سیرت نبویﷺ

حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم

جس سے بنائے عشق و محبّت ہے استوار

زاہد احمد ڈار

(ریسرچ اسکالر کشمیر یونیورسٹی)

 شاعرِ رسول حضرت حسّان ابنِ ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی تعریف میں فرماتے ہیں کہ واحسن منك لم ترقطّ عینی ـ واجمل منك لم تلد النّساءُ ـ خلقت مبرًأ من کلّ عیبٍ ـ فکانّك قد خلقت کما تشاءُ ـ یعنی اے اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم ، کسی آنکھ نے آج تک آپ جیسا حسین و جمیل چہرہ نہیں دیکھا ـ ایسا خوبصورت بیٹا کسی ماں نے جنا ہی نہیں ـ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم تو ایسے پیدا ہوئے ہیں کہ جیسے آپ کی مرضی کی مطابق پیدا کیا گیا ہو ـ قمری کیلنڈر کے تیسرے اور اہم مہینے ماہِ ربیع الاوّل کے آتے ہی ہم اپنے پیغمبرِ آخر الزّمان جنابِ رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی تئیں اپنی والہانہ محبّت اورعقیدت کا اظہار کرتے ہیں جو انتہائی سعادت اور خوش نصیبی کی بات ہے لیکن یہ سب کرنے کے ساتھ اگر ہماری توجہ اتباعِ پیغمبرصلّی اللہ علیہ وسلّم کی طرف جاتی تو یہ ہمیں عاشقانِ رسول  صلّی اللہ علیہ وسلّم کے اپنے دعویٰ میں تازیانے کا کام دیتا کیونکہ ایک انسان جس ہستی کے ساتھ محبّت و عقیدت رکھتا ہو وہ اُس کی ہر ایک چیز کو پسند فرماتا ہے  ـ

عربی کا ایک مقولہ ہے کہ لا ترالعین عیبًا اذا احبّ القلبُ قلبًا یعنی جس ایک سچے عاشق کو اپنے محبوب سے محبّت ہوجاتی ہے تو پھر اُسے اپنے محبوب کی ہر ایک چیزاچھی لگتی ہے ـ اُس کی خوشی اورغم میں برابر کا شریک رہتا ہے اور وہ ہمیشہ اسی فکر میں رہتا ہے کہ میرے محبوب کو کسی بھی قسم کی پریشانی اور دُکھ کا سامنا نہ کرنا پڑے ـ اُن کے آنے کی خوشی سے زیادہ وہ اُن کے جانے کے غم میں نڈھال رہتے ہیں اور ہر صورت میں اپنی جان سے زیادہ اپنے محبوب کی ہر ایک ادا کو عزیز تر مانتے ہیں اور اُن کی ہر عمل کو اپنے لئے مشعلِ راہ سمجھ کر اُس پر چلنے کی کوشش اور جدوجہد کرتے ہیں ـ صحابہ کی مثال ہی لیجئے جو نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے سچّے دل سے عاشق تھے اور اُن میں پہلا نمبر حضرت ابو بکرِ صدیق رضی اللہ عنہ کا تھا ـ جب ہجرت کا حکم ہوا تو نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم رات کی گھٹا ٹوپ اندھیری میں حضرت ابو بکرِ صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے،  حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر دستک دی تو وہ فوراً حاضر ہوئے ـ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے حیران ہوکر پوچھا،اے ابوبکررضی اللہ عنہ کیا آپ جاگ رہے تھے؟ عرض کیا جی ہاں کچھ عرصہ سے میرا دل محسوس کر رہا تھا کہ عنقریب آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو ہجرت کا حکم ہوگا تو آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم ضرور مجھے اپنے ساتھ لے جانے کا شرف عط فرمائیں گے،پس میں نے اُس دن سے رات کو سونا چھوڑ دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم میرے گھر تشریف لائیں اور مجھے جاگنے میں میں دیر ہوجائے ـ  کہتے ہیں کہ جب اسی حضرت ابو بکرِ صدیق رضی اللہ عنہ نے حضورِاکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کو وصال یافتہ دیکھا تواپنےغم کا اظہار یوں کیا ـ

لما رأیت نبینا منجندلاـ ضاقت علی بمرضھن الا ولا ـ فارتاع قلبی عند ذالك لھلاکه ـ والعظم ما حیت کسیر ـ یالیتنی من قبل لھلك صاحبی ـ عبیت فی حدث علی صخور ـ

یعنی جب میں نے اپنے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کو وفات یافتہ دیکھا تو مکانات اپنی وسعت کے باوجود مجھ پر تنگ ہوگئے ـ میرا دل لرز اُٹھا اور زندگی بھر میری کمر ٹوٹی رہے گی، کاش میں اپنے آقا صلّی اللہ علیہ وسلّم  کے انتقال سے پہلے قبر میں دفن کردیا گیا ہوتا اور مجھ پر پتھر ہوتے ـ یہ تھا وہ عشق جس کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے اپنی عملی زندگی میں کرکے دکھایا اور ہم ہیں کہ اپنے عشق کو ثابت کرنے کے لئے ہرایک کو منوانا پڑتا ہے کہ ہمیں اپنے پیغمبر سے عشق ہے اور جسکی حق ادائیگی ہم آج ربیع الاوّل کے مہینے میں ناچنے اور گانا گانے سے، ڈھول باجے سے، دیگیں اور مالا چڑھانے سے کرنے جارے ہیں ـ عشق حقیقی میں عاشق اپنے محبوب کی آمد پر کونسے اعمال کرتا ہے؟ ہمارے سامنے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مثال ہے ـ ایک مرتبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  جب نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم ،حضرت ابو بکر اور حضرت عُمر رضی اللہ عنھما کے ہمراہ اُن کے گھر کی طرف چلے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سارا راستہ نبی اکرم علیہ السّلام کے قدمِ مُبارک کی طرف دیکھتے رہے ـ صحابه کرام رضوان اللہ تعالٰی علیھم اجمعین نے جب اس بات کی نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کو خبر دی تو حضور  صلّی اللہ علیہ وسلّم نے نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے اس کی وجہ دریافت کی ـ جواب میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے محبوب صلّی اللہ علیہ وسلّم آج میرے گھر میں اتنی مقدّس ہستی آئی ہے کہ میری خوشی کی انتہا نہیں ـ میں نے نیت کی تھی کہ آپ  صلّی اللہ علیہ وسلّم جتنے قدمِ مُبارک اپنے گھر سے چل کر یہاں آئیں گے، میں اتنے غلام اللہ کے راستے میں آزاد کروں گا ـ یہ تھی خلفاء الرّاشدین کی اپنے پیغمبر کے ساتھ محبّت و عقیدت کہ ہر چیز کو نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے حکم کے تابع کردیا اور ہم ہیں کہ پورے سال  اپنی خواہشات کی پرستش کرکے بھی عاشقِ رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ہونے کا بے بُنیاد دعویٰ کرتے پھر رہیں ہیں ـ

خواتینِ اسلام کی اپنے پیغمبر کے ساتھ محبّت و عقیدت کی مثال کہ ہجرت کے موقعہ پر غارِ ثور میں حضرت اسماء رضی اللہ عنھا نبی  صلّی اللہ علیہ وسلّم کو پہلے دن کھانا پہنچا آئیں ـ جب دوسرے دن پہنچانے کے لے گئیں تو روایت میں آیا ہے کہ اُن کے ماتھے پر زخم تھا اور کچھ مغموم سی تھیں ـ نبی اکرم  صلّی اللہ علیہ وسلّم نے دیکھا تو پوچھا اسماء آج مجھےکیوں تم پریشان اور غمزدہ نظر آتی ہو؟ تو اُن کی آنکھوں سے آنسو آگئے،پوچھا اسماء کیا بات ہے؟ عرض کیا اے اللہ کے محبوب صلّی اللہ علیہ وسلّم ،کل جب میں آپ  صلّی اللہ علیہ وسلّم کو کھانا دے کر واپس گئی تو راستہ میں ابو جہل مل گیا ـ اُس نے مجھے پکڑ لیا اور کہنے لگا ابو بکر کی بیٹی،تجھے پتہ ہوگا کہ تمہارے والد اورپیغمبر کہاں ہیں ؟ میں نے جواب میں کہ دیا کہ ہاں مجھے پتہ ہے، وہ کہنے لگا کہ مجھے بتاؤ، میں نے کہا کہ میں نہیں بتاؤں گی، اُس نے مجھے ڈرایا، دھمکایا اور کہنے لگا کہ اگر تم نہیں بتاؤگی تو میں تمہیں بہت ماروں گا، سخت سزا دوں گاـ میں نے کہا کہ میں ہرگز نہیں بتاؤں گی ـ اے اللہ کے محبوب  صلّی اللہ علیہ وسلّم،اُس نے مجھے ایک دم زور دار تھپڑ لگایا جسکی وجہ سے میں نیچے گری، پتھر پر میری پیشانی لگی، اس میں سے خون نکل آیا، اور میری آنکھوں میں سے آنسوں نکل آئے، پھر اُس نے مجھے بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا اور کہا کہ بتاؤ ورنہ تجھے اور ماروں گا ـ اے اللہ کے نبی  صلّی اللہ علیہ وسلّم،میں نے اُس سے کہا کہ ابو جہل، میری جان تو تیرے حوالے مگر میں محمّد عربی  صلّی اللہ علیہ وسلّم کو تیرے حوالے نہیں کروں گی ـ یہ تھی خواتینِ اسلام کی حضورِ اکرم  صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ساتھ محبّت و وفا کی مثال ـ

دیگر صحابہ کی بے شمار مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں جن میں ایک مثال یہ کہ تین لڑکے نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی خدمت میں پیش پیش رہے اور تینوں کا نام عبد اللہ تھا ـ نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم اُن کی محبّت اور ورافتگی دیکھتے تو اُن کیلئے تہجد کی نماز کے بعد نام لے کر دعائیں کرتے ـ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ تینوں بڑے ہوکر اپنے اپنے فن کے بنے ـ حضرت عبداللہ بن مسعود  امام الفقہاء، حضرت عبداللہ بن عباس امام المفسّرین اور حضرت عبداللہ بن عُمر امام المُحدّثین بن گئے ـ رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین ـ

اب آپ ہی سوچیے کہ کیسے اس ایک یا دو دن کی خوشی منانے سے پیغمبرِ اسلام صلّی اللہ علیہ وسلّم کے اُس پاک اور مقدّس مشن کی آبیاری ہوسکتی جس کے لئے اُن کو اپنا سب کچھ نچھاور کرنا پڑا ـ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم پورے سال اپنے پیغمبرصلّی اللہ علیہ وسلّم کی خوشی اور اُداسی کو صرفِ نظر کرکے، اُن کی ہر ادا کو ترک کرکے،اُن کی خوشی میں غمزدہ رہ کر، اُن کی اداسی میں خوش ہوکر،اُن کے ہر پسندیدہ چیز کو اپنے لئے ناپسند اور اُن کی ہر نا پسندیدہ چیز کو اپنے لئے پسند کر کے،اُن کے مشن پرچلنے والوں کو اغیار کے حوالے کرکے، اُن کے حیاتِ طیّبہ کو اسوۂ حسنہ اور اسوۂ کاملہ نہ مان کر، اُن کے ساتھ عشق کو صرف دو دنوں تک مقیّد کرکے باقی پورسے سال باطل  اور ظالم قوّت کے ساتھ اپنا رشتہ استوار کرکے،  آج اُنھیں اپنے پاس بُلانے کی دعوت دے رہیں ـ دوسری بات یہ کہ ماہِ ربیع الاوّل میں نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم  کی ولادت بھی ہوئی اور وصال بھی ـ چہ جائیکہ ولادت کی تاریخ میں نو یا بارہ ربیع الاوّل کے ہونے کا اختلاف ہے لیکن وصال کی تاریخ بارہ ربیع الاوّل متفق علیہ ہے اور جس میں کسی شک و تذبذب کی گنجائش نہیں ہے ـ اب آپ ہی سوچیے کہ ایک سچّا اور حقیقی عاشق اس بارہ ربیع الاوّل میں خوشی منائیں یا غم؟

میں اپنی بات کو اس زرّیں کلام سے اختتام کروں گا ـ شاعر فرماتے ہیں ـ

کہہ رہا ہے شورِ دریا سے سمندر کا سکوت

جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی خاموش ہے

اقولُ قولی ھذا استغفراللہ لی ولکم استغفروہ انه ھو الغفر الرحیم

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close