سیرت نبویﷺ

نبی ﷺ کی تین انمول نصیحتیں

حضرت ابوایوب انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت ِعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِاقدس میں ایک شخص نے آکر عرض کیا:’’مجھے نصیحت کیجیے اور مختصر نصیحت کیجیے ‘‘ تو حضور  صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اُس شخص کی طرح نماز پڑھ جو رخصت کرنے والا ہو، اور کوئی ایسا کلام نہ کر جس سے تجھے آئندہ کل عذر کرنا پڑے،  اور اُس چیز سے ناامید ہوجا جولوگو ںکے ہاتھوں میں ہے۔

مثل مشہور ہے کہ’’ بڑوں کا کلام بھی بڑا ہوتا ہے ‘‘ ان کے کلام میں یہ کمال ہوتا ہے کہ بظاہرمختصر مگر نہایت جامع ہوتا ہے،  حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے اونچے مرتبہ پر فائز ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو منجانب اﷲ جوامع الکلم کی خصوصیت بھی عطا فرمائی گئی ہے،  اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا مختصر کلام بھی مکمل،مدلل اور جامع ہوتا ہے،  آپ صلی اللہ علیہ و سلم بڑے بڑے حقائق مختصر لفظوں میں بیان فرمادیا کرتے ہیں، گویاآپ صلی اللہ علیہ و سلم کا کلام ’’دریابکوزہ‘‘ کا مصداق ہوتا ہے۔  پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے کلام میں اختصار کے باوجود تفہیم کی پوری صلاحیت ہوتی تھی۔ حق یہ ہے کہ نوعِ انسانی نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے کلام سے زیادہ عمومی نفع کا حامل کلام نہ پہلے کبھی سنا،نہ بعد میں کبھی سنے گی،آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا کلام تکلف سے پاک اور ہیبت و حلاوت کا گویاسنگم ہوتاہے۔

حدیث ِبالا اس کی بہترین مثال ہے،  جس میں سائل نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے مختصر نصیحت کرنے کو کہا، تو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی بے تکلف نصیحت فرمادی۔پیارے نصیحت کرتے رہیے،  اس لیے کہ آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں۔ ’’مُذَکِّر‘‘آپ کی صفت ہے۔

پہلی نصیحت اصلاحِ اعمال کے لیے : اس لیے جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے نصیحت کی درخواست کی گئی، توفرمایا: اِذَا قُمْتَ فِی صَلٰوتِکَ فَصَلِّ صَلٰوۃَ مُوَدِّعٍیہ پہلی نصیحت ہے،  اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ نماز ایسی پڑھو گویا یہ آخری نماز ہے۔ کیوںکہ یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ فجر پڑھنے والے کو معلوم نہیں کہ اسے ظہر پڑھنے کا موقع ملے گا یانہیںاورظہر سے فارغ ہونے والے کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ عصر و مغرب اورعشا کی نماز اداکرنے کی فرصت ملے گی یانہیں۔ اس حقیقت کی طرف قرآنِ کریم نے یوں اشارہ فرمایا: وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَداً (لقمان)کس کے ساتھ کل کیامعاملہ ہوگا؟یہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیںجانتا،اس لیے آج جو بھی نماز پڑھی جائے وہ آخری سمجھ کر پڑھی جائے،  اس سے یقیناً نماز میں خشوع پیداہوگا۔

دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس وقت نماز کے لیے کھڑے ہو تو ماسوا اﷲ کو بالکل رخصت کرکے ساری توجہ اﷲتعالیٰ کی طرف کر لو، اس طرح نماز پڑھنے کا فائدہ یہ ہوگاکہ خشوع و خضوع کی کیفیت پیدا ہوگی، جو مطلوب و مقصود ہے،  اس سے نماز کی اصلاح ہوگی، حضرت مولانا قمرالزماں مدظلہ فرماتے ہیں: نماز میں خشوع و خضوع پیدا کرنے کا اس سے بہتر علاج اور کیا ہوسکتا ہے ؟بزرگوں کی تمام تدابیرایک طرف، اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیم ایک طرف، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کتنا نافع علاج تجویز فرمایا،آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایت و نصیحت میں کس قدرنافعیت ہے،  اندازہ لگائیے۔

اس نصیحت پر عمل کرنے سے تمام اعمال کی اصلاح ہوگی،کیوںکہ محدثین کی تشریح کے مطابق اس حدیث شریف کا مطلب بھی یہی ہے کہ صرف نماز ہی نہیں، بلکہ ہر عمل کو اِس تصور کے ساتھ کرو گویا یہ تمہارا آخری عمل ہے۔

ایک واقعہ : چناںچہ صحابہ کرامؓ اور بزرگوں کا طرزِ عمل یہی تھا، سلیمان بن عبدالملک ایک مرتبہ حضرت ابو حازم ؒ کی خدمت میں پہنچے،  اور سوال کیا کہ حضرت ! کیا وجہ ہے کہ موت سے ہمیں خوف ہوتا ہے ؟ حضرتؒ نے فرمایا: ’’اس لیے کہ تم نے دنیا کو آباد اور آخرت کو برباد کیا، ظاہربات ہے کہ ہر شخص آبادی سے ویرانی کی طرف جانے سے خوف ہی کرتا ہے، سلیمان نے کہا: آپ نے بالکل سچ فرمایا، پھر کہا:حضرت! ہمیں یہ کیسے معلوم ہو کہ ربِ کریم کے یہاں ہمارا کیا حال ہوگا؟ یعنی مرنے کے بعد کیاہوگا؟حضرتؒ نے فرمایا:اپنی حالت قرآنِ کریم کے سامنے پیش کرو، تمہیں اللہ تعالیٰ کے یہاںکا اپنا حال معلوم ہو جائے گا، قرآن کہتا ہے :اِنَّ الأَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ وَِاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍ(الانفطار)یقین رکھو کہ نیک لوگ یقیناً بڑی نعمتوںمیں ہوںگے،  اور بدکار لوگ ضرور دوزخ میں ہوںگے۔ سلیمان نے کہا: حضرت! پھر اللہ کی رحمت کہاں گئی؟ فرمایا: وہ تو نیکوں اور محسنوں کے قریب ہے،  قرآن پاک میں فرمایا:اِنَّ رَحْمَۃَ اﷲِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(الأعراف )یقیناً اللہ کی رحمت نیک لوگوں سے قریب ہے۔ سلیمان نے کہا: حضرت! مرنے کے بعد باری تعالیٰ کے دربار میں ہم کیسے جائیں گے ؟ فرمایا: نیک لوگ تو اس طرح دربارِ الٰہی میں حاضر ہوںگے جیسے سالوں کے بعدسفر سے لوٹنے والا مسافر جب گھر آتا ہے تو بہت خوش ہو کر آتا ہے،  اور برے لوگ اس طرح پیش کیے جائیں گے جیسے مدتوں سے بھاگا ہوا مجرم اورغلام جب پکڑا جاتا ہے تو حسرت کناں اورخوفزدہ ہوتا ہے، یہ سن کر سلیمان بن عبدالملک رونے لگے،  اس کے بعد کہا: حضرت! آپ نماز کس طرح پڑھتے ہیں؟ فرمایا :جب نماز کا وقت ہوتا ہے تو اولاً جملہ فرائض وسنن اور آداب کی رعایت کے ساتھ کامل اور مکمل وضو کرتا ہوں، پھر قبلہ کی طرف منھ کر کے کعبۃ اﷲکو سامنے،  جنت کو دائیں،  جہنم کو بائیں، پل صراط کو نیچے، موت کو پیچھے اور حق تعالیٰ کو علیم وخبیر تصور کر کے اس خیال سے نماز پڑھتا ہوںکہ یہ میری زندگی کی آخری نماز ہے۔  یہ حضرات ’’فَصَلِّ صَلٰوۃَ مُوَدِّعٍ‘‘ پر حقیقی اور صحیح معنیٰ میں عمل کرنے والے تھے۔  سلیمان نے عرض کیا: حضرت! کتنے عرصہ سے آپ اس طرح نماز پڑھتے ہیں؟فرمایا: الحمد ﷲ، چالیس سال سے یہی معمول ہے۔سلیمان نے کہا: کاش!زندگی میں ایک نماز

 بھی ایسی نصیب ہو جائے تو کامیاب ہوں(کراماتِ اولیاء)

میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی

میں اسی لیے  مسلماں،  میں اسی لیے  نمازی

دوسری نصیحت اصلاحِ اقوال کے لیے:دوسری نصیحت یہ فرمائی کہ ’’وَلاَ تَکَلَّمْ بِکَلَامٍ تَعْذِرُ مِنْہُ غَداً‘‘کوئی ایسا کلام زبان سے نہ نکل جائے جس کی وجہ سے بعد میں شرمندگی ہو۔ اس سے اصلاحِ اقوال کی طرف رہبری فرمائی گئی ہے،  کیوںکہ زبان سے نکلی ہوئی بات اور کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں ہوتا، کیا تیر کو کمان سے چھوٹ کر کمان میں واپس آتے ہوئے کسی نے دیکھاہے ؟ جیسے سوچ سمجھ کر تیر چلایاجاتاہے،  ایسے ہی سوچ سمجھ کر زبان چلائی جائے۔ منقول ہے کہ کسی موقع پر مختلف ممالک کے چار حکمران جمع ہوئے،  اور ہر ایک نے ایک ایک ایسی بات کہی گویا ایک ہی کمان سے نکلے ہوئے تیر ہیں:

1۔ شاہ کسرٰی نے کہا کہ جو بات میں نے کہی نہیں اس پر ندامت نہیں، البتہ کہی ہوئی بات پرکبھی ندامت بھی ہوتی ہے۔

2۔ شاہِ چین کہنے لگاکہ جو بات میں نے کہی نہیں وہ میرے قابو میں ہے،  مگر جب میں نے کوئی بات کہہ دی تواب وہ میرے قابو میں نہیں رہی۔

3۔ شاہِ روم کہتاہے کہ جو بات میں نے نہیںکہی مجھے اس کے کہنے کی طاقت ہے،  مگر جو بات میں کہہ چکا مجھے اس کے ردکرنے کی طاقت نہیں۔

4۔ شاہِ ہند کاکہناتھا کہ تعجب ہے اس شخص پر جو ایسی بات کرے کہ جب اس کا چرچا کیا جائے تو نقصان ہو، اور اُسے عام نہ کیاجائے تو نفع بھی نہ ہو۔ خلاصہ وہی ہے جس کا حدیث بالا میں ذکر کیاگیا۔اِس کا عام مفہوم تو یہی ہے کہ جب بھی کوئی بات کہے تو سوچ سمجھ کرکہے،  تاکہ بعد میں دوست، احباب اور لوگوں کے سامنے غلط بیانی یا فضول گوئی پر عذر خواہی نہ کرنی پڑے۔

دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ آج جو کچھ بولتے ہو صحیح بولو! کیوںکہ تمہاری زبان کا ہر قول ربِ کریم کے یہاں محفوظ ہوتا ہے،  قرآنِ پاک میں فرمایا:’’مَایَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّالَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْد‘‘(قٓ) انسان کوئی لفظ زبان سے نہیںنکال پاتامگر اس پر ایک نگران مقرر ہوتاہے۔مطلب یہ ہے کہ جب تمہارا ہر قول محفوظ و مکتوب ہے تو غلط بولنے پر کل قیامت کے دن عنداﷲ پکڑ ہوگی، پھر وہاں شرمندگی ہوگی، اس لیے ضروری ہے اے انسان! کہ زبان کا بول پہلے شریعت کی میزان میں تول، پھر بول، یہ مومن کی علامت ہے کہ مومن سوچ کر بولتاہے،  او رمنافق بول کر سوچتاہے۔

تیسری نصیحت اصلاحِ اخلاق کے لیے :تیسری نصیحت یہ فرمائی کہ اس میں اخلاق کی اصلاح فرمائی کہ لوگوں کے مال و دولت پر نظر مت کرو۔ فرمایا فَذَرْہُمْ یَاکُلُوْا وَیَتَمَتَّعُْوْا(الحجر)انہیںان کی حالت پر چھوڑدو کہ یہ خوب کھالیںاور مزے اڑالیں۔بس اﷲ تعالیٰ نے تمہیں حلال طریقہ سے کمانے پر جو کچھ دے دیااس پر قانع و صابر ہی نہیں، بلکہ شاکر بھی رہو۔ اسی میں عزت اور عافیت ہے،  عربی کا شاعر کہتا ہے :

اِضْرَعْ اِلٰی اﷲِ، وَ لَا تَضْرَعْ اِلٰی النَّاسِ

وَاقْنَعْ بِیَأسٍ فَاِنَّ الْعِزَّ فِی الْیَأسِ

اﷲ پاک کے سامنے عاجزی کرو، لوگوں کے سامنے خوشامدنہ کرواور قناعت اختیار کرو، لوگوں سے طمع نہ کرو، کیوںکہ عزت لوگوں سے نا امید ہونے میں ہے۔

قارئین کرام !یاد رکھو کہ جب آدمی کسی عزیزقریب وغیرہ سے امید وابستہ کر لیتا ہے،  پھر اگر اس کی امید پوری نہیں ہوتی تو دل شکنی، مایوسی اور کبھی بدگمانی حتیٰ کہ جھگڑے تک کی نوبت آکر معاملہ دشمنی تک جا پہنچتا ہے،  اس لیے بہتر یہی ہے کہ کسی سے کوئی امید نہ رکھی جائے،  تمام امیدیں اﷲ تعالیٰ ہی سے وابستہ کریں، دعا بھی کریں کہ الٰہ العالمین ! ہماری پیشانیوں کو جیسے تو نے اپنی عنایت سے اپنے غیر کے سامنے جھکانے سے محفوظ فرمایا، ایسے ہی ہمارے ہاتھوں کو بھی اپنے غیر کے سامنے پھیلانے سے محفوظ فرما۔ کہتے ہیں :

کمالِ تشنگی میں بھی جگر کا خون پی جانا

پر کسی کے سامنے دست ِطلب دراز نہ کرنا

پھر یہ بھی تو حقیقت ہے کہ مالداری مال و متاع جمع کرنے ہی کا نام نہیں، بلکہ اصل مالداری یہ ہے کہ انسان کا دل چین و سکون سے لبریز ہو۔

تونگری بدل ست نہ بمال

و بزرگی بعقل ست نہ بسال(گلستاں)

یعنی اصل مالداری دل کی وسعت سے ہے،  نہ کہ مال کی کثرت سے، اور بزرگی عقل کی وجہ سے ہے،  نہ کہ صرف سال گذارکر عمر رسیدہ ہو جانے سے۔

اور دل کا غناء قناعت کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے حدیث میںاس کی نصیحت فرمائی گئی، کیوںکہ حرص کے ساتھ اگر ساری کائنات بھی مل جائے توکیاحاصل؟ایک کے بعد دوسرے کی طلب ہوتی ہے،  اس طرح بے چینی کے شکنجہ سے نجات کیوںکر مل سکتی ہے ؟ البتہ اگر قناعت کی دولت حاصل ہوجائے تو قانع شخص فقیر رہ کر بھی شاہانہ زندگی بسر کر سکتا ہے۔  قناعت کلید ِدولت ہے، اس کے ہوتے ہوئے انسان ہر وقت، ہر جگہ اور ہر حال میں دولت مند رہتا ہے،  او راس سے عاری ہونے کی صورت میں خزانۂ قارون اور دولت ِفرعون و نمرود کی فراوانی کے باوجود مفلس بے مایہ رہتاہے۔

کاش! ہم قناعت اختیار کرلیںتو پھر ہمیںزندگی کا وہ لطف حاصل ہوجائے جو بڑے بڑے دنیاداروں کو میسر نہیں۔ بہرحال! حدیث پاک میں جوتین انمول نصیحتیں فرمائیں، بظاہر مختصر ہیں، مگر حقیقت میںنہایت مفید اورجامع ہیں۔ اﷲ رب العزت ہمارے اعمال،  اقوال اور اخلاق کی اصلاح فرمادے(آمین بجاہ سید المرسلین)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close