سیرت نبویﷺ

غزوات: جن سے کفار کی کمر ٹوٹی

مولانا محمد جہان یعقوب

(١) غزوہ ٔ بدر:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں یہ غزوہ واقع ہوا۔ قریش کے قافلے کو جو شام سے آرہا تھا، روکنے کے لیے ١٢ رمضان  ٢   ھ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم  مدینہ سے روانہ ہوئے، لیکن وہ قافلہ راستہ کاٹ کر نکل گیا اور کفارِ مکہ کا ایک بڑا لشکر مقام بدر پر مقابلے کے لیے آپہنچا۔ ١٧  رمضان   ٦  ھ کو غزوہ ٔبدر کا مشہور واقعہ پیش آیا، جس میں مسلمان کل تین سو تیرہ تھے، ان کے پاس کل دو گھوڑے،چند تلواریں اور ستر اُونٹ تھے، ایک ایک اونٹ پر کئی کئی آدمی سوار تھے۔ دوسری طرف کفار کے لشکر میں  ایک ہزار کے قریب جوان تھے، جو تمام کے تمام پر قسم کے سازو سامان سے آراستہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس موقعہ پر مسلمانوں کو بہت بڑی فتح عنایت فرمائی۔ قریش کے وہ سردار، جنھوں نے ہجرت کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا مشورہ دیا تھا اور جن کی تعداد چودہ تھی، اُن میں سے گیارہ اس معرکے میں مارے گئے، جن میں ابو جہل بھی شامل تھا۔ تقریباًانسٹھ آدمی اُن کے علاوہ مارے گئے۔ سترکفار گرفتار کیے گئے۔ یوں کفار کا غیر معمولی نقصان ہوا۔اس کے مقابلے میں مسلمان کل بارہ شہید ہوئے۔ جو سترکفار گرفتار ہوئے تھے، اُن کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا۔ فدیہ کی مقدار چار ہزار درہم تھی۔ جن کے پاس کچھ نہ تھا، ان کا فدیہ یہ قرار دیا گیا کہ دس مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھادیں۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام کی نظر میں تعلیم کی کتنی اہمیت ہے!

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں چھوڑ دیا تھا،کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی یعنی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی زوجہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنھا سخت بیمار تھیں۔ غزوے سے فتح کی خبر جب مدینہ منورہ پہنچی تولوگ حضرت رقیہ رضی اللہ عنھا کی تدفین سے فارغ ہوچکے تھے۔

(٢)غزوۂ احد :

٧ شوال بروز دو شنبہ ٣ / ہجری میں اُحد پہاڑی کے پاس وہ مشہور جنگ ہوئی، جس کو ”غزوہ ٔ اُحد ”کہتے ہیں۔ جنگ کی قیادت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمائی اور مدینہ منورہ میں اپناخلیفہ حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا۔ اسلام کا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔جب کہ کفار کی کمانڈ ابوسفیان کے پاس تھی۔

 اس جنگ کی وجہ یہ تھی کہ کفارِ مکہ نے تین ہزار فوج کی جمعیت لے کر غزوۂ بدر کا بدلہ لینے کے لیے مدینہ پر حملہ کیا تھا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی اطلاع سے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی، تو مشورے کے بعد اللہ کے نام پر سات سو مسلمان مقابلے کے لیے نکلے۔ اول اول منافقین کا سردارعبداللہ بن ابیّ بھی تین سو کی فوج لیکر مسلمانوں کے ساتھ چلا، مگر پھر غداری کی اور راستے ہی سے واپس ہوگیا۔ مسلمان بے سروسامانی میں تھے اور کافروں کے پاس سات سو زرہیں، دو سو گھوڑے، تین ہزار اونٹ تھے اور ان کے جوشِ جنگ کی یہ حالت تھی کہ چودہ عورتیں بھی جنگی ترانہ پڑھنے اور لڑنے والوں کو جوش دلانے کے لیے ساتھ آئی تھیں۔ چناں چہ فوجیں ترتیب دی گئیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک دستہ پچاس آدمیوں کا اسلامی فوج کی پشت کی طرف اُحد پہاڑی پر بٹھادیا،تا کہ اس طرف سے حملہ نہ ہوسکے۔ آپ نے انھیں وصیت بھی فرمائی تھی کہ جنگ کا جو بھی نتیجہ اور میدان کا جو بھی نقشہ ہو،وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں۔ اول اول مسلمانوں کو فتح ہوئی اور غنیمت کا ما لینا بھی شروع کردیا، جب گھاٹی پر مامور تیر اندازوں نے یہ صورت حال دیکھی تو ان میں اختلاف ِ رائے ہوگیا۔ بعض نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم حالت ِجنگ کے ساتھ خاص تھا۔اب جب فتح ہوچکی، تو ہمیں بھی نئی خدمت یعنی مال غنیمت جمع کرنے میں حصہ لینا چاہیے۔ جب کہ امیر لشکر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ اور بعض دوسرے حضرات کا کہنا تھا کہ نہیں، ہمیں یہی رہنا چاہیے۔ پہلے والے لوگوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی۔کفار نے جب گھاٹی خالی دیکھی تو پلٹ کر حملہ کردیا،امیر سمیت وہاں موجود صحابہ کو شہید کرکے میدان میں پہنچ گئے۔ مسلمانوں کے لیے یہ افتاد غیر متوقع تھی۔ ان کے سنبھلنے تک جنگ کا نقشہ بدل گیا۔ فتح شکست میں تبدیل ہوئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم  زخمی ہوگئے، آپ کا دندان مبارک شہید ہوگیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک کافر عبداللہ بن قمیہ نے موقع پاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر تلوار سے حملہ کردیا، جس کی وجہ سے چہرۂ انور میں خَود کی دو کڑیاں گھس گئیں، جن کو ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اپنے دانتوں سے نکالا، ان کے دو دانت بھی شہید ہوگئے۔ کفار تیر برسا رہے تھے جن کو صحابہ کا ہجوم اپنے اوپر لے رہا تھا۔ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ حملوں کے سامنے کمر کیے ہوئے تھے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بازوؤں پر تیروں اور تلواروں کے حملے لے رہے تھے۔ آپ  کا بازو شل ہوگیا اور ستر زخم بدن مبارک پر آئے۔ یہ سب کچھ ہورہا تھا مگر رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر اب بھی یہی تھا:

اے اللہ !میری قوم کو ہدایت فرما، وہ مجھے پہچانتے نہیں۔

 اس جنگ میں ستّرمسلمان شہید ہوئے، جن میں علم بردار حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، ان کے بعد جھنڈا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے سنبھالا۔ بائیس یا تیئیس کفار قتل ہوئے۔

(٣)  غزوہ بنونضیر  :

٤ / ہجری میں یہودِ بنو نضیر نے اپنی عداوت اور قریش کے بھڑکانے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش تیار کی، جس پر ان کو مدینہ منورہ سے جلاوطن کر دیا گیا اور وہ خیبر جاکر آباد ہوگئے۔ اسے غزوہ ٔ بنو نضیر کہتے ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہ غزوہ ماہ ربیع الاول ٤   ھ  میں لڑا گیا۔ اس میں اسلامی لشکر کی سرداری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی،جب کہ مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ حضرت ابن ام کلثوم رضی اللہ عنہ مقرر کیے گئے تھے۔ اسلامی لشکر کے علمبردار حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔ یہودیوں نے مسلمانوں کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا، اس کے مطابق یہ طے پایا تھا کہ یہودی اور مسلمان مل کر رہیں گے اور ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں ساتھ نہیں دیں گے۔ اس کی مخالفت سب سے پہلے بنو قنیقعاع نے کی تھی، چناںچہ ان کو جلاوطن ہونا پڑا،جیسا کہ پیچھے گذر چکا ہے۔ یہ دوسرا موقع تھا کہ بنو نضیر نے بھی اس معاہدے کی مخالفت کردی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش تیار کی، لہٰذا اسی مقصد کے لیے بنو نضیر کے سردار حییّ بن اخطب نے اپنے لشکر کو جنگ کی تیاری کے لیے حکم دے دیا۔ مسلمانوں نے ان پر چڑھائی کردی جس کے نتیجے میں وہ لوگ قلعہ میں بند ہوگئے۔ کچھ دن ان کا محاصرہ کیا جو کہ چھے دن جاری رہا، جس کے نتیجے میں وہ مدینہ منورہ سے نکلنے کے لیے تیار ہوگئے۔ جوکچھ سامان اُونٹوں پر لے جاسکتے تھے وہ ساتھ لے گئے، باقی سامان ضبط کر لیا گیا۔

(٤)غزوہ ٔ خندق :

یہ غزوہ تاریخ اسلام کا اہم غزوہ ہے۔ جب ہر مرتبہ کفار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو پورے عرب کے یہودی اور مشرک اکٹھے ہوگئے اور اسلام کو جڑ سے اکھاڑنے کے ناپاک عزائم لیے ماہ ذی قعدہ  ٥ ھ کو دس ہزار کا لشکر لے کرمدینہ پر حملہ آور ہوئے۔ مسلمانوں کو جب معلوم ہوا کہ کفار حملے کے لیے آرہے ہیں اور ان کی تعداد مسلمانوں سے کہیںزیادہ ہے، اس کے علاوہ منافقین علیحدہ آستین کا سانپ بنے ہوئے ہیں،مدینہ منورہ کے باقی ماندہ یہودیوں (یہودِبنو قریظہ )نے بھی مسلمانوں سے غداری کرکے کفار کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔  اس صورت حال میںیہ مناسب نہیں تھا کہ مدینہ منورہ سے باہر نکل کر جنگ کی جائے، چناں چہ مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے مقابلہ کرنے کا فیصلہ ہوا۔لہٰذا حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق خطرناک ناکوں پر خندق کھودی گئی۔ یہ تدبیر کامیاب ہوئی، کفار اس کو پھاند نہ سکے اور مسلمان محفوظ رہے۔ جب کفار کا تقریباَ پندرہ ہزار کا لشکر مدینہ پہنچا، تو کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ خندق پھلانگ سکے اور انھوں نے وہیں پڑائو ڈال دیا، اورخندق کے پار سے ہی مسلمانوں پر تیر برسانے شروع کردیے، جس سے چھے مسلمان شہید ہوگئے اور دس کفار قتل کردیے گئے۔ ایک دو کافر پھاند بھی آئے، جن سے تلوار کی دو بدو جنگ ہوئی۔ پندرہ روز کے محاصرہ کے بعد کفار کا سامانِ رسد ختم ہوگیا اور ساتھ ہی ساتھ آسمانی آفتوں،ان کی باہمی پھوٹ اورسامانِ رسد کے ختم ہونے کی وجہ سے ان کے قدم لڑ کھڑا گئے اور وہ بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔

(٥)غزوہ بنو قریظہ : 

یہ غزوہ ماہ ذی الحجہ سنہ ٥ ھ میں لڑی گئی۔ اس غزوہ کی سرداری بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی۔ اس غزوہ میں علم برداری کی ذمہ داری حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کی گئی۔ یہ جنگ بنوقریظہ کے خلاف تھی،جن کا جرم یہ تھا کہ غزوہ ٔ خندق کے موقع پربنو قریظہ نے اول تو دھوکا دیا اور مسلمانوں سے غداری کرکے کفار کا ساتھ دیا، دوسرے: ان کو بھڑکانے والا اسلام کا باغی بنو نضیر کا سردار حیّ بن ا خطب ان کے پاس ہی چھپا ہوا تھا۔ لہٰذا غزوۂ خندق سے فراغت کے بعد فوراً ہی بنو قریظہ پر حملہ کیا گیا، لڑائی کے نتیجے میں یہودیوں کے چار سوآدمی قتل اور دوسو قید ہوئے۔ وہ لوگ قلعوں میں گھس گئے،تو مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کرلیا،جب محاصرہ طویل ہوگیا، توانھوں نے مجبور ہوکر قبیلہ ٔ اوس کے مسلمانوں کو بیچ میں ڈالا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم  سے درخواست کی :”اوس”  کے سردار (حضرت) سعد بن معاذ (رضی اللہ عنہ)ہمارے حق میں جو بھی فیصلہ فرمائیں گے، وہ ہمیں قبول ہوگا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان کی شریعت کے مطابق فیصلہ صادر کیا کہ ان کے  بالغ مردوں کو قتل کیا جائے، عورتوں، بچوں کو غلام بنایا جائے اوران کا تمام مال مسلمانوں میں تقسیم کردیاجائے۔

(٦)غزوہ ٔ خیبر :

یہ غزوہ ماہ محرم الحرام ٧ ہجری میں واقع ہوا۔ اس لڑائی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً سولہ سو سو تھی۔ اسلامی لشکر کی قیادت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، مدینہ منورہ کا خلیفہ حضرت سبابہ بن ابی عرفہ رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا گیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ علم بردار تھے۔ چونکہ بنو نضیر کے یہودیوں نے مدینہ منورہ سے جاکر خیبر کو اپنی سازشوں کا پناہ گاہ بنالیا تھا، اور وہ خیبر میں مسلمانوں کے خلاف آگ اُگل رہے تھے، حفاظتِ اسلام کے لیے یہ ضروری تھا کہ ان کی سازشوں کو ختم کیا جائے، لہٰذا ان پر چڑھائی کی گئی،یہ جنگ ”غزوہ خیبر”کہلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو شاندار فتح دی اور خیبر کے تمام قلعے مسلمانوں کے قبضے میں آگئے۔ مسلمانوں نے فتح کے باوجود یہودیوں کو قلعہ سے نکالا نہیں، بلکہ ان سے ایک معاہدہ طے کرلیا، جس کے مطابق مسلمان جب تک چاہیں یہودیوں کو قلعے میں رہنے کی اجازت دیں گے اور تجارت کا ایک حصہ مسلمانوں کو دیا جائے گا۔ خیبر کے بعد” فدک” کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے، وہاں کے لوگوں نے صلح کرلی۔

(٧)غزوہ موتہ :

یہ لڑائی جمادی الاولیٰ  ٨   ھ  میں ہوئی۔ اس جنگ کی وجہ یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بصریٰ کے حاکم ” شرجیل ” کو دعوتِ اسلام دینے کے لیے حضرت حارث بن عمیر رضی اللہ عنہ کواپنے نامہ مبارک کے ساتھ روانہ کیا۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کو شہید کردیا، اس کی سزا کے طور پر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لشکر روانہ کیا۔ اس لشکر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تو شرکت نہیں فرمائی تھی، لیکن پھر بھی اسے غزوہ اس لیے کہا گیا، کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس لشکر کو بہت خاص خاص نصیحتیں فرمائی تھیں۔ اسلامی فوج کی تعداد صرف تین ہزار تھی، جبکہ شرجیل کی فوج کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تھی۔ اسلامی لشکر کا سردار  حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایاگیا، مگر ساتھ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وصیت بھی کی تھی کہ اگر یہ شہید ہوجائیں تو حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کو سردار مقرر کیا جائے اور اگر وہ بھی شہید ہوجائیں تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو سردار مقرر کیا جائے۔ وہ بھی شہید ہوجائیں، تو مسلمان جس کو چاہیں اپنا امیر بنالیں۔ ان مٹھی بھر مسلمانوں کا کفار کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے اس قدر رعب بٹھایا کہ دشمن پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق تینوں علم بردار شہید ہوگئے، ان کے بعد جھنڈا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انھوں نے دشمن کا اس زور سے مقابلہ کیا کہ فتح ونصرت نے اسلامی لشکر کے قدم چومے اور کفار کا سب غرور خاک میں مل گیا۔

(٨)غزوہ فتح مکہ :

صلحِ حدیبیہ کی مدت اگر چہ دس سال رکھی گئی تھی،اس معاہدے میں ایک بات یہ بھی تھی کہ دونوں فریقوں کے حلیف قبائل سے اگر کوئی جنگ کرے، تومخالف فریق کی کسی قسم کی مدد نہ کی جائے گی۔معاہدے کے دوسر ے ہی سال یعنی آٹھ ہجری میں بنو خزاعہ پر بنو بکر نے حملہ کردیا اور قریش نے بنو بکر کی امداد کی،حالاں کہ معاہدے کے مطابق وہ اس کااختیار نہیں رکھتے تھے۔ یوں قریش نے عہد شکنی کرکے اس تمام معاہدے کی دھجیاں اڑادیں۔ بنو خزاعہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں شکایت پیش کی اور امداد کی درخواست کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درندگی کا بدلہ لینے کے لیے تیاری کا حکم فرمایا اور دس ہزار کا لشکرِ جرار لے کر مکہ کے قریب ”مرالظہران ” تک پہنچ گئے۔ سلامی لشکر کی سرداری  نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی۔ حضرت ابو رھم کلثوم بن حصین غفاری  رضی اللہ عنہ  یا حضرت ابن ام مکتوم  رضی اللہ عنہ کو مدینہ کا خلیفہ مقرر کیا گیا۔ جب لشکر مکہ پہنچا، تورسول ِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اعلان ہوا کہ جو ہتھیار ڈال دے گا وہ قتل نہیں کیا جائے گا، لہٰذا لڑائی کی کوئی صورت نہیں تھی۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے قریش پر رحم کھاکر ابو سفیان کو مشورہ دیا کہ باز آجائیں اور توبہ کرلیں، چناں چہ قریش کے سردار ابو سفیان نے اسلام قبول کرلیا۔رضی اللہ عنہ !

 اس کے باوجود کچھ لوگ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے سامنے آگئے، جن سے مجبوراً مقابلہ کیا گیا، اوردومسلمان شہید،جب کہ ستائیس یا اٹھائیس کفار قتل ہوئے۔

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں انتہائی خشوع اور عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے خودمکہ کے نیچے کی جانب داخل ہوئے، جب کہ فوج کو حکم فرمایا کہ مختلف راستوں سے داخل ہوجائے۔ تمام لوگوں کے لیے عام معافی کا اعلان کردیا گیا تھا، اس لیے نہ لڑائی ہوئی نہ قتل و خون خرابہ،چوں کہ چند آدمیوں کے علاوہ کسی سے کوئی بدلہ نہ لیا بلکہ سب کو معاف فرمادیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں موجودبتوں کو گرا دیا،خانہ کعبہ کا اطواف کیا اور پندرہ روز مکہ میں قیام فرمایا۔

(٩)غزوہ ِ حنین:

یہ لڑائی ماہ شوال ٨   ھ میں لڑی گئی۔” حنین” ایک مقام کا نام ہے، جو مکہ معظمہ سے تین منزل کے فاصلے پر طائف کے قریب واقع ہے۔ اِس غزوئہ کے سردار خود حضورصلی اللہ علیہ وسلم تھے اور مدینہ منورہ میں اپنا خلیفہ حضرت عبداللہ ابن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا تھا۔یہ غزوہ دو قبیلوں ہوازن اور بنی ثقیف کے ساتھ پیش آیا،دشمن کے لشکر کا سردار مالک بن عوف نضری تھا۔ فتح مکہ عرب کے لیے ایک بہت بڑی تبدیلی تھی، جس کے نتیجے میں جو نیک بخت لوگ تھے وہ تو اس فتح کو اسلام کی حقانیت کا اشارہ سمجھ کر دائرہ ٔ اسلام میں داخل ہوئے،جب کہ عرب کے دو بڑے قبیلوں بنو ہوازن اور ثقیف نے جب مکے کی فتح اور مسلمانوں کی شان وشوکت میں تیزی سے اضافے کو دیکھا تو انھیں اپنی فکر ہونے لگی اور اپنی جنگی مہارت نیز اپنی کثرتِ تعداد دکھانے کے لیے انھوں نے بیوی بچوں اور جانوروں سمیت پوری طاقت کے ساتھ مدینہ منورہ پر حملہ کردیا۔ ان کے مقابلے کے لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو تیاری کا حکم دیا، ٦ / شوال ٨ ہجری کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے روانہ ہوئے، حضرت عتاب بن ا ُسیدرضی اللہ عنہ کو مکہ میں اپناخلیفہ بنایا مسلمانوں کے لشکر میں تقریباًبارہ سو اسی (1280)افراد تھے، جبکہ مدمقابل عرب کے پورے دو بڑے قبیلوں کے تمام افراد تھے۔ لشکر کی خبر پاتے ہی زیادہ تر دشمن پہاڑوں میں چھپ گئے اور جیسے ہی مسلمان لشکر سامنے آیا، انھوں نے پہاڑوں کی اوٹ سے ان پر دھاوا بول دیا۔ اس سے کچھ مسلمانوں میں پسپائی آئی، لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور بڑے بڑے صحابہ جمے رہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود خچر سے نیچے اترے اور تلوار گھمانی شروع کردی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آواز دی، جس پر سارے مسلمان اکٹھے ہوگئے اور تھوڑی دیر میں لڑائی کا پانسا پلٹ گیا، مسلمانوں نے ایسی دلیری سے دشمن کے لشکر پر جھپٹا مارا کہ جارح دشمن بوکھلا کر پیچھے ہٹ گیا۔ اس جنگ میں چار یا چھ مسلمان شہید، جب کہ کہتر(71) کافر مارے گئے۔ فتح کے نتیجے میں بہت سا مال ہاتھ لگا اور چھ ہزار سے زائد آدمی قیدی بنالیے گئے۔

ہوازن اور ثقیف کے یہ شکست خوردہ لوگ حنین سے بھاگ کر طائف کے قلعوں میں آچھپے تھے، چناں چہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کیا، تقریباً اٹھارہ (18)روز یہ محاصرہ جاری رہا۔ مسلمانوں پر ان لوگوں نے بے انتہا تیر برسائے، چناںچہ بارہ مسلمان شہید اور بہت سے زخمی ہوگئے۔ جس کے جواب میں منجنیق کا استعمال کیا گیا۔ اٹھارہ روز بعد محاصرہ اٹھا لیاگیا۔ ان کے غرور کا پورا پورا جواب مل چکا تھا،تاہم ابھی بھی باقاعدہ فتح نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد ان لوگوں کاایک وفد مدینہ منورہ حاضر ہوا۔ جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ٹھہرایا، تاکہ قرآن شریف اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریریں سنیں اور اثر ہو، چناںچہ وہ چند دن مسجد میں ٹھہرے اور مسلمان ہوکر واپس لوٹے۔

طائف سے جب واپس ہوکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ”جعرانہ ” کے مقام پر پہنچے تو ان لوگوں کا وفد آیا اور حنین کے قیدیوں کی رہائی کی درخواست کی، جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور فرماکر ان سب کو (جن کی تعداد چھ ہزار تھی) مفت میں، کوئی جرمانہ لیے بغیر رہا کردیا۔ جعرانہ کے مقام سے ایک عمرہ بھی رات کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے کیا اور ٦/ ذیقعد ہ ٨ ہجری کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ واپس پہنچے۔

(١٠) غزوئہ تبوک 

یہ غزوہ ماہ رجب  ٩   ھ  میں واقع ہوا، لشکرِ اسلام کی سرداری حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، مدینہ منورہ میں آپ کی غیر موجودگی میں خلیفہ حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ مقرر کیے گئے تھے، جب کہ بال بچوں کی نگرانی کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا گیا تھا، جب اس بات کی خبر مدینہ منورہ میں پہنچی کہ ہر قل بادشاہِ روم، موتہ کی جنگ کا بدلہ لینے کے لیے مسلمانوں پر حملہ کی تیاریاں کر رہا ہے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی سے اس کی روک تھام کے لیے تیس ہزار(30000) مسلمانوں کی فوج لے کر مدینہ طیبہ سے روانہ ہوگئے۔ گرمی کا زمانہ تھا، اور مسلمان بے حد تنگ دستی اور قحط کا شکار تھے،اس لیے چندے سے فوج کی ضروریات کا انتظام کیا گیا، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کا سارا سامان لاکر پیش کردیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر کا آدھا سامان لے کر آگئے۔ غرض یہ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم وعلیہنّ نے اپنی اپنی حیثیت سے بڑھ چڑھ کر کر چندے دیے۔ جب وہاں کوئی نہ رہا تھا تو ہرقل بادشاہ حمص چلاگیا تھااوروہاں کوئی نہ تھا۔  اس سفر سے رومیوں پر بے حد رعب چھا گیا۔ایلہ کا والی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوا،امان مانگی اور صلح کے بدلے ٹیکس دینے پر تیار ہوا۔ اس قیام کے زمانے میں نواب اکیدر کو گرفتار کرکے لایا گیا اور دوسرے نوابوں سے بھی معاہدے ہوئے۔ پندرہ روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں قیام فرمایا، پھر واپس تشریف لے آئے اور رمضان المبارک کے مہینے میں مدینہ منورہ پہنچے۔ اسی معرکے سے واپسی پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ضرار کو جلوانے کا حکم دیا، یہ مسجد کے نام پر مسلمانوں کے خلاف منافقین کا ہیڈ کوارٹرتھا، جو منافقوں نے مسلمانوں کے برخلاف مشورہ کرنے کے لیے بنایا تھا۔

مزید دکھائیں

محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب ڈپٹی ایڈیٹر ہفت روز ہ اخبارالمدارس ہیں نیز جامعہ بنوریہ عالمیہ،کراچی کے ریسرچ اسکالر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close