تقابل ادیانسیرت نبویﷺ

بائبل میں بعثت نبوی ﷺ کی بشارتیں

 محمد اعظم

(ریسرچ اسکالر شعبہ سنی دینیات، اے۔ ایم۔ یو۔ علی گڑھ)

مسلم دنیا میں سب سے زیادہ لٹریچر آپ ﷺ کی سیرۃ سے متعلق شائع ہو تا رہا ہے اور ہو تا رہیگا کیوں کہ قرآن کریم میں  کہا گیا ہے  ورفعنا لک ذکر ک ( الم نشرح: ۲)( ہم نے تیرے ذکر کا آوازہ بلند کر دیا ہے )جب تک تحریر یعنی لکھائی پڑھائی کا کلچر و جود میں نہیں آیا تھا انسانوں کا با ہمی میل جول زبانی الفاظ پر منحصر تھا اور بول چال کے ذریعے ہو تا تھا اُس وقت بھی آپ ﷺ کا ذکر دنیا کے ہر فرد کے مقابلے میں زیادہ تھا مثلا صرف اذان کو ہی لیجئے مسلمان دنیا بھر میں پھیلے  ہو ئے تھے اور ہر ملک اور ہر خطے میں اور ہر شہر میں نماز کے اوقات آگے پیچھے یعنی مختلف اوقات میں ہو تے ہیں ہر اذان میں  اشہد ان لا الہ الا اللہ و اشہد ان محمد رسول اللہ کے جو الفاظ دو ہرائے جا تے ہیں وہ بھی مختلف اوقات میں مسلسل ادا ہو تے رہتے ہیں گویا کوئی لمحہ ایسا نہیں گزر تا جس میں آپ ﷺ کا ذ کر نہ ہو تا ہو اور جب لکھنے کا سلسلہ شروع ہوا تو پہل بھی اسی نام سے کی اور انشا ء اللہ تا قیا مت جا ری رہیگا۔

 ہم مسلمان اس لحاظ سے یقینا بہت ہی خوش قسمت ہیں کہ ہمارے نبی ﷺ کی سیرت اور کتاب دو نوں محفوظ ہیں دیگر ادیان کی سب سے بڑی بد نصیبی یہ ہے کہ ان میں سے بعض نے انبیاء کو لیا اور کتاب کو نظر انداز کر دیا اور بعض نے کتاب کو لیا اور انبیاء کی سیرتوں کو نظر انداز کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دونوں کو ہی گم کر بیٹھے اور اب وہ کسی نئے نبی کے منتظر ان کی راہ تکتے رہتے ہیں حا لاں کہ جس کے وہ منتظر ہیں وہ تو تشریف لا چکے ہیں اور نبوت کا باب مقفل کر کے اس دنیا سے ۱۴۰۰ سو سال پہلے ہی رخصتہو گئے ہیں مگر وہ لوگ بد قسمتی سے انہیں صحیح طور پر پہچان نہیں پا رہے ہیں۔

جب ہم کتاب مقدس (بائیبل) کا مطالعہ کر تے ہیں تو اس نتیجے پہ پہونچتے ہیں کہ جس نبی کا وہ لوگ انتظار کر رہے ہیں ان ہی کیمقدس کتا بوں میں اس نبی کی بشارتیں واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔ اس مقالے میں آپ ﷺ کی بعثت سے متعلق بائیبل میں جو بشارتیں اور پیشین گوئیاں بیان کی گئی ہیں ان پر روشنی ڈالی جائے گی۔

 بائیبل

بائیبل مقدس کتب کے دو حصوں یعنی عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید کے مجموعہ کا نام ہے عہد نامہ قدیم یہودیوں کی مقدس اور مستند کتاب و ماٰخذ ہے اور عہد نامہ جدید مسیحیت کے مقدس ماٰخذ کے طور پر جا نا جا تا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے  احوال اور ان کی تعلیمات پر مشتمل ہے۔

 نامہ قدیم میں بعثت نبویﷺ کی بشارتیں

 (۱)  جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہ ِ طور پر بلا یاگیا اور آپ اللہ تعالی سے ہم کلام ہو ئے تو موسیٰ  ؑکو کہا گیا   ’’  خدا وند خدا تیرا خدا تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے بھائیوں میں سے میرے مانند ایک نبی بر پا کر یگا، میں ان ہی کے  بھائیوں میں تیری مانند ایک نبی بر پا کرو نگا اور اپنا کلام اس کے منھ میں ڈالوں گا او ر جو کچھ میں اسے حکم دو ں گا وہی وہ ان سے کہیگا اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کے کہیگا نہ سنے گا تو میں ان کا حساب اس سے لو ں گا لیکن جو نبی گستاخ بن کر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جس کا کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا ہے اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے‘‘۱؎

 مذکورہ بالا پیشین گوئی کا اطلاق عیسائی حضرات حضرت عیسی ٰ ؑکی طرف کر تے ہیں حا لاں کہ اگر کوئی بھی اس پیشین گوئی پر غور کریگاتو وہ اس نتیجے پر پہونچے گا کہ در حقیقت یہ آپ ﷺ کے با رے میں ہے، اس پیشین گوئی کے ہم دو حصے کر تے ہیں تو معاملہ صاف نظر آتاہے پہلا حصہ ہے کہ ’’ تیرے ہی بھائیوں میں سے  ‘‘ تو پتہ چلا کہ حضرت موسی ٰ اور حضرت عیسی ٰ دونوں بنی اسرائیل میں سے ہیں اور ان کے بھائی بنی اسماعیل ہیں تو یہ علامت صرف آپ ﷺ میں پا ئی جا تی ہے کیو ں کہ آپ حضرت اسحاق  ؑ کے بھائی حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے تھے۔

 دوسرا حصہ کہ  ’’ وہ تیرے ہی مانند ہوگا  ‘‘ تو حضرت موسی ٰ کے مانند تو آپﷺ ہے ہیں کیوں کہ جیسے موسیٰ ؑ کے والد ماجد تھے ایسے ہی آپ ﷺ کے بھی تھے جب کہ حضرت عیسی ؑ تو معجزانہ طور پر بغیر باپ کے پیدا ہو ئے تھے تو پتہ چلا کہ کہ یہ پیشین گوئی صرف اور  صرف آپ ﷺ سے ہی متعلق ہے۔

(۲) کتاب استثناء میں ہے کہ  ’’  خدا وند سینا سے آیا اور شعیر پر ان پر آشکا را ہوا اور کو ہ فاران سے ان پر جلوہ گر ہوا اور لا کھوں قدوسیوں کے ساتھ آیااس کے داہنے ہا تھ پر اس کے لئے آتشی شریعت تھی  ‘‘۔ ۲؎

 اس پیشین گو ئی میں تین عظیم رسولوں کی بعثت کا اعلان ہے ایک حضرت موسی ؑ جو وادی سینا سے خاص نسبت رکھتے ہیں دو سرے حضرت عیسی ؑ جو شعیر سے آشکارا ہوئے تیسرے آپ ﷺ کا ذکر ہے جو کوہ فاران پر جلوہ آرا ہوئے اور رہا یہ جملہ لاکھوں قدسیوں کے ساتھ تو یہ تحریف کی نشانی ہے کیوں کہ سیرت اور احادیث میں تو وہ لوگ تحریف کر نہیں سکتے ہیں اور ان دونوں میں دس ہزارکی تعداد کا ذکر ہے جو فتح مکہ کے وقت آپ ﷺ کے ساتھ تھے اور آتشی شریعت سے اشارہ ہے جہاد کی طرف تو اس پیشین گوئی میں آپ ﷺ کی بعثت کی واضح دلیل مو جود ہے۔

(۳) حضرت دائودعلیہ الاسلام فر ما تے ہیں   ’’  تو بنی آدم میں سب سے حسین ہے، تیرے ہونٹوں پر اطاعت بھری ہے اس لئے خدا نے تجھے ہمیشہ کے لئے مبارک کیا، تیرےتیر تیزہیں وہ بادشاہوں کے، دشمنوں کے دل میں لگتے ہیں انہیں تیرے سامنے زیر ہوتی ہیں، تو نے صداقت سے محبت رکھی اور  بد کاری سے نفرت، میں تیرے نام کی یاد کو نسل در نسل قائم رکھوں گا اس لئے امتیں ابد الا ٰدباد تیری شکر گزاری کریں گی ‘‘۔ ۳؎

  یہ بشارتیں حرف بحرف آپ ﷺ پر صادق آتی ہیں کیوں کہ حضرت دائود ؑ کے بعدآپ ﷺ کے علاوہ اور کوئی نبی ایسا نہیں آیا جو  با طنی فضل و کمال کے ساتھ ظاہری حسن و جمال، حسن و اخلاق میں یکتائے زمانہ و یگانہ عالم ہو اور حشمت و شوکت، حکومت و سلطنت اور تیر و تلوار کا بھی مالک ہو۔

عہد نامہ جدید میں بعثت نبوی ﷺکی بشارتیں

(۱)  بعثت نبوی ﷺ پر متی ان الفاظ میں گواہی دے رہی ہے’’ دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے کیوں کہ میں تم سے کہتا ہو ں کہ اب مجھے پھر ہر گز نہ دیکھو گے جب تک کہ نہ کہو گے کہ مبارک ہے وہ جو خدا کے نام سے آتا ہے  ‘‘ ۴؎

یعنی حضرت مسیح  ؑ اٹھائے جا نے والے ہیں اور وہ دوبارہ اس وقت تک نہیں آئیں گے جب تک خدا وند کے نام سے آنے وا لا نہ آجائے اور یہ لوگ نہ پکار اٹھیں کہ وہ مبارک ہے یعنی اس پر ایمان نہ لے آئیں اس سے بھی صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ بھی آپ ﷺ سے متعلق ہے کیوں کہ حضرت عیسی ؑ اپنے دوبارہ آنے کی خبر دے رہے ہیں اور اس کی نشانی یہ بتلا رہے ہیں کے جب تک کہ خداوندنام سے آنا والا نہ آجا ئے تو میں نہیں آئونگا اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حضرت عیسی ؑ کے بعدکسی اور نبی کا ظہور نہیں ہواآپ ﷺ کے علاوہ تو یہ پیشین گوئی آپ کی بعثت پر صادق آتی ہے۔

(۲) انجیل یوحنا میں تین ابواب یعنی ۱۴ سے لیکر ۱۶ تک مسلسل آپ ﷺ کی آمد سے متعلق پیشین گوئیاں ہیں جن میں سے چند بیان کی

جا تی ہے۔

 (۱) ’’  اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مدد گار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے یعنی روح حق جسے دنیا حاصل نہیں کر سکتی کیوں کہ نہ اسے دیکھتی ہے نہ جا نتی ہے تم اسے جا نتے ہو کیوں کہ وہ تمہا رے ساتھ رہتا ہے اور تمہارے اندر ہے‘‘۔ ۵؎

(۲) اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیو ں کہ دنیا کا سر دار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں  ‘‘ ۶؎

(۳) ’’  لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جا نا تمہارے لئے فائدہ مند ہے کیوں کہ اگر میں نہ جائوں تو تو وہ مدد گار تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر میں جائوں تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا  ‘‘۔ ۷؎

(۴) ’’ جب مدد گار آئے تو وہ دنیا کی خرابی کو ثابت کریگا اور گناہ اور راست بازی اور عدالت کے با رے میں بتائیگا  ‘‘۔ ۸؎

 انجیل یوحنا کی مذکورہ با لا عبارات میں حضرت عیسی ٰ اپنے بعد ایک آنے والے کی خبر دے رہے ہیں جس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ وہدنیا کا سردار سر ور عالم ہو گا  ’’ ابد تک رہیگا، سچائی کی روح  ‘‘  جس کا مطلب ہے کہ اس کی تعلیمات عالم گیر، ہمہ گیر اور قیامت تک باقی رہنے والی ہو گی او رخاص شخص کے لئے  ’’ مد گار  ‘‘ اردو تر جمے میں استعمال کیا گیا ہے یو حنا کی اصل انجیل میں جو یو نانی لفظ استعمال ہوا تھا وہ ( Periclytos)تھا جس کا مطلب ہے تعریف کیا ہوا جو لفظ ’’ محمد ‘‘ کا بالکل ہم معنی ہے تویوحنا کی یہ بشارتیں آپ ﷺ پربعینہ صادق آتی ہیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ بعثت نبوی ﷺ کی بشارتیں بائیبل مقدس میں صاف صاف بیان ہوئی ہے اللہ تعالی نے آپ ﷺ کا ذکر مبارک اپنی ہر وحی اور اپنی ہر کتاب میں بیان فر ما یا ہے چوں کہ اللہ تعالی نے عا لم میثاق میں انبیاء کرام کی ارواح طیبات سے نبی ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لا نے اور آپ کی مدد کر نے کا وعدہ لیا تھا اس نے نہیں چاہا کہ یہ وعدہ صرف راز باطنی رہ جا ئے بلکہ آنے والی نسلیں اس عظیم نبی کی عظمت سے با خبر ہو اس لئے کتب سابقہ میں آپ ﷺ کا ذ کر خیر کیا ہے۔

مراجع

   (۱)  عہد نامہ قدیم، کتاب استثناء  : باب ۱۸  آیت ۱۵، ۱۸، ۱۹، ۲۰

  (۲)  کتاب استثناء :باب ۳۲ آیت ۲

  (۳)  زبور : باب ۴۵ آیت ۲، ۵، ۷، ۱۷

  (۴)  متی : باب ۲۳ آیت ۳۹

  (۵)  یوحنا : باب ۱۴ آیت ۱۶، ۷۱

  (۶)  یوحنا : باب ۱۴ آیت ۳۰

  (۷)  یوحنا : باب ۱۶ آیت ۷

  (۸)  یو حنا : باب ۱۶ آیت ۸

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close