سیرت نبویﷺ

سیرت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور بین الاقوامی مذہبی اختلافات

 مولانا محمد الیاس گھمن

اسلام؛ جینے سے پہلے اور مرنے کے بعد کے حالات کی جہاں خبر دیتاہے وہاں دنیا میں ہر عمر کے حساب سے زند گی گزارنے کے انسانی ،فطری ،اخلاقی ،قومی وملی قوانین بھی دیتاہے۔اسلام؛ اتحاد و اتفاق کاسب سے بڑا نا صرف علمبردار بلکہ گزشتہ ادوار میں عملاً نافذالعمل مذہب بھی رہا ہے۔
اسلام ؛پو ری روئے زمین پر علمی ،عملی،قومی اور ملی فسادات کوختم کرکے امن و آشتی ،انصاف وعدل، راحت و چین کے ساتھ مکمل آزادی کا حق دیتاہے۔ یہ محض تجاویزپیش کرنے پر اکتفاء نہیں کرتا بلکہ عملی زندگی میں اپنا کردار اداکرتاہے۔ سابقہ اقوام کے عروج وزوال کی محض داستانیں ہی نہیں سناتابلکہ ان سے سبق اور عبرت حاصل کرنے کے لیے دعوتِ فکر دیتاہے۔
1: انسان کارشتہ خالق سے جو ڑے رکھنے کے لیے عقائد ونظریات اور عبادات کاحکم دیتاہے۔
2: انسان کارشتہ بحیثیت امتی نبی کے ساتھ جوڑے رکھنے کے لیے ایمان بالنبی اور اطاعت نبوی کاحکم دیتاہے۔
3: انسان کارشتہ انسان سے صحیح طور پر جوڑے رکھنے کے لیے اخلاقیات اور حسن سلوک کاحکم دیتاہے۔
4: انسان کارشتہ معاشرے سے جوڑے رکھنے کے لیے عمدہ معاشرت کاحکم دیتاہے۔
5: انسان کارشتہ ضروریات زندگی سے جوڑے رکھنے کے لیے صاف شفاف معاملات کاحکم دیتاہے۔
اگر مذکورہ بالاتمام فطری او ر انسانی اقدار کو اسلام کے احکام کے مطابق تسلیم کر کے عمل کیاجائے توکرۂِ ارض پر انسانوں کانہیں ’’انسانیت‘‘ کاراج ہو گا۔
لیکن زمینی حقائق یہ بتلاتے ہیں کہ جب تک اسلامی دستور العمل عملاً نافذ رہا تب تک تو یہ دنیا امن کاگہوراہ تھی اورجب خداتعالیٰ کے آفاقی احکامات کے بجائے انسانوں کی تدبیر پر اصول ہائے جہاں بانی کی بنیاد رکھی گئی توبد امنی ،لاقانونیت ،فتنے ، معاصی ،خود سری ،خود غرضی اور دیگر شیطانی محرکات نے جنم لیا۔نتیجہ آج انسان اتحاد کے بجائے اختلافات وافتراق کی دوزخ میں جل رہاہے۔
مذہبی ،سیاسی ،قومی ،خاندانی اور نسلی اختلافات نے اس کی روحِ آزادی کو نہ صرف زخمی کیا بلکہ اس کے سارے نظام کو عالمی سطح پر مفلو ج اور بے کار کر دیا ہے۔محض انسانی تدابیر کی کوکھ سے جن سانحات وحادثات نے جنم لیا پھر اسی کو بار بار آزمانے کی مسلسل روش نے انسان کو آج تک امن وآزادی اور سکون وراحت نصیب نہیں ہونے دی۔نظامِ عالم پر متعددانسانی تجربات کو آزمایاگیا ،قیامِ امن کی تجاویز وآراء پرسنجیدگی سے کئی بار غورکیاگیا،نئے قوانین بھی وضع کیے گئے لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بنیادی خامیوں کو دورکیے بغیر امن کے خواب کو شرمندہِ تعبیر کرناخود ایک خواب بن گیا۔
جبکہ اسلام سارے عالم میں قیامِ امن کا محض مدعی ہی نہیں بلکہ حقیقتاًنظامِ امن نافذ بھی کرچکاہے۔جس کے فوائدو ثمرات اپنے پرائے، دوست دشمن ،مسلم وکافر سبھی کے ہاں تسلیم شدہ ہیں۔انسانی تدابیر سے پیداہونے والے اس وقت جتنے بھی اختلافات ہیں بنیادی طور پر مندرجہ ذیل اختلافات میں منحصرہیں۔مذہبی ،قومی ، سیاسی ،نسلی ،علاقائی ، خاندانی اختلافات؛ ان سب کا حل ہمیں رسول اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور آپ کی سیرتِ طیبہ میں ملتاہے۔
مذہبی اختلافات:
دورِ حاضر میں باہمی اختلافات میں سے جو سب سے بڑا اختلاف ،افتر اق و انتشار بلکہ جنگ و جدال قتل و غارت اور منافر ت و دشمنی کاباعث ہے و ہ یہی مذہبی اختلاف ہے۔ایک مذہب کے لو گ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے لیے تنگ دل بلکہ سخت دل ہیں۔ مذہب کے نام پر کئی خاندانو ں کے خاندان کئی نسلوں کی نسلیں کئی قومو ں کی قومیں کئی ملکوں کے ملک صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔
عدمِ برداشت ،عدمِ رواداری وتحمل کی روش نے لاکھوں انسانو ں کو موت کی بھینٹ چٹرھادیاہے۔اس وقت بھی بین الاقوامی سطح پر باہمی مصالحت ،اتحاد واتفاق قائم کرنے کیلیے مختلف منصوبوں پرعمل درآمد کرانے کے لیے کئی ممالک ،ادارے ، جماعتیں اور تنظیمیں اپنا کردار دکھانے میں سر توڑ محنت کر رہی ہیں۔مذاکرات ، ڈائیلاگ ،مصالحت اور عسکری قوت کے زور پر الغرض تمام اسباب کو بارہا بروئے کار لایا بھی گیا لیکن حالات جوں کے توں ہیں۔
دنیامیں بسنے والی مختلف اقوام کے مزاجی اختلافا ت اسی گتھی کو مزید الجھا رہے ہیں عقلی طور پر جتنی صو رتیں بظاہر ممکن نظر آرہی ہیں حقیقت میں مذہبی اختلافات کو ختم کرنے کے لیے ناممکن ہیں۔مثلاًکسی فرد کے بارے میں یہ تصور کر لیا جائے کہ فلاں شخصیت پر تمام اقوام اور افراد متفق ہوجائیں اور اسی ایک کی بات مان کر اختلافات کو ختم کر لیا جائے۔ایسے شخص کے لیے دو بنیادی خوبیو ں کاہو نا بہت ضروری ہے۔
1: اس کاعلم وسیع تر ہووہ تمام اقوام کے فطری جذبات اور ضروریات اور اغراض سے واقف ہو۔
2: لوگوں کے معاملات کی اصلاح بھی کرسکتاہو۔
یہ صورت عقلاً تو ممکن ہوسکتی ہے لیکن فی الواقع بہر طور ناممکن ہے کیونکہ انسانوں کے مزاج میں تفاوت ہے۔ یہ تفاوت ان کو ایک مرکزی نقطے پر متحد نہیں ہونے دیتا۔دوسری صورت یہ بھی عقلی طور پر ممکن ہے کہ کسی ادارے کو تمام اقوام متفقہ طور پر حاکمیت سو نپ دیں پھر اس ادارے کے ہر حکم کو قبو ل بھی کریں لیکن فی الواقع اس میں بھی عمل کر نا ؛ ناممکن ہے۔ کیونکہ ادارے میں جس قوم کے افرادکی تعداد زیادہ ہوگی وہی قو م اس ادارے سے اپنے مفادا ت سمیٹے گی ،باقی اقوام پھر محرومی اور ناانصافی کاشکار ہوکر رہ جائیں گی۔ اگر آپ اس کی جیتی جاگتی مثال دیکھنا چاہتے ہیں تواس وقت کی معروف تنظیم ’’اقوامِ متحدہ ‘‘کو دیکھ لیں۔
اس حوالے سے اسلام کی تعلیمات سیرتِ طیبہ علی صاحبہا الف الف تحیۃو سلام کی روشنی میں یہ ہیں کہ کسی شخص یا ادارہ ،جماعت یاتنظیم کی حاکمیت ،تسلیم کرنے کے بحائے ان کے خالقِ حقیقی کی حاکمیت کو تسلیم کیاجائے۔ جس کے ہر فیصلے پرمن وعن عمل کیاجائے۔کیونکہ نوع انسانیت کاخالق وہی ہے، وہی ان کی تمام ضروریات کوبخوبی سن سکتا ہے، جان سکتاہے اور ان کو حل بھی کرسکتاہے۔ اس میں ظلم وجو ر کاشائبہ بھی نہیں اورمفاد پرستی کاتصور بھی نہیں۔چونکہ وہ تمام مخلوقات کاخالق ہے اس لیے عقل کا مقتضاء بھی یہی ہے کہ صرف اسی ہی کو حاکم تسلیم کیا جائے۔اسی ممکنہ و مشتر کہ پلیٹ فارم پر اللہ کے آخر ی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کوخطاب کیا۔
یَاھلَ الکِتَابِ تَعَالَوا اِلیَ کَلِمَۃٍ سَوَاءٍ بینَنَا وَبینکْم اَلَّا نَعبْدَ اِلَّا اللہَ وَلا نْشرکَ بہِ شیءًا وَلایَتَّخِذَ بَعضْنَا بَعضًا اَربَابًا مِن دْونِ اللہِ فاِن تَوَلَّوا فَقْولْوا اشھَدْوا باَنَّا مْسلِمْونَ۔
(سورۃآل عمران آیت 64 )
ترجمہ : اے اہل کتاب!آؤ ایک ایسی مشترکہ بات پر جمع ہو جائیں کہ ہم اللہ کے علاوہ کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے اور ہم اس کی ذات و صفات(خاصہ) کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور اللہ کے علاوہ کوئی کسی اور کو رب نہ مانے۔ اگر وہ اس عہد و پیمان سے پھر گئے تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو ماننے والے ہیں۔
اعلان فرمایا:وَاعتَصِمْوا بِحَبلِ اللہِ جَمیعًا وَلَا تَفَرَّقْوا۔
(سورۃ آل عمرا ن آیت103 )
ترجمہ: اللہ کی رسی(قرآن ، توحید )کو مضبوطی سے تھامو اور باہم افتراق و انتشار کا شکار نہ بنو۔
تو حید ہی ایسی رسی ہے جس کو تھامنے سے اختلافات ختم ہو سکتے ہیں لیکن اس مقام پر مندرجہ ذیل تفصیل کو بطور خاص ملحو ظ رکھاجائے ورنہ اختلافات کے خاتمہ کاتصور ماند پڑ جائے گا۔ اس خدائی اصول کی تشریح ہر شخص اپنی طرف سے نہ کر ے ورنہ مختلف تشریحات کاملغوبہ نئی الجھن میں ڈال دے گا۔ بلکہ اس کی تشریح وہ معتبر کہلائے گی جو اس دل سے زبان کے راستے ظاہر ہو جس دل پر یہ اصو ل نازل کیاگیااور جس کی زبان مبارک کو یہ اعزازسو نپا گیا ہے کہ قرآن آپ پر نازل ہو گا اور اس کی تشریح آپ لوگوں کو سمجھائیں چنانچہ وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس اس لیے قرآن کاوہ مطلب مراد لیا جائے جومطلب اللہ کے برحق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا وہ مطلب مراد لیا جائے جو صحابی نے بیان کیا۔
اسلام کے معتدل مذہب ہونے کی ایک وزنی دلیل یہ بھی ہے کہ اس میں سابقہ تمام سچے مذہبی پیشواؤں پر ایمان لانااور ان کی عزت و توقیر لازمی ہے۔ اس کے برخلاف آج کے یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ماننے کے مدعی تو ہیں لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور بالخصوص خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کا انکار کرتے ہیں۔ اسی طرح عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف نبی اور رسول بلکہ خدااور خدا کے بیٹے ماننے کے مدعی ہیں لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے کے انبیاء و رسل مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام وغیرہ اور بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو یکسر نہیں مانتے۔
جبکہ اسلام لا نفرق بین احد منہم کہ تمام سچے انبیاء و رسل پر ایمان لانے میں تفریق نہیں کرتا ہاں ان کے فرق مراتب کو ضرور ملحوظ رکھتا ہے۔ فضلنا بعضہم علی بعضایمان لانے کا مطلب واضح ہے کہ وہ اپنے وقت میں اللہ کے برحق سچے نبی اور رسول تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہی اب ان کی شریعت کو خداوند کریم نے منسوخ فرما دیا ہے۔ اب تا قیامت شریعت محمدیہ اللہ کے ہاں معتبر اور پسندیدہ و مقبول ہے۔

مزید دکھائیں

محمد الیاس گھمن

مولانا محمد الیاس گھمن امیرعالمی اتحاد اہل السنت والجماعت ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close