سیرت نبویﷺ

موجودہ حالات میں سیرت رسول اکرمؐ کی ضرورت واہمیت

آج پوری دنیا ایک عجب انتشار اور فساد میں مبتلا ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ یوروپ میں امن ہے، امریکہ میں امن ہے، ہندوستان مین امن ہے اور فلاں فلاں ملک میں امن ہے، وہاں کے لوگ مامون ومطمئن ہیں۔ شاید وہ حقیقت سے اجتناب کرتے ہیں یا پھر حالات کے حقیقی رخ سے ناواقف ہیں۔ کیوں کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہر جگہ ایک فساد برپا ہے۔ یہ حالات صرف مسلمانوں کے ساتھ خاص نہیں ہیں۔ اگرچہ کہ مسلمانوں پر دنیاوی اعتبار سے یقیناً ایک وبال آیا ہواہے۔ اس کی وجوہات کیاہیں، کیوں کر مسلمانوں پر آفتیں مصائب وآلام کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں؟ اس موضوع متعدد اہل قلم حضرات نے بہت کچھ لکھاہے۔ لیکن یہ دیکھنا کہ پوری دنیا کیوں پریشان ہے۔ ان کی پریشانیاں کیا ہیں؟ یہ انتہائی ضروری عمل ہے۔ آپ اگر انتہائی غائرانہ اور عمیق نظروں سے دنیا کے حالات کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہوگی کہ آج ٹکنالوجی، علوم وفنون کی ترقی نے انسانوں کو ہو سب کچھ دے دیا جس کی اسے ضرورت تھی، بلکہ بسا اوقات ایسا محسوس ہوتاہے کہ ضرورت سے زیادہ ہی دے دیا گیاہے۔ لیکن اس کے بدلے میں دلوں کا سکون، رشتوں کا احترام، انسانیت کی تعظیم، انسانوں کے ساتھ ہمدردی، آپسی محبت والفت، گھروں کا چین ، رشتہ داروں کے باہمی ربط وتعلق ، انسیت والفت سب کچھ چھین لیا۔

ہوس اورانسانیت کا زوال:۔ آج پوری دنیا ایک ہوس کی شکارہے، ہر کوئی ٹکنالوجی اور ترقی یافتہ علوم وفنون سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتاہے، یہ فائدہ انسانیت کے لئے نہیں بلکہ اپنے ذاتی اغراض ومقاصد کے لئے ہوتاہے۔ ہر شخص چاہتاہے کہ وہ اس ترقی یافتہ دور میں زیادہ سے زیادہ مال اکٹھاکرلے اور خوب سے خوب تر ہوجائے۔ لیکن دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہر شخص مایوسی کا شکار ہے۔ ہر ایک شک وشبہ کا مریض ہوگیاہے۔ انسانیت کو چھوت لگ گئی ہے۔ مفکر اسلام علی میاں ندویؒ نے 28دسمبر1974ء میں نیوانگلش کالج، سیول لائن الٰہ آباد میں پیام انسانیت کے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بڑے دردمندانہ انداز میں انسانی برادری کو ملک کے حالات سے باخبر کرتے ہوئے فرمایا :

’’اس وقت ہمیں جو ڈر ہے وہ یہ ہے کہ سب کے دل میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ ملک کا جو اتنا بڑا مسئلہ ہے اس کا تعلق لاکھوں، کروڑوں انسانوں سے ہے، اس میں تو کچھ ہونہیں سکتا، یہ تو وقت ضائع کرناہے اور اپنی توانائی برباد کرناہے اور فائدہ اس کا کچھ نہین ہے۔ یہ بڑی خطرناک ذہنیت ہے۔ اس وقت ملک کی جوکیفیت ہے وہ یہ ہے کہ ہر شخص وہ اپنی زبان سے نہ کہے، لیکن قریب قریب مایوس ہے اور وہ اپنے بچانے، بچانا نہیں بلکہ اپنے کو فائدہ پہنچانے اور زیادہ سے زیادہ فائدہ، وقت کی اس خرابی سے اور ملک کے غلط رخ پر پڑجانےکی وجہ سے زیادہ سے زیادہ ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہاہے۔‘‘ آپؒ نے ملک کی ایک مثال دی جو اگرچہ آپؒ نے اپنے ملک ووطن کے لئے دی تھی۔ لیکن یہ پوری دنیا کی حالت کی عکاسی ہے۔آپ نے فرمایا :

’’اس کی مثال میں نے ایک جگہ دی کہ اگر ہم اور آپ اخبارمیں پڑھیں کہ خدانخواستہ ایک ہوائی جہاز فلاں جگہ گرگیا اور جب وہ گرگیا تو اس کے چاروں طرف جودیہات کے لوگ تھے وہ ڑے اور کسی کی گھڑی کھول لی اور کسی کا پرس نکال لیا، غرض جوان کے ہاتھ لگالیا، توہم اور آپ کتنی نفرت کریں گے۔ کتنی لعنت بھیجیں گے ایسے سنگ دل لوگوں پر، یہ تو درندوں سے بھی بدتر لوگ ہیں کہ ایسی حالت میں ان کو یہ بات سوجھی۔‘‘ آگے چل آپؒ نے فرمایا :’’حضرات!! اب پورے ملک کی یہ حالت ہوگئی ہے کہ وہ بھی اس بدقسمت جہاز کی طرح ہوگیاہے جو حادثہ کا شکار ہوگیا ہو اور جمع ہونے والا بے درد مجمع مسافروں کی بے بسی سے یہی فائدہ اٹھارہاہو۔‘‘ (بحوالہ انسانیت کی مسیحائی)

آج پوری دنیا کی حالت کچھ ایسی ہی ہوگئی ہے۔ امریکہ ، اسرائیل، یوروپ، برطانیہ، جرمنی ، روس یا اور کوئی دنیا کے دوسرے خطوں پر حملہ آور ہورہاہے ، وہاں آباد لوگوں کی خواہ وہ کوئی ہو۔ لیکن اکثر مسلمانوں کو تہہ تیغ کردیا جاتاہے، جوانوں کو گولیوں سے بھون دیا جاتاہے، بچوں اور بوڑھوں کو بموں کی یلغار سے تباہ کیا جاتاہے۔ عورتوں کی عصمتیں لوٹی جاتی ہیں۔ یہ سب اسی جذبہ کا اظہار ہے کہ وہ ہوس کے شکار ہیں۔ ان کو اپنی پڑی ہے، انہوں نے پوری دنیا کو اسی بدقسمت جہاز کی مانند سمجھ لیاہے۔ اس کی وجہ ان کی مایوسی، زندگی سے بے اطمینانی، دل کا اجاڑ پن، سکون واطمینان کا غارت ہوجانا ہے۔ انسانیت زخمی ہے، اس کے زخموں سے خون رس رہاہے، اسی رسنے والے خون کے چھینٹیں ہمارے ملک ووطن کے فضاء پر بھی پڑرہی ہیں جس نے یہاں کے ماحول کو پراگندہ کردیاہے۔اسی کے نتیجہ میں کبھی سلمان رشدی تو کبھی تسلیمہ نسرین یہاں پناہ گزین ہوتے ہیں اور انسانیت کا مذاق اڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آج پھر اسلام نہیں بلکہ انسان دشمنوں نے آشوپریہارنامی ایک معصوم لڑکی کو رسول اکرمؐ کی توہین کے لئے میدان میں اتارا ہے، اور ساتھ ہی پاکستان کا شہر بدر ملحد و لادین طارق فتح کو بھی اس آزمائش کے لئے پیش کردیاہے۔

انسان کی دومتضاد خصوصیات :۔ انسان مٹی سے بنا ہے جس کی فطرت پستی، نفس پرستی ، لالچ ، ہواوہوس، خواہشات اور مال ودولت اور اپنے فائدہ کے لئے سب کچھ کرنے کا جذبہ ہے۔ لیکن اس کے بالکل برعکس انسان کی زندگی اور حیات کا انحصار روح پر ہے جس کی فطرت بلند پروازی، آزادی اور ایک ایسی فضا میں رہنے کی خواہش ہے،جہاں انس ومحبت، الفت وہمدردی کا راج ہو، جہاں مٹی کی الائشیں نہ ہوں، جہاں خلوص ہو، جہاں خلافت وملکویت ہو، اپنے خالق ومالک جس نے وجود بخشا اس کا سایہ ہو۔ لیکن دنیا میں اسی فضا کی کمی ہے۔ اسی خلوص کا فقدان ہے، جس سے پوری دنیا حیران وپریشان اور مایوسی کی شکارہے۔ دنیا کی یہ ترقی، ٹکنالوجی کی بلندی، آرام وآسائش کے سامان اس جذبہ کو ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس کو سکون نہیں پہنچاسکتے، اور اسی کمی کی وجہ سے انسانیت دم توڑرہی ہے اور یہی انسانیت کا زول کا سب سے بڑا سبب ہے اور جو کچھ ہورہاہے یہ اسی کا رد عمل ہے۔
مسلمانوں کی ذمہ داری:۔ ایسے حالات اور خطرناک صورت ھال میں بس ایک ہی چیز ہے جو انسانوں کو حقیقی انسانیت سے روشناس کرسکتی ہے۔ انسانوں کو انسان ہونے کا احساس دلا سکتی ہے۔ بھٹکے ہوؤں کو راہ نجات، ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے کا آلہ، سسکتی بلکتی انسانیت کی غمخواری وغمگساری، بے چین روحوں کو تسکین کا سامان فراہم کرسکتی ہے وہ ہے اسلام، قرآن اور نبی اکرمؐ کی سیرت اور آپ کی تعلیمات ہیں۔

آج سے قبل جب حضرت ابن ہشامؒ نے سیرت رسول اکرمؐ تحریر کی تھی،جب امام ترمذیؒ نے شمائل وخصائل جمع کئے تھے، جب امام بخاری ؒنے تاریخ کبیر اور سیرت رسول اکرمؐ سے متعلق احادیث جمع کئے تھے، اس وقت شاید اس کی اتنی ضرورت نہیں تھی ۔ کیوں کہ وہ زمانہ خیرالقرون کا تھا اور خیرالقرون سے قریب ترین تھا، وہاں لوگوں میں صحابہ کرامؓ کے ذریعہ عملی نمونہ موجود تھا، تابعینؒ وتبع تابعینؒ، علماء وصلحاء کی بڑی جماعتیں موجود تھیں جو تحریری نہیں بلکہ عملی نمونہ اور کردار رکھتے تھے۔ لیکن آج ہم جس زمانہ میں ہیں یہ خیرالقرون سے بہت دور ہے، غلط راستوں کی رہنمائی کرنے والوں کا ایک جم غفیر ہے، شروروفتن اپنے تمام اشکال کے ساتھ وجود پذیر ہے، فتنے نئی نئی شکلوں اور رنگ وروپ کے ساتھ ہمیں ٹھکانے لگانے گھات میں کھڑے ہیں۔ علماء، صلحاء مفکرین، دانشور تو ہیں کیوں کہ اس کے بغیر دنیا کا نظام ہی نہیں چلے گا۔ لیکن ہمیں شعور نہیں ہے۔ انسانوں کو ان کی پہچان نہیں ہے۔ ایسے میں وہ گوہر نایاب جو مردہ انسانیت کے لئے زندگی، زہر کے لئے تریاق، سسکتی ، بلکتی، دم توڑتی، انسانیت کے مرض کا مداوی، ٹوٹے، دکھے دلوں کا سہارا، بے چین روحوں کی تسکین کاسامان رکھتاہے وہ ہم مسلمانوں کے پاس ہے، جو اللہ کی ایک امانت اور ایسی امانت جس کے بارے میں کل بروز قیامت ہم سے پوچھ ہوگی۔ پھر ہم اس میں کوتاہی کے مرتکب ہوں گے تو پکڑے جائیں گے۔

ہماری ذمہ داری دوچند ہوجاتی ہے کہ زمانہ ماضی میں جو کچھ ان پر کام ہوا ہے اس سے کہیں زیادہ آج اس کی ضرورت ہے۔ قرآن فہمی، احادیث کی تشریحات، رسول اکرمؐ کی سیرت کی نشرواشاعت، صحابہ وصحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی ان تمام کے ساتھ ہمارے قریب ترین دور کے اسلاف صالحین کی زندگی، مسلم حکمرانوں کی صحیح اور سچی تصویر کی تصویر کشی کی جائے۔ دنیا میں سب کچھ ہے، لیکن خلوص وللہیت کا فقدان ہے۔ پوری مایوس انسانیت کی بیماری کا واحد علاج خلوص ودرد ہے۔ وہ درد وخلوص جو خدا کے پیغمبر لے کر آئے تھے ۔ اس امانت کے ہم امین ہیں، یہ ہماری دولت نہیں بلکہ یہ امانت ہے اللہ کی اس کے رسول کی، اسلام کی اور پوری انسانیت کی ہے۔

لہٰذا : ہم کو اس طرف بطور خاص توجہ دینی ہوگی اور ایک عزم کرنا ہوگاکہ رسول اکرمؐ کی سچی تصویر آپؐ کی صحیح صورت وسیرت جس سے دنیا بے بہرہ ہے وہ آج دنیا کے سامنے آجانا چاہئے۔ اس کے لئے ایک بہترین اسٹیج جمعہ کے خطبہ کا ممبر ہے جہاں حضرات خطباء عوام سے گفتگو کرتے ہیں، ان کو چاہئے کہ وہ رسول کی زندگی کے واقعات، قرآن میں مذکور انبیاء ورسل کے حالات پر مبنی واقعات لوگوں کو سنائیں۔ صحابہؓ کی زندگی پرپڑے ہوئے دبیز پردوں کو چاق کرکے ان کے حقائق انسانوں کے سامنے لائیں۔ دوسرا اسٹیج مضامین ومقالہ نگار کا ہے، اخبارات ورسائل میں روزانہ مضامین ومقالات شائع ہوتے ہیں۔ قلم کار حضرات دنیا، سیاست، اور حالات حاضرہ سے لوگوں کو اپنی تحریروں کے ذریعہ باخبر کرتے رہتے ہیں ایسے میں کتنا اچھا ہوتا کہ وہ اپنے اپنے انداز میں لوگوں کو نبی اکرمؐ، ان کے سچے جانشینوں، صحابہؓ اور بزرگان دین، علماء اسلاف صالحین کی حقیقی تصویر پیش کرتے اور لوگوں کو اس پر عمل کرنے پر آمادہ ومجبور کرتے، تو شاید غلط فہمی میں کمی آتی۔ افسوس کہ ہم مسلمان خود رسول اکرمؐ کی زندگی سے ناواقف ہیں۔ تو دوسروں تک کیوں کر یہ پیغام پہنچا سکتے ہیں۔سارا عالم جل رہاہے۔ جل کر بھن چکاہے۔ بس ضرورت ہے کہ ابر رحمت برسے اور ابر رحمت مسلمانوں کے سوا اور کون ہوسکتاہے۔ابر رحمت بن کر جہاں بھر چھایئے عالم یہ جل رہاہے برس کر بجھایئےاللہ توفیق سے نوازے آمین۔

ٹیگ
مزید دکھائیں

محمد شاہنواز عالم ندوی

فارغ التحصیل دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، بی اے (اردو) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد، ایم اے (اردو) مولانا مظہرالحق عربک، پرشیئن یونیورسٹی پٹنہ، سابق لکچرر اردو، عربی اور اسلامیات الامین پی یو کالج بنگلور ،سب ایڈیٹر روزنامہ سالار اردو بنگلور

متعلقہ

Close