سیرت نبویﷺ

نبی رحمت ﷺکا گھرانہ

محمد صابر حسین ندوی

        انبیاء کرام علیھم السلام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسانوں ہی کی جماعت میں سے تھے، اسی لئے ان کی زندگی ایک نمونہ اور اسوہ قرار پائی، بالخصوص حضور اکرم ﷺ کی زندگی میں بشری تقاضوں اور ضرورتوں کا خیال بدرجہ اتم پایا جاتا ہے، معجزات سے زیادہ عمل اور کار میدان کا عنصر غالب نظر آتا ہے، آپ کا سب سے بڑ امعجزہ قرآن کریم ہے، جو کسی خارق العادۃ اشیاء کی ترغیب نہیں دیتا اور نہ یہ اس کے شایان شان ہے؛ بلکہ وہ عین عمل، جہد اور بشری حیثیتوں کو بلند کرتا ہے، خود آں جناب ﷺ نے اسی کے مطابق زندگی بسر کی اور اسی کی طرف دعوت دیتے ہوئے جان جان آفریں کے سپرد کردی، اس لئے قرآن نے آپ کے بارے میں صاف طور پر اعلان کردیا ہے؛ کہ آپ ایک انسان ہیں، اور خدائے وحدہ کی جانب سے بھیجے ہوئے رسول ونبی اور پوری انسانیت کیلئے اسوہ حیات ہیں، زندگی انہیں کے قدموں پر چلے گی تو ہی راہ یاب ورنہ ضلالت وگمراہی کے دلدل میں دھنس جائے گی۔

        یہ بھی خیال رہے کہ ایک انسان کیلئے مصیبت کی گھڑی میں اہل و عیال کا پہلو رحمت خداوندی میں سے ہے، زمانہ کا غم ان کی صحبت میں کافور ہوجاتا ہے، حوصلوں اور امیدوں کی جوت جگتی ہے، اور انسان پر عزم ہو کر اپنے مقصدر کی جانب رواں دواں ہوتا ہے،حضور اکرمﷺ جس بار الہی سے مشرف تھے، اس کا عین تقاضہ یہ بھی تھا کہ ا س دنیا میں روحانیت کے ساتھ مادیت کی بھی تسکین کا سامان ہو، وہ منصب نبوت کے فرائض میں معاون و ممد ثابت ہوں، جس کا اندازہ اس لمحہ سے کیا جاتا سکتا ہے ؛کہ جب آں حضرت ﷺ نے پہلی دفعہ جبرئیل علیہ السلام کی زیارت کی اور اجنبیت کی وجہ سے جو ہیبت آپ پر طاری ہوئی، اس وقت آپ ﷺ کی شریک حیات حضرت خدیجہ کے تسلی بھرے اقوال نے کیا عمل کیا، عین قوی و اعصاب پر مضبوطی گہرا اثر پڑا، نامانوسیت جاتی رہی، اور آپ آئندہ کی ملاقات کیلئے تیار ہوگئے، ذہنی کوفت سے دور ہوگئے، اور خود کو بار نبوت کیلئے تیار کرلیا۔

        آپ ﷺ کی پیدا ئش جس گھرانے میں ہوئی وہ مکہ مکرمہ کا سب سے معزز گھرانہ تھا، آپ کے والدعبداللہ پیدائش سے پہلے اور والدہ محترمہ آمنہ سن شعور سے قبل وفات پاچکی تھیں، آپ نے دادا بزرگوار عبدالمطلب اور چچا خواجہ ابوطالب کے زیر رحمت و محبت پرورش پائی،عہدہ نبوت سے چالیس کی عمر میں سرفراز ہوئے، اس وقت آپ کا گھرانہ بہت محدود ہو چکا تھا، آپﷺ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا سے عقد کر چکے تھے، اور ان کے ساتھ ہی رہتے تھے،یہ خدیجہ بنت خویلد پہلی خاتون ہیں جو حرم نبی میں داخل ہوئیں، اور سب سے زیادہ محبوب بیوی کا درجہ پایا، وہ اسلام کیلئے ناصر وحامی تھیں، اور ہر طرح آپﷺ کی مدد فرمایا کرتی تھیں، ان کی وفات کے بعد بھی ان سے محبت واحسان شناسی کا یہ عالم تھا؛ کہ آپﷺ ان کا ہمیشہ ذکر فرماتے رہتے،کبھی ایسا ہوتا کہ کوئی بکری ذبح کی جاتی تو آپﷺ اس کے مختلف حصے علیحدہ کرکے حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کے پاس بھجواتے تھے، حضرت عائشہ سے ایک متفق علیہ روایت ہے کہتی ہیں :’’مجھے رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی پر اتنا رشک نہیں آیا،جتنا خدیجہؓ پر، حالانکہ میں نے ان کو دیکھا بھی نہیں ہے۔

        آپﷺ کی ساری اولادیں ان کے بطن سے ہوئیں، سوائے حضرت ابراہیم کے جو آپ کی باندی ماریہ قبطیہ کے بطن سے تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھاسے چھ اولادیں ہوئیں، دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیں، ایک صاحبزادے کا نام ابولقاسم تھا، ان ہی کے نام پر آپﷺ کی کنیت ’’ابولقاسم‘‘ تھی، دوسرے عبداللہ نامی فرزند تھے، جن کا لقب طیب و طاہر تھا؛لیکن افسوس بچپن ہی میں ان کی جدائیگی کا غم کھانا پڑا۔ صاحبزادیاں زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ، ان میں سب سے محبوب تھیں۔ حضرت زینب ؓ کی شادی ہجرت سے پہلے ان کے پھوپھی زاد بھائی حضرت عاص بن ربیع سے ہوئی۔ رقیہ اور ام کلثوم کی شادی یکے بعد دیگر ے حضرت عثمان رضی اللہ سے ہوئی۔حضرت فاطمہؓ کی شادی جنگ بدر اور جنگ احد کے درمیانی عرصہ میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، اور ان کے بطن سے حضرت حسن و حسین، زینب اور ام کلثوم پیداہوئے۔

        حضور اکرم ﷺ کو امت مسلمہ پریہ امتیازحاصل تھا کہ آپ چار سے زائد شادیاں کر سکتے تھے، اسی لئے جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا ایک لمبے عرصے کی رفاقت کے بعد داغ مفارقت دے گئیں، توآپﷺ نے پھرحضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنھا سے نبوت کے دسویں سال ماہ شوال میں شادی کی،جو اپنے چچیرے بھائی سکران بن عمرو کی بیوہ تھیں۔ پھر آپ نے گیارہویں سال ماہ شوال میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاکو رفیقہ حیات کے طور پر منتخب فرمایا،لیکن رخصتی ہجرت کے چھ یا سات ماہ بعد ہوئی تھی،تمام ازواج مطہرات میں آپ باکرہ تھیں، اور کم عمر بھی ؛لیکن آپ رضی اللہ عنھاکی خصوصیت اس قدر تھی کہ امت آج تک ان کے فیض سے مستفیض ہورہی ہے، آپ تمام عورتوں میں سب سے زیادہ فقیہ اور صاحب علم تھیں ؛حتی کہ اکابر صحابہ کرام بھی آپ سے رجوع کرتے تھے، آپ غایت درجہ کریم اخلاق، جود و سخا اور اور شفقت ودلداری کرنے والی اور خدا ترس خاتون تھیں۔

        آں حضرتﷺ نے چوتھی شادی سنہ ۳ ھجری میں حضرت حفصہ بنت عمر بن خطاب ؓ سے کی،ان کے پہلے شوہر حضرت خنیس بن حذافہ سہمی ؓکا انتقال ہوگیا تھا، آپ بھی بڑی سوجھ بوجھ والی خاتون تھیں۔ سنہ ۴ ھجری میں ام المساکین حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ سے عقد کیا،جو قبیلہ بنو صعصعہ سے تعلق رکھتی تھیں، ان کے شوہر عبداللہ بن جحش جنگ احد میں شہید ہوگئے تھے،آپ بہت زیادہ مسکینوں پر رحم و کرم اور رقت و محبت رکھتی تھیں، مگر صرف آٹھ ماہ حرم نبوت میں رہ کر وفات پاگئیں۔ اسی سال ماہ شوال میں چھٹا عقد آپﷺ نے ام سلمہ ہند بنت ابی امیہ سے فرمایا جو ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی بیوہ تھیں۔ پھر آں حضرت ﷺ نے سنہ ۵ ھجری ؍ذی قعدہ میں زینب بنت جحش ؓ سے نکاح فرمایا،یہ قبیلہ بنو اسد بن خزیمہ سے تعلق رکھتی تھیں، آپﷺ کی پھوپھی کی صاحبزادی تھیں۔ ان کی شادی پہلے حضرت زید بن حارثہ جو آپﷺ کے لے پالک بیٹے تھے، لیکن نباہ نہ ہونے کی صورت میں طلاق ہوگیاتھا،سورہ احزاب کی متعدد سورتوں اس کا بیان ہے،اس نکاح کے ذریعہ متبنی پر وارد جاہلی رسوم کا خاتمہ کیا گیا تھا۔

        سنہ ۵ یا ۶؍ شعبان کا وقعہ ہے، آپ ﷺ نے آٹھواں عقد حضرت جویریہ بنت حارث ؓ سے کیا، ان کے والد بنو مصطلق کے سردار تھے، آپ قیدی بنا کر لائی گئیں تھیں، اور تقسیم میں حضرت ثابت بن قیس بن شماش ؓ کے حصہ میں آئیں ؛لیکن آپ نے ان سے ایک خاص رقم پر آزادی کامعاہدہ کرلیا، حضور ﷺ نے وہ رقم دلواکر آزادی دلوائی اور پھر ان کی عزت و توقیر اور سرداری کا خیال رکھتے ہوئے ؛نبی رحمت کی رفاقت کا شرف بخشا۔ پھر آپﷺ نے ابوسفیان کی بیٹی ام حبیبہ رملہ سے شادی کی جو اپنے شوہر کے ساتھ حبشہ ہجرت کر کے گئی تھیں، لیکن ان کے شوہر مرتد ہوگئے، آپﷺ نے ازراہے مدارات ان سے تعلق قائم فرمایا۔فتح خیبر کے بعد نبی کریم و نے دسواں عقد حضرت صفیہ بنت حی بن اخطب سے کیا، جو بنی اسرائیل سے تھیں، اور خیبر کے جنگ میں قیدی بنا کر لائی گئی تھیں، آپﷺ نے انہیں آزاد کر کے شادی کرلی۔ اخیر میں ذی قعدہ ۷ ھجری عمرہ قضا سے فارغ ہونے کے بعدآپ ﷺ نے حضرت میمونہ بنت حارث  ؓکو زوجیت کا شرف بخشا، جو ام الفضل لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی بہن تھیں۔

        آپﷺ کی گیارہ بیویوں میں سے دو بیویاں (حضرت خدیجہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ) حیات مبارکہ میں ہی انتقال کر گئیں تھیں۔ اس کے علاوہ دو اور خواتین جن سے آپ نے عقد کیا ؛لیکن ان کی رخصتی نہ ہو سکی، ان میں سے ایک قبیلہ نبو کلاب سے اور دوسری قبیلہ کندہ سے تعلق رکھتی تھیں، موخر الذکرکے عقد کے سلسلہ میں خاصا اختلاف نقل کیاجاتا ہے؛ بہر حال ان خواتین کے علاوہ آپﷺ کی دو لونڈیاں تھیں، ایک ماریہ قبطیہ جن کو فرمانروائے مصر مقوقس نے ہدیہ کے طور پر بھیجا تھا،اور انہیں کے شکم مبارک سے آپﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے، جو بچپن ہی میں ۲۸یا ۲۹ شوال ؍۱۰ھجری میں وفات پاگئے۔دوسری لونڈی ریحانہ بنت زید تھیں جو یہود کے قبیلہ سے تعلق رکھتی تھیں، بعض محققین کا خیال ہے کہ آپ نے ان سے شادی کر لی تھی، مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دو اور لونڈیاں تھیں، ایک کا نام جمیلہ تھا،جو کسی جنگ میں گرفتار ہو کر آئیں تھیں، اور دوسری لونڈی جنہیں حضرت زینب بنت جحش نے ہبہ کیا تھا۔(دیکھئے:زادالمعاد:۱؍۲۹)

        یہ خانہ نبوت ہے، آج مغرب اور کم ذہن لوگ حضور اکرم ﷺ اور اسلام کے تعدد ازواج پر اعتراض کرتے ہیں، اور آپ ﷺکے حق میں ناشبیہ کلمات کا انتساب کرتے ہیں، یہ محض عصبیت اور جاہلانہ رویہ ہے،ایک انگریز مصنف مسٹر بوڈلے نے رسو ل اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کے مسئلہ میں اس مغربی احساس اور طرز فکر پر بہت جرأت اور انصاف سے تنقید کی ہے، محض اسے پڑھ لینا ہی کافی ہے،وہ اپنی کتاب(دی میسنجر، دی لائف آف محمد:۲۰۲۔ ۲۰۳) میں لکھتے ہیں :’’محمد وﷺکی ازدواجی زندگی کو نہ تو مغرب کے پیمانے سے جانچنے کی ضرورت ہے،اور نہ ان رسوم و قوانین کے نقطہ نظر سے جنہیں عیسائیت نے جنم دیا ہے،یہ لوگ نہ مغربی تھے نہ عیسائی ؛بلکہ وہ ایک ایسے ملک میں اور ایک ایسے زمانہ میں پیدا ہوئے تھے،جبکہ ان کے اپنے ضابطہ اخلاق کا ہی چلن تھا،اس کے باوجود امریکہ و یوروپ کے ضابطہ اخلاق کو عربوں کے ضابطہ اخلاق سے بہتر سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، مغرب کے پاس مشرق کو دینے کیلئے بہت کچھ ہے،لیکن اپنے طریقہ زندگی کو بہتر اور اپنے ضابطہ اخلاق کو اعلی ثابت کرنے کیلئے تو انہیں ابھی چھان بین کرنے کی ضرورت ہے،لہذا انہیں دوسروں کے مذہب وتمدن پر نکتہ چینی کرنے سے احتراز کرنا چاہئے‘‘۔

        یہ حقیقت ہے کہ آں حضرتﷺ نے اپنی جوانی کا سب سے زیادہ حصہ ایک ہی خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکے ساتھ گزارا جو عمر میں خاصا تفاوت رکھتی تھیں، بقیہ شادیاں اخیر کے دس بارہ سالوں میں کی گئی ہیں، جو خاص مصلحت اور تقاضہ کی بنا پر تھیں، عرب کی تاریخ یہ بتلاتی ہے کہ ان میں حرمت مصاہرت کا پاس و لحاظ بہت زیادہ تھا، جو یقینا اسلام کی اشاعت اور خاص طور سے خواتین میں اسلام کی تبلیغ کا اہم ذریعہ ثابت ہوئیں، یہ سمجھ لینا چاہئے کہ مغرب جو تعدد ازدواج پر واویلہ کرتا ہے، وہ خود تلخ و بد نصیبی اور مایوسی کی زندگی سے دوچار ہے،ان کا نظام معاشرت بکھر کر رہ گیا ہے،پورا کا پورا آوی جرائم پیشہ اور سوائیوں، ذہنی بیماریوں اور تعدد ازدواج کے اصول سے ہٹ کر ناجائز رشتوں کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے، عورت کی حیثیت ردی کاغذ سے بھی گئی گزری ہوگئی ہے،ایسے میں ان مصیبت بلکہ عذاب الہی کے ماروں سے بحث و جدل کرنا وقت کا ضیاع ہے،اہل یوروپ کی بد بختانہ زندگی تعدد ازدواج کے اصول کو مبنی برحق ثابت کرنے کیلئے سچی گواہی ہے، اور سمجھنے والوں کیلئے اسی میں درس وسبق ہے۔(دیکھئے:ازدالمعاد:۱؍۲۶ ومابعدہا۔ الرحیق المختوم: ۷۳۹ ومابعدہا)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close