سیرت نبویﷺ

جانوروں کے ساتھ نبی کریم کا کریمانہ برتاؤ

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

 حضور اکرم ا کی شانِ رحیمی وکریمی نہ صرف یہ کہ انسانوں کے ساتھ مخصوص تھی، بلکہ آپ ا کی شانِ رحمۃ للعالمین کی وسعت نے جانوروں کے حقوق کے لئے بھی جدوجہد کی اور ان کو اپنے رحم وکرم کے سایہ سے حصہ وافر عطا کیا، جانوروں کی ساتھ نبی کریما ا کے برتاؤ اور ان کے حقوق کے ادائیگی کی تاکید، ان کے ساتھ بہترین سلوک کی دعوت کی روشنی میں اپنے جانوروں کے ساتھ برتاؤ کا بھی جائزہ لیں کہ کیا ہمارا جانوروں کے ساتھ ہمارا وہی برتاؤ ہے جس کی تاکید نبی کریم ا  نے کی ہے، یاہم جانوروں کی حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام لے کر عذاب اور وعیدوں کے مسحق بن رہے ہیں ؟ اللہ کابڑافضل ہے کہ اللہ عزوجل نے چھوٹے سے لے بڑے جانور تک کو ہمارے تابع اور زیردست کردیا ہے، ایک چھوٹا سابچہ ایک بڑے اونٹ کی مہار تھامے لئے جاتا ہے، یہ بس اللہ عزوجل کی کرم فرمائی اورانسانیت کے ساتھ اس کا فضل ہے کہ ایک بڑے سے جانور کو ایک چھوٹا بچہ بھی اپنے تابع کئے دیتا ہے، ورنہ یہ ضعیف اور ناتواں انسان کی کیا حیثیت کہ وہ اس قدر بڑے اور قوی ہیکل، تند ومند اس سے کئے کئے گناہ بھاری بھرکم، ڈیل اور جسم وجثہ کے مالک جانوروں کو رام کرسکے ؟۔

جانوروں میں خیر وخوبی:

جانورں کی اہمیت اور ان خوبیوں اور خصوصیات کو بتلانے کے لئے یہ بتلادینا کافی ہے کہ قرآن کریم نے متعدد جانوروں اورحیوانات کاتذکرہ کیا ہے، اتنا ہی نہیں ؛ بلکہ کئی ایک سورتین جانوروں کے نام سے موسوم ہیں جیسے :سورۃ البقرہ ( گائے )، الا ٔنعام( چوپائے)،  النحل ( شہد کی مکھی )،  النمل (چیونٹی )، العنکبوت (مکڑی)،  الفیل (ہاتھی)۔

اور ایک جگہ اللہ عزوجل نے جانوروں کے فوائد وخصائص اور ان کے منافع کو یوں بیان کیا :

’’اور اس نے چوپائے پیدا کئے ، جن میں تمہارے لئے گرم لباس ہیں اور بھی بہت سے منافع ہیں اور بعض تمہارے کھانے کے کام آتے ہیں ،ان میں تمہاری رونق بھی ہے جب چرا کر لاؤ تب بھی اور جب چرانے لے جاؤ تب بھی،اور وہ تمہارے بوجھ ان شہروں تک اٹھالے جاتے ہیں جہاں تم آدھی جان کئے نہیں پہنچ سکتے تھے، یقینا تمہارا رب بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔ ‘‘(النحل : ۵-۸)۔

حضور اکر م ا نے بعض جانوروں کے صفات حمیدہ اور ان کے معنوی اور اخلاقی خوبیوں کے حامل ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ احسان اورسلوک کا حکم کیا ہے، کھوڑے کے تعلق سے فرمایا: ’’گھوڑے کے ساتھ روزے قیامت تک خیروابستہ ہے‘‘ (مسلم : باب الخیل فی نواصیہا : حدیث: ۴۹۵۵)اور ایک روایت میں فرمایا:’’اونٹ اپنے مالک کیلئے عزت کا باعث ہوتاہے اور بکری میں خیر وبرکت ہے‘‘(ابن ماجۃ :باب اتخاذ الماشیۃ، حدیث:۲۳۰۵)اور ایک حدیث میں رسول اللہ ا نے فرمایا :’’مرغ کو گالی نہ دو چونکہ وہ نماز کیلئے جگاتا ہے۔ ‘‘(ابوداؤد: باب ما جاء فی الدیک، حدیث:۵۱۹۱)

جانوروں کے ساتھ احسان وسلوک اجر وثواب کاباعث:

آپ ا نے جانوروں کے ساتھ احسان کا حکم دیا اور اس کو اجر وثواب کاباعث بتلایا:

حضرت ابوہریرہ ص سے روایت ہے کہ حضور اکرم انے فرمایا کہ : بدکار عورت کی بخشش صرف اس وجہ سے کی گئی کہ ایک مرتبہ اس کا گذر ایک ایسے کنویں پر ہوا جس کے قریب ایک کتا کھڑا پیاس کی شدت سے ہانپ رہا تھا، اور قریب تھاکہ وہ پیاس کی شدت سے  ہلاک ہوجاتا، کنویں سے پانی نکالنے کو کچھ تھا نہیں ، اس عورت نے اپنا چرمی موزہ نکال کر اپنی اوڑھنی سے باندھا اور پانی نکال کر اس کتے کو پلایا، اس عورت کا یہ فعل بارگاہ الٰہی میں مقبول ہوا،اور اس کی بخشش کر دی گی(مسلم: باب فضل ساقی البہائم، حدیث:۵۹۹۷)

ایک شخص نے نبی کریم ا سے عرض کیا کہ:  اے اللہ کے رسول ا!  میں اپنے حوض میں پانی بھرتاہوں اپنے اونٹوں کو پانی پلانے کیلئے، کسی دوسرے کا اونٹ آکر اس میں سے پانی پیتا ہے تو کیا مجھے اس کا اجر ملے گاتو رسول اللہ انے فرمایا:’’ہر تر جگر رکھنے والے میں اجر وثواب ہے ‘‘(مسند احمد:مسند عبد اللّٰہ بن عمرو،حدیث: ۲۰۷۵)

جانوروں کے ساتھ بدسلوکی پرآپا  کی ذکرکردہ وعیدیں :

نبی کریم ا  نے جانورں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور بدسلوکی کوعذاب وعقاب اور سزا کی وجہ گردانا او رانتہائی درجہ کی معصیت اور گناہ قرار دیا او رانسانی ضمیر جھنجوڑنے والے سخت الفاظ استعمال فرمائے : چنانچہ حضرت  امام بخاریؒ نے روایت نقل کیا ہے رسول اللہ ا نے فرمایا : ایک عورت کو اس لئے عذاب دیا گیا کہ وہ بلی کو باندھی رکھتی نہ کھلاتی نہ پلاتی اور نہ اس کو چھوڑ دیتی کہ چر چگ کر کھائے(مسلم : باب تحریم قتل الہرۃ : حدیث: ۵۹۸۹)

حضرت ابن ِعباس ص سے روایت ہے کہ رسول اللہا کے پاس سے ایک گدھا گذرا، جس کے منہ پر داغا گیا تھا، آپ انے اس کو دیکھ کر فرمایا :اس شخص پر لعنت ہو جس نے اس کو داغا ہے(مسلم : باب النہی عن ضرب الحیوان فی وجہہ، حدیث:۵۶۷۴)اور ایک روایت میں رسول اللہ انے چہرے پر مارنے اور داغنے سے منع فرمایا ہے(مسلم : باب النہی عن ضرب الحیوان فی وجہہ، حدیث:۵۶۷۴)اور ایک روایت میں ہے کہ غیلان بن جنادۃ  ؓکہتے ہیں کہ : میں نبی کریم ا کے پاس اونٹ پر آیا جس کی ناک کو میں نے داغ دیا تھا، رسول اللہ انے فرمایا : اے جنادہ ! کیاتمہیں داغنے کیلئے صرف چہرے کا عضو ہی ملا تھا، تم سے تو قصاص ہی لیا جائے(مجمع الزوائد:باب ما جاء فی وسم الدواب،حدیث :۱۳۲۴۳)

جانوروں کو لڑانے، چھیڑ خوانی کرنے پرآپ کی ممانعت:

آپ ا نے نہ صرف یہ کہ گھریلو جانورں کے ساتھ بدسلوکی اوربے جا مارپیٹ کی ممانعت کی ؛ بلکہ غیر پالتو جانوروں کو بھی بے جاپریشان کرنے، چھیڑ خوانی کو منع فرمایا :

حضرت ابن ِعباس ؓ سے روایت ہے رسول اللہ انے جانوروں کو ایک دوسرے پر شکار(یعنی ان کو آپس میں لڑانے ) سے منع فرمایاہے(ترمذی : باب کراہیۃ التحریش بین البہائم : حدیث: ۱۷۰۹)حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ صاپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا   ایک مرتبہ ہم لوگ رسول کریم ا کے ہمراہ سفر میں تھے جب ایک موقع پر آنحضرت ا  قضائے حاجت کیلئے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک حمرہ کو دیکھا جس کے ساتھ دو بچے تھے ہم نے ان دونوں بچوں کو پکڑ لیا، اس کے بعد حمرہ (ایک قسم کی چڑیا)آئی اور اپنے بچوں کی گرفتاری پر احتجاج شروع کیا جب نبی کریم اتشریف لے آئے، آپ انے  جب حمرہ کو اس طرح بیتاب دیکھا تو فرمایا کہ کس نے اس کے بچوں کو پکڑ کر اس کو مضطرب  کر رکھا ہے؟  اس کے بچے اس کو واپس کر دو(  ابوداؤد: باب فی کراہیۃ قتل الذر، حدیث۵۲۶۸)حضرت ابن ِعمر ص سے روایت ہے کہ ان کا گذر قریش کے چند نوجوانوں کے پاس سے ہوا جو کسی پرندہ یا مرغی کو نشانہ بنا رہے تھے، حضرت ابن ِعمر ص نے ان کو دیکھا تو وہ وہاں سے منتشر ہوگئے، اور فرمایاکہ نبی کریم ا نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو کسی جاندار چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ لگائے(مسلم: باب النہی عن صبر البہائم، حدیث: ۱۹۵۷)

حضرت مقداد بن معدیکرب صسے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے چوپایوں کے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے(مجمع الزوائد:باب النہی عن الضرب علي الوجہ والنہی عن سبہ)۔

مذبوح جانوروں کیساتھ حسن سلوک کی تاکید:

آپ ا نے ذبح کئے جانے والے جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تاکید فرمائی :’’جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو،  اپنی چھری کو تیز کرلو،  اور جانور کو آرام دو ‘‘(ترمذی:باب النہی عن المثلۃ،حدیث:۱۴۰۹) امیر المؤمنین حضرت عمر ص فرماتے ہیں کہ : جانو رکے ساــتھ احسان اور بھلائی یہ ہے کہ اس کو مذبح تک کھینچ کر نہ لے جایا جائے(مجلۃ الجامعۃ الإسلامیۃ، حقوق الحیوان :۱۱؍۴۶۱)

فقہاء نے ذابح کو ذبیحہ کے سامنے چھری تیز کرنے سے منع فرمایا ہے، اور اس کو بری طرح سے لٹانے سے منع کیا ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بکری کو لٹایااور اپنی چھری کو تیز کرنے لگا تو نبی کریم ا نے فرمایا:کیا تم اس کو دو موت مارنا چاہتے ہو، کیوں تم نے اپنی چھری کو اس کے لٹانے سے پہلے تیز نہیں کر لیا(مستدرک حاکم:کتاب الذبائح، حدیث:۷۵۷۰)

ایک حدیث میں ہے کہ : ایک صحابی ص نے کہا : یا رسول اللہا ! جب میں بکری کو ذبح کرتا ہوں تو مجھے اس پر رحم آتا ہے، حضور ا نے فرمایا :’’ اگر تم بکری پر رحم کرتے ہو تو خدا تم پر رحم کرے گا(مجمع الزواید:باب النہی عن صبرالدواب والتمثیل بہا،حدیث:۶۰۲۹)

حضرت حین بن عطاء سے مروی ہے کہ فرمایا کہ : ایک قصاب نے بکری کو ذبح کرنے کیلئے اس کے کوٹھے کا دروازہ کھولا، تو وہ بھاگ پڑی، اس نے اس کا پیچھا کیا، اور اس کو اس کے پیر سے کھینچ کر لانے لگا، تو رسول اللہ ا نے فرمایا:’’اے قصاب ! اس کو نرمی سے کھینچ لاؤ)(مصنف عبد الرزاق:باب سنۃ الذبح،حدیث:۸۶۰۹)

تکلیف دہ جانوروں کو مارنے میں آپ ا نے احسان کاحکم کیا:

آپ ا نے موذی اور تکلیف دہ جانوروں کو مارنے کاحکم ضرور دیا ہے مثلاسانپ، بچھو وغیرہ لیکن ان کے مارنے میں بھی احسان اور بھلائی کاحکم آپ ا نے کیا ہے :اللہ نے ہر چیز میں احسان کرنا فرض کیا ہے، اس لئے جب تم لوگ کسی جانور کو مارو تو اچھے طریقے سے مارو اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ (       مسلم : باب الأمر بإحسان الذبح، ہدیث ۱۹۵۵)آپ ا نے پوچھا کہ یہ کس نے جلایا؟ ہم نے کہا ہم نے جلایا ہے۔ آپ ا نے فرمایا کسی کیلئے یہ بات مناسب نہیں کہ وہ آگ سے تکلیف پہنچائے سوائے آگ کے پیدا کرنے والے کے(ابوداؤد: باب فی کراہیۃ حرق العدو بالنار)

رسول اللہ انے چھپکلی کو مارنے کا حکم فرمایا ہے، لیکن اس کے مارنے میں بھی نرمی اور احسان کا حکم کیا ہے، اس کو ایک ہی وار میں مارے، اس کو متعدد مار میں مارنے پر کم اجر حاصل ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ صسے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار ڈالا تو اس کیلئے اتنی اتنی نیکیاں ہیں (مسلم: باب استحباب قتل الوزع،حدیث:۲۲۳۹۰) اور جس نے اسے دوسری ضرب سے مارا، اس کیلئے اتنی اتنی نیکیاں ہیں مگر پہلی دفعہ مارنے والے سے کم اور اگر اس نے تیسری ضرب سے مارا تو اس کیلئے اتنی اتنی نیکیاں ہیں لیکن دوسری ضرب سے مارنے والے سے کم۔

مسلم کی روایت میں ہے: حضرت ابوہریرہ صفرماتے ہیں کہ رسول کریم انے فرمایا: جو شخص گرگٹ کو ایک ہی وار میں مار ڈالے، اس کیلئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، دوسرے وار میں اس سے کم اور تیسرے وار میں اس سے بھی کم نیکیاں لکھی جائیں گی(مسلم : باب استحباب قتل الوزع، حدیث: ۲۲۴۰)

جانوروں کی سواری کرنے میں بھی حسن سلوک کا خیال رہے :

جانور سواری کے لئے ضرور ہیں ، یہ حمل ونقل کا ذریعہ بھی ہیں ، اسی کو اللہ عزوجل نے فرمایا: ’’ لترکبوھا وزینۃ‘‘ ( اس کو تمہارے لئے سواری کاذریعہ بنایا ہے، ہاں البتہ اس کے ساتھ احسان وسلوک کا حکم کیا ہے اور اس کے حقوق کی رعایت کی تاکید کی ہے)

طویل سفر میں اس کیلئے آرام لینے اور چرنے چگنے کا موقع فراہم کرنے کو کہا ہے:حضرت ابوہریرہ صسے روایت ہے کہ رسول اللہا نے ارشاد فرمایا جب تم سبزہ والی زمین میں سفر کرو تو اونٹوں کو انکا حصہ دو(مسلم: باب مراعاۃ مصلحۃ الدروس،حدیث:۱۹۲۶)یعنی اثنائے راہ اگر ہریالی نظر آئے تو ان کو کچھ چرنے اور آرام لینے کا موقع دو، بھوکا، پیاسا مسلسل چلا کر ان کو تھکاؤ نہیں ۔

ایک جانور پر تین آدمیوں کو سوار ہونے سے آپ ا منع فرمایا ہے(مسلم: باب فضائل عبد اللّٰہ بن جعفر، حدیث:۲۴۲۸)ابن ِابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ : انہوں نے تین لوگوں کو خچر پر سوار دیکھا تو فرمایا : تم میں سے ایک شخص اتر جائے، کیونکہ رسول اللہ انے تیسرے شخص پر لعنت فرمائی ہے(مصنف ابن ابی شبیۃ: من کرہ رکوب ثلالۃ عل الدابۃ، حدیث:۲۶۳۸۰)یہ اُس صورت میں ہے جبکہ وہ جانور تین آدمیوں کے بوجھ کو اٹھانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، اگر استطاعت رکھتا ہوتو جائز ہے(فتح الباری: ۱۲؍۵۲۰)

رسول اللہ ا نے جانور پر اس طرح کھڑے ہونے سے منع فرمایا ہے کہ جس سے  اس کو تکلیف ہو۔سنن ابی داؤد میں ہے : حضرت ابوہریرہ صنبی کریم اسے نقل کرتے ہیں کہ آپ ا نے فرمایا :جانوروں کی پشت کو منبر نہ بناؤ(   ابوداؤد : باب فی الوقوف علی الدابۃ، حدیث : ۲۵۶۷)

کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو محض اس لئے تمہارے تابع کیا ہے کہ وہ تمہیں ان شہروں اور علاقوں میں پہنچا دیں جہاں تم (پیدل چلنے کے ذریعہ)جانی مشقت ومحنت کے ساتھ ہی پہنچ سکتے تھے یعنی جانوروں سے مقصود ان پر سواری کرنا اور ان کے ذریعہ اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہے لہٰذا ان کو ایذا پہنچانا رَوا نہیں ہے۔جس جانور کی خلقت سواری کیلئے نہیں ہوئی جیسے گائے وغیرہ تو ان کی سواری کرنا جائز نہیں ۔

جانوروں پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ لادیں

جانور پر اس کی طاقت اور قوت سے زیاد ہ بوجھ لادنا جائز نہیں ،اس کو نبی کریم ا نے سختی سے منع فرمایا ہے: صحابہ ث  کو اس بات کا علم تھا کہ جو شخص جانور پر اس کی طاقت اور قوت سے زیادہ بوجھ لادے گا تو اس کو روز ِ قیامت حساب کتاب دینا ہوگا، حضرت ابودرداء صسے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے اونٹ سے کہا : اے اونٹ تم اپنے رب کے یہاں میرے سلسلہ میں مخاصمہ نہ کرنا، میں نے تم پر تمہاری طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں لادا (احیاء علوم الدین:الباب الثالث فی الآداب:۱؍۲۶۴)

ایک دن نبی ا کسی انصاری کے باغ میں داخل ہوئے، اچانک ایک اونٹ آیا اور آپ ا کے قدموں میں لوٹنے لگا، اس وقت اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، نبی ا نے اس کی کمر پر اور سر کے پچھلے حصے پر ہاتھ پھیرا جس سے وہ پرسکون ہوگیا، پھر نبی ا نے فرمایا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ تو وہ دوڑتا ہوا آیا، آپ ا نے اس سے فرمایا:’’س کے بارے میں اللہ نے تمہاری ملکیت میں کر دیا ہے، اللہ سے ڈرتے نہیں ، یہ مجھ سے شکایت کر رہا ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو، اور اس سے محنت ومشقت کا کام زیادہ لیتے ہو‘‘(ابوداؤد: باب ما یؤمر بہ من القیام، حدیث:۲۵۴۹)

حضرت سہل ابن حنظلیہ صکہتے ہیں کہ رسول کریم ا ایک اونٹ کے قریب سے گزرے تو دیکھا کہ بھوک و پیاس کی شدت اور سواری وبار برداری کی زیادتی سے اس کی پیٹھ پیٹ سے لگ گئی تھی آپ ا نے فرمایا کہ ان بے زبان چوپایوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ان پر ایسی حالت میں سواری کرو جب کہ وہ قوی اور سواری کے قابل ہوں اور ان کو اس اچھی حالت میں چھوڑ دو کہ وہ تھکے نہ ہوں (ابوداؤد: باب ما یومر بہ من القیام، حدیث:۲۵۴۸)

حضرت ابوہریرہ ص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ا نے فرمایا ایک آدمی بیل پر بوجھ ڈالے ہوئے اسے ہانک رہا تھا کہ اس بیل نے اس آدمی کی طرف دیکھ کر کہا کہ میں اس کام کیلئے پیدا نہیں کیا گیا ہوں بلکہ مجھے تو کھیتی باڑی کیلئے پیدا کیا گیا ہے¡ لوگوں نے حیرانگی اور گھبراہٹ میں  سبحٰن اللّٰہ کہا  اور کہا کیا بیل بھی بولتا ہے؟ تو رسول اللہ انے فرمایا میں تو اس بات پر یقین کرتا ہوں اور حضرت ابوبکر صاور حضرت عمر ص بھی یقین کرتے ہیں (مسلم: باب فضائل أبی بکر،حدیث:۲۳۸۸)اس حدیث سے بھی پتہ چلا کہ جانور پر اس کی طاقت سے زیادہ اور مقصد ِخلقت کے علاوہ دوسرے کاموں کیلئے اس کا استعمال نہ کیاجائے۔

خلاصہ کلام:

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ان آیات واحادیث کی روشنی میں جانوروں کے اہمیت وخصوصیت اور ان کے منافع کا پتہ چلتا ہے اور جانوروں کے تعلق سے آپ ا  کے اسوہ او رنمونہ کابھی پتہ چلتا ہے کہ آپ  نے قدم بقدم جانوروں کے ساتھ رحم وکرم کاحکم دیا ہے، نہ صرف گھریلو اور پالتو جانوروں بلکہ غیر پالتو جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تاکید کی ہے، نقصان دہ ضرر رسان جانوروں کو بھی کم مار میں مارنے کا حکم دیا ہے اور مذبوحہ جانوروں کے ساتھ بھی بے رحیمانہ سلوک سے منع کیا ہے اور جانوروں پر بوجھ کے لادنے اور سواری میں بھی ان کے چارہ پانی کی تاکید کی ہے اور زیادہ بوجھ لادنے اور زیادہ افراد کے سوار ہونے سے منع کیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close