محبت رسول ﷺ کی کچھ جھلکیاں

زبیر خان سعیدی

سب جانتے ہیں کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللَّهُ اجمعین کو نبی ﷺ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا، لہذا انہوں نے جیسا رسول اکرم ﷺ کی سیرت کا مشاہدہ کیا ہمارا مطالعہ اس نوعیت کا کبھی نہیں ہوسکتا ہے، صحابہ کرام آپ ﷺ کے فرمودات کو سنتے تھے اور اس پر کس طرح عمل بجا لاتے تھے، سیرت کی کتابوں سے اس کے کچھ نمونے پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں اس نیت کے ساتھ کہ اللَّهُ رب العزت ہمارے اندر بھی اپنے نبی اکرم ﷺ کی کچھ محبت پیدا ہو ۔

⚫ ایک بار حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ رسول اکرم ﷺ سے آپ کی محبت کیسی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ میری نظر میں ہمارے مال، اولاد، ماں باپ، جان حتی کہ پیاس کے وقت ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب ہیں – (سیرت ابن ہشام)

⚫ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے جب حالتِ کفر میں تھے تو اس وقت کی اپنی کیفیت کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ "ما کان احد أشد بغضا لرسول اللہ ﷺ منی” مطلب: میرے نزدیک آپ ﷺ سے زیادہ مبغوض و قابلِ نفرت کوئی نہیں تھا، لیکن اسلام میں داخل ہو جانے کے بعد وہ اپنی کیفیت یوں بیان کرتے ہیں کہ "ما کان أحد أحب إلی من رسول ﷺ و لا أجل فی عینی منه و ما كنت أطيق أن أملا عيني منه اجلالا له ولو سئلت أن أصفه ما اطقت لأنى لم أكن املأ عينى منه” مطلب: میرے نزدیک آپ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں رہا اور نہ کوئی شخص میری آنکھوں میں آپ سے زیادہ معزز و محترم، اگر مجھے آپ کے اوصاف بیان کرنے کے لئے کہا جائے تو میں بیان نہیں کر سکتا اس لئے کہ آپ کی ہیبت وعزت اور احترام کی وجہ سے میں کبھی آپ کو نظر بھر کر دیکھ ہی نہ سکا (صحیح مسلم، کتاب الایمان باب کون الاسلام یھدم من کان قبله)

⚫ المعجم الأوسط میں إمام طبرانی نے نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ اے اللَّهُ کے رسول، آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں اور میرے لڑکے سے بھی زیادہ محبوب ہیں لیکن میں گھر میں ہوتا ہوں اور آپ کی یاد آتی ہے تو اس وقت تک صبر نہیں ہوتا ہے جب تک آپ کا دیدار نہ کر لوں اور جب آپ جنت میں چلے جائیں گے تو مجھے خدشہ ہے کہ آپ کو نہ دیکھ سکوں – آپ ﷺ نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ حضرت جبریل علیہ السلام اس آیت کو لیکر اترے  ((وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا (69) النساء))

ترجمہ: اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالٰی نے انعام کیا ہے جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ، یہ بہترین رفیق ہیں

⚫ ایک بار رسول اکرم ﷺ نے زید بن دثنہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت کو قبیلہ عضل وقارہ (جو بظاہر اسلام قبول کر چکے تھے) کی تعلیم کے لئے بھیجا لیکن قبیلہ عضل وقارہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ دھوکہ کیا اور زید رضی اللہ عنہ کو صفوان بن امیہ نے خرید لیا تاکہ انہیں اپنے باپ امیہ بن خلف کے بدلے میں قتل کردے اور ان کو قتل کرنے کے لئے حرم سے باہر مقام تنعیم لایا گیا اور جب ان کے قتل کی تیاری مکمل کر لی گئی تو اس موقع پر ابو سفیان اللَّهُ کی قسم دلا کر ان سے پوچھتا ہے کہ اے زید! کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ آج اس موقع پر تمہاری جگہ محمد ہوں اور ہم ان کی گردن ماریں اور تم اپنے اہل میں رہو؟ آپ نے جواب دیا کہ اللَّهُ کی قسم میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ محمد ﷺ جس جگہ تشریف فرما ہیں انہیں کانٹا چبھے اور تکلیف پہنچے اور میں اپنے اہل میں رہوں ، ابو سفیان نے کہا کہ میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا کہ وہ کسی سے اس طرح محبت کرتا ہو جس طرح محمد کے ساتھی محمد سے کرتے ہیں

سیرت ابن ہشام نے اس واقعے کو نقل کیا ہے

 اسی طرح غزوہ احد کے دن محبت کے اور بھی بے شمار نمونے ظاہر ہوئے

⚫ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ غزوہ احد کے دن نبی کریم ﷺ کے سامنے کھڑے ہوکر تیر اندازی کر رہے تھے اور نبی کریم ﷺ آپ کے بالکل پیچھے تھے، اس طرح سے انہوں نے خود کو آپ ﷺ کے لئے ڈھال بنا رکھا تھا اور فرما رہے تھے کہ اللَّهُ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ مت جھانکئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ دشمن کے تیر کا شکار بن جائیں ، دشمن کا تیر میرے سینے میں لگے آپ کا سینہ محفوظ رہے (صحیح مسلم کتاب الجھاد و السیر باب غزوہ النساء مع الرجال)

⚫ قیس بن ابئ حازم کہتے ہیں میں نے طلحہ کے ہاتھ کو لنجا دیکھا، آپ نے اس کے ذریعے اس دن نبی کریم ﷺ کی حفاظت فرمائی تھی ((صحیح بخاری کتاب المغازي باب اذھمت طائفتان منکم أن تفشلا….))

⚫ مصعب بن عمير رضی اللہ عنہ رسول اکرم ﷺ کے سامنے لڑ رہے تھے اور آپ کے ساتھ جھنڈا تھا یہاں تک کہ شہید کر دئے گئے – سیرت ابن ہشام

اور جب معرکہ گرم ہوا اور آپ ﷺ  پر تیروں کی بارش ہونے لگی تو حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے آپ پر مہربانی کی اور آپ کے سامنے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے اور اپنی پشت دشمنوں کی جانب کردی یہاں تک کہ آپ کی پشت تیروں سے بھر گئی

(سیرت ابن ہشام)

اور جب لڑائی ختم ہوگئی اور لوگ اپنے مردوں سے فارغ ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا کیا وہ زندوں میں ہیں یا مردوں میں ؟ تو ایک انصاری صحابی نے ان کی تلاش شروع کی تو انہیں زخمی حالت میں پایا، ان کی آخری سانس چل رہی تھی، صحابی کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے آپ کے بارے میں پتہ لگانے کے لئے بھیجا ہے کہ کیا آپ باحیات ہیں یا شہید کردئے گئے ہیں تو سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مردوں میں ہوں ، اللَّهُ کے رسول کو میرا سلام پہنچا دو اور آپ سے کہہ دو کہ سعد آپ سے کہہ رہے ہیں کہ ہماری طرف سے اللَّهُ تعالی آپ کو وہ بہترین بدلہ دے جو بدلہ کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے دیا ہے اور اپنی قوم کو میرا سلام کہو اور ان سے کہو کہ سعد کا تمہیں یہ پیغام ہے کہ اے أنصار کی جماعت! اگر تم میں سے ایک آنکھ بھی ہلتی رہی اور دشمن نبی ﷺ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو اللہ کے یہاں تمہارے لئے کوئی عذر نہ ہوگا…. کہتے کہتے آپ کی روح پرواز کرگئی

(سیرت ابن ہشام)

آپ ﷺ کے وصال کے بعد کا ایک واقعہ ہے کہ

⚫ یحیی بن حارث رحمہ اللہ کی ملاقات جب واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے ہوتی ہے تو آپ ان سے کہتے ہیں کہ آپ نے اس ہاتھ سے رسول ﷺ سے بیعت کی ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہاں ، تو یحیی کہتے ہیں کہ اپنا ہاتھ دے دیجئے، میں اسے چومنا چاہتا ہوں ، پھر آپ نے محبت سے سرشار ہو کر ان کا ہاتھ چوم لیا –

(المعجم الکبیر، باب من اسمه واثله) میں یہ واقعہ مذکور ہے

اس قسم کے ہزاروں واقعات پر مشتمل ہے ہماری تاریخ، جن کو پڑھنے اور سننے سے ہی محبت رسول ﷺ زندہ ہوتی ہے

دعا ہے کہ اللہ ہم سب کے اندر بھی آپ ﷺ کی وہی محبت پیدا کرے، آمین



⋆ زبیر خان سعیدی

مدیر

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو

تعلیم کے مقاصدمیں طلبا کی ترقی شامل ہے۔ مذہبی، سماجی، اخلاقی، معاشی وغیرہ ترقی کے لئے تعلیم ہی ذمے دار اور اہم کردار ادا کرتی ہے۔ علم انسان کو انسانیت کا سبق سکھاتا ہے۔ تہذیب،تمیز اور شرافت، حق و باطل میں میں تمیز، صراط المستقیم پر چلنا، سلیقہ اور شعور وغیرہ تمام اخلاقی اقدار بہترین تعلیم کی شکر گزار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے