی دن بھر کی مصروفیات کو ان الفاظ میں بیان کرتی ہیں:
اللہ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا، آپ رشتہ داری کا پاس و لحاظ رکھتے ہیں، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، ناداروں کے لیے کماتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور مشکل گھڑی میں لوگوں کے کام آتے ہیں۔
معاشرہ کے دبے کچلے اور دھتکارے ہوئے لوگ آپ کے یہا ں لائق استقبال تھے اور عزت واحترام کے لائق۔ آپ کی شفقت و عنایت ایسے لوگوں پر سب سے زیادہ تھی،آپ اپنی دعاؤں میں کہاکرتے تھے کہ اے اللہ!میری زندگی مسکینوں جیسی ہو اور موت بھی ان کی طرح سے آئے اور مسکینوں کے ساتھ میراحشر ہو، آپ نے فرمایاکہ کسی مسکین کو اپنے دروازے سے نامراد واپس مت کرو، گرچہ چھوہارے کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو، عائشہؓ ! غریبوں سے محبت رکھو، ان کو اپنے سے قریب کروتو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی قربت عطاکرے گا۔(مشکات2/438)
ایک مرتبہ آنحضورصحابہ کرام کے ساتھ مسجدمیں بیٹھے ہوئے تھے ، دیکھاکہ قبیلہ مضر کے کچھ لوگ اس حال میں چلے آرہے ہیں کہ بدن پر قاعدے کا کوئی کپڑانہیں، سترچھپانے کے لیے چیتھڑے لپیٹ رکھے ہیں، ان کی فاقہ مستی، بے لباسی اور پرمشقت زندگی کو دیکھ کر آپ کے چہرے کارنگ بدل گیا ۔وہاں سے اٹھ کر گھرتشریف لے گئے کہ انھیں دینے کے لیے کچھ مل جائے، لیکن کچھ نہیں ملا۔ دوسرے گھرمیں گئے وہاں سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوا، شدت اضطراب اور سخت پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر جاتے رہے، یہاں تک کہ ظہرکاوقت ہوگیا، اذان دی گئی، نمازہوئی اور اس کے بعد آپ نے ان کی امداد اور اعانت کے لیے تقریرفرمائی،جسے سن کر کے جس کے پاس جوکچھ تھا لالاکر مسجد نبوی میں جمع کرناشروع کردیا۔ یہاں تک کہ کپڑے اور کھانے کے سامان کا بڑا ذخیرہ ہوگیاجسے دیکھ کر آپ کا چہرہ گلاب کی طرح کھل اٹھا۔(صحیح مسلم کتاب الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ)
حضرت زاہردیہات کے رہنے والے تھے ، وہاں سے آپ کے لیے گھی اور پنیر وغیرہ لایاکرتے تھے اور جب رخصت ہوتے تو نبی ﷺ کھجوروغیرہ انھیں عنایت کرتے، ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضرہوئے ، آپ گھرپہ موجودنہ تھے، وہ بازار کی طرف چلے گئے، اللہ کے رسول جب تشریف لائے تو آپ کو ا ن کی آمد کی اطلاع دی گئی ، آپ فوراً ان کی تلاش میں بازار روانہ ہوگئے، دیکھاکہ وہ وہاں اپناسامان بیچنے میں مشغول ہیں، آپ نے پیچھے کی طرف سے جاکر انھیں پکڑلیا اور فرمایاکہ کون اس غلام کو خریدے گا پہلے تووہ گھبرا گئے، لیکن جب احساس ہواکہ یہ صدا لگانے والے اللہ کے رسول ہیں تو وہ آپ کے سینے سے لگ گئے اور کہنے لگے اللہ کے رسولؐ! مجھے خرید کر کون گھاٹے کا سوداکرے گا ، میں تو ایک کھوٹے سکے کی طرح ہوں، آپ نے فرمایا کہ لیکن تم اللہ کے نزدیک بہت قیمتی ہو۔(ترمذی فی الشمائل)
سوچنے کی بات ہے کہ حضرت زاہر ایک عام صحابی تھے، اگریہ واقعہ پیش نہ آتاتو شاید کوئی ان کے نام سے بھی واقف نہیں ہوتا، اگرکوئی اور ہوتاتو خیال کرتاکہ اس طرح کے لوگ آتے ہی رہتے ہیں، دوبارہ آجائیں گے، نمازمیںیاکسی وقت ملاقات ہوجائے گی، لیکن رسول اللہ ﷺ کی نگاہ میں کوئی عام اور خاص نہیں بلکہ ہرایک محبوب تھا، آپ نے ان کو اتنی اہمیت دی کہ ان کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور بکری اور اونٹ کے چرواہے کو جوگردوغبار سے اٹاہوا اور پسینہ میں شرابورتھاایک ایسی ہستی نے اپنے سینے سے چمٹالیاجوسراپا معطر اور روئے زمین پر سب سے زیادہ پاک بازتھا۔ آپ نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی کہ ان کا لباس میلا اور ان کے پسینے سے بدبوآرہی ہے۔
حسن معاشرت
خواتین کے بارے میں دنیاہمیشہ نہایت عجیب افراط و تفریط کاشکار رہی ہے ، مندروں میں وہ دیوی کی حیثیت سے براجمان رہتی ہے اور لائق پرستش ہے، لیکن گھرمیں اس کی وقعت داسی سے بھی بدترہے، فکروفلسفہ کے اعتبار سے وہ مردکے ہمدوش بلکہ کبھی اس سے برتربھی خیال کی جاتی ہے لیکن عملی دنیامیں اس کی زندگی آج بھی قابل ترس ہے،عیارذہنوں نے اسے گھر کی محفوظ چہاردیواری سے نکال کر بازارمیں سامان تجارت اور متاع ہوس بنارکھاہے اور اس کے نازک کاندھوں پردوہری ذمہ داری کا بوجھ لادرکھاہے۔
اسلام دنیا کا پہلامذہب ہے جس نے عورتوں کو ان کا جائز مقام عطاکیا، ان کی عزت نفس ،شرافت اور خودداری کا لحاظ رکھا اور انھیں صرف وہی ذمہ داری دی جو ان کی فطرت اور طبیعت سے مناسب ترہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے۔
ولھن مثل الذی علیھن۔
اور ان کے لیے بھی اسی طرح سے کچھ حقوق ہیں جیسے کہ ان پر ہیں۔
اوریہ حکم دیاگیاہے کہ 
وعاشروھن بالمعروف۔
عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے برتاؤکرو۔
اور رسول اللہ ﷺ کا ارشادہے:
سب سے کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تم میں سب سے بہتروہ ہے جواپنی عورتوں کے ساتھ سب سے اچھابرتاؤکرے۔(ترمذی وقال حسن صحیح ، ریاض الصالحین/132)
اور ایک روایت میں ہے کہ
بہتراخلاق رکھنے والا وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھاسلوک کرے اور میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ سب سے بہتربرتاؤکرتاہوں۔(زادالمعاد1/152)
اورحجۃالوداع کے موقع پر آپ نے فرمایاکہ عورتوں کے ساتھ بہترسلوک کرو، وہ تمہارے پاس اللہ کی امانتیں ہیں، تمہارے کچھ حقوق ان پر ہیں اوران کے حقوق تمہارے اوپرہیں۔(ریاض الصالحین /132)
اور حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایاکہ
عورتوں کے ساتھ اچھابرتاؤکرو، اس لیے کہ عورت پسلی سے پیداہوئی ہے اور سب سے زیادہ کجی پسلی کے اوپری حصے میں ہوتی ہے، اگرتم اسے سیدھاکرنے چلوگے تو اسے توڑدوگے اور اگر اسی طرح رہنے دوگے تو کجی باقی رہے گی، لہٰذا ان کے ساتھ اچھاسلوک کرو۔(متفق علیہ، ریاض الصالحین/131)
ازواج مطہرات کے ساتھ اللہ کے رسول کے طرزعمل سے متعلق متعدد واقعات حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں،جن سے اندازہ ہوتاہے کہ کسی بھی درجے میں ان کی تحقیر اور حوصلہ شکنی گوارہ نہ تھی، ایک مرتبہ رمضان میں ازواج مطہرات میں سے کسی نے آپ سے اعتکاف کی اجازت چاہی، اجازت ملنے پران کے لیے مسجدمیں خیمہ لگادیاگیا، ان کو دیکھ کر دوسری بیویوں نے بھی اعتکاف کے لیے اپنا خیمہ لگالیا، پوری مسجد خیموں سے بھرگئی، دو شکل تھی یا تو تمام بیویوں کے خیمے اٹھوادئے جاتے،ایسی صورت میں ان کی دل شکنی ہوتی یا جنھوں نے اجازت لی تھی ان کو باقی رکھاجاتااور دوسروں کو منع کردیاجاتا اس حالت میں انھیں شکایت ہوتی، جس کی وجہ سے آپ نے ایک تیسری راہ اپنائی، خودآپ نے اس سال اعتکاف کا ارادہ ترک کردیا،جس کی وجہ سے تمام ازواج مطہرات نے از خود اپنے خیمہ ہٹالئے۔
خواتین کے تعلق سے اس درجہ حساس وہی ہستی ہوسکتی ہے جو ا ن کے ساتھ بھلے برتاؤ کواسی طرح سے عبادت سمجھتی ہو جیسے کہ نماز اور روزہ کو۔
حضرت عائشہؓ نے عید کے موقع پرحبشیوں کے کھیل کو دیکھنے کی خواہش کی،آپ نے انھیں نہ صرف اس کی اجازت دی بلکہ اپنا کندھاپیش کردیا،وہ آپ کے کندھے پر ٹیک لگاکر ان کا کھیل دیکھتی رہیں اورجب تک کہ وہ خود سے نہیں ہٹ گئیںآپ وہاں سے ہلے نہیں۔
حضرت اسودبن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھاکہ اللہ کے رسولؐ گھرجاکرکیاکرتے ہیں، انھیں امیدتھی کہ جواب ملے گا کہ ہمہ وقت ذکروتلاوت کرتے ہیں، نمازمیں مشغول رہتے ہیں وغیرہ، لیکن خلاف توقع انھیں جواب ملاکہ
یکون فی مھنۃ أھلہ، فاذا حضرت الصلاۃ یتوضأ ویخرج الی الصلاۃ۔
گھرکے کام کاج میں ہماری مددکیاکرتے تھے اور جب نماز کا وقت ہوتاتو وضوکرتے اور نماز کے لیے چلے جاتے۔
انھیں سے منقول ہے کہ آپ نے کبھی کسی غلام، باندی ، عورت یا جانور کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا، آپ جب گھرمیں تشریف لے آتے تو ہنستے اور مسکراتے ہوتے، ازواج مطہرات کے ساتھ انتہائی خوش مزاجی سے پیش آتے ، کسی بات پر ناگواری کا اظہار نہ کرتے۔
زمانہ جاہلیت میں اور آج بھی بچیوں کی پیدائش باعث ننگ و عار اور ان کی کفالت اور پرورش کو بوجھ سمجھاجاتاہے، آپ نے اپنے قول و عمل کے ذریعہ اس تصورکوختم کیا،جس کے نتیجے میں فتح مکہ کے بعدحضرت حمزہ کی صاحب زادی کی پرورش کے لیے تین تین دعویدار نکل آئے، حضرت علیؓ کہنے لگے کہ میں اس کی پرورش کروں گااس لیے کہ میرے چچاکی لڑکی ہے ، حضرت جعفرؓ کاکہناتھاکہ یہ میرے یہاں رہے گی اس لیے کہ اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے، حضرت زیدؓ کاخیال تھاکہ میں اس پر زیادہ حق رکھتاہوں اس لیے کہ میرے اسلامی بھائی کی لڑکی ہے۔
خودآنحضورﷺ نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ جس محبت و شفقت کا معاملہ فرمایاہے اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔
آپ نے ما ں کی حیثیت سے عورت کو جو عزت ووقار دیا اس سے بڑھ کر کسی عزت و احترام کا تصور نہیں کیاجاسکتا ہے،آپ نے فرمایاکہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے، ایک صحابی نے دریافت کیاکہ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ فرمایا:تمہاری ماں، انھوں نے تین مرتبہ اس سوال کو دہرایا اورہر بار آپ کا جواب تھاتمہاری ماں۔
بچوں اور یتیموں پر شفقت
آپ سے پہلے یتیموں کے حق پر دست درازی ایک عام بات تھی، ان کے ساتھ نہایت ناروا اور اہانت آمیز سلوک روارکھاجاتاتھا، خود قرآن میں جگہ جگہ ان کے ساتھ لوگوں کے غلط رویہ کا ذکر ہے ، آپ نے ان تمام زیادتیوں کاسدباب فرمایا، آپ کا ارشاد ہے کہ سب سے بہترین گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم کی کفالت کی جائے اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں ان کے ساتھ بدسلوکی کی جائے(رواہ ابن ماجہ، الترغیب2/961)، نیز یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں مجھ سے اس درجہ قریب ہوگاجیسے کہ بیچ کی انگلی اور شہادت کی انگلی ہے۔(متفق علیہ، الترغیب2/961)
بچوں کے ساتھ آپ کو اس درجہ انس اور تعلق تھاکہ کسی سفرسے واپسی پر راستے میں جوبھی بچے ملتے ان میں سے کسی ایک کو اپنی سواری پر بٹھالیتے، آپ کا معمول تھاکہ جب نیاپھل آپ کی خدمت میں لایاجاتاتو کسی بچے کو بلاکراسے سب سے پہلے کھلاتے، بچوں کو چومتے اور ان سے پیار کرتے، ایک مرتبہ آپ کو ایساکرتے ہوئے دیکھ کر اقرع بن حابس نے کہاکہ میرے دس بچے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی کو پیار نہیں کیا، آپ نے فرمایاکہ جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیاجاتا۔(متفق علیہ، الترغیب 2/872)
حضرت انس کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ لیٹے ہوئے تھے، حضرت حسن و حسین میں سے کوئی آئے اور آپ کے پیٹ پر بیٹھ گئے، آنحضور انھیں گدگدانے لگے جس کی وجہ سے وہ ہنسنے لگے اور ان کے ساتھ آپ بھی ہنستے رہے اور اسی دوران انھوں نے پیشاب کرنا شروع کردیا حضرت انس تیزی سے لپکے تاکہ انھیں آپ کے اوپر سے ہٹادیں، آپ نے فرمایا کہ نہیں رہنے دو میرے بچے کو گھبراہٹ میں مبتلانہ کرو اور جب وہ اس سے فارغ ہوگئے، آپ نے انھیں ایک طرف بٹھادیا اور پیشاب کو دھل دیا۔(رواہ البیہقی)
محبت و شفقت کی یہ پھوار صرف مسلمان بچوں پر نہیں برستی تھی بلکہ غیرمسلم بچے بھی اس سے اسی طرح مستفید ہوتے تھے، ایک جنگ میں آپ کو مشرکین کے بچوں کے مارے جانے کی اطلاع ملی، آپ کو شدید تکلیف ہوئی، کسی نے کہاکہ یہ مشرکین کے بچے تھے، آپ نے فرمایاکہ مشرکین کے بچے بھی تم سے بہترہیں، سن لو بچوں کو ہرگزقتل نہ کرو، سن لو انھیں ہرگز نہ مارو، ہرجان اللہ کی فطرت پر پیداہوتی ہے۔(مسنداحمد3/435)
غلاموں اور خادموں کے ساتھ آپ کا رویہ
دنیامیں اس وقت سب سے زیادہ مظلوم طبقہ غلاموں کا طبقہ تھا، جس کا کوئی حق نہیں تھا روم و ایران کے مہذب قوموں کا یہ حال تھا کہ وہ غلاموں کا درندوں سے مقابلہ کرایاکرتے تھے اور ان کی بے رحمانہ ہلاکت کاتماشا دیکھاکرتے تھے اور اس انسانیت سوزتماشا کے لیے یورپ میں بڑے بڑے اسٹیڈیم بنے ہوئے تھے، آنحضورﷺ نے انھیں سماج میں سراٹھاکرجینے کا حق عطاکیا، انھیں ایسے الفاظ میں پکارنے سے منع فرمایاجس سے ان کی تذلیل ہوتی ہو،جس کا نتیجہ تھاکہ حضرت بلال جیسے حبشی غلام کو اکابرصحابہ ہمارے آقا اور سردارکہہ کر پکارتے تھے اور شرفاء عرب کی لڑکیوں سے ان کا نکاح ہوا۔
فتح مکہ کے بعد ابوسفیان، حضرت سلمان فارسی، صہیب رومی اور حضرت بلال حبشی کے پاس سے گذرے، انھیں دیکھ کر ان لوگوں نے کہاکہ اللہ کے دشمنوں کے سلسلہ میں ابھی اللہ کی تلوار کا حق ادا نہیں ہواہے، یہ سن کر حضرت ابوبکرؓ نے کہاکہ تم لوگ سردار قریش سے اس طرح کی بات کہہ رہے ہو، پھر انھوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اس کی اطلاع دی، آپ نے فرمایاکہ شاید تم نے ان لوگوں کو ناراض کردیاہے، اگر وہ لوگ خفاہوگئے تو تم سے تمہارا رب ناراض ہوجائے گا، حضرت ابوبکرؓ بھاگ کر ان کے پاس پہنچے اور کہنے لگے میرے بھائیو! کیا تم ناراض ہوگئے ہو، ان لوگوں نے کہاکہ نہیں، اللہ آپ کو معاف کرے۔(رواہ مسلم ، ریاض الصالحین /128)
غلاموں کے بارے میں آپ نے فرمایاکہ یہ بھی تمہارے بھائی ہیں جنھیں اللہ نے تمہارے قبضہ میں دے دیا ہے ، لہٰذاجوتم کھاؤ وہی ان کو کھلاؤ اور جو تم پہنو ان کو بھی پہناؤ(متفق علیہ، الترغیب 2/878) ، یہاں تک کہ دنیاسے رخصت ہوتے ہوئے آپ کو انھیں کی فکر تھی آپؐ کی آخری وصیت یہ تھی کہ غلاموں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔(ابوداؤد2/218، کتاب الادب، الترغیب 2/880)
حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں نے نوسال تک رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی ، لیکن میرے کسی کام پر آپ نے یہ نہیں فرمایاکہ ایساکیوں کیا اور نہ کسی کام میں عیب نکالا اور نہ ہی کبھی اف کہا(متفق علیہ، ریاض الصالحین /243)، ایک صحابی نے عرض کیاکہ میرا خادم میرے ساتھ برا برتاؤ کرتاہے، مجھ پر ظلم کرتاہے ؟ کیامیں اسے مارسکتاہوں، آپ نے فرمایاکہ ہر روز اسے ستربار معاف کردیاکرو۔(ابویعلیٰ ، الترغیب 2/881)
جانوروں پر رحم اور مہربانی
آپ سراپا رحمت اور پوری کائنات کے لیے رحمت بن کے آئے تھے ، اس لیے اس ابررحمت سے پوری دنیا سیراب ہوئی، آپ بے زبان جانوروں کے لیے بھی رحم و کرم اور لطف و ہمدردی کا پیام لے کر آئے، آپ نے جانوروں کو بھوکارکھنے پر سخت وعیدبیان فرمائی، ایک انصاری کے بھوکے اونٹ کو دیکھ کر فرمایاکہ اس جانور کے معاملہ میں اللہ سے نہیں ڈرتے ہو؟ (حوالہ مذکورکتاب الجہاد 1/345، الترغیب 2/874)، آپ نے فرمایاکہ ایک عورت صرف اس لئے جہنم کا لقمہ بن گئی کہ وہ بلی کو بھوکارکھتی تھی(بخاری وغیرہ، الترغیب2/876) اور ایک بدکردار عورت کے لیے کتے کو پانی پلانا جنت میں جانے کا ذریعہ بن گیا۔
پہلے اور آج بھی لوگ جانوروں کو باہم لڑاکر ان کا تماشا دیکھتے ہیں، آپ نے اس درندگی کی سختی سے ممانعت فرمائی(ابوداؤدوترمذی، الترغیب 2/877)، سخت دلی کی انتہاء یہ تھی کہ کسی جانوروکو باندھ کر اس پر تیر اندازی کی مشق کیاکرتے تھے، آپ نے شدت کے ساتھ اس سے منع فرمایا۔(متفق علیہ، الترغیب 2/873)
ایک شخص کو دیکھاکہ وہ جانور کو لٹاکر چھری تیز کررہاہے، آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایاکہ کیاتم اسے دوبار مارنا چاہتے ہو، لٹانے سے پہلے تم نے چھری تیز کیوں نہیں کرلی؟ (الترغیب2/877)
ایک سفرکے دوران کسی صحابیؓ نے پرندے کے بچوں کو ان کے گھونسلے سے اٹھالیا، ان کی ماں اس کے سرپر منڈلانے لگی ، آپ نے فرمایاکہ اس پرندے کو کس نے پریشان کررکھاہے، اس کے بچے واپس کردو۔(ابوداؤد، الترغیب 2/874)

(مضامین ڈیسک)



⋆ ولی اللہ مجید قاسمی

ولی اللہ مجید قاسمی
مولانا ولی اللہ مجید قاسمی معروف عالم دین ہیں اور جامعتہ الفلاح، اعظم گڑھ میں فقہ و حدیث کےاستاذ نیز دار الافتاء کے ذمہ دار بھی ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

علمی اختلاف کی حقیقت: اسباب و آداب

آج مسلمانوں کی بہترین صلاحیتیں اور ذہانتیں فروعی مسائل میں مناظرہ بازی میں ضائع ہورہی ہیں، علم و تحقیق کا سارا زور اس پر  صرف ہورہا ہے کہ کیسے دوسرے فریق کو گمراہ اور اس کے موقف کو بے وزن ثابت کردیا جائے، سینے کے نیچے اور اوپر ہاتھ باندھنے پر لڑائی ہورہی ہے اور اس کی وجہ سے مسجدیں الگ ہورہی ہیں، حالانکہ ان کا دشمن ان کے ہاتھ کاٹنے کی تیاری کر رہا ہے اور ان کے قبلہ وکعبہ کو منہدم کرنے کی سازشیں کر رہا ہے اور ان میں اس طرح کے اختلافات کو ہوا دے کر انہیں اپنی ریشہ دوانیوں سے غافل رکھناچاہتا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ امت کی صفوں میں پائے جانے والے انتشار کوختم کیاجائے، اختلاف کو بر داشت کرنے اور دوسرے کی رائے کو اہمیت دینے کی عادت ڈالی جائے اور علمی وفقہی اختلاف کو فرقہ بندی کا ذریعہ نہ بنایا جائے اور دشمنانِ اسلام نے جو محاذکھول رکھا ہے ان پر اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں صرف کی جائیں اور مسلمان جس پستی اور رسوائی کا شکار ہیں انہیں ان سے نکالنے کی کوشش کی جائے۔