سیرت نبویﷺ

مطالعہء سیرت-اہمیت اور ضرورت

مولانا اعجاز احمدقاسمی

مطالعہ سیرت کی اہمیت و ضرورت پر گفتگو کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتاہے کہ سیرت کی لغوی اور اصطلاحی تعریف، سیرت اور حدیث کے مابین فرق، سیرت اور تاریخ کے درمیان فرق نیز سیرت کے بنیادی اور اہم مآخذ پر روشنی ڈال دی جائے تاکہ مطالعہء سیرت کی اہمیت اور ضرورت کو بیان کرنا اور سمجھنا دونوں آسان ہوجائے۔

سیرت کی لغوی اور اصطلاحی تعریف

سیرت کے لغوی معنیٰ طریقہ کار یا چلنے کی رفتار اور انداز کے آتے ہیں۔ عربی زبان میں ”فِعلہ“ کے وزن پر جو مصدر آتا ہے اس کے معنیٰ کسی کام کا طریقہ یا کسی کام کو اختیار کرنے کے انداز اور اسلوب کے ہوتے ہیں مثلاً ذِبحہ کے معنیٰ ہیں طریقہء ذبح اور قِتلہ کے معنیٰ ہیں: طریقہء قتل لہٰذا سیرت کے لغوی اور لفظی معنیٰ ہوئے ”چلنے کا طریقہ“۔ بعد میں اس معنیٰ میں مزید توسع پیدا ہوا اور زندگی گزار نے کے اسلوب اور انداز کے معنیٰ میں اس کا استعمال ہونے لگا۔ پھر بہت جلد ہی سیرت کا یہ لفظ آنحضورﷺ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہوگیا۔ چنانچہ آج دنیا کی تمام بولی جانے والی زبانوں میں سیرت کا لفظ عموماً آنحضورﷺ کی مبارک زندگی کے لیے استعمال ہوتاہے۔

اسلامی علوم و فنون کی اصطلاح میں سیرت کا لفظ ابتداء میں آنحضورﷺ کے اس طرزعمل کے لیے استعمال کیا گیا جو آپ ﷺ نے غیرمسلموں سے معاملہ کرنے اور جنگوں یا صلح اور معاہدات کے معاملات میں اپنایا۔ چنانچہ قدیم مفسرین، فقہاء، محدثین اور سیرت نگاروں نے سیرت کا لفظ اسی مفہوم میں استعمال کیاہے۔ قاضی محمد اعلیٰ تھانوی نے اپنی مشہور کتاب ”کشاف اصطلاح الفنون“ میں سیرت کے لغوی معنیٰ بیان کرنے کے بعد لکھا ہے : ثم غلبت فی الشرع علی طریقة المسلمین فی المعاملة مع الکفار والباغین وغیرھما من المستأمنین والمرتدین وأھل الذمة یعنی شریعت کی اصطلاح میں اس لفظ کا زیادہ استعمال مسلمانوں کے اس طریقہء کار پر ہوتا ہے جو وہ کفار، غیرمسلم محاربین ، مسلمان باغی، مرتدین، اہل ذمہ وغیرہ سے معاملہ کے بارے میں اختیار کرتے ہیں۔ علامہ ابن ہمام نے بھی فتح القدیرمیں یہی بات لکھی ہے کہ شریعت کی اصطلاح میں ”سیرت “ سے مراد وہ طریقہ ہے جوکفار کے ساتھ جنگ وغیرہ میں اپنایا جائے۔

بعد کے ادوار میں سیرت کے اصطلاحی معنیٰ میں بھی توسع پیدا ہوا۔ چنانچہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے سیرت کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: آنچہ متعلق بہ وجود پیغمبر و صحابہ کرام و آل عظام است و از ابتدائے تو لد آں جناب تاغایت وفات آں را سیرت گویند یعنی آنحضورﷺ کے وجود گرامی ، آپ کے صحابہ کرام، اہل بیت، آل عظام سے جوچیز بھی متعلق ہے ۔ آنحضورﷺ کی ولادت مبارکہ سے آپ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے تک ، ان سب کی تفصیل کو سیرت کہتے ہیں۔

چنانچہ جن جن قبائل سے آپ کا کسی نہ کسی درجہ میں تعلق رہا جس معاشرت اور معیشت کا قیام فرمایا جو انتظامات اور ادارے قائم کیے جو وثائق اور دستاویزات آپ نے مرتب کرائیں، آپ کے خدام، عمال، کارندگان حکومت حتی کہ آپ کی سواریاں، گھوڑے ، اونٹنیاں وغیرہ بھی سیرت کے موضوعات میں شامل ہیں۔

حدیث اور سیرت کے درمیان فرق

آنحضورﷺ کی ذات سے متعلق سابقہ تمام معلومات حدیث کا بھی حصہ ہیں اور سیرت کا بھی۔ محدثین اور سیرت نگار دونوں حضرات نے ان معلومات کی طرف توجہ دی ہے ، البتہ محدثین کا اصل زوراور اہتمام آنحضورﷺ کے ارشادات ، آپ کے افعال و اعمال اور تقریرات پر اس اعتبار سے ہے کہ کیا چیز جائز ہے اور کیا ناجائز؟ اس کے برعکس سیرت نگاروں کا زور اس پر ہے کہ آنحضورﷺ کا ذاتی طرزعمل، شخصیت مبارکہ اور آپ کا رویہ کیاتھا؟ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتاہے کہ حدیث میں اصل بحث اقوال و افعال اور تقریرات سے ہوتی ہے اور ذات و شمائل رسول ضمناً زیربحث آتے ہیں۔ جبکہ سیرت میں ذات و شمائل رسول اصلاً زیربحث آتے ہیں اور اقوال و افعال پر ضمناً اور تبعاً بحث ہوتی ہے ۔

دونوں کے درمیان ایک فرق یہ بھی ہے کہ سیرت میں درجہء صحت سے فروترروایات بھی لائق اعتناء ہوتی ہیں جب کہ حدیث میں اس کی گنجائش نہیں۔ دونوں کے درمیان ایک اہم فرق یہ بھی ہے کہ صحیح و سقیم مرویات کے مابین امتیاز پیدا کرنے کے لیے محدثین نے جو میزان اور معیار مقرر کیا ہے وہ سیرت نگاروں کے اختیار کردہ معیار سے بلند تر ہے ۔

سیرت اور تاریخ کے درمیان فرق

سیرت تاریخ کی ایک نوع ہونے کے باوجود فن تاریخ سے الگ اور ممتاز ہے۔ تاریخ کی چند تعریفیں کی جاتی ہیں . مشہور ماہرتاریخ کافیجی متوفی 879ھ نے اپنی کتاب ”المختصر فی علم التاریخ“ میں یہ تعریف کی ہے کہ تاریخ زمانے کے حالات اور ان حالات کے متعلقات کی یقینی تلاش کا نام ہے ۔

سخاوی متوفی 902ھ نے اپنی مشہور کتاب ”الاعلان بالتوبیخ لمن ذم التاریخ“ میں لکھا ہے کہ زمانے کے واقعات کی موقت جستجو کا نام تاریخ ہے جب کہ سیرت میں بطور خاص آنحضورﷺ سے متعلق واقعات سے بحث کی جاتی ہے۔

نیز یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ سیرت کے مآخذ جس قدر مستند اور قابل اعتبار ہیں تاریخ کوان کا دسواں حصہ بھی حاصل نہیں ہے ۔ تاریخ کا مدار صحت مندمآخذ کے بجائے قیاس پر زیادہ ہوتاہے جبکہ سیرت میں قیاس کو قطعاً دخل نہیں ہوتابلکہ روایات کو من وعن ذکرکردینا سیرت نگار کا پہلا فرض ہے۔

سیرت کے مآخذ

سیرت نبوی کے دو اہم مآخذ ہیں: پہلا ماخذ قرآن کریم ہے ، جس کی صحت اور جس کا درجہء استناد شک و شبہ سے بالا تر ہے ۔ آپ کی زندگی کے اہم پہلوؤں کے لیے صحیح اور بنیادی معلومات قرآن کریم سے حاصل ہوتی ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ سے آپﷺ کے اخلاق سے متعلق سوال کیاگیا ، آپ نے فرمایا: کان خلقہ القرآن ۔ گویا قرآن آپ کے اخلاق کی صحیح اور سچی تفسیر و تصویر ہے۔ چنانچہ بہت سے علماء نے صرف قرآن پاک کی روشنی میں حیاتِ رسول مرتب کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے ۔ اس سلسلے کی ایک اہم کتاب مولانا محمد میاں دیوبندی کی ہے ۔

دوسرا اہم ماخذحدیث نبوی ہے جس کی حفاظت وادا میں لاکھوں نفوس قدسیہ نے اپنی جانیں کھپادیں۔ چنانچہ زندگی کے مختلف شعبہ جات سے متعلق آپ ﷺ کے اقوال و افعال پر مشتمل محدثین عظام نے جو مجموعے تیار کیے ہیں وہ سیرت نبوی کو جاننے اور سمجھنے کے اہم ذرائع ہیں۔

ان کے علاوہ کچھ ثانوی مآخذ اور مصادر بھی ہیں مثلاً (1) کتب المغازی و السیر (2) دلائل النبوة کے تحت تصنیف کردہ کتابیں مثلاً دلائل النبوة لأبی نعیم، أعلام النبوة للماوردی وغیرہ (3) کتب الشمائل: یعنی وہ کتابیں جو آنحضورﷺ کے اخلاق و اوصاف سے متعلق لکھی گئی ہیں مثلاً الشمائل للترمذی، شمائل الرسول لابن کثیر وغیرہ(4) وہ کتابیں جو تاریخ اور سیرت دونوں کو جامع ہیں۔ مثلاً تاریخ الأمم والملوک للطبری ، تاریخ الاسلام للذھبی وغیرہ۔

مطالعہء سیرت کی اہمیت

مطالعہء سیرت کی اہمیت کے سلسلے میں علامہ ابن القیم فرماتے ہیں کہ سیرت کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے فرض ہے ، اس لیے کہ سعادت دارین آپﷺ کی لائی ہوئی رہنمائی اور ہدایت پر مبنی ہے ، لہٰذاجوشخص بھی سعادت کا طالب ہو اور نجات کا خواہش مند ہو وہ آپ کی لائی ہوئی ہدایت ، آ پ کی سیرت اور آپ کے معاملات سے آگاہی کا مکلف اور پابند ہے۔

دورجدید میں مطالعہء سیرت کی اہمیت کے بعض نئے پہلو ہمارے سامنے آئے ہیں مثلاً تہذیبی نقطہء نظر سے اس کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے کیونکہ اسلامی تہذیب سابقہ تمام تہذیبوں کی روح اور خلاصہ ہے ۔ یہ اسلامی تہذیب ہی ہے جوجدید تہذیبوں کا ربط ماضی کی تہذیبوں سے قائم کرتی ہے ۔ گویا اسلامی تہذیب سابقہ اور لاحقہ تہذیبوں کا نقطہء اتصال ہے ۔ یہ ایک ایسی علمی حقیقت ہے جسے غیرمسلم مؤرخین نے بھی تسلیم کیا ہے ۔ لہٰذا تمام تہذیبوں کے حقائق کی معرفت کے لیے اسلامی تہذیب سے بھرپور واقفیت لابدی ہے اور اسلامی تہذیب سے واقفیت سیرت کے مطالعہ کے بغیرممکن نہیں۔

اسی طرح علمی اور تحقیقی اعتبار سے بھی مطالعہء سیرت کی اہمیت کافی بڑھ گئی ہے یعنی اسلامی تہذیب کی وجہ سے انسانی سطح پر جو زبردست علمی ، تحقیقی اور فکری انقلاب برپاہوا جس کے ذریعہ علوم و فنون کی تحقیق اور اس میدان میں ایک نئے عالمی دور کا آغاز ہوا ۔ آخریہ سب کچھ کیسے ممکن ہوا؟ اس کی تفصیلات اور اس کے حقائق تک رسائی کے لیے بھی ہمارے لیے سیرت کامطالعہ ناگزیرہے۔

بین الاقوامی نقطہء نظر سے بھی سیرت کا مطالعہ کافی اہمیت کا حامل بن گیا ہے یعنی اس وقت جو عالمی مسائل پوری دنیا کو درپیش ہیں ان کا صحیح حل مسلم قوم کو شامل کیے بغیر تلاش نہیں کیاجاسکتا۔ مسلمانوں کو جو بین الاقوامی حیثیت حاصل ہے اسے نظرانداز کرکے اس سمت میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایاجاسکتا۔ اس سلسلے میں مسلمانوں سے تعاون حاصل کرنے کے لیے ان کا مزاج اور ان کا تہذیبی پس منظرجاننا از بس ضروری ہے اور اس کے لیے پوری اسلامی تہذیب سے آگاہی ضروری ہے اور یہ سیرت کے بھرپور مطالعہ کے بغیرممکن نہیں ۔

نیز یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ سیرت محض ایک شخصیت کی سوانح عمری نہیں بلکہ یہ ایک تہذیب ، ایک تمدن، ایک قوم، ایک ملت اور ایک الٰہی پیغام کے آغاز اور ارتقاء کی ایک انتہائی اہم، دلچسپ اور مفید داستان ہے۔ لہٰذا دور جدید کو خواہ وہ مسلمانوں پہ مشتمل ہو یا غیرمسلموں پر، پوری سنجیدگی کے ساتھ سیرت کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

مطالعہء سیرت کی ضرورت

ایک مسلمان کے لیے مطالعہء سیرت کی ضرورت اظہر من الشمس ہے کیونکہ مسلمانوں کے لیے اسوہء حسنہ صرف آنحضور ﷺ کی ذات گرامی ہے اور اس اسوہء حسنہ کی تفصیلات تین ذرائع سے ہم تک پہنچی ہیں۔ ایک تو قرآن پاک، دوسرے حدیث و سنت کے وہ ذخائر جن کے جمع کرنے اور مدون کرنے پر ہزاروں انسانوں نے اپنی زندگی وقف کردیں، تیسرا ذریعہ سیرت مبارکہ اور آپ کے وہ شمائل اور خصائل ہیں جو سیرت کی مختلف کتابوں میں بالتفصیل نقل کردئے گئے ہیں۔ اس لیے سیرت کے مطالعہ کے بغیرکوئی چارہء کار نہیں۔

نیز اسلام میں خدا کی معبودیت اور وحدانیت کے اعتراف کے بعد سب سے اہم آنحضورﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا ہے ۔ جو ذات ہمارے لیے اتنی اہمیت کی حامل ہو کہ اس کا نام لئے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہ ہوتا ہو ، اس کے حالات سے لاعلمی ایک بدترین جرم ہے۔

مطالعہء سیرت کی ضرورت انسانی حیثیت سے بھی ہے ، قرآن پاک نے آنحضورﷺ کے ”رحمة للعالمین“ ہونے کا جو دعویٰ کیا ہے ، ایک انسان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ حیات طیبہ میں اس دعویٰ کی صداقت تلاش کرے اور حیات طیبہ سے متعلق پوری تفصیلات سیرت کی کتابوں میں درج ہیں۔

مطالعہء سیرت کی ضرورت اس پہلو سے اور بھی بڑھ گئی ہے کہ موجودہ دور ایک عالمگیریت کا دور ہے ۔ پوری دنیا ایک عالمگیر نظام کی ضرورت محسوس کررہی ہے ۔ انسانی خودساختہ نظام یکے بعد دیگرے فیل ہورہے ہیں۔ پوری دنیا متبادل نظام کی ضرورت شدت سے محسوس کررہی ہے ۔ یہ ضرورت اگر کوئی مذہب پوری کرسکتاہے تو وہ صرف اور صرف اسلام ہے ۔ کیونکہ عالمگیرنظام کا نمونہ اگرکسی نے پیش کیا ہے تو وہ یہی اسلام ہے ۔ گویا عالمگیر نظام برپا کرنے اور اسے صحیح خطوط پر استوار کرنے کے لیے اگر کسی شخصیت کی زندگی صحیح رہنمائی کرسکتی ہے تو وہ صرف آنحضورﷺ کی زندگی ہے اور آپ کی پوری زندگی کی عکاسی سیرت کی کتابوں میں موجودہے۔

مطالعہء سیرت کی ضرورت اس پہلو سے بھی ہے کہ اسلام ہر دور میں اشاعت کے لحاظ سے ایک تیز رفتار مذہب رہاہے ۔ یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ جن ادوار میں مسلمانوں کو سیاسی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا اور مادی اور عسکری اعتبار سے بہ ظاہر شکست ہوئی ان ادوار میں بطور خاص اسلام اور تیزی کے ساتھ پھیلا۔ نائن الیون(۱۱/۹) کا واقعہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ اس واقعہ کے بعد امریکہ اور یورپ میں قبول اسلام کی جو رفتار رہی وہ اس سے پہلے نہیں رہی۔ اس سانحہ کے بعد اسلامی لٹریچرز کی طباعت و اشاعت بھی کئی گنا بڑھ گئی۔ آخراس کے پیچھے راز کیا ہے؟ وہ کیا قوت اور اسپرٹ ہے جو اسلام کو اس تیزی کے ساتھ پھیلارہی ہے؟ اسے جاننے کے لیے سیرت کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے ۔

دورجدید میں مستشرقین کی طرف سے سیرتِ رسول اور تاریخ اسلام سے متعلق غلط قسم کے نظریات قائم کیے جانے اور بے بنیاد الزامات و اعتراضات وارد کئے جانے کی وجہ سے مطالعہء سیرت کی ضرورت اور بھی دوچند ہوگئی ہے ۔ جب تک سیرت کا مطالعہ گہرا اور وسیع نہ ہو ان کی طرف سے پیش کردہ شبہات اور اعتراضات کا رد علمی اور تحقیقی انداز میں بہت ہی مشکل ہے۔

مطالعہء سیرت کی اہمیت اور ضرورت کے یہ چند نمایاں پہلو ہیں جن کا یہاں اختصار کے ساتھ ذکرکیاگیاہے مزید غوروفکر کرنے سے اور بھی پہلو سامنے آسکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

اعجاز احمد قاسمی

مولانا اعجاز احمد قاسمی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

Close