سیرت نبویﷺ

سیرت رسول اکرمﷺکا ازدواجی پہلو

مولاناعبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

سیرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا موضوع  نہایت قابل قدر ،بسط وتفصیل کا حامل اور  وسعت و گہرائی کا متقاضی ہے،جو شاخ در شاخ،باب در باب اور تہہ در تہہ ہونے کے علاوہ اپنےاندر عبرت پذیری اور نصیحت آموزی کے ان گنت پہلو رکھتا ہے،بہ نظر غائر دیکھا جائے تو سیرت النبیﷺ کا عنوان ایک ایسا زریں اور کیف آگیں تسلسل ہےجس کا کوئی سرا نہیں،یہ وہ بحر نا پیدا کنار ہے ، جس کی غواصی اپنے غواص کو ہر بار لعل و گہر اور زر و جواہر سے مالا مال کر دیتی ہے،جس کا پڑھنے والا ہر آن نیاحوصلہ اورتازہ ولولہ حاصل کرتا ہے،جس کو لکھنے والا ہر مرتبہ فکر و نظر کے نئے زاویےاور غور وخوض کے روشن پہلو اجاگرکرتاہے،جس پر غور کرنے والا ذہن کے بند دریچوں کو وا ہوتا دیکھ کر خوشی ومسرت سے جھوم اٹھتاہے؛یہی وجہ ہے کہ سیرت رسول کے مختلف گوشوں پر ہر زمانے میں کام ہوتا رہا ، آج بھی ہورہاہے اور ان شاء اللہ تاقیام قیامت ہوتا رہے گا اور کیوں نہ ہو کہ خود خالق کائنات نے رفعت شانِ رسول کا وعدہ فرمایا ہے،جس کا ایک ادنی مظہر آپ کی سیرت کامسلسل  تذکرہ ہے۔اس مضمون کوعلامہ اقبال نے یوں بیان کیا ہے :

دشت میں، دامن ِ کوہسار میں، میدان میں ہے

بحر میں،موج کی آغوش میں،طوفان میں ہے

چین کے شہر، مراقش کے بیابان میں ہے

اور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہے

چشم اقوام یہ نظارہ  ابد تک دیکھے

رفعت شان وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک دیکھے

آپ علیہ السلام کی مبارک زندگی کے ہمہ جہت اور مختلف ابواب میں ایک اہم باب ازدواجی زندگی کا ہے،جو دیگر شعبہ جات کی طرح ساری امت کے لیے اسوہ اور نمونہ ہے؛بل کہ آپ علیہ السلام نے تو مرد کی خیر و بھلائی کا معیار ہی یہ قرار دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے ۔اخلاق کا منتہائے کمال اس کو بتلایا گیا کہ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرےخواہ اسےکبھی مغلوب بھی ہونا پڑے۔

رسول اللّٰہ ﷺ نے اپنے اقوال و افعال کے ذریعہ خوش گوار ازدواجی زندگی کی وہ شاہ راہ  متعین فرمائی جس کا مسافر کبھی ناکام و نامراد نہیں ہوسکتا، کبھی نقصان و گھاٹے کا شکار نہیں ہوسکتا؛بل کہ وہ ایک کامیاب شوہر کی حیثیت سےہردم اپنے اہل وعیال کےلیے مسرتیں بکھیرسکتاہے،خوشیاں فراہم کرسکتاہے اور دنیوی و اخروی فوز وفلاح پاسکتاہے۔

یوں توہر شعبۂ حیات میں آپ ﷺ کی ایک ایک ادا نرالی ہے بالخصوص عائلی زندگی کے حوالے سے،آپ کا گھر میں داخل ہونا، بیویوں کو پیار سے مخاطب کرنا، ان سےمیٹھی گفتگو کرنا، ان کے ہمراہ بیٹھ کر کھانا کھانا، ان کے ساتھ آرام کے کچھ لمحات گزارنا، ان سے کچھ تفریحی اور مزاحیہ باتیں کرنا، گھر کے کام کاج میں حتی الامکان ان کا تعاون کرنا، وغیرہ ایسےامور ہیں جن پر عمل در آمد کے ذریعہ ایک عورت کوبیوی ہونے کی حیثیت سے جملہ حقوق دیے جاسکتے ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے امہات المومنین کے ساتھ جو بھی لمحات تھے وہ سیر و تاریخ کی کتابوں میں محفوظ کرلیے گئے، وہ تمام ہی لمحات امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے ساتھ آپؐ کے اعلیٰ اخلاق وکردار کی گواہی دیتے ہیں اور مثالی ازدواجی زندگی کے لیے رہنما اصول پیش کرتے ہیں۔

تعدد کے باوجود عدل و مساوات :

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر ہونے کی بنیاد پر عام انسانوں کے مقابلہ میں خاص امتیازات کے حامل تھے ، اولاً آپ کی ذاتِ عالی صرف مردوں ہی کے لئے سرچشمۂ ہدایت نہ تھی ؛ بلکہ عورتوں کی ہدایت بھی آپ ہی کی ذاتِ عالی سے وابستہ تھی ، اس لئے ضروری تھا کہ منتخب اور عفت ماٰب پاکیزہ خواتین آپ کے حرم میں آکر دین وشریعت براہِ راست سیکھیں اور پھر دوسروں تک پہنچائیں ۔

دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے مثال جسمانی قوتوں سے مالا مال فرمایا تھا ، جس کا تصور دوسرے انسان سے نہیں ہوسکتا ۔

تیسرے یہ کہ آپ نے جتنے بھی نکاح فرمائے ہیں وہ مسلکی ، قومی ، ملی یا کسی فرد کے مصالح پر مبنی تھے،محض نفسانی خواہش پرہرگز ان کا مدار نہ تھا۔نصوص سے پتہ چلتاہے کہ آپ ﷺکو اللہ پاک نے یہ رخصت عطاء فرمائی تھی کہ آپ بغیر باری مقرر کیے کہیں بھی قیام فرماسکتے ہیں اور منشا کے مطابق باری میں تقدیم تاخیر کرسکتے ہیں ؛مگر آپ ﷺ نے کبھی اس کا استعمال نہیں کیا اور تاحین حیات عدل وبرابری فرماتے رہے حتی کہ  سفر پر جانے کی ضرورت درپیش ہوتی تو ازواج کے نام قرعہ اندازی کرتے جس کا نام نکلتا ہے اس کو ساتھ لیجاتے، ،کسی کی حق تلفی کی ہواؤں کا وہاں گزر نہیں ہوسکتا تھا،حضرت اسود نے جب ام المومنین صدیقہ رضی اللہ عنھا سے سوال کیا کہ رحمت اللعالمین ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے وہ فرماتی ہیں اپنے اہل وعیال کی مصلحتوں اور ان لوگوں کی خدمتوں میں مشغول رہتے تھے ، وہی فرماتی ہیں کہ رسول االلہ ﷺ نے کبھی بھی اپنے ہاتھوں کسی بیوی یا خادم کو نہیں مارا وہی فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا اخلاق قرآن ہے ۔ایک روایت میں ہے،ام المؤمنین سیدتنا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواجِ مطہرات کے درمیان باری مقرر فرما رکھی تھی ، اور آپ ہر طرح سے کامل عدل اور برابری کا معاملہ فرماتے تھے ؛ لیکن اس کے باوجود آپ کی زبان پر یہ دعا رہتی تھی : اے اللہ یہ تقسیم ان معاملات میں ہے جو میری قدرت میں ہیں ، پس جو چیز میری قدرت میں نہیں ؛ بلکہ آپ کی قدرت میں ہے یعنی دل ، اس کے متعلق مجھ سے مؤاخذہ مت فرمائیے ۔(ابوداؤد)

خوش خلقی و حسن سلوک :

بہ حیثیت حاکم جہاں شوہر کی ذمہ داری ہے کہ  وہ رعب وداب کا کبھی کبھی اظہار کرے وہیں اس کی عام عادت یہ ہونی چاہیے کہ وہ خلیق و ملنسار ہو، محبت آمیز لہجہ میں بات کرے ،وقت بے وقت ترش روئی اور تلخ گوئی سے اجتناب کرے ،ہمیشہ خندہ پیشانی اور کشادہ جبینی کے ساتھ گھر میں دخل ہو اور سب سے پہلے سلام کرے۔اماں جان حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب میں چھوٹی تھی اور میری شادی کا ابتدائی دور تھا تو میں رسول کریم ﷺ کے ہاں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی اور میری ہمجولیاں بھی میرے ساتھ کھیلتی تھیں اور پھر جب رسول کریم ﷺ گھر میں تشریف لاتے تو میری ہم جولیاں شرم کی وجہ سے آپ ﷺ سے چھپ جاتی تھیں لیکن آنحضرت ﷺ ان کو میرے پاس بھیج دیا کرتے تھے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتی تھیں ۔ (بخاری ومسلم)

اسی طرح تاریخ کی کتابوں میں ہے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بہت اچھا کھانا پکانا جانتی تھیں۔ ایک روز انھوں نے کوئی اچھی چیز پکائی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے بھیج دی۔ آپؐ اس وقت حضرت عائشہؓ کے یہاں تھے۔ حضرت عائشہؓ کو ناگوار معلوم ہوا اور پیالہ زمین پر پٹک ڈالا۔ حضورؐ خود دستِ مبارک سے پیالہ کے ٹکڑوں کو چنتے تھے اور مسکراتے ہوئے فرماتے تھے: ’’عائشہؓ! تاوان دینا ہوگا‘‘۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :’’میں ایک سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ تھی ۔ پیدل دوڑ میں ہمارا مقابلہ ہوا تو میں آگے نکل گئی۔ اس کے بعد جب میرا جسم بھار ی ہوگیا ، (اس زمانے میں بھی) ہمارا دوڑ کا مقابلہ ہوا اب کی بار آپ ﷺ آگے نکل گئے تو اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا :یہ تمہاری اس جیت کا جواب ہے۔‘‘ آپؐ کی ازواج مطہرات سے محبت کا یہ عالم تھا کہ:’’ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پیالے میں پانی پی رہیں تھیں ، حضور ﷺ نے دیکھا تو فرمایا:حمیرہ! میرے لیے بھی پانی بچا لینا،( حمیرہ کا معنی ہے سرخ و سفید، چونکہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا کو رب تعالیٰ نے خوبصورتی سے نوازا ہوا تھا، ہر وقت چہرے پر لالی و سفیدی رہتی تھی، تو نبی پاک ﷺ نے پیار سے حمیرہ نام رکھا ہوا تھا، اسی طرح پیار سے ’’عائش‘‘ بھی پکارتے تھے) چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پانی بچایا توآپ ﷺ نے پیالہ اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: عائشہ! تم نے کہاں پر لب لگا کے پیا؟ امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے جگہ بتائی کہ یہاں سے ، تو آپ ﷺ نے پیالے کا رخ پھیرا اور جہاں سے زوجہ محترمہ نے پانی پیاتھا، آپؐ نے بھی اپنے لب مبارک اسی جگہ لگا کے پانی نوش فرمایا۔‘‘ (صحیح مسلم)

حداعتدال میں اظہار ناراضگی :

میاں بیوی ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں،ان کے درمیان جہاں طویل مصاحبت ہوتی ہے وہاں کبھی کبھی آپس میں رجش بھی ہوجایا کرتی ہے، اور یہ ایسی فطری بات ہےجو نبوت و  ولایت کے منافی نہیں،چناں چہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ مجھے معلوم ہوجاتا ہے جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا وہ کیسے؟ فرمایا جب تم راضی ہوتی ہو تو ورب محمد (محمد کے رب کی قسم) کہہ کر بات کرتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو تو ورب ابراہیم (ابراہیم کے رب کی قسم) کہہ کر بات کرتی ہو، حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ جب میں ناراض ہوتی ہوں تب بھی آپ کی محبت کا دریا میرے دل میں موجزن ہوتا ہے۔

آپ ﷺ یوں تو اپنی ازواج کا بہت زیادہ خیال فرماتے تھے؛ لیکن بے جا ضد اور اصرار پر ان سے ناراض بھی ہوتے تھے؛ چنانچہ جب ایک مرتبہ ازواج مطہرات نے نفقہ وغیرہ کے مطالبہ پر اصرار کیا تو آپ ان سے ناراض ہوگئے اور ایک مہینے تک ایلاء کیا،اس طور پر کہ گھرکے بالائی حصہ پرقیام فرمایا اوراس دوران کسی بھی زوجہ کسی طرح کاربط نہیں رکھا۔(بخاری)

آپ ﷺ کے اس عمل سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ بیوی کی ہر جائز اور ناجائز بات اور مطالبہ کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے اور جہاں پر بیوی کی طرف سے اس طرح کی بیجاضد اور ہٹ دھرمی نظرآئے، وہاں پر برسبیلِ اصلاح اور تنبیہ ناراضگی کا اظہار بھی کیا جاناچاہئے کہ یہی راہ اعتدال ہے۔

گھریلو امور میں معاونت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ گھر میں داخل ہوتے تو آپ پہلے سلام کرتے اور ایسا انداز ہوتا کہ سونے والے بیدار نہ ہوں اور جو بیدار ہوں سلام کی آواز سن لیں اگر گھر میں کوئی چھوٹا موٹا کام ہوتا تو خود انجام دے لیتے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے کسی نے دریافت کیا رسول اکرمؐ کی گھریلو زندگی کیسی تھی، آپؐ نے گھریلو معمولات کیا تھے؟ آپؓ نے جواب دیا کہ ’’ آپؐ آدمیوں میں سے ایک آدمی تھے، آپؐ اپنے کپڑوں کی دیکھ بھال خود فرمالیتے، بکری کا دودھ خود دوہتے، اپنی ضرورتیں خود ہی پوری کرلیتے، اپنے کپڑوں کو خود ہی پیوند لگاتے، اپنے جوتے کی مرمت خود ہی کرلیتے، پانی کے ڈول کو ٹانکے لگاتے، بوجھ اٹھاتے، جانوروں کو چارہ ڈالتے، کوئی خادم ہوتا تو اس کے ساتھ مل کر کام کرتے۔ مثلاً اسے آٹا پسوا دیتے، اکیلے ہی محنت و مشقت کے کام کرلیتے، بازار جانے میں عار نہ تھا، سودا سلف خود ہی لاتے۔ اور ضرورت کی چیزیں ایک کپڑے میں باندھ کر خود اٹھا لاتے۔‘‘

لوگوں نے دریافت کیا کہ آپؐ گھر میں کیسے رہتے تھے؟آپؓ نے فرمایا ’’سب سے زیادہ نرم دل، نرم خُو، ہمیشہ مسکرانے والے، خندہ جبیں اور نرم خوئی کی شان یہ تھی کہ کبھی کسی خادم کو جھڑکا نہیں، حق یہ کہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی بھی اپنے اہل و عیال کے لیے شفیق نہ تھا۔‘‘  (صحیح مسلم شریف)

خلاصۂ کلام :

اختصار کے پیش نظر یہاں آپ کی عائلی زندگی کے چند ہی گوشے ذکر کیے گئے ورنہ تفصیل کے لیے تو سفینے چاہیے۔الغرض”بہ حیثیتِ شوہر” اور سربراہ خاندان آپؐ نے جو اسوۂ حسنہ امت کے لیے پیش فرمایا وہ اسلامی تاریخ کا گراں بہا سرمایہ اور سیرتِ طیّبہ کا روشن حصہ ہے۔ آپؐ کی سیرت و کردارکا یہ گوشہ بھی امت کے لیے ایک روشن مثال اور رفیقِِ حیات کی حیثیت  ہر شوہر اور سربراہِ خانہ کے لیے لائق تقلید ہے۔اگر آج بھی مسلمان مرد سرکار دوعالمﷺکے اس اسوہ کو اپنے لیے نمونہ بنالیں تو نہ طلاق کی کبھی نوبت آئے نہ خلع کی ؛بل کہ اطمنان و سکون کے ساتھ ازدواجی زندگی بسر ہوتی رہےاور سکون و راحت،شادمانی و مسرت سے ہمارے گھر جنت  نشاں بن جائے۔

مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

Close