سیرت نبویﷺ

محبتِ رسولؐ کے واجبی تقاضے

جب عرب شرک اور بت پرستی کی آمادگاہ بن گیا اور اہل عرب گمراہیوں کے دلدل میں پھنس گئے تو رب کریم کی محبت و رحمت جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر اور رسول بنا کر مبعوث فرمایا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اے نبی ؐ ! یقیناً ہم نے آپؐ کو (رسول بنا کر) گواہ دینے والا ، خوشخبری سنانے والا، آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ ‘‘(الاحزاب:45۔46)
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں رسول ؐ اللہ کی حیثیت واضح کر دی ہے اور ان کے بلند ترین مقام سے امت مسلمہ بلکہ تمام انسانوں کو آگاہ کر دیا ہے کہ آپؐ قولی و عملی دنیوی و اخروی شہادت پر مامور کیے گئے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کی یقین دہانی،رسالت، بعث بعدالموت، عمل صالح کے نتیجہ میں جنت کی بشارت اور بد اعمالیوں کے نتیجہ میں جہنم سے اقدار وغیرہ سے لوگوں کو واقف کرانا۔
ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو آگاہ کر دیا کہ اب بندوں کی فلاح و بہبود اور اخروی نجات صرف اور صرف رسولؐ کی کما حقہ پیروی اختیار کر لینے میں ہے اور بلاغت و اقدار کے بعد آپؐ کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔اب انسان بذات خود اس کا ذمہ دار ہے، فرمایا گیا:
’’جو اس رسول ؐ کی اطاعت کرے اس نے اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کی اور جو منھ پھیرے تو ہم نے آپؐ کو ان پر نگہبان بنا کرتو نہیں بھیجا ہے‘‘ ۔(النساء: 80)
آپؐ تمام انسانوں کے لیے سراپا رحمت ثابت ہوئے اور انہوں نے ربّ دو جہاں کا پیغام بلا کم و کاست اس کے بندوں تک پہنچایا، صرف پہونچایا ہی نہیں بلکہ اس پر ہر آن عمل کر کے دکھایا تاکہ ہر مومن و مومنہ کے لیے مشعل راہ ثابت ہو۔ یہ امر قابل غور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اطاعت کیسے اورکیوں کر ممکن ہے ؟ کیا مطاع کی حقیقی محبت کے بغیر فی الواقع سچی محبت کی جا سکتی ہے؟
انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ جس سے جتنی محبت کرتا ہے، اسی کے مطابق اس کے ہر اشارہ پر عمل کے لیے آمادہ ہو جاتا ہے یہاں تک کہ یہ قلبی محبت اگر عروج پر پہونچ جائے تو بسا اوقات جان بھی قربان کرنے کے لیے آمادہ ہو جاتا ہے۔ اسی لیے بندہ مومن سے اسلام کا مطالبہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف عمومی محبت نہ کرے بلکہ آپؐ کو دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب رکھے تاکہ اتباع رسولؐ کا حق کلی طور پر ادا کر سکے ۔ ذات رسولؐ سے ہماری محبت کس حد تک ہے اوراسلام کو کس معیار کی محبت مطلوب ہے؟ اس کا جواب اس حدیث میں بھی ملتا ہے:
حضرت عمرؓ بن خطاب نے حضورؐ سے کہا : اے اللہ کے رسولؐ آپ مجھے اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں، تو آپؐ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ تمہارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا ، یہاں تک کہ میں تمہاری جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں، حضرت عمرؓ نے کہا: اللہ کی قسم ، اب آپؐ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں، تب نبی کریمؐ نے فرمایا: اے عمر، اب تم پکے مومن ہو گئے۔(بخاری:6623)
رسول اللہ کی اس قدر شدید محبت کا حکم صرف اسی لیے ہے کہ محبت کے بغیر اتباعِ رسول ممکن نہیں ہے اور اتباعِ رسولؐ کے بغیر اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت و عبادت بھی ممکن نہیں ہے۔
آج افرادِ امت کا معاملہ کچھ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ہم عقیدتِ رسولؐ کے مدعی ہیں، محبتِ رسولؐ کا دم بھرتے ہیں لیکن محبتِ رسولؐ کے تقاضے کیا ہیں اور اس کے تحت کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ؟ ان کی ادائیگی کس طرح کی جائے؟ اس پہلو سے غور و خوض کرنا طبیعتوں پر گراں خاطر ہوتا ہے۔
امت مسلمہ کی ایک کثیر تعداد میلاد النبیؐ کو ’’عید‘‘ کی حیثیت دیتے ہوئے اسے ’’ عید میلاد النبیؐ‘‘ کے نام سے جانتی ہے اور باقاعدہ تہوار کی حیثیت سے اس کا جشن مناتی ہے ۔12؍ ربیع الاول کو جشن ، چراغاں ، مساجد کی سجاوٹ ، تقریریں ، نعت گوئی، آتش بازی، کفریہ و شرکیہ نعرے ، عورتوں اور مردوں کی مخلوط مجالس وغیرہ کا انعقادکیا جاتا ہے ،جن کا بلا شبہ احکام اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔ صحابہ کرام کا عمل اس پر دلیل ہے کہ انہوں نے نہ ہی حیاتِ رسولؐ میں ’’ عید میلاد النبیؐ ‘‘منائی اور نہ ہی وفاتِ رسولؐ کے بعد،باوجود اس کے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید محبت تھی۔
عید میلاد النبی کی ابتداء مولانا رشید احمد گنگوہی کے مطابق ’ابو سعید کوکبوری بن ابی الحسن اریل‘(موصل) متوفی 18؍ رمضان 63ھ نے کی ہے (بحوالہ : فتویٰ رشیدیہ ص 123)
اس کے جواز کا فتویٰ دینے والے شخص کا نام ابو الخطاب عمر بن الحسن المعروف ابن دحیا کلبی متوفی 533ھ ہے۔
یہ چیز باعثِ افسوس ہے کہ اطاعتِ رسول جملہ شعبہ حیات میں مسلمانوں کے لیے ایک مشکل امر ہے جو محاسبہ زندگی کو بھی لازم کرتا ہے اور بے لگام آزادانہ زندگی کو دائرہ ایمان کا پابند بناتا ہے۔ اس لیے کچھ ایسے اعمال اختیار کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے جو وقتی اور عارضی ہیں اور جن کی بنا پر محب رسولؐکہلانے کے بھی مستحق ہیں ۔
جشن میلاد النبیؐ کے تعلق سے درج بالا علماء کے استفسارات کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ میلاد النبیؐ کو یکسر نظر انداز کر دیا جائے بلکہ اس دن کو یاد رکھنا اس مقصد کے تحت ہو کہ مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو آگے بڑھانے کی فکر کریں اور اسی دن بطور خاص ان کی تعلیمات کو عام کرنے کا پختہ عزم کریں تاکہ ضلالت و گمراہی میں سسکتی بلکتی انسانیت اصلاحِ حال کی طرف متوجہ ہو اور دنیا کے سامنے آپؐ کی صحیح تصویر اور ان کا لایا ہوا پیغام واضح ہو سکے۔
دوسری بات یہ کہ مختلف تحریکیں ،تنظیمیں اور داعیان دین جو امت کے سامنے 12؍ ربیع الاول کی نا مناسب سرگرمیوں اور مراسم پر نکیر اور سیرت رسولؐ کے مختلف گوشوں کو واضح کرنے کے لیے اس دن جلسوں کا انعقاد کرتے ہیں، وہ اسے صرف ایک دن کے لیے خاص نہ کر لیں بلکہ اس سے پہلے اور بعد بھی اس طرح کے اجتماعات کا انعقاد وقتاً فوقتاً کرتے رہیں تاکہ ان کے ذریعہ مسلمانوں کی یاد دہانی اور اصلاح و تربیت کا موقع برابر ملتا رہے، بصورتِ دیگر اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ 12؍ ربیع الاول کے اجتماعات بھی رسمی ہو کر رہ جائیں اور پھر پورے سال آپ ؐ کی آمد ، مشن اور تعلیمات کی یادیں ذہنوں سے محو ہو جائیں۔
تیسری بات یہ کہ یوم میلاد النبی کو ہمیں اپنا محاسبہ اور جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ہمارے دل و دماغ میں محبت رسولؐ اس قدر جاگزیں ہے کہ اپنی جان،خواہشات اور منفعت و مفادات اطاعت رسولؐ میں قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائیں اور اس کے بدلہ اخروی زندگی کی لازوال نعمتوں سے فیضیاب ہوں؟ اگر نہیں ! تو اس عظیم گرانقدر شئے کو حاصل کرنے کے لیے علمی و فکری تیاری اورسیرت رسولؐ سے مکمل رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی واقعی اور حقیقی محبت ہمارے دلوں میں پیدا ہو سکے اور محبان رسولؐ محبت رسول ؐ کے تقاضے کما حقہ پورے کر سکیں۔
محبت رسول ؐ کے تقاضے
کسی چیز کو تسلیم کر لینے کے بعد اس کے تعلق سے مستسلم پرجو ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کا نام’’ تقاضا‘‘ ہے۔ اسی طرح ایک مسلمان رسول ؐ کی رسالت کو پوری عقیدت و محبت کے ساتھ تسلیم کر لیتا ہے تو بحیثیت محب اس کے اوپر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں جن کی ادائیگی اس کے لیے ضروری ہے۔ درج ذیل میں کچھ اہم تقاضوں کا ذکر کرنا مناسب ہوگا۔
اتباع رسول
انسان جس سے محبت کرتا ہے اس کی ہر بات تسلیم کرنے اور اس کے فرامین کو بجا لانے میں قدرے خوشی و مسرت محسوس کرتا ہے، تو پھر وہ شخصیت جس کی عدم محبت کی بنیاد پر ایک مسلمان کے ایمان کی نفی کی گئی ہے کہ:
’’تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والدین ، اولاد اور تمام تر لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں‘‘(بخاری:15)
چنانچہ جس کی محبت ایمان کا لازمی جز قرار دی گئی تو اس سے محبت کا تقاضا، اس کے ہر حکم کی تعمیل اور اطاعت و فرماں برداری ہے۔ اسی طرح ہر اس چیز سے نفرت، بیزاری اور کراہیت کا احساس بھی، جسے اس محبوب و محمود ہستی نے ناپسند کیا ہو اور اس سے منع فرمایا ہو ۔جیسا کہ فرمایا گیا:
’’رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ‘‘(الحشر:7)
محبت رسولؐ کا واجبی تقاضا ہے کہ کتاب وسنت کی روشنی میں جملہ شعبہ حیات میں آپؐ کی کامل پیروی اختیار کی جائے۔قرآن نے ان ذمہ داریوں کی کما حقہ ادائیگی کی صورت میں اخروی زندگی کی کامیابی اور جنت میں بیش بہا نعمتوں کی بشارت بھی دی :
’’جو لوگ اللہ اور رسول ؐ کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء ، صدیقین ، شہداء ا ور صالحین ، کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں‘‘ (النساء:69)
اس کے برعکس یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ رسولؐ کی اطاعت سے صرفِ نظر گناہِ عظیم ہے، جس کے نتیجہ میں آخرت کے بھیانک بدترین انجام سے بھی نعوذ باللہ دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔ مزید یہ بات بھی پیش نظر ہے کہ بھلائی کے کام اور اچھے عمل کی بنیاد اللہ اور اس کے رسولؐ کے حکم کے تحت ہی ہوں۔ اگر اعمال اچھے ہوں لیکن ان کی بنیاد غیر اللہ کی اطاعت پر ہو تو باطل اور رائیگاں ہیں۔قرآن کہتا ہے:
’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسولؐ کی اطاعت کرواور اپنے اعمال کو برباد نہ کرلو‘‘(محمد:32)
اسوہ رسول
محبت رسول ؐ کا دوسرا تقاضا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو اسوہ بنانا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ تھا، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے‘‘ (الاحزاب:21)
رسول اللہ کی زندگی کو نمونہ بنا کر اس کے آئینہ میں زندگی گزارنے کی کوشش وہی شخص کرے گا جس کو بعث بعدالموت کا احساس اور اعمال کے واجبی نتائج کا یقین ہو۔ رہا وہ فرد جسے یا توآخرت کی امید ہی نہ ہو یا اگر ہو تو کبھی کبھار ہی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والا ہو اور زندگی کی ہماہمی و مصروفیات نے اسے موت کے بعد پیش آنے والے نتائج سے غافل کر رکھا ہو تو ایسا شخص بجائے اللہ کے رسول ؐ کو رہنما بنانے کے، اپنی مطلوب من پسند شخصیت کو رہنما بنائے گا تاکہ اس کے لیے دنیاوی ترقی ممکن ہو سکے۔
سنتِ رسول کی طرف رجوع
محبت رسول ؐ کا تیسرا تقاضا اپنے جملہ معاملات ومسائل میں کتاب اللہ ا ور سنت رسول اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے ، اسی سے فیصلہ چاہنا اور مسائل کا حل دریافت کرنا ہے۔ غیر اسلامی عدالتوں کی طرف رجوع کرنا اور اپنے مفاد کے لیے غیر اللہ سے اپنے مسائل حل کراناایمان کے ناقص ہونے کی علامات ہے ،بلکہ قرآن نے ایسے شخص کے ایمان کی ہی سرے سے نفی کی ہے۔
آج مسلمانوں کے اندر یہ چیز عام ہو چکی ہے ۔ کم ہی لوگ باہمی تنازاعات میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ اکثریت ایسی ہے جو حق و باطل کے بکھیڑے میں الجھنا نہیں چاہتی، بلکہ دنیا کا ادنیٰ ترین نفع حاصل کرنے کے لیے آخرت کا سودا کر لیتی ہے اور غیر اسلامی عدالتوں کے غیر مسلم حکمرانوں سے اپنے حق میں فیصلہ کرا کے خود کو سب سے زیادہ چالاک ،سمجھدار اور کامیاب سمجھتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’تمہیں! تمہارے رب کی قسم ،یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سربسر تسلیم کر لیں‘‘ (النساء:65)
یہ حکم صرف آپؐ کی زندگی تک کے لیے ہی نہیں تھا بلکہ تاقیامت کے مسلمانوں کے لیے ہے۔آپؐ کو اس حیثیت کے ساتھ تسلیم کرنے اور عمل کرنے پر ہی مومن ہونے اور نہ ہونے کا انحصار ہے۔
گویا کہ طاغوتی نظام کے باطل فرماں رواؤں کو عادل و منصف سمجھنے اور ان سے اپنے مقدموں کے فیصلے کرانے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی کتاب و سنت کے فیصلوں پر کسی قسم کی پس و پیش اور عدم تعمیل اور نہ ہی اپنے معاملات میں بذاتِ خود فیصلے کرنے کا کوئی اختیار ۔ اگر کوئی نعوذ باللہ نافرمانی اور انحراف کی روش اختیار کرتا ہے تو اسے یہ آیت کریمہ جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے:
’’جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘(الجن: 23)
تعظیمِ رسول
محبت رسول ؐ کا چوتھا تقاضا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر و تعظیم ہے جو اسلام اہل ایمان کے اندر دیکھنا چاہتا ہے، لیکن اس کا مطلب صرف اتنا نہیں ہے کہ مختلف موقع پر کھڑے ہو کر سلام پڑھ لیا جائے اور اس کو کافی سمجھا جائے بلکہ قرآن کریم ہر مسلمان اور محب رسول ؐ سے جس ادب و احترام کا مطالبہ کرتا ہے اس کو ان آیات میں واضح کر رہا ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنی آواز نبی ؐ کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ نبی ؐسے اونچی آواز سے بات کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمھیں خبر بھی نہ ہو‘‘ (الحجرات:2)
آج وہ مقدس ہستی موجود نہیں ہے لیکن افراد امت کے دلوں میں ان کے لیے انتہاء درجہ کا ادب و احترام پایا جانا چاہیے، اس طور پر کہ جہاں آپؐ کا ذکر ہو رہا ہو، آپؐ کی کوئی حدیث سنائی جا رہی ہو وہاں آواز بلند کرنے سے گریز کیا جائے۔ اگر آپؐ کا کوئی حکم ذکر کیا جا رہا ہو یا بطور تنبیہ یاد دلایا جا رہا ہو تو اس کو بر ضاو رغبت خندہ پیشانی سے قبول کیا جائے۔
نبی کریمؐ پر درود بھیجنا
محبت رسول ؐ کا ایک تقاضا آپ ؐ پر درود بھیجنا ہے جس کی قرآن و سنت میں تاکید کی گئی ہے ۔یہ محبان رسولؐ کے لیے غور طلب ہے کہ درود کا ورد بطور خاص کسی موقع پر نہیں ہے بلکہ یہ حکم میں عام ہے، جس کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے:
’’اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی کریمؐ پر درو د بھیجتے ہیں۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو‘‘(احزاب: 56)
مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں:
اس آیت میں مسلمانوں کو دو چیزوں کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک’صلواعلیہ‘، دوسرا’ سلمواتسلیما‘۔
اہل ایمان کو نبی ؐ کے حق میں’ صلواعلیہ‘ کا حکم دینے کا مطلب یہ ہے کہ تم ان کے گرویدہ ہو جاؤ، ان کی مدح و ثنا کرو اور ان کے لیے دعا کرو۔
نبی کریمؐ کے حق میں’ سلمو اتسلیما‘ کہنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ تم ان کے حق میں کامل سلامتی کی دعا کرواور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم پورے دل و جان سے ان کا ساتھ دو ، ان کی مخالفت سے پر ہیز کرو اور ان کے سچے فرماں بردار بن کر رہو۔(تفہیم القرآن: 4 /124)
مزید یہ کہ درود پڑھنا باعث فضیلت اور ومجب اجر و ثواب بھی ہے۔ اپنے محسن کو پہچاننا اور حسب استطاعت اس کے احسان کا حق ادا کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے پھر مزید اس پر اجر و ثواب کی بشارت بھی ہو تو یہ خود کسی مسلمان کی عزت و تکریم میں اضافہ کا باعث ہے ۔ فرمانِ رسول ہے:
’’قیامت کے روز میرے ساتھ رہنے کا سب سے زیادہ مستحق وہ ہوگا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجے گا‘‘ (ترمذی:484)
ساتھ ہی درود کے تعلق سے غفلت اور لا پر وائی کرنے والے کو درج ذیل حدیث میں تنبیہ بھی کی گئی ہے:
’’ بخیل ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے‘‘ (ترمذی:3546)
سنتِ رسول کو زندہ کرنا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصدِ حیات پر غور کرنا، اس کے فروغ کی تگ و دو اور ان کی دعوت کو عام کرنے کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہونے کی کو شش کرنابھی محبت رسولؐ کا تقاضا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس سے دین کو زندہ کیا جا سکتا ہے اور جس سے فلاح دارین حاصل کی جا سکتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا :
’’ جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھے زندہ کیا اور جس نے مجھے زندہ کیا تو وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا‘‘(جامع ترمذی)
اسی طرح آپؐ نے دوسری جگہ فرمایا:
’’جس نے میرے بعد میری کسی مردہ سنت کو زندہ کیا (یعنی ایسی سنت جس پر لوگوں نے عمل کرنا چھوڑ دیا تھا) تو اس کو اتنا ثو اب ملے گا جتنا کہ اس پر عمل کرنے والے کو اور اس پر عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی بھی نہیں ہوگی‘‘ (الترمذی:2677)
ان احادیث میں سنت رسولؐ کو زندہ کرنے کی ترغیب و تشویق ہے اور سنت سے مراد محدثین کی اصطلاح میں نبی کریمؐ سے منقول قول فعل تقریر یا صفت حلقی یا صفت خلقی ہے۔
محبت رسول ؐ کے ان اور بعض دیگر تقاضوں کی تکمیل سے ہی ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو ان پر عمل کی توفیق دے۔آمین۔
****

مزید دکھائیں

ساجدہ ابو اللیث فلاحی

کلیۃ البنات،جامعۃ الفلاح، بلریاگنج،اعظم گڑھ

متعلقہ

Close