سیرت نبویﷺ

دشمنوں کے ساتھ حسنِ سلوک (تیسری قسط)

(سیرت رسول ﷺ کی روشنی میں)

تحریر: عبدالرب کریمی… ترتیب: عبدالعزیز

صلح حدیبیہ فتحِ مبین:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور  آپؐ کے اصحابؓ کو مکہ سے ہجرت کئے ہوئے کئی سال گزر گئے تھے۔ نہایت مجبوری اور کسمپرسی کی حالت میں مکہ چھوڑا تھا۔ ہجرت کے وقت آپؐ پیچھے مڑ مڑ کر خانہ کعبہ کو دیکھتے اور یہ کہتے ہوئے جارہے تھے کہ مجھے دنیا میں تو سب سے زیادہ عزیز ہے، لیکن اس شہر کے لوگ نہیں رہنے دے رہے ہیں۔ ذی قعدہ 6ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ عمرہ کی نیت سے مکہ کیلئے روانہ ہوئے۔ مکہ والوں کو کسی طرح کی غلط فہمی نہ ہو اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا اور اپنے ساتھ قربانی کے ستر(70) اونٹ بھی لئے، صحابہ کرامؓ کو حکم دیا کہ کوئی شخص اپنے ساتھ ہتھیار نہ رکھے۔ صرف ایک تلوار ہو وہ بھی میان کے اندر۔ واضح رہے کہ تلوار عرب کلچر کا ایک حصہ تھا جو سفر میں ہر شخص کیلئے ضروری خیال کیا جاتا تھا۔

قریش مکہ کو مدینہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کی خبر ملی تو وہ شک میں پڑگئے۔ حالانکہ یہ حرام مہینہ چل رہا تھا، جس میں کسی طرح کی جنگ نہیں ہوتی تھی۔ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے کچھ فاصلے پر حدیبیہ نامی مقام کے پاس پہنچے ہی تھے کہ معلوم ہوا کہ قریش ایک فوج لے کر آپ کا راستہ روکنے کیلئے مکہ سے نکل چکے ہیں۔ آپؐ نے انھیں پیغام بھیجا کہ ہم عمرہ کی نیت سے مکہ آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارا کوئی مقصد نہیں ہے۔ اس موقع پر آپؐ نے قریش سے صلح کی پیش کش بھی کی۔ کئی جنگوں کے بعد جانی اور مالی لحاظ سے وہ کمزور بھی ہوچکے تھے۔ دونوں طرف سے صلح کی بات شروع کرنے کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی حضرت خراش بن امیہؓ کو سواری کیلئے اپنا اونٹ دے کر قریش کے پاس بھیجا۔ انھوںنے حضرت خراشؓ کے اونٹ کو ہلاک کر دیا اور انھیں بھی جان سے مارنے کا منصوبہ بنالیا، لیکن کسی طرح وہ اپنی جان بچاکر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ قریش نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آپؐ کے کچھ ساتھیوں پر بھی حملہ کردیا۔ حملہ اچانک اور شدید تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کا دفاع کیا اور ان کے چھ لوگوں کو گرفتار کرکے آپؐ کی خدمت میں پیش کیا۔ یہ ایک خطرناک شرارت اور سازش تھی، لیکن آپ کا دامن عفو اس سے زیادہ وسیع تھا۔ نہ ان حملہ آوروں کے ہتھیار چھینے گئے نہ انھیں قتل کا حکم دیا گیا بلکہ سب کو چھوڑ دیا گیا۔ اسی موقع پر ایک صحابیؓ کو ایک تیر انداز نے تیر مار کر شہید کردیا۔ اس وقت بھی بارہ لوگ گرفتار کئے گئے۔ آپؐ نے ان کے ساتھ بھی حسن اخلاق کا ثبوت دیتے ہوئے سب کو آزاد کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کرنے کی بابت گفتگو کرنے کیلئے حضرت عثمانؓ کو قریش کے پاس بھیجا۔ انھوں نے حضرت عثمانؓ سے کہاکہ آپ بیت اللہ کا طواف (عمرہ) کرسکتے ہیں، لیکن آپؓ کے ساتھیوں کو اس شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ حضرت عثمانؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کے بغیر عمرہ کرنے سے منع کردیا۔ قریش کو اس بات کی امید نہیں تھی کہ حضرت عثمانؓ انھیں اس طرح کا جواب دیں گے۔ انھوں نے حضرت عثمانؓ کو قید کرلیا۔ ان کے واپس نہ پہنچنے سے یہ خبر پھیل گئی کہ وہ شہید کر دیئے گئے۔ فطری طور پر اس خبر سے صحابہ کرامؓ کوبہت صدمہ ہوا۔ آپؐ نے صحابہ کرامؓ کو جمع کیا اور ان سے حضرت عثمانؓ کے خون کا بدلہ لینے کیلئے جانثاری کا عہد لیا، جسے تاریخ میں ’بیعت رضوان‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت سے متعلق جب غلط فہمی دور ہوگئی تو قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سہیل بن عمرو کو اپنا سفیر بنا کر بھیجا۔ قریش کے نزدیک سہیل بڑا دانش مند، دور اندیش اور صائب الرائے تھا۔ اس نے کہاکہ صلح صرف اس شرط پر ہوسکتی ہے کہ آپ کے ساتھی اس سال عمرہ کئے بغیر مدینہ واپس چلے جائیں۔

سہیل بن عمرو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کافی دیر تک صلح کے نکات پر گفتگو ہوتی رہی۔ جن شرطوں پر اتفاق ہوا، اسے قلمبند کرنے کیلئے آپؐ نے حضرت علیؓ کو طلب کیا۔ حضرت علیؓ نے معاہدہ کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا، سہیل نے اعتراض کیا کہ میں نہیں جانتا رحمن کون ہے۔ اس کی جگہ باسمک اللہم لکھا جائے۔ صحابہؓ کو اس پر تردد تھا لیکن آپؐ نے اس کی بات کو منظور کرلیا۔ اس کے بعد آپؐ نے لکھوایا: یہ وہ معاہدہ ہے جسے محمد رسول اللہ اور سہیل بن عمرو کے درمیان تسلیم کیا گیا ہے۔ سہیل نے اس پر بھی احتجاج کیا کہ ہم اگر آپ کو اللہ کا رسول مانتے تو خانہ کعبہ کی زیارت سے کیوں روکتے اور ہمارا کوئی اختلاف بھی نہیں ہوتا۔ اس لئے اپنے نام کے ساتھ والد کا نام لکھوائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بھی راضی ہوگئے اور صرف محمد عبد اللہ لکھوایا۔

معاہدہ کی شرائط اس طرح طے ہوئیں:

(1فریقین اگلے دس سالوں تک جنگ نہیں کریں گے۔

(2محمد اور ان کے اصحاب اس سال واپس چلے جائیں۔

(3اگلے سال عمرہ کیلئے آئیں اور صرف تین دن مکہ میں قیام کریں۔

(4آئندہ سال عمرہ کیلئے آنے پر کسی طرح کا ہتھیار لے کر نہ آئیں صرف تلوار ساتھ میں ہو وہ بھی میان کے اندر۔

(5مکہ سے کوئی مسلمان ہجرت کرکے مدینہ نہیں جائے گا، البتہ مدینہ سے کوئی مسلمان مکہ واپس آنا چاہے تو اس کی اجازت ہوگی۔

(6عرب قبائل کو اختیار ہوگا کہ وہ جس فریق کے ساتھ چاہیں، معاہدے میں شریک ہوسکتے ہیں۔

صحابہ کرامؓ اس بات سے بہت اداس اور رنجیدہ تھے کہ وہ عمرہ کئے بغیر واپس چلے جائیں۔ معاہدہ کی تمام شرطیں بظاہر ان کے خلاف تھیں۔ ابھی معاہدہ کے نکات پر باتیں ہورہی تھیں، لکھی نہیں گئی تھیں کہ ایک صحابی ابو جندلؓ جو اتفاق سے قریش کے سفیر سہیل بن عمرو کے بیٹھے تھے، جنھیں قبول اسلام کے بعد سخت اذیتیں دی گئی تھیں اور انھیں سہیل نے مکہ میں قید کر رکھا تھا، کسی طرح بیڑیاں توڑ کر وہاں سے نکل کر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ابو جندلؓ کو اس قدر مارا گیا تھا کہ ان کے جسم پر زخموں کے نشان نمایاں تھے۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر صحابہ کرامؓ بے چین ہوگئے۔ ان کے بھائی حضرت عبداللہ انھیں خوش آمدید کہنے کیلئے آگے بڑھے لیکن سہیل بن عمرو نے ابو جندل کو اپنی طرف کھینچ لیا، وہ انھیں واپس مکہ لے جانے پر مصر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جندل کی حالت دیکھ کر فرمایا: سہیل اپنے بیٹے کے حال پر رحم کرو، ابھی معاہدہ پر گفتگو ہورہی ہے۔ تحریر مکمل نہیں ہوئی، نہ ہی فریقین کے دستخط ہوئے ہیں۔ اس لئے انھیں مدینہ میں رہنے کا پورا حق ہے؛ لیکن سہیل کسی طور پر تیار نہیں ہوا بلکہ اس نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر اس شرط کو ابھی تسلیم نہیں کیا گیا تو پورا معاہدہ کالعدم سمجھا جائے گا۔ صحابہ کرامؓ یہ دردناک منظر دیکھ کر تڑپ اٹھے۔ ان کی ایمانی غیرت جوش میں آگئی۔ حضرت عمرؓ نے کہاکہ ہم دین کے معاملے میں ایسی رسوائی کیوں برداشت کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس کے حکم کی نافرمانی نہیں کرسکتا۔ حضرت عمرؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی اس سخت کلامی پر زندگی بھر افسوس رہا۔ تقریباً پندرہ سو صحابہ کرامؓ کی موجودگی میں ابو جندل بیڑیوں میں جکڑے ہوئے مکہ واپس کر دیئے گئے۔ رخصت ہوتے وقت آپؐ نے فرمایا: ابو جندل صبر کرو، اللہ تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی مدد کرے گا اور مکہ سے نکلنے کی راہ نکالے گا۔ قریش کے ساتھ معاہدہ کی شرط پر اتفاق ہوچکا ہے۔ ہم بدعہدی نہیں کریں گے۔

معاہدہ مکمل ہوجانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ نے احرام اتارا، اپنے ساتھ لائے جانوروں کی قربانیاں پیش کیں اور مدینہ لوٹ گئے۔ اس وقت حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہؓ نے اس معاہدہ کو اپنے لئے شکست خیال کیا تھا، لیکن اللہ نے اسے بڑی کامیابی قرار دیا۔

اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا ’’اے نبی؛ ہم نے تمھیں کھلی فتح عطا کر دی‘‘ (الفتح: 1)۔

صلح کی وجہ سے جنگ کے حالات ختم ہوگئے۔ عمومی آمد و رفت میں اضافہ ہوا۔ آپس میں تجارتی و معاشی تعلقات وسیع ہوئے۔ مسلمانوں کا اخلاق و کردار غیر مسلم قبائل کے سامنے آیا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ اس دوران لوگوں کی ایک بڑی اور قابل ذکر تعداد اسلام میں داخل ہوئی۔ حضرت عمرو بن عاصؓ اور حضرت خالد بن ولیدؓ جیسے قد آور لوگ اسی زمانے میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔

معاہدہ کے تحت جو مسلمان ہجرت نہیں کرسکے تھے، وہ اب مدینہ نہیں جاسکتے تھے۔ قریش نے انھیں علی الاعلان اذیتیں دینا شروع کر دیا۔ جب تکالیف ناقابل برداشت ہوگئیں تو چند نوجوان چھپ چھپاکر بھاگ نکلے اور مدینہ آگئے۔ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک وفد بھیجا کہ معاہدہ کے مطابق انھیں واپس کیا جائے۔ آپؐ نے انھیں مکہ لوٹ جانے کی ہدایت کی اور فرمایا کہ اللہ تم لوگوں کیلئے کوئی بہتر سبیل پیدا کرے گا۔ کچھ مدت کے بعد ایسے تمام ستم رسیدہ لوگوں نے مکہ سے نکل کر سمندر کے کنارے مقام عیص پر عارضی پناہ گاہ بنالی۔ آہستہ آہستہ ان مظلوموں کے پاس اتنی قوت جمع ہوگئی کہ ملک شام (سیریا) کی طرف جانے والے تجارتی قافلوں کو روک لیتے تھے اور ان سے جو کچھ حاصل ہوتا اسی پر ان کا گزر بسر ہوتا۔ بالآخر تنگ آکر قریش نے معاہدہ کی اس شرط کو ہی ختم کردیا۔ اب مکہ کے مسلمان آزاد ہوگئے۔ چاہیں تو مکہ میں رہیں یا مدینہ چلے جائیں۔ لہٰذا ابو جندلؓ اور ان کے رفقاء مدینہ واپس آگئے اور اس کی وجہ سے قریش کے تجارتی قافلوں کا راستہ بھی کھل گیا۔

قریش صلح حدیبیہ کی شرطیں ڈیڑھ سال بھی پوری نہ کرسکے۔ حالانکہ معاہدہ کی تمام شرطیں ان کی اپنی تھیں۔ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کے حلیف قبیلہ بنو بکر نے قریش کی شہ پر مسلمانوں کے حلیف قبیلہ بنو خزاعہ پر رات کی تاریکی میں حملہ کرکے ان کے بہت سے لوگوں کو قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بدعہدی کی خبر ملی تو آپؐ کو سخت تکلیف پہنچی۔ اس خلاف ورزی پر آپؐ نے قریش کے پاس ایک قاصد بھیجا لیکن انھیں معاہدہ توڑنے پر کسی طرح کی ندامت نہیں تھی۔ (جاری)

موبائل: 9831439068azizabdul03@gmail.com

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close