سیرت نبویﷺ

حضورﷺ کی عائلی زندگی پر ایک نظر

تحریر: خالد مسعو۔ ترتیب: عبدالعزیز

دشمنانِ اسلام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ و مطہر زندگی پر کیچڑ اچھالنے کی بہت کوششیں کی ہیں اور آپ کے سامنے یہود اور منافقین نے جو بے اصل پروپیگنڈا کیا اور آپ کی اخلاقی دھاک کو نقصان پہنچانے کی غرض سے جو افسانے تراشے، ان کو نئے نئے اسلوبوں سے بیان کرکے اس دور کے مخالفین نے آپؐ کی ذات پر ناروا حملے کئے ہیں ۔ حضورؐ کی حیات مبارکہ کے حقائق خود ہی دشمنوں کے بیانات کے باطل ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ ان حقائق کو ذہن میں مستحضر رکھنے کی ضرورت ہے۔

 (1 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی زندگی نہایت پاکیزہ اور تعمیری کاموں سے بھرپور رہی۔ اسی لئے مکہ کے معاشرہ نے آپ کو پختہ خیالات و کردار کا حامل اور ایک راست باز و دیانت دار نوجوان کی حیثیت سے عزت و وقار دیا۔ پچیس سالہ زندگی میں آپ کے کردار پر کوئی حرف نہیں آیا۔ 25 برس کی عمر میں آپ نے شادی کا سوچا تک نہیں جبکہ اگر آپ ایسا کرتے تو عرب معاشرہ میں یہ ایک نارمل رویہ ہوتا۔ ان 25 برسوں کی متاہلانہ زندگی کی یاد بعد کے دور میں بھی حضورؐ کیلئے ایک سرمایہ رہی۔ پچاس سال کی عمر تک اس طرح کا رویہ کسی دل پھینک یا جنس زدہ کا نہیں ہوتا۔

(2 پچاس برس کی عمر میں گھر در کی ذمہ داریوں کیلئے آپ کو دوسری گھر والی کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپ نے اپنی عمر ہی کی خاتون سے نکاح کیا جن کی خوبی دین پر استقامت اور اس کیلئے جانثاری کا جذبہ تھی۔ ان کے سابق شوہر کا انتقال ہوچکا تھا۔

(3 چون برس کی عمر میں ایک جوان باکرہ خاتون سے آپ نے نکاح کیا۔ ان کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ حضورؐ کے ایک سرد و گرم حالات میں قابل اعتماد ساتھی، بچپن کے مخلص دوست، معاشرہ کے با عمل و باکردار فرد کی صاحبزادی تھیں جو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ کے تعلق کی خواہش رکھتے تھے۔ حضورؐ نے اپنے دیرینہ دست، جس کے آپ احسان مند بھی تھے، کی قدر افزائی اور ان کی دینی خدمات کی پذیرائی کیلئے یہ رشتہ قبول کیا۔ اور تجربہ سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو آگے بڑھانے اور خواتین میں اس کو مقبول بنانے میں جو خدمات حضور کی ان زوجہ محترمہ نے سر انجام دیں ان کی گرد کو کوئی دوسری خاتون نہ پہنچ سکیں ۔

 (4 غزوۂ احد میں مسلمانوں کا جانی نقصان بہت زیادہ ہوا۔ معاشرہ میں مجاہدین کی بیوگان اور ان کی یتیم اولادوں کی نگہداشت ایک ملی مسئلہ کے طور پر سامنے آئی۔ قرآن مجید نے مسلم معاشرہ کو توجہ دلائی کہ وہ دو دو، تین تین، چار چار بیوگان سے نکاح کرکے اس مسئلہ کو حل کریں ۔ حضورؐ نے اس ہدایت کے مطابق یکے بعد دیگرے تین نکاح ایسی خواتین سے کئے جو آپ کے قریبی اعزہ کی بیویاں رہی تھیں اور ان کے شوہر غزوۂ احد میں شہادت پاچکے تھے۔ ان نکاحوں میں بڑا عامل بیوگان اور ان کے بچوں کی کفالت اور مسلمانوں کیلئے اس خدمت کی ایک عملی مثال قائم کرنا تھا۔

(5 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے شہداء کی بیوگان سے نکاح کرکے بیک وقت چار ازواج کی حد پوری کرلی تو اس کے بعد زید بن حارثہ کے زینب بنت حجش کو طلاق دینے کا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ کو اللہ رب العزت نے دو غلط تصورات کی اصلاح کا ذریعہ بنایا تا کہ کارِ نبوت کی تکمیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی مثال سے ہو۔ ایک غلط تصور منہ بولے بیٹے کی حیثیت کے بارے میں تھا، دوسرا ایسے بیٹے کی مطلقہ یا بیوہ کے سے منہ بولے باپ کے نکاح کا معاملہ۔ عرب منہ بولے بیٹے کے حقوق حقیقی پر بیٹے کی طرح کے سمجھتے تھے اور اس کی بیوی کو حقیقی بہو کا درجہ دیتے تھے۔ قرآن نے اس تصور کو خلاف حقیقت قرار دیا اور فیصلہ کیا کہ جب منہ بولے بیٹے کو اپنی بیوی سے سروکار نہ رہے اور اس کو طلاق دیدے تو منہ بولا باپ اس سے شادی کرسکتا ہے ور اس میں کوئی قباحت نہیں ۔ اللہ رب العزت نے اس معاشرتی اصلاح کیلئے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عملی مثال قائم کرنے کا حکم دیا اور اس عمل میں حائل چار شادیوں کے حکم میں صرف آپ کیلئے گنجائش پیدا کر دی تاکہ آپ یہ نکاح بھی کریں اور اس کے بعد ان خواتین کو بھی حبالۂ عقد میں لے آئیں جو لونڈی بن کر ملکیت میں آئیں ؛ نیز اگر کوئی خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقد کرنے کی خواہش مند ہو اور آپؐ مناسب سمجھیں تو اس کو قید نکاح میں لاسکتے ہیں ۔

(6 اس خصوصی استثنائی حکم کے تحت آپؐ نے زینب بنت حجش سے نکاح کیا، اس کے بعد بنو مصطلق اور بنو نضیر کے سرداروں کی بیٹیوں سے، جو غزوات میں لونڈی بن کر آئی تھیں ، ان کو آزاد کرکے نکاح کئے اور میمونہ بنت الحارث کو زوجیت میں قبول کیا۔ یہ آخری نکاح 59 برس کی عمر میں ہوا۔ اور میمونہؓ تعلیمات نبویؐ کو پھیلانے کا اہم ذریعہ بنیں ۔

 اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی نہایت پاکیزہ اور مطہر گزری۔ پچاس سال کی عمر تک کا زمانہ، جس میں جنسی ہیجان ہوتا ہے، آپؐ نے ایک بیوی کے ساتھ گزارا۔ اسی دوران میں آپؐ رسول مبعوث ہوئے اور آپ کی تمام تر توجہ کار نبوت کی تکمیل کی جانب مبذول ہوگئی۔ اس میں آپ کی مصروفیات کی نوعیت ایسی تھی جس میں دنیاوی امور بالکل ثانوی حیثیت میں باقی رہے؛ چنانچہ نکاحوں میں بھی دین و ملت کے مصالح اصل کے طور پر ملحوظ رہے۔

ازواج مطہراتؓ کی ذمہ داریاں : حکمرانوں اور مملکت کے سربراہوں کی زندگی کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ دنیا اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ان کے قدموں میں ڈھیر ہوتی ہے۔ وہ جیسے چاہتے ہیں اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ان کی بیگمات نہایت پُر آسائش زندگی گزارتی ہیں ۔ ان کی خدمت و سہولت کیلئے نعمتوں کی فراوانی اور خدمت گار خواتین کی کثرت ہوتی ہے۔ اقتدار کا نشہ ان کے پاؤں زمین پر نہیں ٹکنے دیتا۔ اللہ کے نبیوں اور رسولوں کا معاملہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہ کبھی دنیا کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، ان کا مطمح نظر صرف آخرت ہوتی ہے۔ ان کی زندگی اللہ کے احکام کی تعمیل اور اس کا پیغام انسانوں تک پہنچانے سے عبارت ہوتی ہے۔ ان کی بیویوں میں بھی انہی کی زندگیوں کا عکس ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں ازواج مطہرات کو نہایت اہتمام سے ان کی ذمہ داریاں بتائی گئیں ۔ انھیں بتایا گیا کہ اللہ کے رسول کی رفاقت قبول کرتے وقت انھیں چند باتوں کا لحاظ رکھنا ہوگا۔ وہ یہ کہ:

 الف) اگر انھیں دنیا کی زیب و زینت اور آسائش درکار ہے تو وہ ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں میسر نہیں آسکتی۔ جس طرح پیغمبرؐ کے پیش نظر آخرت کی سرخروئی ہے، یہی مقصد انھیں بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ معیار زندگی بہتر بنانے کا شیوہ دنیاوی سرداروں کا ہوتا ہے، نبیوں کا نہیں ہوتا۔ لہٰذا ازواج نبیؐ کو تنگی ترشی کی زندگی پر قناعت کرنی ہوگی۔

 ب) پیغمبر خدا ترسی، عفت و پاکیزگی اور اخلاقی بلندی کا علمبردار ہوتا ہے۔ یہی شان اس کی ازواج میں بھی ظاہر ہونی چاہئے، لہٰذا انھیں پیغمبر کی رفاقت کے لائق ہونے کیلئے احساس ذمہ داری پیدا کرنا ہوگا۔ وہ گھروں میں ٹک کر بیٹھیں ۔ نمود و نمائش اور پبلک میں آنے سے اجتناب کریں ۔ اپنی خواہشات پر اور اپنی گفتگو پر کڑا پہرہ رکھیں تاکہ وہ اپنے کسی قول و فعل سے نبی کیلئے مشکلات پیدا کریں اور نہ اس کے مرتبہ و مقام سے فروتر کسی کردار کا مظاہرہ کریں ۔

ج) ازواج نبی کی دلچسپیاں پیغمبرؐ کی دلچسپیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونی چاہئیں ۔ وہ ان سے ہٹ کر اپنی الگ دنیا نہیں بسا سکتیں ۔ اللہ چاہتا ہے کہ نبی کے گھرانے اور اس کے کسی فرد پر شرک، منافقت یا کسی طرح کی اخلاقی کمزوری پرچھائیں بھی نہ پڑیں ۔ یہ گھرانہ طہارت و پاکیزگی کے لحاظ سے ایک نمونے کا گھرانہ ہونا چاہئے۔

 د) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ایک معلم ہیں جو قرآن کی تعلیم دیتے، اس کے احکام کی وضاحت کرتے، اس کی حکمتوں کی گرہیں کھولتے اور لوگوں کے اخلاق و کردار کو سنوارتے ہیں ۔ یہی حیثیت ان کی ازواج کی ہے۔ انھیں معلّمات کے فرائض ادا کرنے ہیں ، لہٰذا وہ نماز کا اہتمام کیا کریں ، زکوٰۃ کی ادائیگی کیا کریں اور اللہ و رسولؐ کے تمام احکام و فرامین کی تعمیل کریں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو پیغام وحی ان تک پہنچاتے ہیں اور دین کی وضاحت کرتے ہیں اس کو امت کی خواتین پہنچانا ازواج نبیؐ کی ذمہ داری ہے۔ وہ خواتین کو ان کے مسائل کے بارے میں معلومات مہیا کریں اور رسولؐ اللہ سے ان کی رہنمائی میں وسیلہ بنیں ۔

ہ) ازواجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معلّمات ہونے کے رول کو آسان بنانے کیلئے رب کائنات نے ان کو امہات المومنین یعنی اہل ایمان کی ماؤں کا منصب عطا کیا۔ گویا ہر صاحب ایمان آدمی مسائل دریافت کرنے کیلئے ان تک اسی طرح رسائی حاصل کرسکتا تھا جس طرح ایک بیٹا اپنی ماں تک رسائی رکھتا ہے۔

 ان کے اس منصب کا تقاضا یہ تھا کہ کوئی مسلمان ان سے بات چیت کرتے وقت دل میں میلے خیالات نہ لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد ان سے نکاح کرنے کا تصور بھی نہ کرے۔ ازواج نبی کے بارے میں ہر مسلمان کے جذبات وہی ہونے چاہئیں جو ایک نیک بخت اور سعادت مند بیٹے کے اندر اپنی حقیقی ماں کیلئے ہوتے ہیں ۔

 اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ ان ذمہ داریوں کو ازواج مطہرات نے بطریق احسن نبھایا۔ وہ دنیا داری کے مطالبات سے بالکل دستبردار ہوگئیں اور آخرت کی سر بلندی کو اپنا مطمح نظر بنائے رکھا۔ گھر میں بقدر کفاف جو کچھ میسر آتا اسی پر اکتفا کرتیں ۔ زہد کی زندگی پر ہمیشہ قناعت کی۔ احکام دین پر عمل کرنے میں پیش پیش ہوتیں ۔ حضورؐ سے نجی زندگی میں جو کچھ سنتیں یا آپ کے عمل میں جس چیز کا مشاہدہ کرتیں اس کو اپنے عزیزوں یا پوچھنے والوں سے بیان کرتیں ۔ زندگی کی راہوں کو منور کرنے کیلئے ازواج مطہرات نے جو محنت کی اس کا تذکرہ کتب حدیث میں ملتا ہے۔ اس کا ثبوت روایات کی اس غیر معمولی تعداد سے ملتا ہے جو ان کی وساطت سے امت کو ملیں ۔

ازواج مطہرات پر یہ بات واضح کر دی گئی تھی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کی جدوجہد کیلئے بالکل فارغ ہوکر کام کرنے دیں ۔ اگر وہ ان کو پوری توجہ نہ دے سکیں تو اس کی شاکی نہ ہوں بلکہ حضورؐ اپنے اوقات میں سے جتنا وقت ان کو دے سکیں اسی کو غنیمت جانیں ۔ اسی طرح اگر حضورؐ بعض ازواج کو دوسری ازواج پر فوقیت دیں تو انھیں اس کا ملال نہیں ہونا چاہئے کیونکہ پیغمبر ہر کام مصلحت دینی کے تحت کرتے ہیں ۔ قرآن مجید میں یہ بات دو ٹوک انداز میں بیان کر دی گئی کہ ازواج کے معاملہ میں رسول اللہ پر وہ ذمہ داریاں نہیں ہیں جو دوسرے شوہروں پر اخلاقاً و شرعاً عائد ہوتی ہے۔

 اس معاملہ میں حضورؐ کا رویہ یہ رہا کہ حتی الامکان کسی زوجہ محترمہ کو شکوہ کا موقع نہیں دیا۔ آپ روزانہ سب کے گھروں میں تشریف لے جاتے اور حال احوال پوچھتے۔ اس کے بعد ان زوجہ کے گھر قیام فرماتے جن کی باری ہوتی۔ آپؐ نے ان کے درمیان عدل و انصاف کرنے کی خاطر اس معمول کو مرض الموت میں بھی نہیں بدلا۔ جب مرض کی شدت اور نقاہت کے باعث نقل مکانی مشکل ہوگئی تب آپؐ نے سب ازواج کی اجازت سے آخری چند یوم حضرت عائشہؓ کے ہاں قیام فرمایا۔ گھریلو اخراجات میں بھی، حضورؐ کے اپنے حالات جب بہتر ہوئے، آپؐ نے ازواج مطہرات کیلئے کشائش پیدا کردی اور ان کیلئے غلہ اور دوسری ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما نے تا حین حیات اپنی منصبی ذمہ داریاں بخوبی ادا کیں اور امت کیلئے تعلیم دین کی مشعل ہمیشہ فروزاں رکھی۔

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. رسول اللہ صلی اﷲعلیہ وسلم اپنے لئے کوئی مخصوص بستر نہیں رکھتے تھے بلکہ ہمیشہ ازواجِ مطہرات کے بستروں ہی پر آرام فرماتے تھے اور اپنے پیار و محبت سے ہمیشہ اپنی مقدس بیویوں رضی اللہ تعالیٰ عنہماکو خوش رکھتے تھے____

    ۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ:
    میں پیالے میں پانی پی کر حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو جب پیالہ دیتی تو آپ پیالے میں اسی جگہ اپنا لب مبارک لگا کر پانی نوش فرماتے جہاں میرے ہونٹ لگے ہوتے_____
    اور میں گوشت سے بھری کوئی ہڈی اپنے دانتوں سے نوچ کر وہ ہڈی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیتی تو آپ بھی اسی جگہ سے گوشت کو اپنے دانتوں سے نوچ کر تناول فرماتے جس جگہ میرا منہ لگا ہوتا۔ (زُرقانی جلد۴ ص۲۶۹)

متعلقہ

Close