سیرت نبویﷺ

سیرتِ رسولؐ کے بعض امتیازی پہلو

جمشید عالم عبد السلام سلفی

  خاتم النبیین فداہ ابی و امی سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو بطور خاص بہتیری خصوصیات سے نوازا گیا تھا۔  زیرِ نظر مضمون میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی بعض اہم امتیازی خصائص کتاب اللہ اور صحیح احادیث کی روشنی میں قدرے تفصیل سے بیان کی جا رہی ہیں :

خاتم الانبیاء ہونے کا اعزاز

      محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خاتم الانبیاء و الرسل ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا  ارشاد ہے :  ﴿وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّ‍ۧنَۗ﴾ ترجمہ: لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے۔ [الاحزاب: ۴۰]

عالمگیر رسالت

      انبیاءِ سابقین خاص اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت تمام دنیا والوں کی طرف ہوئی ہے یعنی آپ کو عالمگیر رسالت کے اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

       ﴿قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡ جَمِيعًا﴾ ترجمہ: آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں۔ [الاعراف:۱۵۸]

جامع کلمات اور ایک ماہ کی مسافت سے رعب

      آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں، اور ایک ماہ کی مسافت پر رہنے والے دشمن کے دلوں میں رعب بٹھاکر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی نصرت و مددکی گئی ہے۔

غنیمتوں کی حلت اور تمام زمین کا مسجد و پاکیزہ ہونا

      غنیمتوں کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کی امت کے لیے حلال قرار دیا گیا ہے، اور تمام روئے زمین کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کی امت کے لیے مسجد و پاکیزہ بنائی گئی ہے۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

’’أعطیتُ خمسا لم یعطھن احدٌ من الانبیاءِ قبلی: نصرتُ بالرعبِ مسیرۃَ شھرٍ، وجُعلتْ لی الارضَ مسجداً وطھوراً فأیما رجلٍ مِنْ اُمَّتِیْ ادرکتہ الصلوٰۃَ فلیصلِّ، واُحِلَّتْ لی الغنائمَ ولم تحل لأحدٍ قبلِی، واعطیتُ الشَّفاعةَ، وکانَ النبیُّ یبعثُ الیٰ قومِہٖ خاصةً وبُعِثتُ الیٰ الناسِ عامةً‘‘

مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہیں ملیں:ایک ماہ کی مسافت پر دشمن ہو اللہ اس کے دل میں میرا رعب بٹھا دیتا ہے۔ زمین کو میرے لیے مسجد اور پاکیزہ بنایا گیا ہے لہٰذا میری امت کا کوئی آدمی وہیں نماز پڑھ لے جہاں نماز کا وقت ہو جائے۔ غنیمتوں کو میرے لیے حلال کیا گیا ہے جب کہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے نہیں حلال تھا۔ (۴) مجھے حقِ شفاعت دی گئی ہے۔  مجھ سے پہلے کے نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے اور میری بعثت تمام دنیا والوں کی طرف ہوئی ہے۔ [بخاری کتاب التیمم رقم الحدیث: ۳۳۵، مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلوٰۃ رقم الحدیث: ۵۲۱، نسائی کتاب الغسل و التیمم باب التیمم بالصعید رقم الحدیث: ۴۳۲ و اللفظ للبخاری۔]

        اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’فضلت علی الانبیاء بست: اعطیتُ جوامع الکلم، ونصرتُ بالرعب، واحلتْ لی الغنائم، وجعلتْ لی الارضَ طھورا ومسجدا، وارسلتُ الی الخلقِ کافةً، وختم بی النبیون‘‘ مجھے انبیاء پر چھ چیزوں کے ساتھ فضیلت دی گئی ہے: (۱) مجھے جامع کلمات دیئے گئے ہیں۔ (۲) رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے۔ (۳) غنیمتوں کو میرے لیے حلال کیا گیا ہے۔ (۴) زمین کو میرے لیے پاکیزہ اور مسجد بنایا گیا ہے۔ (۵) مجھے ساری مخلوق کی طرف رسول بناکر بھیجا گیا ہے۔ (۶) میرے ذریعہ نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ [مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلوٰۃ، ترمذی ابواب اسیر عن رسول اللہ ﷺ باب ما جاء فی الغنیمۃ، مسند احمد: رقم الحدیث: ۹۳۳۷۔]

زمینی خزانوں کی کنجیاں پانا

      آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کی گئی تھیں۔ جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’فبینا انا نائمٌ اُتیتُ بمفاتیح خزائن الارضِ فوُضِعت فی یدِی‘‘ یعنی میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لائی گئیں اور میرے ہاتھ پر رکھ دی گئیں۔ ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  تو (اپنے رب کے پاس) جا چکے ہیں اور (جن خزانوں کی وہ کنجیاں تھیں) انہیں اب تم نکال رہے ہو۔ [بخاری کتاب الجہاد والسیر باب قول النبی ﷺ نصرت بالرعب رقم: ۲۹۷۷۔]

 سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِي الْأَرْضَ، فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا، وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ: الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ‘‘ ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی تو میں نے مشرق و مغرب کو دیکھا، یقیناً میری امت کی حکمرانی وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک میرے لیے زمین سمیٹی گئی، اور مجھے سرخ و سفید (یعنی سونا و چاندی) دو خزانے دے گئے۔ [مسلم کتاب الفتن و اشراط الساعۃ باب ھلاک ھٰذہٖ الامۃ۔۔۔ رقم:۲۸۸۹، ترمذی رقم الحدیث: ۲۱۷۶، ابوداؤد رقم الحدیث: ۴۲۵۲، ابن ماجۃ رقم الحدیث: ۳۹۵۲، مسند احمد رقم الحدیث: ۲۲۴۵۲۔]

نامِ احمد کی انفرادیت اور امّت کو خیر الامم ہونے کا اعزاز

   آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا نام احمد رکھا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی امت کو خیر الامم قرار دیا گیا ہے۔

  سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اعطیتُ ما لم یعط احدٌ من الانبیاء قبلی، فقلنا: یا رسول اللہ ما ھو؟ قال: نصرت بالرعب، واعطیت مفاتیح الارض، وسمیت احمد، وجعل التراب لی طھوراً، وجعلت امتی خیر الامم‘‘ مجھے کچھ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہیں دی گئیں: رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی، مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں، میرا نام احمد رکھا گیا، مٹی کو میرے لیے پاکیزہ بنایا گیا، اور میری امت کو خیر الامم قرار دیا گیا۔[ مسند احمد رقم الحدیث: ۷۶۳، السراج المنیر۱/۶۵۰]

مقامِ محمود اور شفاعتِ عظمیٰ کا شرف

       آپ صلی اللہ علیہ و سلم قیامت کے دن مقامِ محمود پر فائز ہوں گے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو حقِ شفاعتِ عظمیٰ عطا کی جائے گی۔ اور روزِ قیامت سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و سلم شفاعت کرنے والے ہوں گے اور سب سے پہلے آپ کی شفاعت قبول بھی کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

      ﴿وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهِۦ نَافِلَةٗ لَّكَ عَسَىٰٓ أَن يَبۡعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامٗا مَّحۡمُودٗا﴾ ترجمہ: اور رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کریں، یہ زیادتی آپ کے لیے ہے، عنقریب آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود میں کھڑا کرے گا۔[الاسراء:۷۹]

      اور صحیح بخاری میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قیامت کے دن سورج اتنا قریب ہو جائے گا کہ پسینہ آدھے کان تک پہنچ جائے گا، لوگ اسی حال میں اپنی مخلصی کے لیے آدم علیہ السلام سے فریاد کریں گے، پھر موسیٰ علیہ السلام سے اور پھر محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے۔ (عبداللہ نے اپنی روایت میں یہ زیادتی کی ہے کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا،  کہا کہ مجھ سے ابن ابی جعفر نے بیان کیا  کہ:) پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم شفاعت کریں گے کہ مخلوق کا فیصلہ کیا جائے، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم  بڑھیں گے اور جنت کے دروازے کا حلقہ تھام لیں گے۔ اور اسی دن اللہ تعالیٰ آپ کو ”مقامِ محمود“ عطا فرمائے گا، جس کی تمام اہلِ محشر تعریف کریں گے۔ [بخاری کتاب الزکوۃ باب من سأل الناس تکرراً رقم الحدیث: ۱۴۷۵۔]  اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: قیامت کے دن لوگ بھیڑ کی شکل میں چلیں گے، ہر امت اپنے نبی کے پیچھے ہو گی اور (نبیوں کے پاس جاکر) کہے گی کہ اے فلاں ! ہماری شفاعت کرو (مگر وہ سب ہی انکار کر دیں گے) آخر شفاعت کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے، تو یہی وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو مقام ِمحمود عطا فرمائے گا۔ [بخاری کتاب التفسیر باب سورۃ بنی اسرائیل باب قولہ عسی ان یبعثک مقاما محمودا رقم الحدیث:۴۷۱۸۔]

شفاعت اور اس کی قسمیں:      

  کسی دوسرے کے لیے سفارش اور دعا کی درخواست کو شفاعت کہتے ہیں۔ شفاعت کی دو بڑی قسمیں ہیں:

       شفاعتِ خاصہ: یہ وہ شفاعت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ خاص ہے۔ مثلاً شفاعتِ کبریٰ اور ابوطالب کے حق میں آپ کی شفاعت اور اہلِ جنت کی جنت میں داخل ہونے کے لیے شفاعت وغیرہ۔

      شفاعتِ عامہ: یہ وہ شفاعت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور دیگر انبیاء، اولیاء، صالحین، فرشتے، مومنین، شہداء، فوت شدہ نابالغ بچے، قرآن کریم اور روزہ وغیرہ کی شفاعت کو شامل ہے اور ان کے لیے ثابت ہے۔

       اور پھر عمومی طور پر شفاعت کو مندجہ ذیل چھ قسموں میں منقسم کیا گیا ہے نیز صاحبِ شرح عقیدہ طحاویہ علامہ ابن ابی العز رحمہ اللہ اور دیگر علماء کرام نے شفاعت کی آٹھ قسمیں بیان کی ہیں مگر وہ سب کی سب انھیں چھ قسموں میں شامل ہیں:

شفاعتِ عظمیٰ یا شفاعتِ کبریٰ، یہ شفاعت میدانِ حشر میں ہوگی تاکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان جلد فیصلہ کردے، جب کہ لوگ انبیاے کرام علیھم السلام کے پاس جاکر شفاعت کی درخواست کرچکے ہوں گے اور انبیاے کرام اپنا پنا عذر پیش کرکے شفاعت کرنے سے انکار کردیں گے، تمام لوگ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم ’’أَنَا لَھَا‘‘ [بخاری و  مسلم وغیرہ۔] (میں ہی اس کا حق دار ہوں) کہہ کر اللہ کی اجازت سے شفاعت کریں گے اور یہی وہ مقامِ محمود ہے جس کے دینے کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ و سلم سے کیا ہے، جیسا کہ اوپر اس کا بیان ہوا ہے۔

دوسری شفاعت جنت میں داخلہ کے لیے ہوگی اور دخولِ جنت کے لیے جنت کا دروازہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی شفاعت و سفارش ہی سے کھولا جائے گا اور سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی امت جنت میں داخل ہوگی۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی اس مفہوم کی احادیث اگلی خصوصیت کے بیان کے تحت آگے آرہی ہیں۔

تیسری شفاعت ان لوگوں کے سلسلے میں ہوگی جن کے بارے میں جہنم میں جانے کا فیصلہ ہوچکا ہوگا مگر شفاعت کی وجہ سے وہ لوگ جہنم میں داخل ہونے سے بچ جائیں گے، اور ان لوگوں کے بارے میں شفاعت ہوگی جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی تاکہ اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں داخل فرمادے۔

چوتھی شفاعت کبیرہ گناہوں کے مرتکب ان اہلِ توحید کے لیے ہوگی جو اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم کی سزا بھگت رہے ہوں گے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’إِنَّ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي‘‘ ترجمہ: ’’بے شک قیامت کے روز میری شفاعت میری امت کے اہلِ کبائر کے لیے (بھی) ہوگی‘‘۔ [ترمذی ابواب صفۃ القیامۃ والرقاق والورع عن رسول اللہ باب منہ رقم الحدیث: ۲۴۳۶، ابن ماجۃ کتاب الزھد باب ذکر الشفاعۃ رقم الحدیث: ۴۳۱۰۔] اور یہ شفاعت چار مرحلوں میں ہوگی، جیسا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی حدیثِ شفاعت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

       ’’……………..پھر میں اپنے رب سے اجازت چاہوں گا اور مجھے اجازت عطا کی جائے گی اور اللہ تعالیٰ تعریفوں کے الفاظ مجھے الہام کرے گا جن کے ذریعہ میں اللہ کی حمد بیان کروں گا جو اس وقت مجھے یاد نہیں ہیں۔ چناں چہ جب میں یہ تعریفیں بیان کروں گا اللہ کے حضور میں سجدہ میں گر جاؤں گا پھر مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیں دیا جائے گا، سفارش کریں آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔ پھر میں کہوں گا: اے میرے رب! میری امت! میری امت! کہا جائے گا: جائیں اور جس کے دل میں (گندم یا) جو کے برابر ایمان ہے انھیں اس سے نکال لیں۔ میں جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا۔ پھر میں لوٹ آؤں گا اور پھر اسی طرح اس کی تعریف کروں گا اور اس کے لیے سجدہ میں گر جاؤں گا، تو مجھ سے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھائیں اور کہیں آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیں دیا جائے گا، سفارش کریں آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! میری امت! میری امت! کہا جائے گا: جائیں اور جس کے دل میں ایک ذرہ یا رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو اسے نکال لیں، پھر میں جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا۔ پھر میں لوٹ آؤں گا اور انھی اسلوب میں اس کی حمد بیان کروں گا اور پھر اس کے لیے سجدے میں گر جاؤں گا، کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیں دیا جائے گا، سفارش کریں آپ کی سفارش قبول کی جائے گی، تو میں کہوں گا: اے میرے رب! میری امت! میری امت! تو آپ سے کہا جائے گا: جائیں جس کے دل میں رائی کے دانے سے کم اس سے (بھی) کم اس سے (اور بھی) کم ایمان ہو اسے نکال لیں، تو میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا۔……………………پھر میں چوتھی بار لوٹوں گا اور انھی محامد سے اس کی حمد بیان کروں گا اور اللہ کے لیے سجدہ میں چلا جاؤں گا، تو کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیں دیا جائے گا، سفارش کریں آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے رب! مجھے ان کے بارے میں (بھی) اجازت دیجیے جنھوں نے (صرف) ’’لا الہٰ الا اللہ‘‘ کہا ہے۔ اللہ فرمائے گا: مجھے میری عزت، میرے جلال، میری کبریائی اور میری بڑائی کی قسم! میں انھیں (بھی) اس سے نکالوں گا جنھوں نے ’’لا الہٰ الا اللہ‘‘ کہا ہے‘‘ [بخاری کتاب التوحید باب کلام الرب عز و جل یوم القیامۃ مع الانبیاء و غیرھم رقم الحدیث: ۷۵۱۰، مسلم کتاب الإیمان باب أدنی اھل الجنۃ منزلۃ فیھا رقم الحدیث: ۱۹۳۔]۔

پانچویں شفاعت اہل جنت میں سے بعض جنتیوں کے درجات کو بلند کرنے کے لیے ہوگی تاکہ ان میں سے جو کم درجے کے ہیں ان کے درجات بلند کر دیے جائیں۔

چھٹی شفاعت اہلِ جہنم کے بعض کافروں کے عذاب میں تخفیف و کمی کے لیے ہوگی اور یہ شفاعت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا ابوطالب کے لیے خاص ہے۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی شفاعت کی وجہ سے کافروں میں سے جہنم سے کوئی نہیں نکل سکے گا صرف عذاب میں کمی اور تخفیف ممکن ہے اور وہ بھی ابوطالب کے ساتھ خاص ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آپ کے چچا ابوطالب کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا:

’’لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ أُمُّ دِمَاغِهِ‘‘ ترجمہ: امید ہے کہ قیامت کے روز میری سفارش ان کو نفع دے گی تو انھیں کم گہری آگ میں ڈالا جائے گا جو ان کے ٹخنوں تک ہوگی اور اس سے ان کا دماغ کھول رہا ہوگا۔ [بخاری کتاب الرقاق باب صفۃ الجنۃ والنار رقم الحدیث: ۶۵۶۴، وکتاب مناقب الانصار باب قصۃ ابی طالب رقم الحدیث: ۳۸۸۵، مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اللہ علیہ و سلم لأبی طالب رقم الحدیث: ۲۱۰۔]

       مذکورہ شفاعتوں میں سے تیسری چوتھی اور پانچویں شفاعت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ خاص نہیں ہیں بلکہ دوسرے انبیاء و اولیاء اور دیگر مقربین بھی کریں گے مگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو سبقت و اوّلیت حاصل ہوگی۔ [شفاعت کی قسموں کے لیے ملاحظہ فرمائیں: مختصر ھدایۃ المستفید اردو ترجمہ فتح المجید شرح کتاب التوحید ص: ۱۰۵، صحیح اسلامی عقیدہ از: علامہ حافظ بن احمد الحکمی اردو ترجمہ: مشتاق احمد کریمی۔]

قبولیتِ شفاعت کی شرائط:

  قبولیتِ شفاعت کے لیے مندرجہ ذیل دو بنیادی شرطوں کا پایا جانا لازم و ضروری ہے:

پہلی شرط: شفاعت و سفارش کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے شفاعت کی اجازت کا ہونا۔ اللہ تعالیٰ جب تک اجازت نہیں دے گا کسی میں سفارش کرنے کی طاقت و سکت نہیں ہوگی اور نہ وہ سفارش ہی کرسکیں گے۔ جیسا کہ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے:

 ﴿مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ﴾ ترجمہ: کون ہے وہ جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کر سکے۔[البقرۃ: ۲۵۵]

 دوسری جگہ فرمایا:

﴿قُل لِّلَّهِ ٱلشَّفَٰعَةُ جَمِيعٗاۖ لَّهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ ثُمَّ إِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ﴾ ترجمہ: کہہ دیجیے کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے، تمام آسمانوں اور زمینوں کا راج اسی کے لیے ہے تم سب اسی کی طرف پھیرے جاؤگے۔ [الزمر: ۴۴]

ایک اور جگہ فرمایا:

  ﴿وَكَم مِّن مَّلَكٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ لَا تُغۡنِي شَفَٰعَتُهُمۡ شَيۡ‍ًٔا إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ أَن يَأۡذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرۡضَىٰٓ﴾ ترجمہ: اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لیے چاہے اجازت دے دے۔ [النجم: ۲۶]

 معلوم ہوا اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد ہی شفاعت ہوگی اور وہی لوگ شفاعت کریں گے جنھیں اس کی اجازت حاصل ہوگی اور ظاہر سی بات ہے اس کی اجازت اللہ تعالیٰ کے محبوب و پسندیدہ بندوں ہی کو حاصل ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿لَّا يَمۡلِكُونَ ٱلشَّفَٰعَةَ إِلَّا مَنِ ٱتَّخَذَ عِندَ ٱلرَّحۡمَٰنِ عَهۡدٗا﴾ ترجمہ: کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا سوائے ان کے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے قول قرار لے لیا ہے۔ [مریم: ۸۷] قول و قرار (عہد) کا مطلب ایمان و تقویٰ ہے۔ یعنی اہل ایمان و تقویٰ میں سے جن کو اللہ شفاعت کرنے کی اجازت دے گا وہی شفاعت کریں گے، ان کے سوا کسی کو شفاعت کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔[ قرآن کریم مع اردو ترجمہ و تفسیر ص: ۸۵۱۔]

      دوسری شرط: جن کے لیے سفارش کی جارہی ہے ان سے اللہ تعالیٰ کا راضی و خوش ہونا ضروری ہے اور یہ معلوم بات ہے کہ اللہ تعالیٰ موحدین و مخلصین ہی سے راضی و خوش ہوگا اور انھیں کے لیے سفارش کی اجازت بھی دے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

      ﴿يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ وَلَا يَشۡفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ٱرۡتَضَىٰ وَهُم مِّنۡ خَشۡيَتِهِۦ مُشۡفِقُونَ﴾ ترجمہ: وہ ان کے آگے پیچھے کے تمام امور سے واقف ہے وہ کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو وہ خود ہیبتِ الٰہی سے لرزاں و ترساں ہیں۔ [الانبیاء: ۲۸]

      ﴿يَوۡمَئِذٖ لَّا تَنفَعُ ٱلشَّفَٰعَةُ إِلَّا مَنۡ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَرَضِيَ لَهُۥ قَوۡلٗا﴾ ترجمہ: اس دن سفارش کچھ کام نہ آئے گی مگر جسے رحمٰن حکم دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے۔ [طٰہ: ۱۰۹]

       اور کفار و مشرکین اور مشرکانہ عقائد کے حاملین کا نہ تو کوئی سفارشی ہوگا اور نہ ان کے بارے میں سفارش قبول ہی کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

      ﴿وَأَنذِرۡهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡأٓزِفَةِ إِذِ ٱلۡقُلُوبُ لَدَى ٱلۡحَنَاجِرِ كَٰظِمِينَۚ مَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ حَمِيمٖ وَلَا شَفِيعٖ يُطَاعُ﴾ ترجمہ: اور انھیں بہت ہی قریب آنے والی (قیامت) سے آگاہ کردیجیے، جب کہ دل حلق تک پہنچ جائیں گے اور سب خاموش ہوں گے، ظالموں کا نہ تو کوئی دلی دوست ہوگا نہ سفارشی، کہ جس کی بات مانی جائے گی۔ [المومن/غافر: ۱۸]

       دوسری جگہ فرمایا: ﴿فَمَا تَنفَعُهُمۡ شَفَٰعَةُ ٱلشَّٰفِعِينَ﴾ ترجمہ: پس انھیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے گی۔ [المدثر: ۴۸]

حوضِ کوثر اور مقامِ وسیلہ کا اعزاز

      میدان محشر میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو ’’الکوثر‘‘ اور جنت میں ’’الوسیلۃ‘‘  عطا کیا جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

      ﴿إِنَّآ أَعۡطَيۡنَٰكَ ٱلۡكَوۡثَرَ  فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنۡحَرۡ  إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ﴾ ترجمہ: یقیناً ہم نے تجھے (حوضِ) کوثر (اور بہت کچھ) دیا ہے۔ پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔ یقیناً تیرا دشمن ہی لاوارث اور بے نام و نشان ہے۔ [الکوثر]

      سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’میرا حوض عدن سے اَیلہ تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے اور (اس کا پانی) برف سے زیادہ سفید اور شہد ملے دودھ سے زیادہ شیریں ہے اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں، (یہ خالص میری امت کے لیے ہے اس لیے) میں (امت کے علاوہ دوسرے) لوگوں کو اس سے روکوں گا، جیسے آدمی اپنے حوض سے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے۔۔۔۔۔‘‘۔[ مسلم کتاب الطہارۃ باب استحباب اطالۃ الغرۃ والتحجیل فی الوضوء رقم الحدیث:۲۴۷۔]

      ویسے تو ہر نبی کو حوض عطا کیا جائے گا مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے حوض پر اس قدر بھیڑ ہوگی کہ تمام انبیاء کو اس پر رشک ہوگا۔ سیدنا سمرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

      ’’إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوْضًا، وَإِنَّهُمْ يَتَبَاهَوْنَ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ وَارِدَةً، وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ وَارِدَةً‘‘ بے شک ہر نبی کے لیے حوض ہوگا اور وہ ایک دوسرے پر رشک کریں گے کہ کس کے ماننے والے زیادہ آتے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ میرے حوض پر سب سے زیادہ لوگ وارد ہوں گے۔ [ترمذی ابواب صفۃ القیامۃ والرقاق والورع عن رسول اللہ باب ما جاء فی صفۃ الحوض رقم الحدیث: ۲۴۴۳۔]

       اور وسیلہ کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”اللہ سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو ، لوگوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! وسیلہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا :

      ”أعلیٰ درجةٍ فی الجنةِ، لا ینالُھا إلّا رجلٌ واحدٌ، أرجوا أن اکونَ أنا ھو‘‘  یہ جنت کا سب سے اونچا درجہ ہے جسے صرف ایک ہی شخص پا سکتا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا ۔ [ترمذی ابواب المناقب عن رسول اللہ ﷺ باب رقم الحدیث:۳۶۱۲، مسند احمد رقم الحدیث: ۷۵۹۸۔ شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔]

لمحۂ فکریہ:

       یہاں تھوڑی دیر کے لیے آپ تصور کیجیے! ان بدعتیوں کے بارے میں جنھون نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو عبدیت و رسالت کے مقام سے اٹھاکر ربوبیت و الوہیت کے مقام پر فائز کردیا ہے اور اسی کی آڑ میں دنیا و جہان کی خودساختہ بدعات و منکرات اور شرکیہ امور انجام دیتے ہیں، جب میدانِ حشر میں اوّلین و آخرین کا اجتماع ہوگا اور کوئی کسی کا پرسانِ حال نہ ہوگا، ہر کوئی نفسی نفسی کے عالم میں مبتلا ہوگا، حقیقی رشتے خود سے دور بھاگیں گے، لوگ پیاس کی شدت سے بےحال و پریشان ہوں گے اور سیرابی کے لیے حوضِ کوثر پر آئیں گے تو اپنی انھیں بدعات و خرافات کی وجہ سے دھتکار دیئے جائیں گے۔ کتنا دل خراش منظر ہوگا وہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ  و سلم انھیں اپنے امتی کے طور پر پہچان لیں گے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے عرض کریں گے: اے اللہ! یہ تو میری امت کے لوگ ہیں، مگر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے بعد ان لوگوں نے کیسی کیسی بدعتیں ایجاد کرلی تھیں۔ جشنِ میلاد ہی کو حقیقی محبت کا معیار سمجھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو حاضر و ناظر اور عالم الغیب کہنے والے لوگ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں اور غور فرمائیں! کہ کیا انھیں حوضِ کوثر سے سیراب ہونے کی سعادت نصیب ہوگی!! اللہ تمام مسلمانوں کو حوضِ کوثر کی سعادت سے بہرہ ور فرمائے۔ آمین

       سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے درمیان تھے کہ اچانک آپ کچھ دیر کے لیے نیند جیسی کیفیت میں چلے گئے، پھر مسکراتے ہوئے آپ نے اپنا سر اٹھایا تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ہنس کیوں رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ابھی ابھی مجھ پر ایک سورت نازل کی گئی ہے، پھر آپ نے پڑھا: بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿إِنَّآ أَعۡطَيۡنَٰكَ ٱلۡكَوۡثَرَ ، فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنۡحَرۡ ، إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ﴾ اس کے بعد آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ، هُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ، فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ، فَأَقُولُ: رَبِّ إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي، فَيَقُولُ: مَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَتْ بَعْدَكَ‘‘ ترجمہ: بے شک وہ ایک نہر ہے جس کا میرے رب عزّ و جل نے وعدہ فرمایا ہے، اس پر بہت بھلائی ہے، وہ ایک حوض ہے قیامت کے روز میری امت (سیرابی کے لیے) آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں، پھر ان میں سے ایک شخص کو کھینچ لیا جائے گا تو میں کہوں گا: اے میرے رب یہ میری امت سے ہے۔ تو (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا: آپ نہیں جانتے کہ اس نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں نکالیں۔ [مسلم کتاب الصلوٰۃ باب حجۃ من قال البسملۃ آیۃ من اول کل سورۃ سویٰ براءۃ رقم الحدیث: ۴۰۰، نسائی کتاب الافتتاح باب قراءۃ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رقم الحدیث: ۹۰۴۔]

       سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا آپ فرمارہے تھے: ’’أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَهُ شَرِبَ مِنْهُ، وَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا، لَيَرِدُ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ‘‘ ترجمہ: ’’میں حوض پر تم لوگوں سے پہلے موجود ہوں گا، اور جو میرے پاس پینے کے لیے آئے گا وہ پئے گا اور جو (حوض) سے پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا، میرے پاس بہت سے لوگ آئیں گے، میں انھیں جانتا ہوں گا اور وہ مجھے جانتے ہوں گے، پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ حائل کردی جائے گی‘‘۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مزید اس زیادتی کے ساتھ مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان کے بارے میں فرمائیں گے: ’’إِنَّهُمْ مِنِّي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا بَدَّلُوا بَعْدَكَ. فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي‘‘ ترجمہ: یہ تو میرے لوگ ہیں (یعنی میری امت کے افراد ہیں)، تو کہا جائے گا: بے شک آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا۔ تو میں کہوں گا: دوری ہو ہلاکت ہو، دوری ہو ہلاکت ہو، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے میرے بعد (دین) کو بدل ڈالا۔ [بخاری کتاب الفتن باب ماجاء فی قول اللہ تعالیٰ: واتقوا فتنۃ۔۔۔۔ رقم الحدیث: ۷۰۵۰ و ۷۰۵۱، مسلم کتاب الفضائل باب اثبات حوض نبینا ﷺ وصفاتہٖ رقم الحدیث: ۲۲۹۰ و ۲۲۹۱۔]

      سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہ کے ساتھ تھے اور فرمارہے تھے: ’’إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، فَوَاللَّهِ لَيُقْتَطَعَنَّ دُونِي رِجَالٌ، فَلَأَقُولَنَّ: أَيْ رَبِّ، مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي. فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ ؛ مَا زَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ‘‘ ترجمہ: میں حوض پر ہوں گا اور انتظار کررہا ہوں گا کہ تم میں سے میرے پاس کون آتا ہے۔ اللہ کی قسم! کچھ لوگ میرے پاس پہنچنے سے روک دیئے جائیں گے، تو میں کہوں گا: یہ میرے ہیں اور میری امت میں سے ہیں۔ تو (اللہ) فرمائے گا: بے شک آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا ہے؟ یہ لوگ مسلسل اپنی ایڑیوں پر پلٹتے رہے ہیں۔ [مسلم کتاب الفضائل باب اثبات حوض نبینا ﷺ وصفاتہٖ رقم الحدیث: ۲۲۹۴۔]

سب سے پہلے قبر کا کھولا جانا اور اولادِ آدم کی سرداری

      سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر کھولی جائے گی۔ اور قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ و سلم تمام اولادِ آدم کے سردار ہوں گے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

 ’’أَنَا سَیَّدُ وُلدِ آدمَ یَومَ القیامةِ، واَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ القبرَ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ واول مُشَفَّعٍ‘‘ میں روزِ قیامت اولادِ آدم کا سردار ہوں گا، اور سب سے پہلے میری قبر پھٹے گی، اور سب سے پہلے میں شفاعت کرنے والا ہوں گا، اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی۔ [مسلم کتاب الفضائل باب تفضیل نبینا ﷺ علی جمیع الخلائق رقم: ۲۲۷۸، ابوداؤد کتاب السنۃ باب فی التخییر بین الانبیاء رقم الحدیث: ۴۶۷۳، مسند احمد رقم الحدیث: ۱۰۹۷۲۔]

الحمد کا جھنڈا اور انبیاء کا اس کے زیر نگیں ہونا

      روزِ قیامت آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھوں میں ’’الحمد‘‘ کا جھنڈا ہوگا اور تمام انبیاء و رسل اس جھنڈے کے زیر نگیں ہوں گے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’أَنَا سَیَّدُ ولدِ آدمَ یومَ القیامةِ ولا فخرَ، وبِیدِی لواءَ الحمدِ ولا فخرَ، وما من نبی یومئذ آدم فمن سواہ الا تحت لوائی، وانا اول من تنشق عنہ الارض ولا فخر‘‘ میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور اس میں کوئی فخر کی بات نہیں ہے، میرے ہاتھ میں ’’الحمد‘‘ کا جھنڈا ہوگا اور اس میں کوئی فخر کی بات نہیں ہے، اس دن آدم اور دیگر انبیاء میرے جھنڈے کے زیر نگیں ہوں گے، نیز سب سے پہلے جس کے قبر کو کھولا جائے گا وہ میں ہوں گا اور اس میں کوئی فخر کی بات نہیں ہے۔ [ترمذی ابواب تفسیر القرآن عن رسول اللہ ﷺ باب و من سورۃ بنی اسرائیل و ابواب المناقب عن رسول اللہ ﷺ بابٌ۔۔۔۔ رقم الحدیث: ۳۱۴۸ و ۳۶۱۵۔]

امت کی کثرت اور سب سے پہلے جنت میں داخلہ

      قیامت کے دن سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے متبعین ہوں گے اور آپ ہی سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

      ’’أَنَا اوّلُ الناسِ یشْفعُ فِی الجنةِ، وَأنا أکْثَرُ الأَنْبِیاءِ تَبَعاً‘‘ ترجمہ: میں جنت میں (داخل ہونے کے لیے) سب سے پہلے سفارش کروں گا اور تمام انبیاء کے مقابلے میں میرے پیروکار زیادہ ہوں گے۔ [مسلم کتاب الایمان باب فی قول النبی انا اول الناس یشفع فی الجنۃ رقم الحدیث:۱۹۶۔]

      ’’أَنَا اَکْثَرُ الأَنبیاءِ تبعاً یومَ القیامةِ، وأَنَا اولُ مَن یَقرعُ بَابَ الجنةِ‘‘ ترجمہ: قیامت کے دن تمام انبیاء کی نسبت میرے متبعین و پیروکار زیادہ ہوں گے اور میں پہلا شخص ہوں گا جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔ [مسلم کتاب الایمان باب فی قول النبی انا اول الناس یشفع فی الجنۃ رقم الحدیث:۱۹۶۔]

       اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’آتی بابَ الجنةِ یومَ القیامۃِ فاَستفتِحُ فیقول الخازن: مَن انت؟ فاقول: محمد، فیقول: بِکَ اُمرتُ لا افتحُ لاحدٍ قبلکَ‘‘ ترجمہ: میں قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آؤں گا اور دروازہ کھلواؤں گا، جنت کا خازن پوچھے گا: آپ کون ہیں؟ میں جواب دوں گا: محمد (ﷺ)، وہ کہے گا: مجھے آپ ہی کے بارے میں حکم ملا تھا کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔ [مسلم رقم الحدیث: ۱۹۷، مسند احمد رقم الحدیث: ۱۲۳۹۷]

اسراء و معراج اور انبیاء کی امامت کا شرف

      آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اسراء و معراج کے شرف سے نوازا گیا اور وہاں مسجد اقصیٰ میں آپ نے دیگر انبیاء کی امامت بھی کرائی۔ جیسا کہ اسراء و معراج کی جو تفصیلی روایات ہیں انہیں میں سے ابن جریر وغیرہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ثم انطلقنا حتیٰ أتینا إلیٰ بیت المقدس، فصلیتُ فیہ بالنبیین والمرسلین إماماً‘‘ [دیکھیے: الاسراء والمعراج للالبانی ص: ۱۴، اور شیخ البانی نے اس کی تصحیح کی ہے۔] یعنی پھر ہم چلے اور بیت المقدس آئے جہاں میں نے انبیاء و رسل کو نماز پڑھائی۔

صفوں کا فرشتوں کے صفوں کی طرح ہونا

      آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کی امت کے صفوں کو فرشتوں کے صفوں کی طرح قرار دیا گیا ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’فُضِّلنا علی الناس بثلاثٍ: جُعِلت صفوفنا کصُفوف الملائکةِ، وجُعلت لنا الارضُ کلھا مسجداً، وجعلت تربتُھا لنا طھوراً إذا لم نجدِ الماءَ‘‘ ہمیں لوگوں پر تین باتوں کے ذریعہ فضیلت دی گئی ہے: ہماری صفیں فرشتوں کے صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں، ہمارے لیے ساری زمین کو سجدہ گاہ بنا دیا گیا ہے اور جب ہمیں پانی نہ ملے تو اس زمین کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنے والی بنادی گئی ہے۔ [مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ رقم الحدیث:۵۲۲ مسند احمد:(۲۳۲۵۱)]

حفاظتِ قرآن کی ضمانت

       اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل کردہ کتاب قرآن کریم کی حفاظت کی ضمانت و ذمہ داری اللہ نے اپنے ذمہ لی ہے، جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے:

        ﴿إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ﴾ ترجمہ: ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ [الحجر: ۰۹]

      جب کہ انبیاء سابقین پر نازل کردہ کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری اس کے ماننے والوں کے ذمہ تھی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿إِنَّآ أَنزَلۡنَا ٱلتَّوۡرَىٰةَ فِيهَا هُدٗى وَنُورٞۚ يَحۡكُمُ بِهَا ٱلنَّبِيُّونَ ٱلَّذِينَ أَسۡلَمُواْ لِلَّذِينَ هَادُواْ وَٱلرَّبَّٰنِيُّونَ وَٱلۡأَحۡبَارُ بِمَا ٱسۡتُحۡفِظُواْ مِن كِتَٰبِ ٱللَّهِ وَكَانُواْ عَلَيۡهِ شُهَدَآءَۚ﴾ ترجمہ: ہم نے تورات نازل فرمائی ہے جس میں ہدایت ونور ہے، یہودیوں میں اسی تورات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ماننے والے انبیاء [علیہم السلام] اور اہل اللہ اور علما فیصلے کرتے تھے کیوں کہ انہیں اللہ کی اس کتاب کی حفاظت کا حکم دیا گیا تھا۔ اور وه اس پر اقراری گواه تھے۔ [المائدۃ: ۴۴]

سورۂ فاتحہ و بقرہ کا عظیم تحفہ

       قرآن کریم تو ایک عظیم معجزہ ہے ہی لیکن اس میں موجود سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کو بطور خاص عطا کی گئیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک انھوں نے اوپر سے دروازہ کھلنے کی آواز سنی ، تو انھوں نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور کہا : آسمان کا یہ دروازہ آج ہی کھولا  گیا ہے آج سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا۔ پھر اس سے ایک فرشتہ اترا  تو انھوں نے کہا: یہ فرشتہ زمین پر اترا ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں اترا ہے۔ اس فرشتے نے سلام کیا اور کہا: ’’أبشر بنورین أُوتیتھما لم یوتھما نبیٌّ قبلک: فاتِحةِ الکتابِ، وخواتیم سورۃِ البقرۃِ، لن تقرأ بحرفٍ منھما إلَّا أُعْطِیتَہُ‘‘ آپ کو دو نور ملنے کی خوش خبری ہو! جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے۔ ایک سورۂ فاتحہ اور دوسرے سورۂ بقرہ کی آخری آیات، آپ ان دونوں میں سے ایک حرف بھی نہیں پڑھیں گے مگر وہ آپ کو عطا کر دیا جائے گا۔ [مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلوٰۃ باب فضل الفاتحۃ و خواتیم سورۃ البقرۃ رقم الحدیث: ۸۰٦، نسائی کتاب الافتتاح باب فضل فاتحۃ الکتاب رقم الحدیث: ۹۱۲۔]  یعنی اس کا ثواب ضرور دیا جائے گا۔

سب سے پہلے پل صراط عبور کرنا

      آپﷺاپنی امت کےساتھ سب سےپہلےپل صراط عبورکریں گے۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ایک طویل روایت میں آپﷺنے فرمایا: ’’فیُضرب الصراط بین ظھرانَی جھنم، فاکونُ اولُ من یجوزُ من الرسلِ بامتہٖ‘‘ پھر پل صراط جہنم کے بیچوں بیچ رکھا جائے گا،اور میں اپنی امت کے ساتھ اس سے گزرنے والا سب سے پہلا رسول ہوں گا۔ [بخاری کتاب الأذان باب فضل السجود رقم الحدیث: ۸۰۶۔]

قیامت کے دن نبیوں کا امام اور خطیب ہونا

       قیامت کے دن نبی صلی اللہ علیہ و سلم نبیوں کے امام ان کے خطیب اور ان کے سفارشی ہوں گے۔ سیدنا اُبی ابن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’إذا کانَ یومُ القیامةِ کنتُ إمامَ النبیّین وخطیبھم وصاحبَ شفاعتھم غیر فخرٍ‘‘ قیامت کے دن مَیں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب اور ان کا سفارشی ہوں گا، میں یہ کچھ بطور فخر کے نہیں کہتا۔ [ترمذی ابواب المناقب عن رسول اللہ ﷺ باب رقم الحدیث: ۳۶۱۳، ابن ماجہ کتاب الزہد باب ذکر الشفاعۃ رقم الحدیث: ۴۳۱۴، مسند احمد رقم الحدیث: ۲۱۲۴۵، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن قرار دیا ہے۔]

        مذکورہ خصائص و امتیازات کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خصائص و امتیازات کے متعلق بہتیری قرآنی آیات اور صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں اور علما نے اس موضوع پر خاص کتابیں بھی تالیف فرمائی ہیں۔ یہاں اس مقام پر آپ کے خصائص کا احصاء کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ صرف چند مشہور خصائص کا تذکرہ کر دیا گیا ہے۔

مزید دکھائیں

جمشید عالم عبد السلام سلفی

درس و تدریس اور دعوت و تبلیغ سے منسلک استاد المعہد الإسلامی انوار العلوم گنجھڑا سدھارتھ نگر رہائش : انتری بازار، شہرت گڑھ، سدھارتھ نگر یو پی

متعلقہ

Close