سیرت نبویﷺ

نبی اکرم ﷺ کی رضاعی مائیں

مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی، ولادت کے بعد ابتدائی ایام میں آپﷺ کو آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ بنت وہب نے ہی دودھ پلایا، مؤرخین اور سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو سات دنوں تک دودھ پلایا(سبل الہدی والرشاد: ۱؍۳۷۵)حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلوی لکھتے ہیں کہ ولادت باسعادت کے بعدتین چار روز تک آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو دودھ پلایا۔ (سیرۃ المصطفی: ۱؍۶۸) سیرت حلبیہ میں ہے کہ آپ ﷺ کو آپ کی والدہ ماجدہ نے نودنوں تک دودھ پلایا ( سیرت حلبیہ: ۱؍۱۲۹)

(۱) ثُوَیْبَہ اَسْلَمِیَّہ

والدہ ماجدہ کے بعد حضرت حلیمہ سعدیہ کے پاس جانے سے پہلے آپ ﷺ کوآپ کے چچا ابولہب کی باندی حضرت ثویبہ نے دودھ پلایا، جس وقت آپ ﷺ نے دودوھ پیا اس وقت وہ آزاد ہوچکی تھیں؛ کیونکہ ابولہب کوبھتیجے کی ولادت کی خبرحضرت ثویبہ نے جس وقت دی تھی اسی وقت ابولہب نے ان کو آزاد کردیا تھا، اس کا صلہ ابولہب کو بھی ملا کہ اسے جہنم کی دہکتی ہوآگ میں تھوڑاسا پانی نصیب ہوگیا،روایت میں ہےکہ جب ابولہب مر گیا تو کسی گھر والے نے اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کہ تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا؟اس نےجواب دیا کہ جب سے تم سے جدا ہواہوں سخت عذاب میں مبتلا ہوں،البتہ ثویبہ کے آزاد کرنے کی وجہ سے تھوڑا سا پانی مل جاتا ہے۔(بخاری: ۵۱۰۱)

علامہ ابن کثیر نے علامہ سہیلی سے نقل کیا ہے کہ خواب دیکھنے والے حضرت عباس بن عبدالمطلب تھے، اور یہ خواب ابولہب کی وفات کے ایک سال بعد دیکھا، حضرت عباس ؓ نے فرمایا کہ(چونکہ ولادت اور آزادی پیر کے دن ہوئی اس لئے )ابولہب کو یہ راحت پیر کے دن ملتی ہے۔ (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر: ۱؍۲۲۴، البدایہ والنہایۃ : ۲؍۲۷۳)

حضرت ثویبہ نے آپ ﷺ کو اپنے بیٹے مسروح کے ساتھ  تقریبا چار ماہ دودھ پلایا، ان ہی ایام میں حضرت ثویبہ نے آپ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب اورابوسلمہ عبد اللہ بن عبد الاسد مخزومی کو بھی دودھ پلا یا اس طرح یہ نبی اکرم ﷺ کے رضاعی بھائی ہوئے۔ (زاد المعاد فی ہدی خیرالعباد: ۱؍۸۱)

حضرت ثویبہ کے اسلام قبول کرنے کے سلسلہ میں سیرت نگاروں اور مؤرخین کے درمیا ن اختلاف ہے، بہت سے حضرات ان کے مسلمان ہونے کے قائل نہیں ہیں، ابونعیم اصفہائی ؒ نے حلیۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ میرے علم کے مطابق متقدمین میں سے کسی نے ان کے اسلام کا ذکر نہیں کیا ہے۔(حلیۃ الاولیاء: ۶؍۳۲۸۴) علامہ قرطبی نے بھی لکھا ہے کہ انہوں نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا۔ (الاستیعاب: ۱؍۳۷۰)

جبکہ ابن سید الناسؒ کہتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا، البتہ عام مہاجرین کے ساتھ انہوں نے ہجرت نہیں کیا، اور علامہ علاء الدین مغلطائی نے مستقل ایک رسالہ لکھ کر ان کے اسلام کو ثابت کیا ہے، جس میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ابن حبان نے ایک حدیث کو صحیح قرار دیا ہے جس سے ان کا مسلمان ہونا ثابت ہوتا ہے، اور بعض حضرات نے ذکر کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو جس نے خاتون نے بھی دودھ پلایا وہ مشرف باسلام ہوئیں۔(سیرالصحابیات: ۵۳)

لیکن زیادہ تر محققین ان کے مسلمان ہونے کے قائل نہیں ہیں پھر بھی بہتر یہ ہے جب دونوں طرح کے اقوال ہیں تو ان کے اسلام وکفر کے بارے میں توقف کیاجائے، صحیح حقیقت حال سے اللہ واقف ہے۔

نبی اکرم ﷺ ہجرت کے بعد مکہ آنے جانے والوں کے ذریعہ ان کی خدمت میں تحفے اور کپڑے بھیجا کرتے تھے، سن سات ہجری میں خیبر سے واپسی کے موقع پر آپ ﷺ کو ان کی وفات کی خبر موصول ہوئی، آپ ﷺ نے اس موقع پر ان کے بیٹے مسروح کے بارے میں بھی پوچھا کہ ان کا کیا حال ہے تو آپ کو یہ بتایا گیا کہ مسروح کا ثویبہ سے پہلے انتقال ہوچکا ہے اور اب ان کا کوئی عزیز وقریب دنیا میں نہیں ہے۔ (الطبقات الکبری : ۱؍۸۷)

(۲)حلیمہ سعدیہ

عرب میں دستور تھا کہ شرفاء اپنے شیرخوار بچوں کو ابتداء ہی سے دیہات میں بھیج دیتے تھے تاکہ وہ دیہات کی صاف وشفاف آب وہوا میںاورشہر کی مخلوط تہذیب وزبان سے دور خالص عربی تہذیب میں نشوونما پائیں اور پروان چڑھیں،تاکہ زبان ان کی فصیح ہواور خالص عربی تمدن وخصوصیات سے وہ آراستہ ہوں، ایک مرتبہ خود نبی اکرم ﷺ نے اپنی زبان کی فصاحت کی وجہ یہی بتائی کہ آپ ﷺ قریش میں پیدا ہوئے اور بنوسعد میں آپ کی پرورش ہوئی۔(سیرۃ  المصطفی: ۱؍۷۰)

 شرفاء عرب میں جاری اسی دستور کے مطابق بنوسعد کی عورتیں شیرخوار بچوں کو مکہ آکر تلاش کرتیں اور مخصوص اجرت ومعاوضہ حاصل کرنے کی غرض سے انہیں لے کر جاتیں،جس سال نبی اکرم ﷺ کی ولادت باسعاد ہوئی تو حسب رواج بنوسعد کی خواتین مکہ آئیں جن میں حضرت حلیمہ سعدیہ بھی شامل تھیں۔ تمام خواتین نے آپ ﷺ کے گھر کی خستہ حالی اور آپ کی یتیمی کو دیکھ انکارکردیا تو حضرت حلیمہ سعد یہ نے اللہ سے برکت کی امید لگاکر اس یتیم کولے لیا جو درحقیقت یتیم نہیں بلکہ در یتیم تھے۔اس مولود کے مبارک ہونے کا احساس حضرت حلیمہ اور ان شوہرکو اسی وقت سے ہونا شروع ہوگیا جس وقت انہوں نے ان کو گود لیا۔چناں چہ اگلے دن ہی ان کے شوہرنے اپنے احساسات کا ان الفاظ میں اظہار کیا:

تعلمی واللہ یا حلیمۃ لقد اخذت نسمۃ مبارکۃ (عیون الاثر: ۱؍۹۲)

’’اے حلیمہ خوب سمجھ لو کہ خدا کی قسم تم نے بہت ہی مبارک بچہ لیا ہے ‘‘

حضرت حلیمہ بنت ابو ذؤيب بن عبد الله بن الحارث قبیلۂ ہوازن کی شاخ بنو سعد سے تعلق رکھتی تھیں، ان کے شوہر حارث بن عبد العزی بھی اسی قبیلہ کے تھے۔

حضرت حلیمہ سعد یہ کو ایک بیٹا : عبد اللہ اور دوبیٹیاں: انیسہ، اور حذافہ تھیں، حذافہ شیما ء کے نام سے مشہور تھیں۔آپﷺ کے ان رضاعی بھائی بہنوں میں سے عبد اللہ اور  حذافہ( شیماء) مشرف بہ اسلام ہوئے، بلکہ شیما تو ایسی بہادر خاتون ہیں جس نے اپنے قبیلہ کے ارتداد کےفتنہ کا مقابلہ کیا اور فتنہ کے ختم ہونے تک اسلام کا دفاع کیا۔

دوسری رضاعی بہن انیسہ کے بارے میں بھی علامہ ابن حجر عقسلانی نے لکھا ہے کہ وہ مشرف بہ اسلام ہوئیں، سیرت حلبیہ میں بھی اسی کو نقل کیا گیا ہے۔ (سیرت حلبیہ: ۱؍۱۳۰)

حضرت حلیمہ سعدیہ ؓ نے آپ ﷺ کو دو سال تک دودھ پلایا، مدت رضاعت مکمل ہونے پر دودھ چھڑاکرحسب معاہدہ آپ کو مکہ لے کر توآگئیں، لیکن ان کی تمنا تھی کہ اس مبارک مولود کو کچھ دنوں مزید رکھنے کی سعادت مل جائے، ادھر جب مکہ پہونچیں تو معلوم ہوا کہ مکہ میں وبا پھیلی ہوئی ہے تو ان کی گزارش پر آپ کی والدہ اور دادہ نے ان کی گزارش کو قبول کرنا ہی بہتر سمجھا، اس طرح آپ ﷺ دوبارہ حضرت حلیمہؓ کے پاس ہی رہے، اورچار سال کی عمر تک آپ ﷺ ان کے پاس ہی رہے، چار سال کی عمر میں جب پہلی بار شق صدر کا واقعہ پیش آیا تو حضرت حلیمہ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں کوئی صدمہ اور حادثہ نہ ہوجائے اس لئے آپ کو والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کے پاس لے کر آگئیں۔

جب نبی اکرم ﷺ کی شادی حضرت خدیجہ ؓ سے ہوچکی تھی اس وقت حضرت حلیمہ دوبارہ مکہ آئیں اور آپ ﷺ سے اپنے علاقہ کی قحط زدگی کا تذکرہ کیا، آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓسے ان کے بارے میں بات کرکے ان کومدد کی ترغیب تھی، جس پر حضرت خدیجہ نے انہیں چالیس بکریاں دیں۔

آپ ﷺ کے نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد ایک بار اپنے شوہر کے ساتھ بھی مکہ آئیں اور اس سفر میں دونوں مشرف بہ اسلام ہوئے۔

غزوہ حنین کے موقع پر آپ ﷺ صحابہ کرام کے ساتھ جعرانہ میں موجود تھے، صحابہ کرام ؓ نے دیکھا کہ ایک خاتون تشریف لائیں تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے اکرام میں چادر بچھایا اور ان کو اس پر بٹھایا، صحابی رسول حضرت ابوالطفیل ؓکہتے ہیں کہ میں نے صحابہ ؓسےپوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو صحابہؓ نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی رضاعی ماں حضرت حلیمہ سعدیہؓ ہیں۔(ابوداؤد: ۵۱۴۴، مستدرک حاکم : ۷۲۹۴)

حضرت حلیمہ سعدیہ ؓکی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی اور وہ جنت البقیع میں محوخواب ہیں۔

(۳) ام فروہ

حافظ ابوالعباس جعفربن محمد مستغفری نے آپ کی رضاعی ماؤں میں ام فروہ کا بھی ذکر کیا ہے، اور انہیں سے دیگر سیرت نگاروں نے اس کو نقل کیا ہے،صاحب سیرت حلبیہ لکھتے ہیں:

وأرضعته صلى الله عليه وسلم أم فروة(سیرت حبلیہ : ۱؍۱۲۹)

آپ ﷺ کو ام فروہ نے دودھ پلایا۔

ان کی حالات زندگی کی تفصیلات کتابوں میں نہیں مل سکی۔

(۴،۵،۶) بنوسلیم کی تین خواتین

سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ آپ ﷺ کو بنوسلیم کی تین کنواری لڑکیوں نے بھی دودھ پلایا،انہوں نے اپنا سینہ جونہی نبی اکرم ﷺ کے منہ سے لگایا دودھ جاری ہوگیا، جسے آپ ﷺ نے پیا، اور اتفاق یہ کہ ان تینوں کا نام عاتکہ تھا۔ (السیرۃ الحلبیہ: ۱؍۱۲۹)

ان کے علاوہ بھی بعض خواتین کے نام رضاعی ماں کے طوپر ملتے ہیں، لیکن اکثر سیرت نگاروں نے انہیں رضاعی ماں تسلیم نہیں کیا ہے، اس لئے یہاں ان کو ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

مزید دکھائیں

مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

استاذ حدیث وفقہ جامعہ عائشہ نسوان حیدرآباد ، الہند

متعلقہ

Close