سیرت نبویﷺ

رسول اللہ ﷺ کی تجارتی زندگی

حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی

 اللہ ر ب ا لعزت سارے جہا ن کا پیدا فر ما نے والا اور پالنے والا ہے۔انسا ن کی بے شمار ضرو رتوں میں بنیا دی ضرو رتیں روٹی، کپڑا اور مکان ہیں۔ظا ہر سی بات ہے ضرو ر تیں پو ری کر نے کے لیے انسان مختلف طریقوںسے رو پےکما نے کی کو شش کر تا ہے، جس میں تجا رت سب سے اعلیٰ وافضل طریقہ ہے۔ اسلام نے رزق کو حا صل کر نے کے لیے کسی خاص ذریعہ ٔمعاش کو اپنانے کا پا بند نہیں بنا یاہے لیکن اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ جو بھی پیشہ اختیار کیا جائے وہ جائز اور حلال ہو۔حلال روزی کمانے کو اسلام عبادت قرار دیتا ہے۔آقا ﷺ کا ارشادگرامی ہے کہ :

طَلَبُ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ[المعجم الكبير للطبراني 10/ 74]

 یعنی فرائض( نماز، روزہ،زکوٰۃ،وغیرہ)کے بعد حلال کی کمائی حا صل کر نا بھی ایک فریضہ اورعبا دت کی حیثیت رکھتا ہے۔

دوسری حدیث میںآقا ﷺ نے فرما یا: کسی انسان نے اس سے بہتر روزی نہیں کھائی،جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھا تا ہے، نبی دائود ؈  بھی اپنے ہا تھوں سے کام کر کے روزی کھا یا کرتے تھے۔( بخاری، حدیث 2067)

روزی تلاش کر نے کاحکم قرآن مجید میں بھی ہے اور حدیث پاک میں بھی ہے۔ حدیث ملا حظہ فرما ئیں :

طَلَبُ الْحَلَالِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ[المعجم الأوسط 8/ 272]

کسب معاش کی اہمیت اور فضیلت اس سے معلوم ہوتی ہے کہ ہر نبی نے کوئی نہ کوئی تجارت فر مائی۔تجارت کو افضل ذریعہ معاش قرار دینے میں سب بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے بہ نفس نفیس تجارت فرمایاہے۔ آپ ﷺ نے ساجھا ( کاروبار میںحصہ لینا)میںبھی تجارت کی،اور مضا ربت(نفع میں کسی کو تجارت کے لیے مال دینا اور لینا)بھی تجارت فرمائی، جسے آج FRANCHISE  کہتے ہیں(ہمارا مال لیجیئے ہم اتنا حصہ آپ کو دیں گیے وغیرہ وغیرہ)۔

اعلان نبوت سے قبل حضرت خد یجۃ الکبریٰ؅ کے لیے حضور نبی کریم ﷺ نے مضا ربت کی بنیاد پر تجارت فرمائی۔اسی طرح حضرت عبداللہ بن سا ئب؄کے سا تھ سا جھا برابر کی حصہ داری میں تجارت فرما ئی۔حضرت عبد اللہ بن سا ئب ؄  فر ماتے ہیں کہ میں زما نۂ جا ہلیت میں محمد (ﷺ ) کا شریک تجارت تھا۔میں جب مدینہ طیبہ حا ضر ہوا تو آپ نے فر ما یا:ـ’’مجھے پہچا نتے ہو ؟ عرض کیاــ: کیوں نہیں؟آپ تو میرے بہت اچھے شریک کار تھے نہ کسی بات کو ٹالتے اور نہ کسی پر جھگڑا کرتے۔(خصا ئص کبریٰ  ج  اول، ص 191،اسدالغابہ:ص،52، 231)

کسب معاش کی بہت سی صو رتیں ہیں۔ جا ئز طریقے سے رزق حاصل کر نے کو اللہ نے افضل فر ما یا ہے۔ قر آن مجید ہے :

{فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} [الجمعة: 10]

تر جمہ ـ: پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جائو اور(پھر) اللہ کا فضل( یعنی رزق) تلاش کر نے لگو اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا کروتا کہ تم فلاح پائو۔

جب نماز سے فارغ ہوجائوتو اللہ کے رزق کی تلاش میں لگ جاؤ، یہ تمہارے لیے حلال ہے۔عراک بن مالک ؄ جمعہ کی نماز سے فا رغ ہو کر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور یہ دعا پڑھتے :

 اے اللہ میں نے تیری آواز پر حاضری دی اور تیری فرض کردہ نماز ادا کی پھر تیرے حکم کے مطا بق اس مجمع سے اٹھ آیا، اب تو مجھے اپنا فضل ’’رزق‘‘ نصیب فر ما، تو سب سے بہترروزی دینے والا ہے‘‘(ابن ماجہ ابی حاتم)

اس آیت کے پیش نظر بعض مفسرین و سلفِ صالحین نے فر مایا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد خرید وفروخت کرے، اللہ تعا لیٰ ستر حصے زیا دہ بر کت دے گا۔ قرآن کریم نے مال کوــ’’خیر‘‘(سورہ البقر،آیت215) اور ’’ فضل‘‘ ( سورہ جمعہ،آیت،4) سے تعبیر کیا جس کے معنیٰ اچھی اور بھلی چیز کےہیں۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت عمرو بن العاص ؄ سے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں تم کو منا سب مال حا صل ہو جائے، انھوں نے کہا؛اےاللہ کے رسولﷺ!میں مال کے لیے مسلمان نہیں ہوا۔ میں اپنی قلبی رغبت سے مسلمان ہوا ہوں، آپ ﷺ نے ار شاد فر مایا: صالح آد می کے لیے صالح یعنی مال حلال بہت بہتر شئی ہے۔ مسند احمد حدیث، 17309)

رسول ا للہ ﷺ نے فر مایا کہ: دیانت دارانہ تجارت میں اللہ کی مددہے، تجارت کے مقا صد میں صرف منا فع کما ناہی مقصد نہ ہو بلکہ لو گوں سے اخلاق و محبت اور خندہ پیشانی سے پیش آئے تاکہ دوسروں کےدل میں آپ کی عزت ومحبت بھی قا ئم ہو اور وہ آپ کی بات کو مانے تاکہ آپ اسلام کی خو بیوں کو بھی دوسروں تک پہنچا سکیں۔ ایمان دارانہ طریقے سے تجارت کر نے پر اللہ رب العزت نے بے حساب رزق دینے کا وعدہ فر مایا ہے۔

امانت داری ا یمان کی علامت ہے:

آج غیر قو میں اور بڑی بڑی کمپنیاںخواہ کار پوریٹ جگت ہو یا انڈسٹریل جگت ہویا الکٹرانک شعبہ ہو یا سول بلڈرس ہوں وغیرہ وغیرہ جدھر نظر دوڑائیے ان کا بول بالاہے آج کی تعلیم میںبہت سی باتیں اسلامی اصولوںپر پڑھائی جاتی ہیں مذ ہب اسلام کی تعلیم امانت داری، معا ہدوں کی پا بندی کرکے گرا ہکوں کے دلوںپراپنی دھاک بٹھاکر یہ کمپنیاں اپنا لو ہا منوا چکی ہیں مسلمانوں کو بھی نبی کریم  ﷺ کی سنت و اسلامی طریقہ اختیار کر نے کی ضرو رت ہے تبھی تو رسول ا للہ ﷺ کے فرمان پر آپ پورے اتریں گے۔حضور نبی رحمت  ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

ا لتجار الصدوق الامین مع النبیین والصد یقین والشھداء والصا لحین :

 تر جمہ:سچا اور دیا نت دار تاجر(جنت میں)انبیا،صدیقین،شہدااورصالحین کے ساتھ ہو گا۔اسلام میںتجارت اور صنعت وحرفت کے بہت فضائل ہیں لیکن یہ تمام فضائل اسی تاجر کے لیے ہیں، جو اسلامی اصول اورحضور نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر تجارت کرے۔دھوکا دینے والا مسلمان نہیں۔ دھوکا دینا اورجھوٹ بولناانتہائی گری ہوئی بات مانی جاتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دھوکا دینے والا خود اپنے کو ہی دھو کا دیتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو مسلمانوں کودھو کا دے وہ ہم میں سے نہیں۔(الترغیب والتر ھیب رواہ بخاری،و مسلم)۔

( یعنی مسلمان کہلانے کے لائق نہیں)لہذا مسلمان تاجروںکو غبن اور فراڈ سے ہر حال میںبچنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے تاجرکی سچائی اور ایمان داری کا چر چا ہو جاتا ہے۔اور سب سے بڑی بات اللہ کی رحمت اور برکت شامل ہو جاتی ہے اللہ کے رسول نے فر مایا:حلال گرچے قلیل ہے مگر اس میں بر کت ہے۔

مال بیچنے کے لیے جھوٹ نہ بولیں:

 رب تبارک وتعالیٰ نے جھو ٹوں پر لعنت فر مایا ہے:

{ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ} [آل عمران: 61]

جھوٹوںپر اللہ کی لعنت ہے۔

نبی رحمت ﷺ نے فر مایا:تاجرلوگ گناہ گار اور فاجر ہیں۔صحابۂ کرام نے عرض کیا:یارسول اللہﷺ:کیا کارو بار کواللہ نے حلال نہیں کیا؟فر مایا:کاروباربالکل حلال ہے لیکن اکثر تاجر جھوٹی قسمیں کھا تے ہیں اور اپنی چیز کے بارے میں جھوٹی جھوٹی باتیں بیان کر تے ہیں،اس طرح اکثر گناہ گار ہو جاتے ہیں۔ معاذاللہ ثم معاذ اللہ (مفہوم حدیث)(التر غیب والتر ہیب راواہ احمد)

ناپ تول میں کمی کر نا اللہ کے غضب کو دعوت دیناہے:

آج ہمارے معاشرے میں ان گنت برا ئیاں گھر کر چکی ہیں۔ایک دو ہوںتوگنایاجاسکے دوچار ہوں تو اس کا رونا رویا جائے۔

اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے آنے کامقصد یہ بھی بتایا ہے کہ میں نے انصاف کے ترازو کے ساتھ رسولوں کو بھیجا اور یہ بھی فر مایا:

{ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ (8) وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ} [الرحمن: 8، 9]ترجمہ:کہ ترازو میں بے اعتدالی نہ کرو،اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹائو۔(کنزالایمان)

اور کم تولنے والوں کو آگاہ فر مایا:

{وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ (1) الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ (2) وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ } [المطففين: 1 – 3]

تر جمہ:کم تولنے والوں کی خرابی ہے،کہ وہ جب اوروں سے ناپ لیںپورا لیں اور جب انھیںناپ تول کر دیں کم کر دیں۔

احادیثِ کریمہ میں بھی وعید موجودہے۔چناں چہ حضرت ابن عباس؄  فر ماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے، اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری تو پھر انھوں نے ناپ تول بہت درست کر لی۔ سر کار مدینہ ﷺ نے فر ما یا: جب بھی کو ئی قوم ناپ تول میں کمی کرنے کے مرض میں مبتلا ہو تی ہے تو ان پر قحط سالی کا عذاب آتا ہے۔(ابن ماجہ)

اپنے ارد گردنظر دوڑائیں، حالات کیا ہیں سوچیں مخبر صادق ﷺ کا فرمان آج حرف بحرف سچ ثابت ہو رہاہے۔

تجارت اللہ کو پسند ہے:

رزق حلا ل کمانے کے جو بھی راستے ہیں اللہ کو پسند ہیں۔ جو شخص اپنے اہل وعیال کا پیٹ پالنے کے لیے محنت کر تا ہے وہ اللہ کے راستے میں ہے،اور جو شخص اپنے بو ڑھے والدین کا پیٹ پالنے کے لیے محنت کر تا ہے اور حلال کمائی کماتا ہے تاکہ کسی کے سا منے دست سوال دراز نہ کرنا پڑے وہ بھی اللہ کے راستے میں ہے(طبرانی،ا لترہیب والترغیب حدیث 335)

انبیا؊نےبھی تجارت کاپیشہ اختیارفرمایا(1)حضرت آدم؈زراعت کیا کرتے تھے (2) حضرت ادریس؈ سلائی کا کام کیا کرتے تھے(3) حضرت دائود؈زرہیں بنایا کر تے تھے۔بہت سے انبیاے کرام نے بکریاں چرائیں۔ آقا ؈ نے بذات خود تجارت کی۔

 مذہب اسلام میںکسب معاش کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے۔ آج کل مسلمان قوم تجارت میں بہت پیچھے ہیں اور جو ہیں بھی وہ اسلامی ہدایات اورحضور ﷺ کی سیرت طیبہ کے زریںاصولوں کو جانتے ہی نہیں اور اگر جانتے ہیں تو عمل نہیں کر تے۔ مسلما نوں کو چاہیے کہ اپنے نبی  ﷺ کی تجارت کی تعلیم کا مطالعہ کریںاور اسلامی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ ان شا ء اللہ ضرورکامیابی قدم چومے گی۔

رزق کے دس حصے ہیں نو 9 حصے تجارت میں ہیں:

 نبی کریم ﷺ نے فر مایاکہ: ہنر مند وپیشہ والے مسلمان کو خد اےتعا لیٰ دوست رکھتا ہے اور آپ نے فرمایا: ایمان دار تاجر قیامت کے دن صدیقین وشہداکے ساتھ اٹھایا جائے گا،پیشہ ور لو گوں کی کمائی سب چیزوں سےحلال ہے اگر وہ آپ  ﷺ کی  نصیحت بجا لائے (عمل کرے) حضورنے فر ما یا: کہ تجارت کروکیوں کہ رزق کے دس حصے ہیں نو حصے فقط تجارت میں ہیں۔حدیث پاک میں ہے: جو شخص اپنے اوپر سوال (بھیک) کا دروازہ کھولتا ہے اللہ تعا لیٰ اس پر مفلسی کے ستر دروازےکھول دیتاہے۔

 افسوس آج بھیکاریوں کی جتنی تعدا دمسلمانوں میں ہے کسی دوسری قوم میں نہیں۔روزی کمانا انسان پر فرض ہے،متقیوں کے نزدیک رزق حلال کا حصول ایمان کا حصہ ہے۔ معاشی تنگی، وقارو عزت کے لیے سیاہ دھبہ ہے۔ مسلمانوں میں تجارت سے غفلت انتہائی فکر کی بات ہے۔

 اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے پھل، میوے اورکھا نے پینے کی چیزیں مہیافر ئیں۔اور اللہ ان کو بھی رزق دیتا ہے جن کو تم نہیں دیتے یعنی پر ندے وغیرہ ودیگر حیوا نات سب کو اللہ روزی دیتا ہے۔رحموں میں جو بچے ہوتے ہیں وہ ان کو بھی روزی دیتا۔آخرت کے لیے اچھی زندگی گزار نے کے واسطے بھی مال کا ہونا ضروری ہے تا کہ اللہ کی مخلوق پر اور اپنے بال بچوں پر خوش دلی سے خرچ کیا جائے۔ اللہ کی خوشنو دی حاصل کی جائے۔آج مسلما نوں میں سب سے زیادہ بے روز گاری ہے، مسلما نوں کے لیے نوکری کا در وازہ ہی بند ہو گیا، مسلما نوں کو چاہیے کی تجارت میں دلچسپی لیں کیوں کہ ایک تجارت میں کئی لو گوں کی ضرورت پڑ تی ہے، ان شا اللہ بے روز گاری بھی دور ہو گی اور خوش حالی بھی آئے گی۔

اللہ ہم سب کو نبی ﷺ کی سنت تجارت کو اپنا نے کی توفیق دے اور ایمان داری، محنت اور دلجمعی سے اسلامی اصولوں کےمطابق تجارت کر نے کی توفیق رفیق عطا فر مائے آ مین

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close